جھوٹ ، سچا جھوٹ ، مقدس جھوٹ

  عموماً ہمارے آس پاس ایک دو بندے ایسے ہوتے ہیں، جو جھوٹ اس طرح بولتے ہیں کہ ان کو معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کیا بول رہے ہیں۔ایسے لوگ قابل ترس ہوتے ہیں ہم ان کی باتیں سن کر مسکرا دیتے ہیں،بعض اوقات ان کی باتیں نہایت دلچسپ ہو تی ہیں جو کہ وقتی طور ہمیں محظوظ کرتی ہیں،ایسے لوگ بے ضرر ہوتے ہیں،ایسے لوگ گزشتہ کل کی کہی ہوئی باتیں پیوستہ کل میں بھول چکے ہوتے ہیں،اور کوئی نئی بات کرکے ہمارے لئے مسکرانے کا باعث بنتے ہیں،


 سچا جھوٹ بولنے والے جب بولتے ہیں تو  انہیں پختہ یقین ہوتا ہے کہ وہ سچ بول رہے ہیں، ایسے لوگ پہلے اپنے آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ وہ سچے اور حق پر ہیں،ان سے نیک ،اچھا ، دانشور ہر معاملے کو نہایت بہتر طریقے  سےسمجھنے والا کوئی نہیں ہے، ایسے حضرات معاشرے میں اپنی جگہ بنا لیتے ہیں اور ایک کامیاب زندگی گذارتے ہیں،ایسے حضرات نا ہی قابل رحم ہوتے ہیں اور نا ہی قابل ترس۔


ایسے حضرات کیونکہ ایک کامیاب زندگی گذار رہے ہوتے ہیں اور اپنی کامیابی کیلئے ہر وقت سچا جھوٹ گڑتے رہتے ہیں۔خوشا مد ، چاپلوسی ، غیر جانبداری ان کی خصوصیات ہوتی ہیں، اجتماعی طور پر معاشرے کے عتاب کے شکار لوگوں کیلئے یہ نہایت دیدہ دلیری سے حق گوئی و بیباکی کا مظاہرہ کرتے ہیں، موقع ملنے پر گالی گلوچ ، بد معاشی کا مظاہرہ بھی نہایت سچائی سے کرتے ہیں، عموماً آپ نے ایسے حضرات کو اخبارات میں کالم لکھتے پڑھا ہوگا، یا ٹی وی پر دانش مندی سے گفتاری کرتا دیکھا ہو گا۔


ان کا سچا جھوٹ اتنا خوبصورت اور دل آویز ہوتا ہے کہ عمومیہ کی اکثریت ان کی مداح ہو جاتی ہے۔ان حضرات کی نظر ہمیشہ مستقبل میں کام آنے والے سیاسی و مذہبی حضرات پہ ہوتی ہے۔حسب موقع یہ اپنا رخ انتہائی خوبصورتی سے بدل کر اپنی صدا بہار زندگی میں کامیاب رہتے ہیں۔۔مثال کے طور ایسی دو کامیاب ترین شخصیات آپ کو بتا دیتا ہوں،ان پر نظر رکھئے اور کامیابی کا گر ان سے سیکھئے۔


ایک ہمارے نذیر ناجی صاحب ہیں اور دوسرے پاکستان کے عظیم دانشور حسن نثار صاحب۔۔۔عطا الحق قاسمی صاحب کو بھی ان شامل کر دیتا لیکن ایک تو وہ مزاح نگار ہیں اور کچھ کم کامیاب ہیں ایک  اورسب سے بڑی وجہ مجھے ان کی تحاریر بعض اوقات نہایت پسند آتی ہیں۔۔یعنی ان کے سچے جھوٹ میں ملاوٹ ہوتی ہے۔


مقدس جھوٹ کو سمجھنے کیلئے بڑے دل گردے کی ضرورت ہوتی ہے، مقدس جھوٹ بولنے والے حضرات  عموماً ہمارے مذہبی ، سیاسی حضرات ہوتے ہیں،جن کی لفاظی ، گفتاری ،منطق ، بد معاشی، گالی گلوچ ، لاتوں گھونسوں سے بچنا نہایت مشکل ہو تا ہے، اس کی مثال پچھلے دنوں ہمارے بزرگ بلاگر اجمل صاحب کے بلاگ پر پڑھنے کو ملی۔کہ


قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران پی پی پی کے ایک رکن نے اپنی تقریر کے دوران ایک کہانی سنائی کہ


