قسمت اور ہم

انسان اپنے ماضی کے دکھوں، ناکامیوں ، پریشانیوں ، پر ہی کڑھتا رہتا ہے۔
یہ دکھ پریشانیاں اسے مستقبل کیلئے بھی پریشان اور دکھی کردیتی ہیں۔۔
اور حال سے غافل کر دیتی ہیں۔یا انسان حال سے نظریں چرانا شروع ہو جاتا ہے۔
ماضی سے انسان چھٹکارا نہیں پا سکتا، مستقبل کا حال اس خاکی کو معلوم نہیں۔

ماضی کی پریشانیاں اور مستقبل کے حال سے لاعلمی سے انسان کی زندگی منفی اثرات کا شکار ہو جاتی ہے۔
انسان اس ماضی اور مستقبل کے گورکھ دھندے کو قسمت کا لکھا سمجھ لیتا ہے۔

بے شک ہمارے لئے اللہ تعالی نے سب کچھ طے کیا ہے ، اور ہمارے لئے ایک راہ متعین کی ہے۔
کیا اس رحیم و کریم کی رحمت سے یہ بعید ہے ،کہ جو کچھ اس نے انسان کیلئے متعین کیا ہے ،وہ اس کے فائدے کیلئے نہیں؟
اللہ نے انسان کی قسمت میں جو کچھ لکھا ہے ، اس کے حصول کیلئے محنت کو وسیلہ بنایا ہے۔

قسمت کے اس مثبت نظریے کے ہماری زندگی پر بہت ہی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
اس کے منفی اثرات کیا یہ نہیں ہیں ،
کہ ہم قسمت کے لکھے گورکھ دھندے میں الجھ کر ماضی اور مستقبل کی پریشانیوں میں الجھ کر ہم پست حوصلہ اور ہڈ حرام ہو جاتے ہیں؟

قسمت کا خالق تو کہتا ہے۔
لیس الانسان الا ماسعی(سورہ النجم آیت 39)
(انسان کیلئے کچھ نہیں سوائے اس کے جس کی اس نے کوشش کی)
ہماری حالت یہ ہے کہ ہم ماضی میں جیتے ہیں اور حال سے نظریں چراتے ہیں۔
مستقبل کی پیش بندی کا ہمیں بتا دیا گیا۔لیکن ہمیں مستقبل کا یقین نہیں۔
جلسے جلوس مجلسیں ،ماتم کرکے ہم مستقبل کا خوف دور کررہے ہیں،
اور حال کو قسمت کا کیا دھرا کہہ کر ہڈ حرامی کر رہے ہیں۔

اگر ہمارا اللہ پر یقین ہوتو ہم اپنے حال کو بدلنے کا سوچیں، ہم اپنے اخلاق ، اپنے معاملات اچھے کریں ،
تاکہ ہمارا معاشرہ انسانوں کے رہنے کیلئے مثالی ہو۔

حدیث قدسی ہے۔
اللہ تعالی فرماتا ہے۔کہ میں اپنے بندے کے گمان میں رہتا ہوں۔ وہ میرے بارے میں جیسا سوچتا ہے ویسا ہی اس کے ساتھ ہوتا ہے۔

اللہ تو ہمارے نماز روزے سے بے نیاز ہے۔
اس نے نبی ، پیغمبر ، اہل علم ہماری فلاح کیلئے اس دنیا میں بھیجے ۔
تاکہ ہمارے اخلاق ، ہمارے معاملات ، ہماری معاشرت اچھی ہو جائے۔
اور ہم فلاح پانے والے ہو جائیں۔

اللہ ہمارے جلسوں ، ہمارے جلوسوں ، ہماری مجلسوں ، ہمارے ماتموں ، ہمارے بھنگڑوں ،ہمارے نعروں سے بے نیاز ہے۔
اسے کوئی غرض نہیں کہ ہم اپنے دل کو کیا کرکے تسکین دیتے ہیں۔

اس نے ہمارے اخلاق ، ہمارے معاملات ، ہماری معاشرت کا ہم سے پو چھنا ہے۔ اس نے پو چھنا ہے ،
یہ افرتفری ، یہ نفسانفسی ، یہ فساد العرض کا معاشرہ جاہل انسانوں تم نے کیوں تخلیق کیا؟

قدرت کی سزا معاشرے کیلئے یہی ہوتی ہے کہ وہ کھڑکیاں، دروازے ،دریچے بند کر دیتا ہے۔
یہ کھڑکیاں، دروازے ،دریچے ہمارے تعمیر کئے ہوئے محلات کے نہیں ہوتے۔۔۔۔۔
یہ علم وعقل کے ہوتے ہیں۔
قسمت اور ہم قسمت اور ہم Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 1:28 PM Rating: 5

7 تبصرے:

انکل ٹام کہا...

اللہ تعالیٰ آپ کی اور ہماری پریشانیاں ختم کریں ۔

نعمان محمد کہا...

بالکل آخری پیراگراف "دل لگتا" ہے۔

علی کہا...

بہت خوب جی بہت خوب

dr Iftikhar Raja کہا...

صاحب ہم لوگ شروع ہی سے کچھ ایسے ہیں، جو کرنے کے کام ہیں وہ نہیں کرتے اور جو نہ کرنے والے ہیں وہ کئے جاتے ہیں، جلسے، جلوس، خوشی کے یا ماتم کے، نعرے، تقریریں مگر معاملات، ادھر کوئی توجہ ہی نہیں، ادھر بڑی بڑی عبادت گاہیں، مساجد و چرچ، خانقاہیں اور ادھر اللہ کے بندے بھوک و افلاس سے مرتے ہوئے، کچھ غلط ہے اور کچھ عجیب، کچھ تو لازمی طور پر ہے

عبداللہ آدم کہا...

السلام علیکم::

یہ ملی جلی کیفیتیں ہی بہت سوں کا حاصل زندگی بھی ہوتی ہیں۔ ۔ ۔ تو سرمایہ زندگی بھی۔

اس گورکھ دھندے سے نکل جانا بہادری کا کام ہے۔ ۔ ۔ اور بہادر کم ہوتے ہیں، اکثر میری طرح ہی۔ ۔ ۔

سوچ بھر ی تحریر پر شکریہ شاہ جی

والسلام

سعد کہا...

اللہ واقعی بے نیاز ہے!

چالیس سال گزر گئے!!! - صفحہ 2 - پاکستان کی آواز کہا...

[...] حال کے اسی گوارکھ دھندے کو پھرولتی ایک تحریر یہ بھی ہے:: قسمت اور ہم | عام بندے کا حال دل میں صرف اتنا کہوں گا کہ میں خود بھی ماضی میں کم عرصہ [...]

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.