کنجر خانہ

روس کے شہر ولاڈیوا سٹوک گیا تھا۔ ایک پر رونق جگہ پر گئے تو جو ساتھ میں روسی دوست تھے ،انہیں حاجت  ہوئی تو مجھے یہاں پر ہی رہنا کہہ کر چلے گئے،کچھ دیر بعد ایک ننھی سی نہایت پیاری سی بچی میرے پاس آئی اور کہنے لگی دس روبل دو میں نےجوس لینا ہے۔


میں نے کہا والدین سے لو نا، تمہارے والدین کہاں ہیں؟ بچی نے بار بار تکرار شروع کردی دس روبل دو میں نے جوس لینا ہے۔


مجھے اس معصوم صورت بچی پہ پیار آیا اور دس روبل نکال کر دے دیئے۔ بس پھر کیا تھا،جوج ما جوج کی طرح اطراف سے بچے ابل پڑے اور سب نے لہک لہک کر کہنا شروع کر دیا دس روبل دو میں نے جوس پینا ہے۔


میں بوکھلا گیا اور کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی۔ دس دس روبل کےجتنے نوٹ تھے بانٹنا شروع ہو گیا۔ اتنے میں دوست واپس آیا اور اس نے شور شرابا گالیاں وغیرہ دے کر ان سے میری جان چھڑائی۔اور مجھے بتایا کہ یہ پیشہ ور ہیں اور ان کا سرغنہ کسی کونے  میں کھڑا سب کچھ دیکھ رہا ہے۔یہ بچے وصول کی ہوئی بھیک جا کر ساری اس کے پاس جمع کروا دیں گے۔


اور ساتھ میں مثال دی کہ شہد کی مکھیاں چھتے میں شہد بناتی ہیں اور لیکن یہ ایسی مکھیاں ہیں جو شہد کے چھتے سے آخری قطرہ بھی نچوڑنے کے درپے ہوتی ہیں۔


 یہ مثال میرے سرکے اوپر سے گذر گئی تھی۔ معلوم نہیں کیا مطلب ہے اس مثال کا؟


 عموماً میرے جیسے غیر ملک میں محنت مزدوری کیلئے آئے ہوئے لوگ جب سال دوسال بعد پاکستان گھر والوں کو ملنے جاتے ہیں تو مساجد ، مدارس کے لئے چندہ مانگنے کیلئے آنے والوں سے ضرور واسطہ پڑتا ہے۔


اس کے علاوہ چند ماہ کیلئے قرضے مانگنے والے بھی ضرور آتے ہیں اور دو ہفتوں سے لیکر دوماہ کیلئے چند لاکھ کا تقاضہ اس طرح کرتے ہیں جیسے انہیں ہمارے بینک بلینس کا پکا پتہ ہے کہ اس میں لاکھوں کروڑ وں کا بیلنس موجود ہے اور ہمارے لئے یہ چند لاکھ تو صرف چند "ریوڑیوں" جیسے ہیں۔


ایسے بیچارے بھی آتے ہیں ،جن کی جیب میں حسب توفیق ڈال دیں تو شکریہ ادا کرکے سر جھکا کر چلے جاتے ہیں۔اور میرے خیال میں یہ لوگ واقعی ہی مستحق ہوتے ہیں کہ تقاضہ کئے بغیر جو مل جائے شکر ادا کرتے ہیں۔


قرضہ ، چندہ نا دینے سے ناراضگی تو لازمی ہوتی ہے۔ طعنے واپس آنے کے بعد بھی وصول ہوتے رہتے ہیں۔


طعنے تو واقعی ہی سچے ہوتے ہیں،کہ ہم انتہائی غریب ہوتے تھے اور اب بھی غریب ہی ہیں۔لیکن "وہ" غربت ہمارے لئے ایسی ہوتی تھی جیسے لاوارث اور یتیموں کی ہوتی ہے۔یعنی انہیں خاندان میں بھی کوئی منہ نا لگائے۔


