کچھ بکواس

وجہ تو کوئی خاص نہیں اور نا ہی کوئی خاص تکلیف دہ جذبات محسوس کر رہا ہوں۔

واویلا سن رہا تھا کہ برما کے مسلمانوں کو  بدھ مذہب  کےپیروکار بہت کاٹ پیٹ رہے ہیں ،بہت ظلم ہو رہا ہے۔

ہمارے جاپان میں بھی بدھ مت کے پیرو کار بستے ہیں۔مجھے تو چوبیس سالوں میں کبھی کسی قسم کا مسئلہ نہیں ہوا۔

دو واقعات ایسے ہوئے کہ جن کا ذکر کر کیا جا سکتا ہے۔

جاپان میں ایک علاقہ تو یاما ہے ،یہاں پر ہم پاکستانی گاڑیوں کا کاروبار کرتے ہیں۔کافی شو روم ہیں۔

ایک بار اس علاقہ میں کسی نے قرآن مجید پھاڑ کر پھینک دیا تھا۔قرآن مجید کی بیحرمتی پر ہم سب نے احتجاج کیا تھا جلوس بھی نکالا تھا اور نعرے بھی مارے تھے۔

بعد میں ایک لڑکی قرآن کی بیحرمتی کے جرم  میں گرفتار ہو گئی تھی۔اس  لڑکی نے ایسا کیوں کیا تھا،؟ہمیں اس سے دلچسپی  نہیں تھی اس لئے معلوم نہیں اس نے ایسا کیوں کیا تھا۔

دوسرا واقعہ کچھ اسطرح کا تھا کہ کسی نے پاکستانی مومن صاحب کے شو روم میں خنزیر کا سر پھینک دیا تھا۔

اگر  کسی کو دلچسپی ہے تو خود ہی اس علاقے کے مسلمانوں سے معلوم کر لے کہ ایسا انہی کے ساتھ کیوں ہوا تھا۔۔۔۔۔ہیں جی

مجھے تو اتنا معلوم ہے، کہ دو ہفتے پاکستان گیا اور جان بوجھ کر چند سو روپے لٹانے کیلئے  کئی بار بیوقوف بنا۔اگلا لوٹ رہا تھا اور میں انجوائے کر رہا تھا۔۔ہیں جی

لیکن ایک  نے بہت تکلیف دی۔مری روڈ پہ میڈ وے پلازہ میں ایک آئی ٹی سٹور ہے ،بندہ کچھ بہتر محسوس ہوا تو اسے "صرف " جاپانی او ایس کے بجائے انگلش او ایس انسٹال کرنے کا کہا ،اس نے بھی سوچا جاپانی مال ہے کچھ لوٹ ہی لوں ،پتہ نہیں  کیا انجینیئرنگ کی کہ کمپیوٹر کا ہارڈ ویئر شارٹ کر دیا۔

اس کے بعد وہی حیلے بہانے اور معصوم بن جانا۔بیچارہ

لڑائی کرتا گالی گلوچ کرتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لعنت بھیجی اور خاموشی سے واپس آگیا۔۔۔ماشا اللہ یہ بھی مسلمان تھا۔

ایک  اشتہاری قسم کا سوال نامہ نظروں سے گذرا تو ہنسی چھوٹ گئی کہ  ہم مسلمان کتنے معصوم ہوتے ہیں ،ہمیں تو کچھ معلوم ہی نہیں ہوتا اور چند لاکھ کے نفوس ہم سے بہتر طور پر اپنی حفاظت کر لیتے ہیں۔



تو جناب سوالی صاحب کو میں یہی کہوں گا کہ ہم مسلمان نامی مخلوق اپنی غلطی کبھی نہیں مانتے سارا الزام دوسرے پہ ڈال کر معصوم بن بیٹھتے ہیں۔

جس دن مسلمان میں اتنی اخلاقی جرات پیدا ہوئی کہ وہ اپنی غلطی تسلیم کر لے اس دن سے مشہوری کرنے  کا سوال پوچھنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

یہودی دنیا میں کتنے ہیں؟

اور مسلمان کتنے؟

مسلمانوںمیں جنت کا اصلی حقدار فرقہ کونسا ہے؟

جو مسلمان مارے  جا رہے ہیں ان کا فرقہ بھی بتایا جائے۔

نام نہاد مسلم میڈیا پہ لاکھ لعنت۔۔۔

لیکن ۔۔مسلمانوں کے گلی کوچوں میں کیا ہر رہا ہے؟

رمضان کا مہینہ ہے اب اور کیا لکھیں جی۔

پہلے رمضان کو نام نہاد مسلم  میڈیا نے  ہی ہر شے مہنگی کر دی تھی۔

بیچارے معصوم مسلمان ہر رمضان کو دشمن کی سازشوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔

 

 

 
کچھ بکواس کچھ بکواس Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 6:54 PM Rating: 5

9 تبصرے:

ٹوٹ بٹوٹ کہا...

سچ نہ لکھ ....کوئی مولوی گولی کڈ مارے گا ای ...یا حکومتی اہلکار اندر دے دیں گے

اظہرالحق کہا...

