تاریخ اور ہم

احمد شاہ ابدالی جو کہ ہمارے پوتر ہیرو ہیں۔جب احمد شاہ کو نادر شاہ ایرانی کی موت کے بعد افغانستان کا باد شاہ بنا دیا گیا ۔تو احمد شاہ ابدالی نے ہندوستان پر مہم جوئی کا قصد کیا۔۔ہندوستان پر مہم جوئی اس وقت کے ہر مہم جو کی پہلی ترجیع ہوتی تھی۔

یہ خطہ ماضی میں بھی اور اس وقت بھی قدرت کی خصوصی رحمت سے نوازا گیا ہے۔ہر مہم جو جنگو اس خطے پر حملہ آور ہوا اور خوب مال ودولت اور لونڈیاں غلام حاصل کرکے واپس گیا۔اس خطے کی مفتوح اقوام مغلوب ہونے کے بعد ہر فاتح کو ہر سال خراج گھر کی دہلیز پر بھیج دیتی تھیں۔

اس وقت بھی خراج بھوکی ننگی عوام کو نچوڑ کر ہی جمع کیا جاتا تھا۔ عوام کے نچوڑے ہوئے خون پسینے کی کمائی سے حکمران وقت اپنی پرتعیش زندگی گذارتے تھے۔ اس پر تعیش زندگی  میں خلل کے ڈر سے غیر ملکی حملہ آوروں کو بھی خراج کی صورت میں حصہ دیتے تھے۔ہندوستان کو فتح کرنے کے بعد جو بھی یہاں بسا عیش پرست اور ہڈ حرام ہی ہو جاتا تھا۔

جب احمد شاہ ابدالی نے لاہور کا معاصرہ کیا تو لاہور کے شہریوں نے اس وقت کی ایک خطیر رقم تیس لاکھ روپیہ احمد شا ابدالی کی خدمت میں پیش کیا کہ حضور والا ہمارے حکمرانوں کو شکست دینے کے بعد ہماری جان و مال کی امان دے دیجئے گا۔

احمد شاہ ابدالی نے ایک نہایت اثر انگیز اسلامی و دینی قسم کا خطبہ بیان فرمایا ہو گا(تاریخ میں ذکر نہیں ملتا میرے ماضی اندیش دماغ صاحب کا اندازہ ہے) اور کہا ہو گا جناب معزز شہریو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بے فکر ہو کر لمبی تان کر سو جاو۔

جب لاہور مفتوح ہوا تو لوٹ مار کا بازار خوب گرم ہوا۔عزت ماب باعصمت غریب غربا کی خواتین کی حالت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔معزز شہری تیس لاکھ کی خطیر رقم دے کر بھی اپنے آپ کو محفوظ نا رکھ سکے۔

اس خطہ میں رچ بس جانے والوں کے مزاج میں ایک تکبر آ جاتا ہے۔مذہبی طور پر سماجی طور پر بھی عجیب و غریب تفاخر کا شکار ہو جاتے ہیں۔۔عربی ہیں تو شاہ جی ہونے کا فخر کرتے ہیں۔منگولی ترکی ایرانی وغیرہ وغیرہ مغل صاحب ہونے  کافخر کرتے ہیں۔۔خان صاحب کا مجھے آج تک اندازہ نہیں ہوا کہ یہ بیچارہ کس با ت پر فخر کرتا ہے۔کشمیری کو بٹ صاحب ہونے کا فخر ہے ۔جو بچ جاتے ہیں وہ بخاری ،مشہدی ، کاظمی وغیرہ کا فخر کرلیتے۔شجرہ پر فخر کرنے والے خاندانوں یا قوموں کا حساب کیا جائے تو  دنیا کی آبادی کم ہے اور پاکستان کی شجرہ بردار قومیں زیادہ۔۔

جو باقی بچ جاتے ہیں وہ سنی شیعہ اہلحدیث وغیرہ وغیرہ اور پیر صاحب کے مرید بن جاتے ہیں۔تاریخ میں ہمیں ان مذہبی رہنماوں کا ذکر بھی ملتا ہے ،کہ ان کا کردار کیا تھا۔مسلمان حملہ آوروں کا ساتھ دینا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔چلیں قابل قبول کہہ لیتے ہیں۔