کئی بار محنت مزدوری کیلئے آئے ہوئے لوگوں کے منہ سے سنا کہ آج فلاں فلاں نے فون کیا جس نے ساری زندگی ہمارے ماں باپ کو بھی منہ نا لگایا تھا۔ یعنی جب کسی کےگھر میں پیسے یا کھانے پینے میں بہتری آجاتی ہے تو اس گھر کے تعلقات عزیز واقارب سے لیکر اردگرد کے معاشرے میں بھی اچھے ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔


یہاں جاپان میں بھی مساجد کی تعمیر کیلئے تاک تاک کر فون کیا جاتا ہے کہ کس چھتے سے شہد نچوڑا جا سکتا ہے۔مساجد کیوں کہ اللہ کا گھر ہوتی ہیں اور سب کی ہوتی ہیں، تعمیر ہونے کے بعد صرف "ہماری" ہو جاتی ہیں۔اس لئے چندہ تو دینا ہی پڑتا ہے۔


اگر آپ سفید پوش ہیں اور احسن طریقے سے اپنا وقت گذار رہے ہیں۔آپ کے آس پاس والوں کو "شک " ہوجائے کہ یہ مالدار ہے تو ہر ایک دو ماہ بعد کسی نا کسی کو "انتہائی" ایمرجنسی ہو جاتی ہے جس کیلئے اسے چند لاکھ کی ضرورت ہوتی ہے۔


چند ہزار جن کو دیئے ہوئے ہیں وہ ڈھٹائی سے سامنے سے گذر جاتے ہیں واپسی کا تقاضہ کرنے سے ہی بندہ شرما جاتا ہے۔پتہ نہیں لینے والے کو یاد بھی ہیں کہ نہیں !!چند لاکھ جنہیں غلطی سے دے دیئے عرصہ ہوا شکل نہیں دیکھی !! معلوم پڑتا ہے۔وہ آپ کے دوست آئے ہوئے تھے ملاقات ہوئی؟


کب آئے تھے؟ دو دن پہلے آئے تھے اب تو واپس بھی جا چکے ہیں ۔بندہ دانت بھینچ کے رہ جاتا ہے۔


جب بندہ اس حد تک مجبور ہوتا ہے ،کہ "پہانڈے" بیچ کراولاد کا علاج کروائے تو اس وقت کوئی قریبی رشتہ دار، سیاستدان ،کوئی جنرل ، کوئی جج صاحب کا بیٹا دوست نہیں ہوتا۔جب یہ مجبور اپنی "صلاحیتوں" سےسب کو چرنوں میں بٹھا لیتا ہے توسب کو "عزیز ترین" ہو جاتاہے۔


ھذا من فضل ربی حلال ہے کہ حرام مسلمانوں کے "عوام و خواص" کواس سے غرض نہیں ہوتی بس یہ تو نہایت اچھے،دیالو اور نیک بندے کا مال ہے۔مساجد و مدارس بھی تعمیر ہوتے ہیں اور "لنگر" بھی چلتے ہیں۔


اٹھا رہ بیس سال کی عمر میں جنون کی حد تک پیسہ کمانے کی خواہش تھی، ظاہر ہے غربت سے جان چھڑانی تھی۔کئی اور مسلمان بھائیوں کی طرح "کلب " میں رات کو چھ ماہ کام کیا تھا۔اس کلب میں جاپان کے امرا کی "معزز بیگمات " تشریف لاتی تھیں۔


نیلی نیلی بالی عمر کے ہم ساقی ہوتے تھے اور ان بیگمات کی انٹر ٹینمنٹ کیلئے ان کی بانہوں میں ناچتے بھی تھے۔تنخواہ کے علاوہ "ٹپ" ٹھیک ٹھاک ملتی تھی۔


ننھے منے ضمیر کو تسلی دینے کیلئےغریب غربا کی مدد امداد کے علاوہ  مساجد کیلئے چندہ بھی خوب دیتے تھے۔جیسا کہ اس وقت بھی کسی کو ہمارے کمانے کے "طریقے" سے کوئی غرض نہیں اس وقت بھی کسی کو کوئی غرض نہیں ہوتی تھی۔۔