 ایک باپ نے اپنے تین بیٹوں کو ایک ایک سو روپیہ دیا اور کہا کہ ایسی چیز خرید کر لاؤ کہ اس سے یہ کمرہ بھر جائے ۔ ایک بیٹا 100 روپے کی کپاس خرید لایا لیکن اس سے کمرہ نہ بھر سکا ۔ دوسرا بیٹا 100 روپے کا بھوسہ خرید لایامگر اس سے بھی کمرہ نہ بھر سکا ۔ تیسرا بیٹا بہت ذہین تھا ۔ وہ گیا اور ایک روپے کی موم بتی لے آیا ۔ اسے جلا کر کمرے میں رکھ دیا تو اس کی روشنی سے سارا کمرہ بھر گیا

اس کے بعد پی پی پی کے رُکن قومی اسمبلی نے کہا “ہمارے صدر زرداری صاحب تیسرے بیٹے کی طرح ہیں ۔ جس دن سے صدر بنے ہیں مُلک کو خوشحالی کی روشنی سے منوّر کر دیا ہے
اسمبلی حال کی پچھلی نشستوں سے کراچی سے مُنتخب ایک رُکن کی آواز آئی “وہ سب تو ٹھیک ہے ۔ باقی 99 روپے کہاں ہیں ؟”


بزرگوار اجمل صاحب مقدس ڈنڈی مار گئے  اصل بات نہیں لکھی کہ پی پی پی کے جیالے نے گونجدار آواز میں چند متبرک الفاظ زبان سے ادا کئے تھے اور پر تقدس لہجے میں کہا تھا کہ وہ 99 روپے عوام کی فلاح و بہبود پر لگا ئے ہیں۔


تو جناب مقدس جھوٹ وہ ہوتا  ہے جو اللہ کو حاضر ناظر جان کر اور رسول اللہ صلی اللہ وعلیہ وسلم کی شفاعت کی امید پر نہایت عقیدت اور سچائی و ڈھٹائی سے بولا جائے۔


پاکستا نیوں کی زند گیاں انہی تین قسم کے جھوٹوں پر چل رہی ہیں۔بے ضرر جھوٹ سے زندگی کا لطف اٹھاتے ہیں،سچے جھوٹ سے اپنے تمام کرتوتوں کا ذمہ دوسروں کے سر ڈالتے ہیں تو مقدس جھوٹ سے پل صراط سے بے دھڑک گزر جانے کا یقین رکھتے ہیں۔

جھوٹ ، سچا جھوٹ ، مقدس جھوٹ جھوٹ ، سچا جھوٹ ، مقدس جھوٹ Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 1:02 PM Rating: 5

4 تبصرے:

خاور کھوکھر کہا...

کچھ کے رکھو جی
ویسے اگر 99 روپے
زرداری کی بجائے ¨ ریاست¨نے استعمال کر لئے ہوں تو ؟؟؟

ali کہا...

میرے خیال میں میں خود دوسرے نمبر آلے درجے پر پہنچا ہوا ہوں۔
پر مسئلہ یہ ہے کہ کوئی پیمانہ نہیں کیا پتہ وہی سچ بک رہے ہوں اور ہم ہی جھوٹے نکلیں

افتخار اجمل بھوپال کہا...

میں سمجھا تھا کہ آپ بتائیں گے کہ پچھلی نشست سے کون بولا تھا
اس دنیا میں ہر طرح کے آدمی پائے جاتے ہیں ۔ ایک جو دوسروں کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کر دیتے ہیں اور ایک وہ جو اپنی خاطر سب دوسروں کو قربان کر دیتے ہیں ۔ یہ ہر دو اقسام اپنے تئیں با اصول قرار دیتے ہیں ۔ فرق صرف یہ ہے کہ ایک کا اصول خالق کی خوشنودی ہوتا ہے اور دوسرے کا اپنی مادی ترقی ۔ باقی اقسام ان دو حدود کے درمیان ہیں
آج قبل دوپہر میں نے کچھ دیکھا اور آپ کو یاد کر رہا تھا ۔ یہاں لکھنے والی بات نہیں ہے ۔ یاد تو آپ کو کرتا ہی رہتا ہوں لیکن وہ کسی اور پیرائے میں ۔

Hasan کہا...

يہ والے مقدس سچ بول رہے ہيں يا مقدس جھوٹ؟

http://www.youtube.com/watch?v=X01htQUvKcQ

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.