صوبائیت

جاپان کے سنتالیس صوبے ہیں۔۔ان صوبوں کو انگلش میں پریفیکچر کہتے ہیں۔۔جس کا شاید ٹھیک لفظی معنی صوبہ نہ بنتا ہو۔ لیکن ہم آسانی کیلئے صوبہ ہی کہہ لیتے ہیں۔


جاپان کے شمال میں ایک جزیرہ نما صوبہ ہے جسے ہوکائیڈو کہتے ہیں۔یہ برفانی علاقہ ہے۔ ہو کائیڈو میں قدیم مقامی قوم " آئی نو " بستی ہے۔جو اس وقت اقلیت میں ہیں۔ان کی اپنی ثقافت اور زبان ہے۔


جنوب میں بھی اس طرح جزیروں پر مشتمل صوبہ اوکی ناوا ہے۔ یہ صوبہ امریکی چھاونی کی وجہ سے کافی مشہور ہے۔اوکی ناوا دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ کے کنٹرول میں تھا، جاپان اور اوکی ناوا میں آنے جانے کیلئے پاسپورٹ کی ضرورت ہوتی تھی۔


1972 میں جاپانی حکومت کو اوکی ناوا واپس مل گیا۔اور وہاں پر امریکی چھاونی ابھی بھی موجود ہے لیکن حکمرانی  جاپان کی ہی ہے۔۔اوکی ناوا میں  "ریوکیو " قدیم مقامی قوم بستی ہے۔


آپ اگر ٹوکیو پہلے آئیں تو آپ کو جاپانی جو نظر آئیں گے۔چینی نسل کے ہی ہوں گے۔زیادہ تر تیز تیز قدموں سے چلتے ہوئے  ٹرین میں اخبار یا کوئی کتاب کھولے بیٹھے یا کھڑے نظر آئیں گے۔


لیکن جب آپ اوکی ناوا جائیں تو وہاں پر آپ کو ایک بالکل مختلف ماحول ملے گا۔جاپانی ماحول کی نسبت انڈونیشین ،تھائی ، فلپائینی  ماحول نظر آئے گا۔لوگ ڈھیلے ڈھالے انداز میں بینچوں پر بیٹھے گپ شپ کر رہے ہوں گے۔


انہیں کوئی خاص کام کاج کی جلدی نہیں ہوگی۔۔اگر یہ آپس میں مقامی زبان میں بات چیت کر رہے ہوں گے تو ان کی زبان بالکل سمجھ نہیں آئے گی۔۔۔مشہور علاقے ہیرو شیما ناگاساکی کی بھی اپنی زبان یا بولی ہے۔


شمالی مشرقی علاقہ جس میں تسونامی اور زلزلہ آیا تھا۔ان کی بولی بھی مختلف ہے۔اسی طرح ہر صوبے یا علاقے میں اپنی اپنی بولی بولی جاتی ہے۔۔بعض اوقات ہمیں بھی سمجھ نہیں آتی ،لیکن زیادہ تر غیر ملکی کو دیکھ کر


سٹینڈرڈ جاپانی زبان میں بات چیت کرتے ہیں۔جاپانی عوام کے حقوق سارے جاپان میں ایک جیسے ہی ہیں۔جو قدیم قومیں ہیں ان کا حکومت جاپان  کچھ زیادہ خیال رکھتی ہے۔


پورے جاپان میں کسی جاپانی کی زبان سے آج دن تک میں نے نہیں سنا کہ اس کی قوم ٹوکیو ہے یا ناگا ساکی،  ہیرو شیما وغیرہ وغیرہ ہے۔


ہاں یہ ضرور سنا کہ فلاں فلاں علاقے کا بندہ ہے یا ہوں۔۔لیکن اس علاقے کی نسبت سے کسی قسم کا تعصب یا نفرت کا اظہار نہیں سنا۔۔


سارے جاپان کے سکول کا نصاب ایک جیسا ہے۔اور جاپانی اپنی زبان جاپانی بتاتے ہیں۔۔ایک دوسرے کی علاقائی بولیوں اور زبانوں کو پسند ضرور کرتے ہیں لیکن بولی یا زبان کی فرق سے کسی قسم کی تعصبانہ نفرت نہیں کی جاتی،