یاسر پا جی ، اتنا وی سچ نہ لکھیا کرو
میں بھی آج تیرہ سال بعد پاکستان رہ رہا ہوں ، اور روز ماتم کرتا ہوں
کہ جتنا ڈھنڈورا ہم اپنی مسلمانیت کا پیٹیتے ہیں
اگر ہم دل سے کافر بھی ہو جائیں تو شاید پاکستانی مسلمانوں سے بہتر ہوں گے
میں آپ کی ہر بات سے متفق ہوں
سوائے مری روڈ والے معصوم انجینیر کے :)

dohra hai کہا...

جو بھی لِکھا ہے سچ لِکھا ہے اور سچ کے سِوا کُچھ نہیں لِکھا مگر ہمارا بھلا سچ سے کیا لینا دینا آپ لکھتے رہیں ہم مُٹاتے رہیں گےاپنے عمل سے

خاور کھوکھر کہا...

یہ دیکھیں
http://blogs.tribune.com.pk/story/12867/social-media-is-lying-to-you-about-burmas-muslim-cleansing/#.UAfjgtqec4g.facebook
برما کے مسلانوں پر ظلم ہوا ہے
لیکن
خود کو زیادہ ہی مظلوم بنا کر پیش کرنے کے چکر میں
مسلمانوں کی عام عادت سے مجبور جھوٹ کا سۃرا لینے لگے
اور جہاں جہاں سے ملتی جلتی شکلوں یا جغرافے والی فوٹو ملی ان کو برما کے مسلمانوں پر ظلم کا لیبل لگا کر
پیش کرنے لگے
اب برما کی صورت ھحل یہ تھی کہ حکومتی سطح پر خبر باہر نہیں نکل رہی تھی
اور مسلمان جھوٹ بول رہے تھے
اس لیے عالمی میڈیا میں اس بات کا تاثر پایا جانے لگا کہ
برما میں ظلم تو ہو رہا ہے
لیکن حقیقت کا تعین کرنا مشکل ہے
اس لیے عالمی میڈیا نے بعد میں اپنی سبکی سے بچنے کے لیے
اس معاملے سے صرف نظر کیا
سر جی مسلمانو!!! پہلے اپنا اعتبار بناو جی اعتبار!!!

ایم اے راجپوت کہا...

بہت خوب جی
عمدہ لکھا ہے

اسد حبیب کہا...

جناب یہ ظلم والی تصویر جس نے بھی نکالی ہے جھوٹی ہے اور لنک خاور کھوکھر صاحب نے دے دیا ہے. مگر جناب ظلم تو مسلمانوں پر ہو رہا ہے برما میں ! کچھ انڈین اخباروں نے نشاندہی کی ہے اور کچھ مغربی میڈیا نے بھی. یاسر صاحب بات صرف بودھوں کی نہیں برمن بودھوں کی ہے. ہو سکتا ہے جاپانی بودھ اچھے ہوں. ویسے کہاں برما اور کہاں جاپان. ہماری کیا کوتاہیاں ہیں ان کو ضرور دیکھنا چاہیئے مگر جو ہو رہا ہے اس کو بھی دیکھنا چاہیئے!

dr iftikhar Raja کہا...

آپ نے دل کے چھالے پھپھول لیئے، ہن آرام جے، مسلم ایک قوم نہیں ہے آج کل بلکہ ایک ہجوم ہے، جس میں سنی شیعہ، وہابی، اہل حدیث، دیوبندی، سندھی، بلوچی، پٹھان، راجپوت، شاہ، چوہدری، جاٹ، میاں جی زیادہ پائے جاتے ہیں، جنت میں جانا ہے تو مولبی جی سے پوچھو بلکہ جس سے بھی پوچھو وہ کہتا ہے میں نہ صرف جاؤن گا بلکہ لے جاؤں گا، مطلب میں جاناں جوگی دے نال،

نبیل احمد خان کہا...

بہت ہی فرسودہ اور سطحی سوچ پر مبنی آرٹیکل لکھا ہے جناب نے. ہم چور صحیح، دھوکیباز صحیح، عیارومکار صحیح .. لیکن اس کا یہ مطلب تھوڑے کے آپ ہمارے خون کو جائز قرار دیدیں؟؟؟ کیا کالم نگار کی یہ ذمہداری نہیں کہ وہ قوم کو بیدار کرنے کے لیے ان کو حوصلہ دے؟؟؟ آپ کی تحریر مایوسی کے دلدل میں دھنسی قوم کو مزید مایوس تو کرسکتی ہے مگر ان میں بیداری کی روح نہیں پھونک سکتی... مجھے آپ کے سوفٹ ویر کے چوری ہونے کا بڑا دکھ ہے مگر یہ وقت انفرادی نقصانات پر طنز اور ماتم کرنے کا نہیں،بلکہ اجتماعی مسائل پر صحیح ری-اکشن کو اپریشیئٹ کرنے کا ہے.
شکریہ

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

نبیل بھائی بہت بہت شکریہ کسی ایک بندے نے تو تنقید۔ کی
ہم آپ کے نہایت مشکور ہیں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.