انگریز بہادر کو جو خطوط تحریر کئے جاتے تھے ۔ان کو ہی پڑھ لیا جائے تو سمجھ آ ہی جاتی ہے۔ایسی ایسی رقت انگیز عرضیاں نظر سے گذریں کہ پڑھتے پڑھتے پڑھنے والا بھی نمدیدہ ہو جاتا ہے۔دل کرتا ہے جو کچھ جیب میں ہے نکال کر ابھی کسی مذہبی و روحانی رہنما کو نذرانہ ادا کرکے آوں تاکہ سکون کی نیند تو  نصیب ہو۔

اگر تخت لاہور کے شہری اپنی عزت و عصمت کیلئے حملہ آور شاہ صاحب کو تیس لاکھ کی رقم دینے کے بجائے کٹ مرتے تو شاید  دوسرے حملہ آور اور انگریز بھی حملہ کرنے سے پہلے سوچتے کہ  یہ لوگ آسانی سے لمبے لیٹنے والے نہیں۔۔۔۔

جیدار جرنیل اور فوجیں اس وقت کے حکمرانوں کے پاس بھی ہوتی تھیں۔اور اس وقت کے ہمارے اسلامی جمہوریہ پاکستان کی افواج تو دنیا کی ساتویں ایٹمی قو ت ہے۔اور عوام۔۔۔۔۔۔۔۔عوام کو پرانے زمانے کے حکمران بھی نچوڑتے تھے اور اس وقت کے حکمران بھی نچوڑ رہے ہیں۔۔وہ عیاش تھے تو یہ مہا عیاش ہیں۔۔وہ بھی مسلمان تھے تو یہ بھی مسلمان۔۔

اس وقت کی عوام کو بھی حکمرانوں اور ملک سے کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی تو اس وقت کی عوام کا حال بھی کچھ ایسا ہی ہے۔یتیم بچے سوتیلی ماں سے تنگ ہوتے ہیں تو غیروں کی ماں باپ سے محبت کی بھیک مانگتے ہیں۔کچھ ایسا حال ہی لگتا ہے۔

پہلے بنگالیوں نے بیرونی حملہ آوروں سے مل کر سوتیلے ماں باپ سےجان چھڑائی ،اور اب بلوچی تیار ہیں۔۔ ایک ۔۔۔پٹھانوں  کو فی الحال کسی بیرونی حملہ آور نے آزادی کی آفر نہیں کی کہ پٹھان بیرونی طاقت کے عتاب کا شکار ہیں۔۔۔۔دوسرا ۔۔۔۔۔ سکندر اعظم سے لیکر تیمور لنگ تک پٹھان کو کچھ دے دلا  دیا کرتے تھے۔۔فی الحال  حالت انتظار میں  ہیں۔۔کراچی والوں پر بھی ملکہ جی کا دست شفقت رکھا ہوا ہے ،جب ضرورت پڑی شاباش بیٹا شاباش کہہ دیا جائے گا۔۔جھلکیاں عموماً دکھائی جاتی ہیں۔

احمد شاہ ابدالی مسلمان تھا۔۔نمازی بھی تھا۔۔وقتی طور پر فوج کے سپاہیوں نے ہلا گلا کرکے لوٹ مار کر دی تھی۔کہ اس وقت کے سپاہی فوج میں شامل ہی لوٹ مار کیلئے ہوتے تھے۔یعنی امن وآزادی،   مال و دولت کی ادائیگی  سے خریدنے والوں کی جان سستی چھوٹ گئی تھی۔

اب آئیں گے وہ حملہ آور جن کیلئے قرآن  و مسجد کی بیحرمتی کوئی اہمیت نہیں رکھتی ۔مذہبی و روحانی رہنماوں کی دردناک عرضیوں سے جنہیں کوئی دلچسپی نہیں۔۔عزت و عصمت کا جن کے پاس کوئی تصور ہی نہیں۔۔

بلوچی ،پختون ، سندھی ، پنجابی ، مہاجر وغیرہ وغیرہ۔۔آزادی کے شوق میں جو تھوڑی بہت عزت و عصمت محفوظ ہے ،اس سے بھی جائیں گے۔اپنے اپنے  مذہبی فرقے  کالاوڈ سپیکر اٹھائے ہوئے بلے بلے کرنے والے  پیٹ پوجا سے بھی جائیں گے۔۔۔

سارے سوچ لیں اپنے اور ایک دوسرے کے حقوق کی قرادادیں امریکہ اور برطانیہ سے پاس کروائیں گے یا ایک دوسرے کے حقوق خود ہی ادا کرنا شروع ہو جائیں گے۔۔

خود ترسی کو چھوڑیں خدا ترسی کریں۔

 

 

 
تاریخ اور ہم تاریخ اور ہم Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 11:57 AM Rating: 5

14 تبصرے:

انکل ٹام کہا...

