ماضی اور حال کی اسلامی سلطنت

ملکِ ہندوستان پر مختلف اوقات میں بیرونی اولوالعزم قومیں یکے بعد دیگرے حکمران ہوتی آئی ہیں۔ جب ایک قوم کی سلطنت ضعیف ہوتی گئی تب دوسری زورآور قوم اس پر قابض ہو کر مالک بن بیٹھی، ہنود کی مختلف اقوام جو اس وقت ہندوستان میں موجود ہیں،


ان کے بزرگ بھی مسلمانوں کی طرح اس ملک کے فاتح تھے، ان کی اولاد نے یہاں بودوباش اختیار کرکے صد ہا سال ہندوستان کے مختلف حصوں میں سلطنت رانی کی ہے، بہت سے شاہان ہنود مثلاً راجہ سروتھ ، مہاراجہ رام چندر ، راجہ چندر گپت ، راجہ بکر ماجیت ، راجہ پتھورا ، وغیرہ وغیرہ السنہ خلائق پر تھے ، ان کی علوم پروری اور عدل پروری کے حالات کتبِ تواریخ میں موجود ہیں،


جب ہندووں کی سلطنتوں میں ضعف آیا تو مسلمان ان پر غالب آئے،


اور چند صدیاں اس ملک پر حکمران رہے،مسلمانوں میں بھی ہنود کی طرح چند قومیں یکے بعد دیگرے مسلمان حکمران قوموں پر غالب اور سلطنت پر قابض ہوتی گئیں،


آخر میں سلطنت تیموریہ کو عروج ہوا اور اسی کے ساتھ اسلامیہ سلطنت معدوم ہو گئی،سلطنت تیموریہ کی تاریخ ہندوستان میں مسلمانوں کی ثروت کی خبر دیتی ہے،


مسلمان شاہان ہند میں شاہان تیموریہ کو سب سے زیادہ ترقی نصیب ہوئی ، اکبر کے وقت میں سلطنت اسلامیہ کو آئینی استحکام نصیب ہوا، ہم اگر دین اسلام کی نظر سے دیکھیں تو اکبر نے دین اکبری ایجاد کیا تھا،


اگر اکبر کو مسلمان نا مانا جائے تو اکبر کے دور کو ہندوستان میں سلطنت اسلامیہ نہیں گردانا جاسکتا ۔شہزادہ سلیم دین اکبری کی وجہ سے باپ کا مخالف تھا، بحرحال یہ ایک علیحدہ موضوع ہو جاتا ہے،


جہانگیر کا زمانہ اکبر کے حسن جہانبانی کا نتیجہ و معقول تھا، شاہجہاں کی خوبیوں نے سلطنت کو رونق بخشی اورنگزیب کی حوصلہ مندی نے اسے بہت وسیع کردیا۔


مگر اورنگزیب کی مذہبی  سخت مزاجی کی وجہ سے ہندو رعایا دل شکستہ ہو گئی۔جو اکبر کی کاوشوں سے مسلمانوں کی سلطنت میں مطمعین تھے،


اکبر کے دور میں ہندو سرکاری عہدوں پر تھے ،اور اورنگزیب نے انہیں نکالنا شروع کر دیا تھا۔


اورنگزیب کے مرتے ہی تیموریہ سلطنت میں زوال شروع ہو گیا، آخر کار کفیت یہ ہو گئی کہ ہندو اقوام نے دہلی کو بھی لے لیا۔شاہان دہلی کو بے اختیارو بیکار بنا ڈالا،


دولت تیموریہ کے زوال سے ہندووں کو ایسا زور ہو گیا تھا کہ اگر احمد شاہ ابدالی ہندوستان پر حملہ آور نا ہوتا تو پھر ہندووں کی ہندوستان پر عملداری ہو جاتی، احمد شاہ ابدالی  نادر شاہ ایرانی کا دست خاص تھا،نادر شاہ کی موت کے بعد افغان کے قبائل نے اسے اپنا بادشاہ چنا، نادر شاہ اس سے پہلے ہندوستان پر حملہ آور ہو چکا تھا،


احمد شاہ ابدالی نے مرہٹوں کو ایسی شکست دی کہ مرہٹے نہایت ضعیف ہو گئے، مرہٹے ضعیف ہونے کے باوجود اتنی طاقت رکھتے تھے کہ شاہان دہلی کی مزاج پرسی کیلئے کافی تھے۔۔


اس وقت کے شاہان دہلی حکومت برطانیہ سے سالانہ وظیفہ وصول کرتے تھے اور ایک طرح سے مقید تھے، یا کہنا بہتر ہو گا کہ حکومت برطانیہ کی حفاظت میں تھے،


ایسے ہی جیسے اس وقت کے عراق و افغانستان  کے حکمران دولت امریکہ کی حفاظت میں ہیں۔


اگر حکومت برطانیہ شاہان دہلی کی حفاظت نا کرتے تو مرہٹے دہلی کو غارت کر چکے ہوتے۔


جب عنان سلطنت برطانیہ کو منتقل ہوئی تو اس وقت ہنود کی چند قومیں ہندوستان پر برسرغلبہ تھیں،