 انتہائی اندرون ملک  کسی بھی چھوٹے دیہات میں بھی بجلی پانی فون ڈاکخانے اور امن وامان کیلئے پولیس چوکی لازمی ہوگی ۔اس پولیس چوکی میں ہو سکتا ہے صرف ایک ہی پولیس والا ہو۔۔یہ پولیس والا امن و امان ، ٹریفک کے مسائل کے علاوہ بوڑھوں کا بھی اتہ پتہ بھی کرتا رہتا ہے کہ کہیں کوئی بیچارہ بیمار نا ہو یا گذر ہی نا گیا ہو۔


جاپانی عوام کے بڑے بڑے شہروں میں بھی اور کسی دور دراز کے گاوں دیہات میں بھی ایک جیسے حقوق ہیں۔۔اور انہیں یہ حقوق بغیر احتجاج اور کسی قسم کا اثرورسوخ استعمال کئے بغیر ملتے ہیں۔ٹیکس بھی بغیر کسی رعایت کے ہر کسی سے وصول کیا جاتا ہے۔


ہم غیر ملکی بھی یہ بنیادی حقوق یا سہولیات بغیر کسی تفریق کے حاصل کر رہے ہیں۔یہ سارے حقوق اور سہولیات جاپان کی عوام مہنگا ٹیکس ادا کرکے حاصل کرتے ہیں۔۔اور یہاں کی سیاستدان و حکمران بھی یہ ٹیکس ذمہ داری سے ادا کرتے ہیں۔۔ٹیکس چوری یہاں بھی ہوتی ہے۔اور پکڑے جانے کی صورت میں سزا اور جرمانہ بلا تفریق عوام اور خواص کو ہوتا ہے۔


عوام اگر کسی عوامی مشترکہ مسئلہ کے معاملے میں حکومت کی بے حسی کا شکار ہوں تو احتجاجی ریلیاں ضرور نکالتے ہیں لیکن جلاو گھیراو نہیں کیا جاتا اور اس طرح پولیس بھی ڈنڈا پریڈ نہیں کرتی۔


ہم پاکستان کے عوام کو بنیادی حقوق بالکل میسر نہیں ہیں ، بنیادی سہولیات کا تصور بجلی،پانی، گیس ، روٹی تک کاہی ہے۔اور چاروں سہولیات ہمیشہ قلت کا شکار رہتی ہیں یا رکھی جاتی ہیں۔


امن و امان جس کے پاس ڈنڈا ،۔۔۔۔۔اسے ہی میسر ہے۔ڈنڈا اسی کے پاس ہے جس کے پاس پیسہ اور اختیارات ہیں۔


عوام کیلئے بنیادی سہولیات مہیا کرنے کی کوشش کرنے والےسیاستدان کے وعدے وعید تک تو بہت سنے لیکن کسی کی کو ئی کوشش دیکھنے کو نہیں ملی ۔عوام بیچاروں کو اپنے حقوق کا ہی نہیں معلوم ۔


جس طرح سیاستدان و حکمران چاھتے ہیں ،عوام بیچارے اس طرح استعمال ہو جاتے ہیں۔۔سیاستدانوں کے اپنے مفادات ہوتے ہیں۔۔یہ مفادات اندرونی و بیرونی کسی قسم کے بھی ہوسکتے ہیں۔


پاکستان میں نئے صوبے بنانے چاہیں اور کسی کو اس پر اعتراض نہیں ہونا چاھئے۔یہ صوبے لسانیت ،اور نسلیت سے بالاتر ہونے چاہیں ،صرف انتظامی امور کو احسن طریقے سے انجام  دینامقصد ہونا چاہئے ۔۔نا کہ لوٹ مار کرنے کیلئے مخصوص لوگوں کے لئے نئے صوبے بنائے جائیں اس وقت صوبوں سے زیادہ ہزاروں اہم مسائل حل طلب ہیں۔ لیکن ان حالات میں ان سیاستدانوں کو اگر نئے صوبے عطا کر دیئے گئے  تو عوام  کو جو تھوڑا بہت امن و امان یا آزادی میسر یہ بھی ختم ہو جائے گی۔۔غلامی کی انتہائی ذلت  کی صورت کا سامنا کرنا پڑ ے گا۔