تاریخ گواہ ہے کہ مسلمان کبھی ڈنڈے کے بغیر سیدھے نہیں ہوئے ۔۔ لہذا اب بھی ڈنڈے سے ہی سیدھے ہوں گے ۔۔ پہلے بھی اللہ تعالیٰ کافروں کو ڈنڈا دے کر بھیجتا رہا ۔۔ کبھی چنگیز خاں تو کبھی ہلاکو خاں ، کبھی برٹش گورے تو کبھی فلسطین میں یہودی ۔۔۔ اب امریکہ بہادر کو اللہ نے چن لیا ہے :ڈ

ضیاء الحسن خان کہا...

اللہ نے لال چوہدری کا تو کام کر دیا اور اب ان شاءاللہ گورے چوہدری کی باری ہے اور تم سب لوگ ان شاءاللہ اسکو ایسے ٹوٹتے اور بکھرتے ہوئے دیکھو گے جیسے مکڑی کا جالا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مولانا محمد عمر پلانپوری ۱۹۹۵ رائےونڈ اجتماع سے خطاب

عبداللہ آدم کہا...

اور وہ جو کہا جاتا ہے کہ شاہ جی شاہ ولی اللہ نے احمد شاہ ابدالی کو دعوت دی تھی کہ مرہٹوں کا زور توڑنے کے لیے حملہ کرے۔

شاہ جی ہندووں کے پراپیگنڈے سے متاثر ہو کے یوں ہی ہر کسی نہ رگڑ دیا کریں۔

جس جس نے ان مشرکوں کی ایسی تیسی پھیری ہوئی ہے انہوں نے بدلہ یوں لیا ہے کہ اس کا امیج کج زیادہ ہی برا بنا کر پیش فرما دیا ہے۔

واللہ اعلم !!!

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

عبد اللہ بھائی میرے علم میں شاید ٹھیک سے نہیں ہے۔
ذرا بتانا پسند کریں گے ،کہ مرہٹوں نے طاقت کیوں پکڑی تھی؟
شاہ ولی اللہ رحمتہ اللہ نے احمد شاہ ابدالی کے کتنے حملوں کے بعد “آخر“ میں کب دعوت دی تھی؟
اور اس وقت کے مسلمان حکمرانوں کے اخلاق کیسے تھے؟

علی کہا...

احمد شاہ ابدالی ملتان میں پیدا ہوا تھا اور چونکہ شاہ بھی ہے لہذا ہم کو اس سے شدید ہمدردی ہے۔ تسی تیمور لنگ دا نام لے لیندے۔
بھائی جی یہ رموز مملکت ہیں کرنا پڑتا ہے آج تھانیدار تیس لاکھ لے لیتا ہے اور پرچہ بھی خارج نہیں کرتا وہ تو پھر احمد شاہ ابدالی تھا۔بادشاہ کو رشوت کی کوشش؟؟ کوئی آپکا صدر تھوڑی تھا جو پیسے لے کر کہتا چلو خود وی کھائو تے مینوں وی کھلائو

dr Iftikhar Raja کہا...

