کیا زمین ، کیا آسمان،

کیا زمین ،کیا آسمان

پاکستان کے مسلمان

پیلے چٹے کافروں کے ملک میں مہینے میں ایک دو بار یا سال میں چند بار لازمی طور پر محلہ کمیٹی والے مل کر گند صفائی کرتے ہیں۔اس محلہ کمیٹی میں محلہ کے ہر گھر کا ایک آدمی ضرور شامل ہوتا ہے۔آنے والے اتوار کو ہرطرح کی  مصروفیت کے باوجود میں نے ایک دو گھنٹوں کیلئے "شاہ جی " سے بھنگی بن جانا ہے۔

یعنی گندی نالیوں کی صفائی اور کوڑا کرکٹ اٹھانا ہو گا۔۔ہیں جی ۔

گند کیا ہوتا ہے جی گھاس پوس کو کاٹنا ہوتا ہے یا اکا دکا سگریٹ کا ٹوٹا جو کسی نے پھینک دیا ہوتا ہے اسے اٹھا کر کچرے کے ڈبے میں پھینکنا ہوتا ہے۔ٹوٹے پینے کا شغل آجکل میں نہیں کرتا۔قسمے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپ یقین کرو یا نا کرو۔

ویسے گلی کوچوں کی صفائی بعض اوقات یہودیوں کی سازشی تنظیم  فری میسن کا ذیلی  روٹری کلب بھی کر رہا ہوتا ہے۔

دل تو کرتا ہے ان سے پوچھوں مسلمان کا نصف ایمان کافروں کے ملک میں کیوں سازش کرکے لوٹ رہے ہو۔تیل تو ادھر سے لوٹتے ہو اور نصف ایمان کافروں کے ملک میں ہی!۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہیں جی

اس روٹری کلب کے ممبران کروڑوں پتی ہوتے ہیں۔ لیکن راہوں  سے کوڑا کرکٹ اٹھا رہے ہوتے ہیں۔۔ نا کسی کو جتاتے ہیں اور نا ہی کسی پر احسان کا بوجھ ڈالتے ہیں۔ میرے جیسا جس کا آدھا ایمان  آئیں بائیں ٹائیں ہوتا ہے ،

ان کافروں کے ملک میں آکر پورا اور پکا ہو جاتاہے۔۔پھر ہمیں احساس ہوتا ہے  کہ میں تو کٹر مسلمان ہوں ۔۔ہیں جی

میں پاکستانیوں  کی محفل میں اگر غلطی سے بیٹھ جاوں تو سب کے ابا حضور کے متعلق سننا پڑتا ہے ،کہ بہت ہی عقل مند دانشور اور نہایت ہی اعلی صلاحیتوں مالک ہیں۔ او پائی جان اتنے ہی سپر مین قسم کے ابا جی نے پالا ہے تو حال یہ کیوں ہے؟۔۔۔۔۔۔۔۔ہیں جی

بہت سارے ابا جی کی عقلمند اورمستقبل کی سپر مین اولادیں پوچھتی ہیں ۔ یہ گند کون صاف کرکے دے گا؟

تصویر  بغیر اجازت کے ایکسپریس  سےچوری کی گئی  ہے جس کیلئے ایکسپریس کے مشکور ہیں۔

اس تصویر کو اخبار میں دینے والوں نے حکمرانوں کی توجہ حاصل کرنے کیلئے ساتھ میں لکھا تھا کہ یہاں پر کئی اموات ہو چکی ہیں اور کئی لنگڑے لولے ہو چکے ہیں۔
او اقبال کے شاہینو!!۔۔۔یہ گندے نالے تو آپ کیلئے ڈوب مرنے کیلئے ہی ہیں ۔۔ہیں جی

یہ اقبال کے شاہین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک گلاس پانی اپنے ہاتھ  سےڈال کر پینا ۔۔۔برا سمجھتے ہیں۔

کیا زمین ،کیا  آسمان

پاکستان کے مسلمان

کیا زمین ، کیا آسمان، کیا زمین ، کیا آسمان، Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 10:04 PM Rating: 5

6 تبصرے:

dr Iftikhar Raja کہا...

مولانا اس طرح کی باتیں نہ کیا کرو، کسی نے پڑھ لیں تو پھانڈا لگ جاوے گا، ایسے ہی خوامخوہ میں، حالانکہ جو بات آپ نے کری ہے وہ ہے تو ٹھیک مگر چونکہ ہمارا ملک اسلام کا کلہ ہے چنانچہ آپ کی اس تحریر کو ملک کے خلاف سازش بھی سمجھا جاسکتا ہے اور عالم اسلام کے خلا ف بھی، کہ بھی ہمارے نصف ایمان کو آپ دھبہ لگا رہے ہو، ہمارے پاس جو نصف ہے ہم اسکو تھپکیاں دیں گے اور ان کے پاس جو باقی کا نصف ہے وہ اسے سنبھالے پھریں، پر ہمارے والے کے بغیر وہ جنت میں نہ جاسکیں گے، حوریں،
اور اگر ان میں سے کوئی پوچھ بیٹھا کہ اس باقی نصف کے بغیر تمھارا جنت میں جانا کیسے ہوگا تو آپ بتاؤ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔۔ ہیں جی

انکل ٹام کہا...