اس وقت جو سب کچھ میسر ہونے کے باوجود پردیس میں بے چینی ہو تی ہے۔چاہتے ہوئے بھی پاکستان جا کر نہیں بس پا رہا مجھے یقین ہے کہ یہ ان چھ ماہ کے ثمرات ہیں۔


جب معاشرے کا عمومی رویہ ایسا ہو ایک شخص اولاد کے علاج کیلئے گھر کے برتن بیچنے کیلئے مجبور ہو،جب مالدار ہو جائے اور سب جوج ماجوج کی طرح اس پر پل پڑیں۔۔


جب اس "شہد کےچھتے" کے آخری قطرے کو نچوڑنے والا کوئی دوسرا مفاد پرست مجبور سامنے آتا ہے تو۔۔۔۔۔ تو معاشرہ جو پہلے ہی کنجر خانہ ہوتا ہے تو پھر دل کھول کر کنجر خانہ ساری دنیا کو دکھانے میں قطعی شرمندگی محسوس نہیں کرتا۔


شرمندگی تو ان کو ہوتی ہے،جو کم از کم اپنے برے کئے کو برا سمجھتے ہیں۔جو ڈھٹائی سے مذہب کو ڈھال بنا کرکہتے ہیں کئے کرائے کو چھوڑ وبس ہمیں"معصوم " مان لو!!


تو ان جیسوں کیلئے عرض ہے۔۔آپ چھوٹے کنجر تے دوسرے وڈے کنجر۔۔۔تے کنجراں دے قول و فعل دا کسے یقین!!!

کنجر خانہ کنجر خانہ Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 6:55 PM Rating: 5

20 تبصرے:

عمران اقبال کہا...

یاسر بھائی، مجبوری انسان کو جانے کیا کیا کرواتی ہے... ایسے ایسے کام، جو وہ نا چاہتے ہوئے بھی کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے... خود مجھے کئی بار ایسا تجربہ ہوا ہے... نوجوانی میں پیسہ کمانے کی ہوس نے بڑے الٹے سیدھے کام کروائے... لیکن اللہ نے توبہ کی توفیق دی... اور پھر اس پر قائم رکھا... اللہ کا بڑا کرم ہے...

میں کچھ عرصے سے اس پر پوسٹ لکھنا چاہ رہا تھا لیکن لکھ نہیں پا رہا تھا... کہ ہم کس کس طرح اسلام اور مسلمان کے کردار کو مسخ کرنے میں لگے ہوئے ہیں... ایک پاکستانی مسلمان دوست نے نومبر میں مجھے سے کچھ پیسے لیے کہ جنوری میں واپس کر دے گا... اب جون آ گیا ہے، گاڑی کے ایکسیڈنٹ کے بعد پیسوں کی ضرورت پڑی تو اسے ایس ایم ایس کیا کہ یار پیسے چاہیے... تو اس نے اپنا رونا شروع کر دیا کہ ابھی تو جیب میں صرف پانچ سو درہم ہیں... اگلے ماہ کوشش کروں کے پیسے دے دوں... اور میرا یہ دوست ابوظبی کے بڑے ہسپتال میں ڈاکٹر ہے اور اچھی خاصی تنخواہ لیتا ہے... دوسری مثال یہ کہ ایک دوسرے ہندو پاکستانی دوست نے کافی بڑی رقم مجھ سے قرضہ لی... اور ایک ماہ کی مہلت لی... ایک ماہ ہونے میں ابھی دو دن تھے کہ وہی دوست دروازے پر کھڑا تھا پیسے واپس کرنے... اب بندہ کیا سوچے... کہ ہمارے اپنے مذہب والے اپنے وعدے کو ایفا نہیں کر رہے اور ہم باتیں کرتے ہیں دوسروں کو... واقعی کنجر خانہ ہے یہ سب...

Hasan کہا...

“ایک دوسرے ہندو پاکستانی دوست نے کافی بڑی رقم مجھ سے قرضہ لی… اور ایک ماہ کی مہلت لی… ایک ماہ ہونے میں ابھی دو دن تھے کہ وہی دوست دروازے پر کھڑا تھا پیسے واپس کرنے“

اسی ليئے ہم نے ہندوؤں کے صدر وزيراعظم بننے پہ پابندی لگائی ہوئی ہے احتياط”

ڈاکٹرجواد احمد خان کہا...

