دلال

عذاب کےپانچویں سال رات کی خوفناک تاریکی میں وطن کے کھنڈروں پر موت،ماتمی لباس میں پہرہ دے رہی تھی!!!۔

ہوشیار رہنا۔۔۔۔! جاگتے رہنا۔۔۔۔۔۔۔!!۔

کے بجائے وہ ٹھہرٹھہر کر عاقبت نااندیش دنیا تجھ پر حسرت! انجام فراموش انسان تجھ پر افسوس۔۔۔!!۔!

کی آواز دے رہی تھی اور یہ دل خراش آواز سکوت نیم شبی کے جگر کو چیرتی ہوئی دور نکل جاتی تھی۔

جمہوریت اپنی جگہ سے لاٹھی ٹیکتی ہوئی بڑھی۔کھانستی ہوئی اینٹوں کے ایک اونچے ڈھیر پر بیٹھ گئی۔ جو کل ایک خبیث چوکیدار کا محل تھا اور آجکل ایک رذیل انسان کا مسکن۔

اس نے اپنی لاٹھی   ٌ دنیا ہیچ کار دنیا ہیچ  ٌ    کہہ کرتودہءخاک پر پٹخ دی.

اور نیلے آسمان پر روشن ستاروں کو نظر اٹھا کر دیکھا۔ تاروں کی ہلکی روشنی میں اس کے چہرے کے دھندلے خط وخال دکھائی دیئے۔کالے رنگ پر جھریاں ، باہر نکلے ہوئے دانت ایک خوفناک ڈراوءنا سا خواب بنا رہے تھے۔

پاس ہی ایک دوسری عالیشان عمارت کے ملبے کے نیچے دبی ہوئی ساٹھ برس کی بچی بڑی جدّوجہد سے نکلی۔اس نے خوف سے اردگرد کھنڈروں پر نظر دوڑائی۔ حقیقت کو خوفناک خواب سمجھ کر ڈر گئی۔اس کی آنکھوں کے سامنے ایک ناقابل فہم منظر تھا۔عالی شان وطن کہاں گیا۔مٹی اینٹ کے ڈھیر کہاں سے آگئے۔

وہ جمہوریت کی طرف لپکی۔ جمہوریت نے کہا۔ ابھی مجھ سے دور رہ لڑکی!!.میں کل ہی تیرے باپ اور ماں کو اپنے ہاں پناہ دے چکی ہوں۔

لڑکی ۔ مجھے بھی وہیں لے چلومائی باپ!!. جہاں میرے ماں باپ بہن بھائی ہیں۔

جمہوریت ۔ٌ وہ تو آنسووءں کی ندی کے اس پار رہتے ہیں۔

لڑکی ۔ میں بھی اس پار جاوں گی۔

جمہوریت ۔ٌ تو نہیں جاسکے گی۔تجھے کون لے جائے گا۔

لڑکی  .ان کو کون لے گیا؟

جمہوریت ۔ٌ میں۔

لڑکی ۔ تو تو مجھے بھی لے چل!!۔

جمہوریت ۔ تجھے بھی لے چلوں؟ نہیں ابھی نہیں!!میں بھی قدرت کے ہاتھ میں اسی طرح بے بس ہوں جس طرح لوگ میرے ہاتھ میں بے بس ہیں۔

لڑکی ۔ وہ قدرت کہاں رہتی ہے؟ اور کیا کام کرتی ھے؟

جمہوریت ۔ وہ آنکھوں سے اوجھل اور چھپی چھپی پھرتی ھے۔جہاں سرمایہ دار مزدور کو ترنوالہ سمجھتا ھے۔جہاں صاحب زر غریب عورتوں کی مفلسی سے فائدہ اٹھا کر انکی عصمت لوٹ لیتا ہے۔جہاں غریب اور یتیم بچے آوارہ پھرتے ہیں۔ جہاں برملا قدرت کے قانون توڑے جاتے ہیں۔وہاں مجھے مسلط کردیتی ھے۔

توتو کون ہے؟ ٌ لڑکی نے پوچھا اور اسے قریب ہوکر دیکھنے لگی۔

میں جمہوریت ہوں لڑکی۔!!

موت!!!!!!!!!!!!!!!! لڑکی چیخ مار کر بھاگی۔

جمہوریت سے بھاگی ہوئی لڑکی شہروں میں ماری ماری پھر رہی ھے۔

کبھی مہنگائی پر سینہ کوبی کرتی کبھی توانائی کہ نہ ہونے پر۔

اور جمہوریت کے دلال؟۔۔بے شک یہ غلیظ دلال ہیں۔

باؤلی لڑکی کسی  ہوس کے پجاری آمر کے ہاتھوں پامال ہوتی ہے۔تو۔۔۔۔۔

ان  بدشکل جمہوریت کے دلالوں کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ان دلالوں کا کام دلالی کرنا ہے۔چاھے اپنے مفاد کیلئے ماں کی ہی دلالی کیوں ناکریں۔

جمہوریت کی دلالی کرنے والے۔۔۔۔آمر کے چرنوں میں بیٹھ کر کسی اور "شے " کی دلالی شروع کر دیں گے۔

اب تو  دکھی انسانیت کی دست گیری کسی انسان کے بس نہیں !!!

بھاگ پگلی بھاگ کے عنوان سے لکھی گئی پوسٹ کچھ تبدیلیں کے ساتھ ایک بار پھر پیش خدمت کی جاتی ہے۔
دلال دلال Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 4:57 PM Rating: 5

4 تبصرے:

ام عروبہ کہا...

السلام علیکم
انشاءللہ بس اب ان دلالوں کے دن گنے جا چکے ہیں- بہت ہو گیا-
درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا

ali کہا...

حضور آخر میں اقتباس از سر سید کی کمی محسوس ہو رہی ہے
:)
پر یہ بتائیں آخر پگلی ہی کیوں بیچارے پگلے بگلے کہاں جائیں؟

جہالستان سے جاہل اور سنکی ۔ کہا...

پیر صاحب ۔ ایک تو آپ کو اختیار کی طلب سکون حاصل نہیں کرنے دیتی اور دوسرا آپکے نکمے مرید بھی اختیار آپ کو تھالی میں رکھ کے پیش کرنے کے قابل بھی نہیں ہیں ۔ صبر کریں، صبر ۔ پاکستان کو جانے دیں پتھر کے زمانے میں ۔ آپ کی تحاریر پین اسلامک ٹیلیپیتھک رابطے پر بھی بڑی ہی مقبول رہینگی ۔

Jameel کہا...

“اب تو دکھی انسانیت کی دست گیری کسی انسان کے بس نہیں !!!“

تو پھر کیا کوئی نبی آ ئے گا؟

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.