حدِانتہا

میں بچپن میں پہاڑوں پر بکریاں چرانے جایا کرتا تھا۔ ایک ڈبے میں دودھ یا لسی اور تھیلے میں سوکھی تندوری روٹیاں ہوتی تھیں،  بکریاں چگتی تھیں اور میں پہاڑی پہ بیٹھ کر مایئے ٹپے گایا کرتا تھا،

بیر تو جب دل کرتا قریبی درخت سے توڑ  کرچبا لیتا تھا۔بعد میں "سیو" بیر بکتے دیکھ کر ہکا بکا رہ گیا تھا، اس کے علاوہ لال اور جامنی رنگ کے جنگلی بیر ہوتے تھے ،جنہیں ہم سوکھی روٹی پہ مل لیتے تھے ، مزا آجاتا تھا۔بعد میں معلوم ہوا کہ یہ جنگلی بیر ،اسٹرا بیری ، کہلاتے ہیں،

اگر آپ نے بکریاں چرائی ہیں تو آپ جانتے ہوں گے، بکریاں پتے کھاتے درخت پر چڑھ جاتی ہیں۔گھاس چرتے چرتے پہاڑی کے کنارے تک جاتی ہیں ،کنارے کے اس طرف بس گھاٹی  ہوتی ہے، لیکن بکری کنارے پہ اگا گھاس کھاتی ہے اور گھاٹی میں نہیں گرتی، نا ہی درخت سے گر کر مرتی ہے۔

اگر  کسی کو بیوقوف بتانا ہو تو ہم اللہ میاں کی گائے کہہ دیتے ہیں،

اگر کوئی بات نا سمجھنے والا ہو تو ہم کہتے ہیں ،اسے بات سمجھانا بھینس کے آگے بین بجانے کی طرح ہے۔یعنی گائے بھینس ہمارے لئے حماقت  ، بیوقوفی کی علامت ہوتی ہے، اگر آپ نے چراگاہ میں گائے بھینس چرائے ہوں تو آپ نے دیکھا ہو گا یہ جانور کچھ مخصوص "بُوٹیاں " نہیں کھاتے ،اس کی وجہ یہ ہوتی ہے یا تو قدرت نے انہیں اسکا علم دیا ہوتا ہے ۔ میرا تجربہ ہے انسانی پیشاب زدہ "پتے گھاس" بکری نہیں کھاتی بکری کو علم ہوتا ہے یہ "ناپاک " خوراک ہے

یا پھر  ان حیوانوں کو تجربہ ہو چکا ہوتا ہے،یہ "مخصوص بُوٹیاں"  یا "ناپاک  خوراک"کھانے کا نقصان  ان حیوانوں کو پچیش یا کسی نقصاں  کی صورت میں  بھگتنا ہوتا ہے،میں شوقیہ مٹی کے برتن بناتا ہوں، جب چرخہ گھوم رہا ہوتا ہے کچھ تخلیق ہو چکا ہوتا ہے تو کچھ "مزید " خوبصورتی یا اپنی خواہش میں ڈھالنے کے شوق میں" تھوڑا اور" "تھوڑا اور"کرتے ہوئے ایک تقریباً مکمل ہو جانے والے "پارے " کوفنا کر دیتا ہوں،یعنی چرخہ پہ گھومتے ہوئے مٹی ایک برتن کی شکل اختیا ر کرتی ہے ،

اور میرے شوقِ خوش جمالی میں چرا مرا کر دوبارہ مٹی یا صرف کیچڑ ہو جاتی ہے،اس وقت میں جستجو کرتا ہوں، آخر اس انتہا کی "حد " کیا ہے؟ " تھوڑا اور" کو کہا ں پر بس کرنا چاھئے ؟  برتن  ،کافی کپ،   پلیٹ ، ڈونگہ  ، پیالہ ، اگر تیار ہو جائے اور دیکھنے والا جھوٹ موٹ میں بھی تعریف کر دے تو انتہائی خوشی محسوس ہوتی ہے، انتہائی بیہودہ شے کی تو کوئی جھوٹ موٹ میں بھی تعریف نہیں کرے گا،بیچارہ شش و پنج میں پڑ جائے گا کہ کیا کہوں۔

ہم کنارے کے "اِس پار " سے " اُ س پار "  کاقیاس  کاکر سکتے ہیں۔ " اُس پار " جب تک جائیں گے نہیں حقیقت کا ہمیں علم نہیں ہو گا۔ جب زندگی کی حد پوری ہوتی ہے تو ہم مردے کو دفنا دیتے ہیں۔ہمارا یقین پختہ  ہوجاتا ہے زندگی کی "حد " محدود ہو تی ہے