 نئے صوبے ، ۔۔۔۔۔۔صوبہ ہزارہ ، مہاجر صوبہ ، سرائیکی صوبہ۔۔۔۔۔۔۔۔وفاقی ، صوبائی سطح کی کرپشن کو علاقائی سطح پر لانے کی خواہش؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کسی قسم کا اثر ورسوخ نا رکھنے والے عوام کو مزید غلامی کی زنجیروں میں جھکڑنا؟


مذہبی فرقہ پرستی سے اطمینان بخش نتائج حاصل نہ ہو سکنے کی وجہ سے لسانی تفرقہ کراچی سے اندرون ملک منتقل کرنا؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


آزاد بلوچستان کا نعرہ لگا کر بلوچوں کا صفایا کرنا؟ ۔۔۔


اگر سیاستدان اور معزز لیڈر حضرات اتنے ہی مخلص ہیں تو عوام کے ہزاروں مسائل کو پہلے کیوں نہیں حل کرتے؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس وقت عوام کی ضرورت نئے صوبے ہیں یا امن و امان اور روزگار ہیں؟


کراچی میں لسانی جماعتوں کی مار دھاڑ سے عام مزدور آدمی بے انتہا مسائل کا شکار ہے۔۔آٹھ سے  بارہ ہزار کمانے والا ان فسادات میں فاقہ کشی کا شکار ہے۔۔اس فاقہ کش کیلئے کسی بھی لسانی سیاسی جماعت والوں کے دل میں کوئی رحم نہیں ہے۔


سارے پاکستان میں عوام ان سیاسی بازی گروں کے ہاتھوں نچائی جارہی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ عوام کو شعور ہی نہیں کہ انہیں صرف استعمال کیا جارہا ہے۔سندھ کے اگر تین صوبے بنا دیئے جائیں ۔۔اے این پی والوں کا ، ایم کیو ایم والوں کا ، اور سندھ والوں کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس کے بعد یہی صوبے  ملک کے اندر ایک نیا ملک بن جائیں گے۔۔ایک دوسرے کی جماعت والے دوسرے کے علاقے میں جا نہیں پائیں۔۔جو غلطی سے بارڈر کراس کر جائے گا وہ دنیا سے ہی آگے بھیج دیا جائے گا۔۔۔۔۔شاید اس وقت بھی حال کچھ ایسا ہی ہو گا۔


جاپانی کافر ہیں ۔ان کے پاس ہمارے جیسا مذہبی تصور نہیں ہے۔۔لیکن ان میں انسانیت ہے۔اور ہم  مسلمانی کے دعوے دار لسانیت اور نسلیت کی خمار کا شکار ہیں۔۔لیکن نہایت جوش و خروش سے دعوہ کرتے ہیں کہ مسلمان اور اسلام دنیا کے بہترین لوگ اور مذہب ہے۔۔۔۔


بت پرستی بھی ہے اور دعوی مسلمانی بھی ہے۔


صوبائیت صوبائیت Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 6:11 PM Rating: 5

9 تبصرے:

ڈاکٹر جواد احمد خان کہا...

سیارہ پر رجسٹریشن مبارک ہو. سیارہ ہمیں گئے وقتوں کی یاد دلاتا ہے کیا دور تھا جب ٹیلیفون کنیکشن کے لیے مہینوں اور بعض اوقات سالوں انتظار کرنا پڑتا تھا.
پاکستان سے لسانیت ختم نہیں کی جاسکتی کم از کم 100 سال تک تو اسکا امکان نظر نہیں آتا. شہری حکومتیں صوبوں کا بہترین نعم البدل تھیں لیکن سامراجی نظام کی پروردہ سیاسی اشرافیہ کو ایک آنکھ نہیں بھائی.
جب نیتیں ہی ٹھیک نا ہوں تو کچھ بھی ٹھیک نہیں ہوسکتا.

علی کہا...

سیارہ میں واپسی پر مبارکاں ۔ ہم تو سمجھے پلوٹو کی طرح آپکو بے نظام بلاگی سے ہمیشہ کے لیے نکال باہر پھینکا گیا ہے پر آپکو لگتا ہے ابھی صیح طرح سمجھے نہیں سیارہ مارکہ

محمد بلال خان کہا...