بھیک مانگنے پر یاد آیا. کراچی میں جہاں میری رہائش ہے اب وہاں عجیب مناظر دیکحنے کو ملتے ہیں.
آپ چاہے کسی بھی دکان سے خریداری کر کے نکلیں بھیک مانگنے والے بچے اور عورتیں آپ کا انتظار کرتے ہوئے ملتے ہیں. اور اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کہ دکان میں داخل ہوتے وقت کوئی بھکاری نظر نہیں آتا لیکن دکان سے نکلتے ہوئے لازماّّ آپکا راستہ روک لیا جاتا . یہ ایک عجیب منظر ہے کراچی میں جو پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آیا.اور اس میں وقت کی کوئی تخصیص نہیں ہے.
اس وقت تو ایسا محسوس ہوتا کہ کراچی میں بھکاریوں کی تعداد یہاں رہنے والوں سے زیادہ ہوگئی ہے.

محمد انور کہا...

ہندوؤوں کے عقیدے کے غلط ہونے سے قطع نظر، افعال کے لحاظ سے ان میں بھی اچھے برے لوگ ہوتے ہیں۔کسی غیر مسلم کے چند اچھے افعال کو بنیاد بنا کر ہم اپنے ملک کی بنیاد پر کیوں کلہاڑا چلانے لگتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے ہمارے بہت سے مسلمان دوستوں کو مسلمان ہونے پر شرمندگی ہے۔ اسلام کے سچا ہونے کا یقین نہیں ہے تو چھوڑ دیجئے اسے۔

خرم ابن شبیر کہا...

عمران بھائی اس طرح کا واقعہ میرے ساتھ بھی ہوا ہے لیکن ہم کر بھی کیا سکتے ہیں۔
یاسر بھائی بہت اچھا لکھا ہے آپ نے

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

انور صاحب آپ کو غلط فہمی ہو رہی ہے۔۔کسی نے بھی اپنے ملک کی بنیادوں میں کلہاڑا چلانے کی کوشش نہیں کی۔۔۔ہم اپنے مجموعی برے معاملات پر بات کرتے ہیں،عمران بھائی ٹھیک ٹھاک ڈنڈا بردار مولوی ہیں۔۔۔ہم سب اپنے آپ کو شرم دلا کر۔ملک کی :::بنیادوں:::: میںاپنا اپنا لہو ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔جو ان ::::بنیادوں:::پر موجاں کرنے والے نچوڑ کر لے جاتے ہیں۔

عمران اقبال کہا...

انور صاحب، واللہ مسلمان ہونے پر شرمندہ نہیں۔۔۔ اچھا مسلمان نا ہونے پر ضرور شرمندہ ہوں۔۔۔

راشد ادریس رانا کہا...

لو جی، سب نے باتاں کی تو ہمیں بھی پچھلا رمضان یاد آ گیا بلکہ اسے بھی پہلے کے دو رمضان جو ہم لٹے وہ بھی یاد آ گیا. دو مولوی صاحبان جو کہ خود کو حیدرآباد پاکستان کے کسی مدرسہ سے منسلک کہتے ہیں ہمارے پاس آئے اور مدرسے کی مدد کی درخواست کی، اب رمضان کا آخری عشرہ تھا ، سوچا کم اور جو توفیق ہوئی دے دیا، دو رمضان انہوں نے ایسا ہی کیا تو تیسرے رمضان باربرکت مہینے سے پہلے ہی میں نے ٹھان لی اور احباب کو بھی کہہ دیا کہ بابا، اب کی بار آئے تو پکڑ کے شرطوں کے حوالے کروں گا. ادھر ابوظہبی بلکہ یو اے ای میں اس طرح کی فنڈ ریزنگ ممنوع ہے. اور قسمت کے اب کی بار ایک سینئر اپنے ساتھ ایک جونئیر لیکر فلیٹ پر آ گیا، قسمت کے جونیر ہی ہاتھ آیا جسے میں نے ہاتھوں ہاتھ لیا، نا بطاقہ نا کوئی اور کاغذ، اور رو ایسے رہا تھا جیسے آج ہی ساری زندی کا حساب دے کر پاک ہونا چاہتا ہے. خیر پھیر بات وہی کہ کچھ خدا ترس دوستوں نے اسے میرے ہاتھوں سے نکلوا دیا. افسوس تو ہوا پر کیا کریں، سب سے زیادہ شرم کی بات ہے کہ دین کو بھی بدنام کر رہے ہیں اور پاکستان کو بھی.

ali کہا...

