کوئی دل تھامے تو کوئی جگر

پاکستان میں بسنے والوں کا حال تو ہمیں اپنے عزیز و اقارب سے رابطہ کرنے پر معلوم ہوتا ہی رہتا ہے۔اگر رابطہ نا کریں  تواخبارات ، انٹرنیٹ ،ٹی وی وغیرہ سے حالات سے آگاہی رہتی ہی ہے۔ درِ غیر پہ پڑے ہوئے ہم تارکین وطن کا خیر سے ماں باپ بھی حال نہیں پو چھتے حال اسی وقت بتانا پڑتا ہے،جب وطن عزیز میں بسنے والوں کے اخراجات شاہانہ کیلئے ادائیگی کا فریضہ سانس گھوٹنے لگتا ہے۔


کوئی یہ فریضہ آسانی سے ادا کر لیتا ہے تو کوئی بیچارہ بے دم ہو جاتا ہے۔چند نفوس کا اجتماع کسی قوم یا ملک کے معاشرے کا آئینہ ہو تا ہے۔مشاہدہ کرنے والے اندازہ لگا لیتے ہیں کہ کسی ملک یا قوم کا اخلاقی معیار کتنا ہے۔


جاپان کی کمیونٹی کا حال بھی بالکل ہمارے پاکستانی معاشرے کی طرح کا ہی ہے۔سیاسی گروپوں کی چپلقش ہے تو فرقی ومسلکی حق پرستی بھی جوبن پر ہے۔مساجد جہاں سکونِ قلب بکنے کا کاروبار ہونا چاھئے،مسلکی فروغ کا پر تقدس کاروبار ہوتا ہے، ایک اپنی بات اگر احسن طریقے سےپہونچائے تو مجاہد اسلام سر بکف ہو جاتے ہیں، اگر دوسرا اپنی بات انتہا پسندی سے پہونچائے تو روحانی تقدس سے صلہ صفائی کی دکان کھل جاتی ہے، دین جو ہمیں صبر و برداشت کی تعلیم دیتا ہے۔اس سے ہم دور ہیں۔


حیرت اس وقت ہوتی ہے، جب چالیس سال کی بالی عمر والے دل و جگر تھامے طب خانوں کے بستروں پر  بے حال پڑے ہوتے ہیں۔دل تڑپ جاتا ہے کہ میرے اس بھائی کا ایسا حال کیوں ہوا؟


معاشرتی انتشار نے ہم سب کو ذہنی خلفشار میں مبتلا کر دیا ہے۔ اور اس ذہنی خلفشار نے ہمیں جسمانی مریض بنا دیا۔ہر ترقی یافتہ ملک میں چالیس سالہ عمر والے جوان تصور کئے جاتے ہیں،اور اسی عمر کے لوگ معاشرے کیلئے اپنی خدمات انجام دیتے ہیں چاہے صرف اپنے گھر بار کی دیکھ بھال ہی کیوں نا کر رہے ہوں۔۔کسی نا کسی صورت میں مستقبل کے معاشرے کے معمار ہوتے ہیں۔


اور ہمارے ملک کے لوگ اس عمر میں بھی انتہائی بچکانہ ذہن کے ہوتے ہیں،اکثریت  اپنے سے بڑوں کی عزت نہیں کرتی تو چھوٹوں سے شفقت نہیں کرتی۔


جو قسمت کی مہربانی سے نو دولتیہ ہو گیا وہ عقل کل کے خبط کا شکار ہوجاتا ہے۔" مجھے نہیں معلوم" کے الفاظ اپنی زبان سے ادا کرنا اپنی توہین سمجھتا ہے۔


اور ایسے حضرات نے اپنا ایک جی حضوری والا حلقہ ضرور تشکیل دیا ہوا ہوتا ہے۔جس سے ان کے نفس کو تسکین مل جاتی ہے۔


ہمیں اس دیار غیر میں ہر طرح کا تحفظ حاصل ہے،خاص کر ہمارے  بہترین معاشرے جاپان میں ہم عدم تحفظ کا شکار نہیں ہیں، یہاں کی پولیس سے ہم بد اخلاقی بھی کریں تو بھی ہم کسی قسم کے پولیسی تشدد کا شکار نہیں ہوتے۔جو کہ اس معاشرے کے عدم تشدد پر قائم ہونے کی ایک مثال ہے،اگر بنگلہ دیش یا کسی دوسرے ملک کا معاشی مہاجر ہمارے پاکستان میں پولیس سے بد اخلاقی کا مظاہرہ کرے تو اس کی کیا حالت کی جائے گی اس کا ہم خوب اندازہ لگا سکتے ہیں۔


ہم مسلمان ہیں، بے شک ہماری مسلمانی ٹوٹی پھوٹی کمزور سی ہے، ہم بحثیت مسلمان مسجد نہیں چھوڑ سکتے چاہے جمعے کے جمعے ہی کیوں نا جائیں،دیار غیر میں جمعہ کے دن مسجد نصیب ہونا بھی ایک بہت بڑی نعمت خداوندی ہے۔لیکن یہ نعمت اس وقت عذاب بن جاتی ہے، جب مسلکی و فرقی مسائل جنم لیتے ہیں،کوئی سنی ان سنی کر دیتا ہے تو کوئی لڑائی جھگڑے پہ تیار ہو جاتا ہے۔


