طمانچہ

ارے ۔۔۔۔۔بھکشو صاحب شام بخیر ۔۔


جناب کافی عرصے بعد ملاقات ہو رہی ہے کیسے ہیں ؟


کئی دن سے آپ کی طرف آنے کا سوچ رہا تھا ،آج موقع مل گیا۔


سنائیں کیسی گذر رہی ہے۔


الحمد اللہ (بغیر کچھ سوچے عادتاً زبان سے ادا ہو گیا، سچے مومن جو ہیں ہم ۔۔۔ہیں جی)۔


ٹھیک ہوں جی۔


آپ سنائیں۔


یہ آپ نے اپنی زبان میں اللہ ہی کہا ہے نا؟


جی ۔عربی زبان کا لفظ ہے جسکا مطلب اللہ کا شکر ہے ہوتا ہے۔


ہم مسلمان بس جیسے بھی گذرے اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں۔


اللہ جو مسلمانوں کا خدا ہے ؟


جی ۔۔۔۔


آپ اللہ کی عبادت یا پوجا کیوں کرتے ہیں؟


اللہ میرا خالق ہے ۔۔۔اس نے مجھے پیدا کیا ہے میں نے اسے تراشا نہیں


اس لئے میں اسے ہی عبادت کے لائق سمجھتا ہوں۔


آپ کو کیسے پتہ لگا کہ اللہ ہی نے آپ کو پیدا کیا؟


میرا اللہ وہی ہے جسے آپ کل کائنات کی خالق طاقت سمجھتے ہیں۔


آپ کے ٹیمپل میں جو بت ہیں آپ اس کی  کیوں پوجا کرتے ہیں؟


ہمارے مذہب میں ایسا ہی ہے اس لئے ہم اس کی عبادت کرتے ہیں۔!


لیکن اس بت کو تو آپ نے یا آپ کے کسی کارگر نے تخلیق کیا ہے


اس بت نے تو آپ کو تخلیق  نہیں کیا!۔


پھر آپ کیوں اس کی پوجا کرتے ہیں؟


یعنی پتھر کو تراشا اور سجا کر پو جنا شروع ہوگئے!!۔


بس جناب پوجنے کیلئے کچھ نظر بھی آنا چاھئے!!!۔


دراصل میں آپ کیطرف اس لئے آیا تھا کہ ہماری محلہ داری ایک ہی ہے۔


محلہ داری کے لئے جو ماہانہ چندہ ہوتا ہے وہ تو آپ دیتے ہی ہو۔


دراصل محلہ داری کی کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ ہمارے ٹیمپل کی چھت جو کہ کافی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی ہے۔


اس کیلئے محلہ داری کے چندے کے علاوہ سالانہ ہر گھر سے پانچ ہزار ین دس سال تک لئے جائیں گے۔۔


جب ایک مخصوص رقم جمع ہو جائے گی تو ہم ٹیمپل کی چھت نئی ڈلوا لیں گے۔


ضرور جنا ب کیوں نہیں ،۔۔۔۔۔۔۔۔سالانہ پانچ ہزار کوئی مسئلہ نہیں ہے! کیا سب محلہ والے اس پر راضی ہیں؟


راضی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کسی نے اعتراض نہیں کیا!!


تو جناب آپ میرے پاس کیوں آگئے؟


دراصل آپ مسلمان ہیں اس لئے پوچھنا بہتر سمجھا اس لئے حاضر ہو گیا!!


ارے بھکشو  صاحب ایسی بھی کیا بات سالانہ پانچ ہزار ین ہی تو ہیں۔۔کوئی مسئلہ نہیں جناب!!


دراصل یاسر صاحب اسلام میں بت پرستی کی سختی سے ممانت ہے ۔


اگر آپ ٹیمپل کیلئے چندہ دیں گے تو بت پرستی  قائم و دائم رہے گی!!!۔


  آپ کے ایمان کو کوئی حرج تو نہیں؟!!!!


اوہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بھکشو صاحب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


چلو بھر پانی میں ڈوب مرنا اسی کو کہتے ہیں۔۔

 

 
طمانچہ طمانچہ Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 12:15 AM Rating: 5

11 تبصرے:

ام عروبہ کہا...

اسلام علیکم
بڑی ڈونگی سٹ لائ اے ویر جی! ( بڑی گہری چوٹ کی ہے بھا ئ جی)
وہ جو کسی نے کہا کہ عقل کہاں سے سیکھی تو اس نے کہا بے وقوفوں سے- تو اب کہا جائے گا کہ اسلام کہاں سے سیکھا تو جواب ہو گا غیر مسلموں سے-

نعمان محمد کہا...

ایمان؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
نا جی نا کوئی نہیں آتا حرج مرج......

جعفر کہا...

بڑا سیاسی بھکشو تھا
بھکشووں کا مولانا فضل الرحمن تو نی تھا؟

عمران اقبال کہا...

یار بھکشو نے جگت ماری ہے، طنز کیا یا تعریف کی... لیکن جو بھی کی، بڑے زور کے کی...

ڈاکٹر جواد احمد خان کہا...

بہت خوب جناب.... خود کا اتنا کڑا احتساب کرنے کا حوصلہ کم لوگوں میں ہوتا ہے.

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

یعنی آپ کا کہنا ہے ایمان ہوگا تو ہرج مرج ہوگا؟

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

جی اس بھکشو نے ایک بار مجھے پہلے بھی پوچھا تھا۔
جناب کیا خیال ہے مسجد بنا لوں؟
گاہک تو مل ہی جائیں گے نا؟

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

نہیں عمران بھائی اس بھکشو نے دوستی کا حق ادا کیا ہے۔
بس اتنی سی بات۔۔۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

وعلیکم اسلام
اور بلاگ پر خوش آمدید
جی ایسا عموما ہوتا ہے کہ ہم اسلام کو کافروں سے سیکھتے ہیں

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

ارے نہیں ڈاکٹر صاحب
احتساب کیسا ۔۔
بس سوچوں میں پختگی نا ہونے سے بار بار ذلیل ہوتے ہیں

محمد سلیم کہا...

مذہبی رواداری دکھانے کے چکروں میں کفر کے بیج بونے والوں کیلئے ایک کھرا پیغام۔ اللہ رکھے زور قلم اور زیادہ۔

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.