حیران نہیں ہوں کہ ادھر تحریر پر تبصرہ نہیں آرہا بلکہ سیارہ کے بارے میں شروع ہوگئے ہیں ، میں ابھی تک نہیں پہنچا سیارہ تک جب ان کو درخواست دو ان کے ساتھ کچھ مسئلہ آجاتا ہے اب میں کیا کروں معلوم نہیں کیا دشمنی ہے ان کی مجھ غریب سے۔تحریر اچھی تھی اس لیئے تبصرہ یاد نہیں کیا کرناہے :D

افتخار اجمل بھوپال کہا...

یہ دو فقرے جو آپ نے لکھے ہیں حُب الوطنی کی نشانی ہیں جو میرے بہت کم ہموطنوں میں پائی جاتی ہیں
سارے جاپان کے سکول کا نصاب ایک جیسا ہے۔اور جاپانی اپنی زبان جاپانی بتاتے ہیں۔۔ایک دوسرے کی علاقائی بولیوں اور زبانوں کو پسند ضرور کرتے ہیں لیکن بولی یا زبان کی فرق سے کسی قسم کی تعصبانہ نفرت نہیں کی جاتی
عوام اگر کسی عوامی مشترکہ مسئلہ کے معاملے میں حکومت کی بے حسی کا شکار ہوں تو احتجاجی ریلیاں ضرور نکالتے ہیں لیکن جلاو گھیراو نہیں کیا جاتا
سیّارہ اب اُونچے لوگوں کی ملکیت ہے جو آزاد دنیا کے باشندے ہیں

انکل ٹام کہا...

بت پرستی کرتے ہوئے دعویٰ مسلمانی ہے
واہ نی چاں واہ ۔۔۔۔ لیکن بیغیرت کو تھپڑ محسوس نی ہوتا

افتخار راجہ کہا...

میں نے تو طوبا کرلی ہے اس طرح کی تحریریں لکھنے کے بارے، کل جو ایک پاکستانی تبصرہ ہوا اس کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ پاکستانیوں کے جو خاص طور پر ادھر بستے ہیں کے سدھرنے کے مستقبل قریب میں کوئی چانس نہیں ہیں، اپ ایویں ہی فرسٹریشن کریئٹ کررہے ہیں، مجھے بھی آپ کی تحریری پڑھ پڑھ کر اختلاج قلب محسوس ہونے لگتا ہے اور لازمی طور پر آپ کو بھی دورے قبل از و بعد از تحریر پڑتے ہونگے، پر خطر مطلق ہے کہ کوئی نہ کوئی بندہ دل ہی دل میں اسے بھی بونگی قرار دے رہا ہوگا، یہ کہہ کر کہ جی اس بابے کو کیا علم یہ تو ہے ہی جاپانی، یا پھر روسی ایجنٹ بھی قرار دئے جیں،

نعمان محمد کہا...

تحریر کا پہلا حصہ جو جاپان سے متعلق ہے بڑا ہی اچھا لکھا۔۔۔۔ دوسرے حصے پہ " نو کومنٹ"

Kashif Naseer کہا...

سو فیصد متفق،
اصولی طور نئے صوبے بننے چاہئے لیکن فوری طور پر ایسا کوئی بھی مطالبہ اور جدوجہد وقت اور قوت دونوں کی بربادی ہے۔ یقینا ابھی اور کرنے کے بہت سے زیادہ ضروری کام ہیں۔
حال ہی میں، میں نے اپنے فیس بک پر کراچی صوبے کی بات کی تھی جو صرف ایک اصولی بات تھی جب کہ میرے متعلق تھوڑا بہت بھی جاننے والے جانتے ہیں کہ میں عملی طور پر میں نا اس جد و جہد میں شریک ہوں اور نہ اس جدو جہد میں مصروف لوگوں کا ہمدرد بلکہ میرے نزدیک اس طرح کے کسی کام میں ملوث ہونا بھی میرا اپنے مقصد سے غداری ہوگا۔
بہرحال اس بحث کا ایک فائدہ ضرور ہوا اور وہ کہ جہاں مجھے بہت کچھ کچھ ازسر نو سوچنے اور سمجھنے کا موقع ملا وہیں کئی اور لوگوں کی مانڈ سیٹ میں موجود تضادات اور کہیں کونے میں چھپے تعصب کو سمجھنے کا موقع ملا۔

عمر کہا...

شکریہ اس خوبصورت تحریر کیلیئے

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.