اسی باعث ایک انگریزی مورخ نے لکھا کہ " ہم  انگریزوں نے ہندوستان کی سلطنت ہندووں سے نہ کہ مسلمانوں سے پائی ہے" یہ قول بد انست مولف پورا صحیح  تو نہیں ہے، مگر اس میں شک نہیں کہ سلطنت تیموریہ ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی تھی، اور ہر مسلمان صوبہ دار بادشاہ بن بیٹھا تھا، اور بہت  سے اعضائے سلطنت اولوالعزم اقوام ہنود کے ہاتھ آگئے تھے،اور اسی وجہ سے ہنود زور آور ہو رہے تھے،


اگر ملکہ برطانیہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے مفادات کی خاطر سلطنت ہندوستان پر التفات نا فرماتیں تو آخر کار ہنود ہی فرمانروائے ہندوستان ہوتے، مالک ہندوستان ہوکر کس طور پر سلطنت کرتے یہ تو خدا کو ہی معلوم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


عام انسان جنگوں اور شورش میں پستے ہی رہتے،لیکن اللہ کی ذات اپنے بندوں کو بے یارو مددگار نہیں چھوڑتی۔مسلمانوں کے زوال کے بعد دوسروں سے بہتر اور طاقتور قوم کو ہندوستان کی سلطنت ملی،


تاریخ کی کتب میں ملتا ہے ، کہ اورنگزیب کے مرتے ہی اُن کے بیٹوں کی خانہ جنگیوں سے سلطنت مغلیہ کا زور جاتا رہا،جس وقت محمد شاہ کے زمانے میں نادر شاہ نے حملہ کیا اس وقت یہ سلطنت ضعیف ہو چکی تھی، اس حملے سے جو کچھ سلطنت مغلیہ کی وجاہت باقی رہی تھی وہ بھی جاتی رہی،اس حملے کے بعد ہندوستان میں طوائف الملوکی کی صورت نظر آنے لگی یعنی صوبہ داران اودھ و بنگالہ وغیرہ خود مختار بن بیٹھے ، سکھوں نے پنجاب پر قبضہ کر لیا ، جاٹوں نے دہلی اور اطراف دہلی میں ہنگامے مچائے، مرہٹوں نے ہندوستان کے ایک جزو اعظم کو زیر حکومت کر لیا، اس طرح بہت سے سرداروں و قلعہ داروں نے جن کو جس طرح موقع ملا، اپنے کو خود سر کر ڈالا،


اس طوائف الملوکی کے زمانہ میں ہندوستان کے کسی بھی علاقے میں امن وامان نہیں تھا،صوبے داروں کے آپس کے خون ریز جھگڑے جاٹوں کی یورشیں ، سکھوں کی طغیانیاں ، روہیلوں کی فساد انگیزیاں ، راجاوں کی سر کشیاں ، نوابوں کی بے عنوانیاں ،فرانسیسیوں کی دست اندازیاں ، تمام ہندستان میں قیامت مچائے ہوئے تھیں،


کم زروں کی کوئی دادرسی نہیں تھی، فریاد سے کوئی کام نہیں نکلتا تھا، کیسی سلطنت اسلامیہ کیسا انتظام ، ہر سکی کی جان پر بنی ہوئی تھی،شہروں پر ڈاکوں کا راج تھا،جو دن دوپہر دولت مند اشخاص کے مکانات میں گھس کر جس کو پاتے تھے تہ تیغ کر دیتے تھے، قصبہ قصبہ گاوں گاوں مفسدان سرکش عافیت خلائق میں رخنہ ڈالے ہوئے تھے، شاہراہوں پر راہزنوں کا پورا قبضہ تھا، جنگل اور ویرانے ٹھگوں کے دم سے آباد تھے، دریاوں کو دریائی ڈاکوں نے سراسر پر خطر بنا رکھا تھا ،


پہاڑوں میں کوہستانی اقوام خرس و کفتار کو بھی خون خواری میں شرمندہ کئے ہوئے تھے،


کیسی فوجداری ، کیسی نالش ، کیسی فریاد ، نہ زمین پر پناہ ، نہ پانی پر امن ، آئین و قانون کا کیا ذکر۔۔۔جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا مضمون پیشِ نظر تھا،زمین تنگ ،آسمان ناراض۔۔۔


اس وقت کے اہل حکومت بھی کچھ ڈاکو اور قزاقوں سے کم نہ تھے، اگر کسی رعیت کے پاس دولت پاتے حسب خواہش اپنے گھر اٹھا لاتے ، عورتوں کی عزت بھی خدا ہی کے ہاتھ میں تھی، اہل قدرت کے لئے بیویوں کو شوہرسے یا بیٹیوں کو باپ سے چھین لینا کوئی تردد طلب امر نہ تھا،