چلو خیر ہے
پر یہ کسی مولوی صیب سے پوچھ لیں کہ کیا روسی بچوں کو دیے گئے روبل بھی قیامت والے دن نیکیوں کے اکائنٹ میں جمع ہوں گے؟

dr Iftikahr Raja کہا...

Ap to in dinoon mian Khub tape huwe lagh rahey hain, idhar awey ka awa hi bigra hua haey, mgar kiya haey, ke ehbab ko is trah ka rona bhi pasand nahee, , un ke khayal mian hamara pakistan aor pakistani moamlat se koi elaqa nahee,

mazrat ke is pc par urdu nahee, likh par raha

ابو عبد اللہ کہا...

اس طرع کے ماملات تقریبا ہر اس بندے کے ساتھ پیش آتے ہیں جو مرورت کا مارا ہو- کنجروں کنجری آپ نے اچھا کیا ہے

سعد کہا...

مجھ سے ہی پوچھ لیں

منیر عباسی کہا...

آپ کی اکثر تحاریر کا مجموعی تاثر یہی ہوتا ہے جو اس تحریر سے ابھر رہا ہے. اپنے بلاگ کو آپ نے اپنے کتھارسس کا ذریعہ بنا تو دیا ہے مگر یقین جانئے میں آپ کے دُکھ کو محسوس نہیں کر پارہا. شائد اس لئے کہ آپ جس صورت حال سے گزرے، میں اس سے دُور رہا. مگر مجموعی طور پر یہ دنیا کا چال چلن ہے اور اس نے رہتی دنیا تک اسی طرح چلنا ہے.
ہم آپ اس پر تنقید تو کر سکتے ہیں، مگر بدل نہیں سکتے.

ہم میں سے وہی لوگ اس تحریر کا دُکھ جان سکتے ہیں جن پر یہ سب گزر چکا ہے. یہ محسوس تو کیا جا سکتا ہے، بیان نہیں کیا جا سکتا.

ali کہا...

لو جی پوچھا ، ڈسو ہن

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

ڈاکٹر صاحب سڑکوں پہ تیسری جنس بھی موجود ہوتی ٹھمک ٹھمک کر

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

بجا فرمایا جناب۔
ہم کونسے دکھی ہیں۔۔جب گالیاں دینے کا دل کرتا ہے تو کچھ اس طرح لکھ دیتے ہیں۔
فائدہ یہ ہوتا ہے کہ گالیاں دینے سے بچ جاتے ہیں

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

بتادو

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

راجہ جی کسی کی بات ہم اور آپ نے آج تک مانی ہی نہیں تو اب کیا ماننی۔
لکھئے اور ضرور لکھئے۔۔پھر بھی کوئی تنگ کرے تو کہہ دیں تنگ نا کر پھر باز نا آئے تو
گالیاں دے کر دیکھیں۔
پھر بھی باز نا آئے تو خود کش حملہ تو ہم کر ہی سکتے ہیں نا

محمد سلیم کہا...

آپ کی کہانی ہر اس پاکستانی کی ترجمان ہے جو کسی نا کسی طرح سے باہر گیا اور ادھر کمانے اور پچھلوں کو کھلانے کے قابل ہو گیا۔ آپ کے مخصوص انداز میں لکھی گئی ایک اور اچھی تحریر۔۔۔۔

عمار ابنِ ضیا کہا...

آپ لوگوں کے انھی واقعات کے باعث میں نے بیرونِ ملک جانے کا ارادہ ملتوی کردیا :ڈڈ

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.