انسان کو  دماغ عطا کیا  گیا اور کائنات کو تخلیق کرکے  تسخیر کیلئے انسان کے آگے پھیلا دیا گیا، ہمیں اندازہ ہوتا ہے ،کہ ہماری سوچوں پر پہرے نہیں بٹھائے گئے،ہمیں یہ بھی اندازہ نہیں کہ ہماری ذہن رسائی کہاں تک ہے۔خالق  نے ہر جاندار کو بلا شرکت غیر تخلیق کیا۔ہم اس انسان کی " ایجادات " سے مستفید تو ہوں ،لیکن یہ سوچ کر بے چین ہوں کہ کسی کلمہ گو نے یہ "حلالی ایجادات" کیوں نہیں کیں؟۔۔کیا مسلمان کے خالق اور غیر  مسلمان کے خالق مختلف ہیں؟(نعوذ بااللہ)

انسان تو کائنات کی تسخیر میں لگا ہوا، حلالی ایجادات کر رہا ہے یا نہیں کی "حد " ہم محدود کرنے کا اختیا ر نہیں رکھتے۔

آج سے بیس سال پہلے ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ انٹر نیٹ یہاں تک ترقی کرے گا، آج اگر میں بکریاں چرانے پہاڑوں پہ جاوں تو مایئے ،ٹپے گانے کے بجائے انٹر نیٹ سے شغل کروں گا۔۔کھانے کو وہی چند روٹیاں ہی کھاوں گا، پیٹ کی "حد "عبور کروں گا تو معدہ  کی خرابی کا شکار ہو جاوں گا۔

"حد" کے بعد "فنا" ہے، "فنا" کے بعد "باقی"  جو کچھ ہے کنارے کے "اُس پار "  ہے، "لامحدود "کی حدود کو چھونے سے پہلے  انسان کو "فنا " کو تسخیر کرنا ہو گا،

"فنا" کے بعد تو صرف "باقی " ہی ہے۔

 

نوٹ؛  میں عموماً " حدود "کے متعلق سوچتا رہتا ہوں، میرا مقصد کسی کی پوسٹ کا جواب دینا یا "خوامخواہ چول" مارنا نہیں ہے۔۔

بلال کی پوسٹ سے صرف اپنی سوچ لکھنے کی تحریک پیدا ہوئی  جسکا میں بلال کا مشکور ہوں۔

 

 

 

 
حدِانتہا حدِانتہا Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 2:38 PM Rating: 5

17 تبصرے:

جعفر کہا...

آخری نوٹ کی ضرورت نہیں تھی میرے خیال میں۔
عمدگی سے اپنے نکتہ نظر کو بیان کرنے پر مبارکباد۔ ایسے موضوع پر دلچسپ تحریر لکھنا، قابل داد ہے۔

Hasan کہا...

“،لیکن یہ سوچ کر بے چین ہوں کہ کسی کلمہ گو نے یہ “حلالی ایجادات” کیوں نہیں کیں؟۔۔کیا مسلمان کے خالق اور غیر مسلمان کے خالق مختلف ہیں؟“

The Dream of Symmetry
http://www.youtube.com/watch?v=za3GYzigNsk

عبدالقدوس کہا...

سب سے پہلی لائن کا فونٹ چھوٹا کیوں رکھا ؟

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

استاد جی
بس اس لئے لکھ دیا کہ کہیں ۔۔غلط فہمی نا پیدا ہو جائے

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

عبدالقدوس بھائی ۔۔میں نے کافی کوشش کی کہ فونٹ ٹھیک ہو جائے لیکن ٹھیک نہیں ہوا۔۔

افتخار راجہ کہا...

لگتا ہے آپ کی طبعیت کچھ ٹھیک نہیں ہے، پرانی پرانی یادیں لیکر بیٹھے ہوتے ہیں، خوب بھی تپتے ہیں اور ہمیں بھی تپاتے ہیں۔ یہ اچھی بات ناہیں ہے جی، فنا اور اسکے بعد کے حقیقت کےلئے بہتر آپ کو کوئی مولبی ہی بتائے گا، مگر عمومی تجربہ کے مطابق، فنا کے بعد کی وسعتوں کا حال بتانے کم ہی کوئی آیا ہے، شاید جو پبی کے اس پار چلاجاتا ہے اس کا آنے کو دل نہیں کرتا یا پھر آ نہیں پاتا۔

محمد بلال خان کہا...

آپ نے مائکروسافٹ ورڈ میں تحریر لکھ کر پیسٹ کی ہوگی اس لیئے فونٹ ایسا نظر آرہا ہے

یاسر عمران مرزا کہا...