تاریخ بہت منہ زور اور بے لگام گھوڑا ہے، کھوتا اس لئے نہیں کہ تاریخ دو لتی نہیں مارتی گھوڑے کی طرح اوپر سے گزر جاتی ہے، برصغیر کا جو ختہ بعد از ختنہ مطلب مسلہ ہو کر پاکستان بنا اس میں صرف ایک ہی بندے کو ڈکا گیا ہے اور وہ تھا اسکندر اعظم، راجہ پورس نے جو کہ ہماری برادری کا ایک بندہ تھا، ہی ہی ہی، نے وہ جنگ ہار تو دی مگر تاریخ یونان اسے آج بھی نہ بھلا سکی۔ یا پھر پرتھوی راج چوہان نے پانی پت میں کوشش کی، مارا گیا مگر اسے بھی اسلامی تاریخ دانوں نے یاد رکھا، پھر باقی اس کے بعد جو ہوا وہ یہ کہ نمک کی کان میں سب نمک ہو جاتا ہے

خان کےبارے میں ہیرالڈیم کا خیال ہے کہ چین، منگولیا، روس و شمال مغربی علاقہ جات میں راجہ یا بادشاہ کے طور پر استعمال ہوتے تھے۔

بنیاد پرست کہا...

شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ نے نواب نجیب الدولہ کے ذریعہ احمد شاہ ابدالی کو بلوایا تھا اور اس نے آکر ۱۷۶۱ء میں پانی پت کے مقام پر مرہٹوں بڑی جنگ کے بعد شکست دی تھی، کہ مسلمانوں کا ملک محفوظ ہوجائے اور مغل سلطنت شاید سنبھل جائے اور اپنا قبلہ درست کرلے ۔ احمد شاہ ابدالی شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ کی چوائس تھا، گو کہ اسکے بعض حملوں اور اس کے لشکر کے افغان جال سپاہیوں کی غیر اسلامی حرکتوں سے بعد میں شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ کو بھی پریشانی ہوئی تھی ، لیکن وہ پھر بھی اسے ٹھیک سمجھتے تھے اس نے مسلمانوں کے ایک بہت بڑے دشمن کو مٹا دیا تھا، گو کہ بعد میں سکھ ابھرے لیکن اس نے اپنی زندگی میں سکھوں کو بھی روکے رکھا تھا ۔ بعد میں سکھوں کی شاہ ولی اللہ کی اولاد اور تلامذہ نے اچھی خبر لی اور تحریک سید احمد شہید کا سلسلہ شروع ہوا۔
مولانا ابو الحسن علی ندوی رحمہ اللہ نے تاریخ دعوت عزیمت میں احمد شاہ ابدالی کی بڑی تعریف کی ہے اور اسے علم دوست ، خدا ترس اور عبقری صفت حکمران لکھا ہے کہ اس نے افغان قوم کو جوڑا تھا اور اس جٹ قوم میں بڑی سنتوں کو زندہ کروایا تھا۔ احمد شاہ ابدالی کو شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ نے خط لکھ لکھ کر بلایا تھا، اس پر تنقید حقیقت میں شاہ صاحب رحمہ اللہ کی چوائس اور بصیرت پر تنقید ہوگی۔ بعض روشن خیالوں مولانا وحید الدین خان وغیرہ نے اس بہانے شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ کو ہدف تنقید بنایا ہے اور انہیں بے بصیرت لکھا ہے۔

dr Iftikhar Raja کہا...

میں بطور تاریخ کے طالبعلم کے اور بلخصوص تاریخ اسلام کے طالبعلم کے طور پر دیکھتا ہوں کہ غلطیوں کا آغاز شروع سے ہی ہوگیا تھا، بعد میں تو حد ہی مکادی گئی، جنگ جمل، جنگ صفین اولین فسادات تھے اور ان میں لازمی طور پر کوئی ایک حق پر نہیں تھا، تاریخ ہند تو ساری کی ساری کچرا ہے، اس کو آپ تاریخ اسلام کم ہیں کہہ سکتےہیں، ہاں جو اہل علم اور اللہ والے تھے ان کی بدولت اسلام کی جو کمزور سی شکل صرف مذہب کی صورت میں رہ گئی ہے، وہی ہے، باقی حاکمیں جتنے بھی تھے، چند ایک کو چھوڑ کر سارے ذرداری ہی تھے۔ ہیں جی

علی کہا...