  مختصر یہ ہے کہ سلطنت ہندوستان دارلفساد ہورہا تھا، اس کی اصلاح دیسی منتظمان سے ممکن نا تھی،ظاہر ہے جب سلطنت کی اصلاح دیسی منتظمان کے ہاتھوں ممکن نا رہے تو نئی زورآور قوم کو قدرت مسلط کر دیتی ہے،اس انتشار کے دور میں سلطنت کا نظام برطانیہ کے ہاتھ آگیا۔ اب بھی ہمارے بڑے بوڑھے ٹھنڈی آہیں بھر کر بتاتے ہیں کہ پاکستان بننے کے بعد بڑا ہی اچھا ماحول تھا۔لیکن حکمرانوں نے اس ملک کو تباہ کر دیا،


ہر طرح سے تباہ و برباد کرنے کے باوجود ملکہ برطانیہ کے دور کے فلاحی کاموں کے آثار پاکستان میں اب بھی نظر آتے ہیں۔۔تباہی کی طرف گامزن ریلوے کے نظام کو ہی دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ برطانیہ نے کچھ نا کچھ تو عوام کیلئے فلاحی کام کیا ہی ہو گا۔ انگریزوں کی انصاف پسندی کے واقعات بھی سننے کو ملتے ہیں، اگر انگریز انصاف پسند نہیں تھے تو پہلے والے کونسے تحریک انصاف والے تھے۔


اتنا تو ہمیں بھی یاد ہے کہ بچپن میں گھروں کو تالا ڈالنے کا رواج نہیں ہوتا تھا،ہندوستان پر برطانیہ کی حکومت آنے سے پہلے جو کچھ تاریخ میں ملتا ہے۔وہی کچھ اس وقت کی اسلامی سلطنت پاکستان میں نظر آرہا ہے۔


اس سلطنت پاکستان میں کچھ صدیوں پرانے مہاجر ہیں تو کچھ چند عشروں کے مہاجر ہیں۔کچھ کو مقامی حکمرانوں نے بیرونی زورآور قوم سے مل کر گھر بار سے بے دخل کیا۔ اصل قدیم بسنے والی اقوام کو تلاش کرنا اس وقت نہایت مشکل ہے،اگر کوئی دعوہ کرے بھی تو ماننے والا کوئی نہ ملے گا،


قدرت نے آثار دکھانے شروع کر دیئے ہیں۔ ایک بیرونی زورآور قوم سر پر مسلط کر دی گئی ہے۔اگر اس قوم کو مکمل غلبہ حاصل ہو گیا تو پھر آزادی کی جد و جہد کا آغاز کرنا پڑے گا،


ہمارے مذہبی سیاسی لیڈر حکمران طبقہ اس وقت صرف اپنے مفادات کیلئے سرگرم نظر آرہا ہے اور عوام نسل پرستی، لسانیت پرستی ، اور مذہبی فرقہ پرستی میں مبتلا ہے،


ملک کا امن و امان تباہ ہو چکا ہے،حکمران دیدہ دلیری سے لوٹ مار کر رہے ہیں، ڈاکو دن دیہاڑے ڈکیتی کرتے ہیں تو ہر دو قدم کے بعد ایک عدد ٹھگ ضرور ملتا ہے، عورت ذات کتنی محفوظ ہے سب کو معلوم ہی ہے،


لین دین کےمعاملات میں ہم کسی پر اعتماد نہیں کر سکتے دس پر اعتماد کریں تو دو تو ہر حال میں دھوکہ دیں گئے۔ باقی بھی اللہ ہی اللہ ہے۔۔


جب سلطنت اسلامیہ پاکستان کے لوگ ایک دوسرے سے نفرت  کرنے کے بعد انتہائی ذلت میں گر جائیں گے تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


اللہ میاں پوچھے نا پوچھے میں ضرور پوچھوں گا۔۔۔۔۔۔ہن ارام اے؟

ماضی اور حال کی اسلامی سلطنت ماضی اور حال کی اسلامی سلطنت Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 11:46 AM Rating: 5

2 تبصرے:

جعفر کہا...

اس پوسٹ پر تو فال آف مغل ایمپائر نامی فلم بن سکتی ہے
انصاف اور تحریک انصاف والا جملہ حاصل تحریر لگا مجھے۔
عمدہ

بنیاد پرست کہا...

زبردست
شروع میں تھوڑا سا یہ تاثر ابھرتا ہے کہ شاید مسلمانوں نے بھی ہندوستان پر قبضہ صرف اپنی طاقت اور تلوار کے بل بوتے پر کیا اور ہندو اپنی طاقت میں ضعف کی وجہ سے ہی مغلوب ہوئے تھے۔ باقی تحریر زبردست ہے ،مسلمانوں کی ہندوستان میں حکمرانی کو آپ نے چند پہروں میں بیان کردیا ہے۔

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.