یاسر بھائی بلکل ٹھیک کہا آپ نے ، اگر سارے علاقے والے مل کر تھوڑے تھوڑے پیسے ملائیں اور پھر اپنے علاقے کے کونسلر اور ایم این اے وغیرہ کو کہیں کہ دیکھو ہم یہ کر رہے ہیں اور اتنا تم ہماری مدد کرو اور یہ کام ٹھیک کریں ۔۔۔ لیکن نہایت افسوس کا مقام ہے کہ لوگ خود بھی تو کچھ نی کرتے ۔۔۔ میں پاکستان میں اندرون لاہور جاتا تھا ٹیوشن پڑھنے ، آپ یقین کریں صبح صبح عورتوں نے کچرے اور کوڑے کے شاپر گلی میں پھینکے ہوتے تھے اپنے ہی گھروں کے سامنے کہ کوڑے والا اٹھا کر لیجائے گا ۔۔۔ اور کافی شاپر پھٹ جاتے تھے کوڑا نکل کر بکھر جاتا تھا ۔۔۔ اور نالیاں گلیوں میں ، آپ یقین کریں ، میرے کزن کا گاوں اس سے زیادہ صاف ستھرا ہے ۔۔۔ اور جس دن تھوڑی بارش ہو گئی تو آپ سمجھیں کہ آپ کسی گندے نالے میں ہی ہیں ۔۔۔ کوئی صفائی ستھرائی کا خیال نہیں رکھتے لوگ ۔۔

ڈاکٹر جواد احمد خان کہا...

ارے جناب خود کرنا تو بہت دور کی بات ہے چندہ جمع کرکے کسی سے کروانا بھی عقلمندی کے خلاف سمجھا جاتا ہے.
15 سال قبل ہمارے محلے کی گٹر لائن چوک ہوگئی.گندا اور بدبو دار پانی پوری گلی میں بھر گیا آنا جانا دشوار ہوگیا خاص طور پر مسجد سے ملحقہ ایریا تو شدید متاثر ہوا. بلدیہ والوں نے کبھی آنا نا تھا ایک بھلے مانس نے نماز کے مشورہ دیا کہ ہم اپنی مدد آپ کے تحت اس گٹر لائن کی مرمت کرالیتے ہیں لیکن اس کے لیے سب افراد کو مالی اعانت کرنا ہوگی. اس وقت تو سب راضی ہوگئے لیکن بعد میں کوئی بھی " بیوقوف " بننے پر راضی نہیں ہوا اور محلے کے سارے نمازی بدستور ناک بھنویں چڑھاتے اور شلوار کے پائنچہ اوپر چڑحائے گندگی پر برے برے تبصرے کرتے مسجد آتے جاتے رہے لیکن کسی کو بھی توفیق نہیں ہوئی۔ تاوتتیکہ مفت میں اس کام کی سبیل پیدا ہوئی اور علاقے کے لوگوں نے اس غیبی مدد پر اللہ کا شکر ادا کیا

م بلال م کہا...

اس میں تو کوئی شک نہیں کہ زیادہ تر گند میں اتر کر ہی گند صاف ہوتا ہے۔ باقی بھائی صاحب کیوں ہمارے آدھے ایمان کی واٹ لگا رہے ہو۔ آپ کو کیا لگتا ہے کہ ہم گند میں اتر کر اپنے آدھے ایمان کو ضائع کر دیں؟ نہیں بھائی ایسا ہم کبھی نہیں کریں۔ چلو اکا دکا گر کر مرتا ہے تو کیا ہوا باقی تو محفوظ ہیں نا جی :-) چلو میں اوکھا سوکھا ہو کر گزر گیا ہوں باقی اپنی اپنی خود جانیں۔

عبدالقدوس کہا...

سُنا ہے آخری بادشاہ کے محل پر جب انگریز نے حملہ کیا تو بادشاہ مسند پر ہی براجمان تھا انگریزوں کا افسر ایک بہادر دشمن کو پاک کر دل ہی دل میں بہت فخر کرنے لگا اور اس نے سوچا شاید یہ بھی محمد بن قاسم کی طرح کوئی تاریخی جملہ کہے گا اسلئے اُس نے بادشاہ سے پوچھا.
بادچھاو سارے نکل لئے تُسے کیوں نہیں گئے
تو جواب میں بادشاہ کہنے لگا
کوئی جوتا پہنانے والا نہیں ہے

جس پر چیٹا انگریز غصےسے ٹماٹری ہوگیا پر اگے بادچھا سی لتر نیں پھیرے جاسکدے سن

یعنی ہمارے لوگ بے اپنا کام کرنے کے لئے بھی کسی سیاست دان یا مسیحا کو مورد الزام ٹھراتے ہیں نہیں تو پھر اللہ تو ہے ہی.
سلونا منہ وٹ کر کہہ دیا " اللہ دی مرضی"

بمشکل تمام 100 روپیہ ہرگھر کو آئے گا اور 3 سے 4 فٹ کی دیوار بہت آرام سے بن جائے گی

علی کہا...

بھائی صیب یہاں ملتان میں تو ہماری گلی میں خود ہی آئے واسا والے اور کہنے لگے اگر ہر گھر سے انکو 100 روپیہ ماہانہ دیا جائے تو آج کے بعد گلی میں کبھی پانی نہیں کھڑا ہوگا اور اب تک ہوا بھی نہیں
اللہ بھلا کرے ان کا ورنہ اس سے پہلے تو جس کے گھر کے آگے پانی ہوتا تھا وہ اس کا انفرادی مسئلہ تھا حسب معمول۔جیسے ہم ایکشن کو انفرادی مسئلہ جانتے ہیں اور گالیاں زرداری کے لیے اور ووٹ گیلانی کے بیٹے کے لیے
تمھاری بھی جے جے
ہماری بھی جے جے

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.