ڈاکٹر صیب آپ نے تو کوزے کو دریا میں بند کر دیا ہے۔

بہت عمدہ بات کی

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

شاہ ولی اللہ رحمۃاللہ پر تنقید وہ بھی ان کی بصیرت پر ۔۔جناب ہم اتنے بھی بے حیا نہیں ہوئے ابھی ۔۔
اصل بات کی طرف کو ئی سوچتا ہی نہیں، اس وقت حکمران عیش پر ست اور ہڈ حرام نا ہوتے تو مرہٹے زور نا پکڑتے ۔اسی طرح جس طرح مشرف اور اس کے سابقہ حواری تھے۔حال والوں کا حال بھی مندا ہی ہے۔
شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ نے جب احمد شاہ ابدالی کو خط لکھا کہ مرہٹے زور پکڑگئے ہیں۔اور اہل ہند کے مسلمان تنگ ہیں تو جناب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس وقت کے باجگزاروں سے سالانہ خراج کون وصول کررہا تھا؟
شاہ صاحب کو احمد شاہ ابدالی سے بہتر کوئی دوسرا حکمران اپنے آس پاس نظر ہی نہیں آیا تھا کہ اس سے کہتے کہ ملک خداد سنبھال ۔۔
باقی جو حال دوسرے مسلمان حکمرانوں کا تھا ۔ایک دوسرے کی جائداد پر حملے یہی کچھ احمد شاہ ابدالی نے کیا ،فرق یہی تھا کہ بہتر مسلمان تھا ، کہ شاہ صاحب رحمۃ اللہ نے اس سے کام لے لیا۔۔
ان مسلمان حکمرانوں کا آپس کا لڑائی جھگڑا ،ایک دوسرے پر اندرونی و بیرونی حلمے نے مرہٹوں کو طاقتور بننے کا موقع دیا اور بعد میں سکھوں کو کہ جنہوں نے مساجد کو اصطبل بنا یا ہوا تھا۔۔
جو بات میں کہنا چاہ رہا ہوں ،کہ ابدالی بھی بیرونی طاقت تھا۔۔اس وقت کے سارے طالع آزما بھی ایک دوسرے کی گردنیں مار کر کمزور ہو رہے ہیں۔۔جب بیرونی طاقت ان پر حملہ آور ہوتی ہے تو یہ مقابلے کی سکت نہیں رکھتے افغانستان کا حال سب کے سامنے ہے۔۔اب اگلا ٹار گٹ پاکستان ہے۔۔تو جناب شاہ صاحب رحمۃ اللہ جیسی نیک شخصیات اس وقت بھی مسلمانوں میں موجود ہیں۔۔یہ نیک شخصیات کسے خط لکھیں؟
عراق کے نئے خلیفہ ساب کو؟

بنیاد پرست کہا...

میں نے آپکی تحریر احمد شاہ ابدالی کی ذات کے متعلق تھوڑی سی تلخی دیکھی تو شاہ ولی اللہ اور روشن خیالوں کا تذکرہ کردیا، بتلانا یہی مقصود تھا جو آخری لائن میں بتایا۔ باقی میں آپ کی تحریر سے متفق ہوں۔ ہڈ حرامی اس قوم کو تین، چار نسلوں سے وراثت میں مل رہی ہے۔ سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ لگانے والے اب سب سے پہلے اسلام آباد کا نعرہ لگائیں گے۔

dr Iftikhar Raja کہا...

میں بتاتا ہوں، مرہٹوں نے طاقت تب پکڑی جب سوکالڈ مسلمان کمزور ہوگئے
احمد شاہ ابدالی کو ہر حملے سے پہلے نہ صرف دعوت حملہ و حاملہ دی گئی بلکہ ساتھ نبھانے کا وعدہ بھی کیا گیا تھا، یہ بات جنگی قانون کا حصہ ہے،
اس وقت کے مسلمانوں کا اخلاقیات کا مارا ہوا شکار ہی ہم آج بھگت رہے ہیں، باس کیوں اپنے آپ کو ٹینشن میں ڈالتے ہو، یہ تاریخ اسلام تھوڑی ہے تاریخ ہند و جنگ وجدل ہے۔

dr Iftikhar Raja کہا...

اور حضرت یہ مغل سلطنت مسلمانوں کی کب سے ہوگئی، ادھر تو دین اکبر سے لیکر سب کچھ چل رہا تھا جو اسلام میں کہیں بھی موجود نہیں ہے، ہین جی،

محمد سلیم کہا...

آپ کی اس تحریر میں خاور بھائی کے افکار کی جھلک دکھائی دی۔

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.