ایک منجھے ہوے لکھاری کی طرح آپ نے اس موضوع پر بہترین تحریر لکھی۔ اس موضوع پر مزید کوئی مواد ہوا تو وہ بھی ضرور شامل کیجیے گا مستقبل میں

ڈاکٹر جواد احمد خان کہا...

جناب خیر تو ہے ... آپ بھی میری طرح کچھ کچھ ناسٹیلجیا کا شکار محسوس ہو رہے ہیں..

بنیاد پرست کہا...

مزے کا لکھتے ہیں جی۔
ہم تو شروع میں سوچ رہے تھے آپ اپنے بچپن کے کچھ یادگار واقعات سنانے جارہے ہیں :ڈڈ کہانی سناتے سناتے بڑی اہم بات سمجھا گئے ہیں۔

رضوان خان کہا...

یاسر بھائی کبھی اپنے مشغلے کی کوئی ویڈیو شیڈیو کوئی فوٹو شوٹو شئیر کریں نا اپنے بلاگ پر . . .

عمر کہا...

زبردست تحریر ہے

م بلال م کہا...

واقعی جعفر بھائی کی بات ٹھیک ہے کہ آخری نوٹ کی کوئی ضرورت نہیں تھی. ویسے ہمارے ہاں اتنی آسانی سے غلطی فہمی پائی نہیں جاتی کیونکہ میں تو چاہتا ہوں کہ ہر کوئی اپنی سوچ، تجربات اور تجزیات لکھے تاکہ ہمیں نئے سے نیا سیکھنے کو ملے. وہ جنہوں نے کچھ عرصہ پہلے میری تحریر کے جواب میں سخت انداز اپنایا تھا میں نے تو ان پر بھی کوئی اعتراض نہیں کیا تھا کیونکہ ایک میرا نکتہ نظر ہے تو ایک دوسرے کا اور دونوں کو اپنی بات کہہ دینے کا حق ہے.

خیر اتنی اچھی تحریر لکھنے پر مبارک باد قبول فرمائیں اور اس تحریر نے میرے لئے کافی آسانیاں پیدا کی ہیں۔. باقی آپ کی یہ بات ”لامحدود کی حدود کو چھونے سے پہلے انسان کو فنا کو تسخیر کرنا ہو گا“ واقعی سوچنے سے تعلق رکھتی ہے۔ مزید یہ بات کہ “فنا” کے بعد تو صرف “باقی ” ہی ہے۔ اس ”باقی“ کی سمجھ نہیں آئی۔ اگر آسانی محسوس کریں تو اس کی وضاحت کر دیں۔

مزید مجھے بہت افسوس ہے کہ آج اتنے وقت کے بعد اس تحریر پر میری نظر پڑی شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ میں اپنی تحریر شائع کرنے کے فورا بعد اردو بلاگنگ پر لکھنے کے لئے مصروف ہو گیا تھا۔

ویسے آپ نے میری تحریر کا جواب تو نہیں دیا لیکن میں کوشش کرتا ہوں کہ ”نوٹ“ کا جواب تحریر کی صورت میں دوں :-)

اسی موضوع پر غلام عباس نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ اگر وقت ہو تو اسے بھی دیکھئے گا۔ لنک یہ رہا۔
http://www.abbaspk.com/blog/%d9%84%d8%a7%d9%85%d8%ad%d8%af%d9%88%d8%af-infinite/

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

میں غلام عباس صاحب کی پوسٹ پڑھ چکا ہوں۔
آپ نے ڈراونی قسم کی دھمکی دی اس لئے ۔۔۔باقی کے متعلق خود ہی سوچیں،؛ڈڈ
فنا کے بعد کیا ہے؟

م بلال م کہا...

لو کر لو گل۔ نوٹ پر جواب سے میری مراد یہ تھی جو آپ نے جعفر بھائی کو جواب دیا کہ غلط فہمی پیدا نہ ہو۔ اس غلطی فہمی پر تحریر لکھنے کا موڈ ہے باقی محدود اور لامحدود پر کوئی جواب دینے کا ارادہ نہیں۔ بھائی آپ نے تو مجھ سے کئی گنا بہتر لکھا ہے بلکہ آپ کی تحریر نے میرے محدود اور لامحدود والے کو خیالات بہتری کی طرف لگایا ہے۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

شکریہ بلال بھائی۔۔۔۔ویسے سورہ اعلی بہت سکون دینے والی سورۃ ہے۔

جھیل کے راستے میں اردو بلاگروں سے ملاقات – پربت کے دامن میں | بیاضِ بلال کہا...

[...] پڑھنے اٹلی پہنچی، تو ساتھ ہی عام بندے کا حال دل سننے خوامخواہ جاپان چلی گئی۔ سوچ نے میرے خوابوں کو چھینا اور میں اس کی ”بے [...]

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.