ہر مسجد میں کسی نا کسی مخصوص فرقے کا تسلط ہو تا ہے،اور ظاہر سی بات ہے اس فرقے نے اپنے مطلب کی بات ہی کہنی ہوتی ہے۔


 قرون اولی کے اسلام کا ماحول ، اس وقت بنانا نہایت مشکل ہے کہ ہر کسی نے اپنے فرقی اسلام کو فروغ دینے کی ٹھانی ہوئی ہے۔


اس انتشار کے دور میں ،میں دیکھتا ہوں کہ ہمارے جوان کوئی معاشی مسائل کا شکار جگر سینے سے لگائے اسپتال کے بستر پر ہے تو کوئی دل تھامے بستر پر پڑا ہے۔کوئی کسی کونے میں منہ بسورے پڑا ہے۔


اور اس منتشر ، دکھی قوم ، ملک ، معاشرے کے حکمران کہتے ہیں ،اس حال میں جانے سے تمہیں کس نے روکا ہے تو "مولوی" کہتا ہے۔میرے فرقے میں آو سکوں قلب کا علاج میرے پاس ہے۔


ہمیں دیار غیر کے غیر مسلم معاشرے میں "مولوی " کی ضرورت نہیں ہمیں سکوں قلب کیلئے "علما کرام" کی ضرورت ہے۔


اور عام مسلمانوں کو مذہبی فہم کے خبط سے نکلنے کی ضرورت ہے، جو جس "پیشے" سے منسلک اس کا کام وہ خوب جانے۔


اگر ہمیں مذہب سے دلچسپی ہے تو ہمیں اپنی اصلاح کی کوشش کرنے چاھئے۔دنیا کی اصلاح میں نبی و پیغمبر بھی "اطلاع" دینے تک کے کام سے آئے تھے۔


باقی مجھے اس معاشرے میں کوئی نہیں "روک" سکتا کہ میرے لئے تو مسجد کے بجائے محفلِ طاوس و رباب اختیار کرنا نہایت آسان ہے۔



ہمیں تو خود چَمن آرائی کا سلیقہ ہے

جو ہم رہے توگُلِسْتاں میں باغباں نہ رہے
کوئی دل تھامے تو کوئی جگر کوئی دل تھامے تو کوئی جگر Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 12:02 PM Rating: 5

6 تبصرے:

انکل ٹام کہا...

نی چاں ہمارے ادھر بھی مساجد میں ایڈمنسٹریشن کی عجیب عجیب کہانیاں ہیں ، کئی جگہ تو علماء کرام مثبت کردار ادا کرنا چاہتے ہیں لیکن مسجد کی ایڈمنسٹریشن آڑے آجاتی ہے ۔ ایک مسجد کا واقعہ ہے کہ مفتی صاحب جو بہت اچھے امام تھے اور جنکے خطبات اور بیانات اصلاح معاشرہ سے متعلق تھے نے مسجد اسی وجہ سے چھوڑ دی کہ ایک مخصوص فرقہ والے انکو پسند نہیں کرتے تھے ۔۔۔۔ جو علماء نائس ہیں وہ کچھ حد سے زیادہ ہی نائس ہیں ۔

Hasan کہا...

http://a3.sphotos.ak.fbcdn.net/hphotos-ak-ash4/s720x720/306184_3376198605058_233130542_n.jpg

Hasan کہا...

http://a8.sphotos.ak.fbcdn.net/hphotos-ak-ash3/524984_417704661602514_100000889500133_1263156_1279416849_n.jpg

Hasan کہا...

http://a4.sphotos.ak.fbcdn.net/hphotos-ak-ash3/s720x720/522860_415683931799213_238564412_n.jpg

افتخار اجمل بھوپال کہا...

یاسر صاحب ۔ درست کہ جن کا نام مُلا یا مولوی رکھ دیا گیا وہ سب اس نام کے قابل نہیں لیکن جو ان میں سے نہیں اور اپنے تئیں تعلیمیافتہ سمجھتے ہیں اُن کا کردار کیا ہے ؟ صرف نقطہ چینی ؟ اُنہوں نے معاشرہ کی تعمیر یا بہتری کیلئے زرا سی تکلیف بھی کبھی نہیں کی ۔ مادی علم پڑھانے کیلئے 5000 سے 10000 روپے ماہانہ دینے کو تیار مگر دین سیکھانے کیلئے 100 روپیہ دیتے ہوئے بھی پریشانی ہوتی ہے ۔ مادی مفاد کیلئے سیاسی لیڈر یا افسر پر لاکھوں روپے نچھاور کرنے کو تیار مگر دین کی امامت کیلئے دینی تعلیم رکھنے والے کو مقرر کرنے سے گریزاں کہ وہ جمعرات کی روٹیوں کے عوض کام کرنے کو تیار نہ ہو گا ۔ایک مسجد میں امام ایک ہوتا ہے اور مقتدی 100 سے 1000 تک یا اس سے بھی زیادہ ۔ تو کیا ایک آدمی ان سب پر حاوی ہوتا ہے ؟ نہیں بالکل نہیں ۔ دراصل وہ ایک یعنی امام مسجد ان مقتدیوں کا ہی مقرر کردہ ہوتا ہے یا پھر اُن کا جن سے مقتدی ڈرتے ہیں ۔ اللہ ہمیں دین کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

جی اجمل صاحب بجا فرمایا۔۔۔۔

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.