جاپان کے نو مسلم

عموماً جاپانیوں کے متعلق ایک نہایت ہی غلط تصور پایا جاتا ہے۔کہ جاپانی نہایت ہی سادہ لوح ہوتے ہیں۔جاپان اس دور کی ایک بہت بڑی معاشی طاقت ہے۔
یہ ہی جاپانی دوسری جنگ عظیم کے خاتمے تک کوریا ، چین ، انڈونیشیا ، ملائشیا ، سنگا پور ، فلپائن تائیوان ، ہوائی وغیرہ پر حکومت کرتے تھے۔
یہ سارے علاقے ایک عرصے تک جاپان کی کالونیاں ہوتے تھے۔

کوئی بھی تعلیم یافتہ انسان با شعور ہوتا ہے۔اور جاپانی سوفیصد تعلیم یافتہ ہیں۔ان میں ہر معاملے کو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ہے۔
جاپانیوں کے ہر فرد پر مڈل تک کی تعلیم حاصل کرنا لازمی ہے۔
یہ میڈل تک کی تعلیم ہمارے ایف اے کی تعلیم کے برابر ہوتی ہے۔
لیکن اگر موازنہ کیا جائے تومڈل پاس جاپانی ہمارے ایف اے پاس سے زیادہ قابل اور با شعور ہوتا ہے۔
درس گاہوں میں بھی اور گھروں میں بھی ان کی اخلاقی تربیت کی جاتی ہے ،جو ہمارے معاشرے میں نہایت کم ہے۔

مذہب کے معاملے میں یہ لوگ کورے کاغذ کی طرح ہیں۔ میں پہلے بھی کئی بار لکھ چکا ہوں ۔
کہ یہ لوگ شادی بیاہ چرچ میں کرتے ہیں۔نا تو انہیں عیسائی مذہب کی بنیادی تعلیم سے دلچسپی ہوتی ہے ۔
اور ناہی یہ لوگ کسی مذہب کو جاننے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

جن جاپانیوں کو دنیا کی تاریخ، مذہب یا دیگر علوم سے دلچسپی ہوتی ہے۔
ان کے بارے میں تمام معلومات بغیر کسی تعصب کے نہایت آسانی سے ان کی دسترس میں ہوتی ہیں۔
ان کی تربیت ایسی ہوتی ہے ، کہ یہ اپنے اچھے برے کا فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں،اور کسی بھی شخص کی بات نہایت توجہ سے سنتے ہیں۔
بات کرنے والا سمجھتا ہے ،کہ یہ جاپانی اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔

لیکن ہوتا یہ ہے کہ یہ لوگ بات کرنے والے کو جانچ رہے ہوتے ہیں۔
میرا جہاں تک تجربہ ہے،جاپانیوں کی اعلی تعلیم یافتہ اکثریت اسلام سے متاثر ہے۔اور اسلامی تعلیمات کو اچھا سمجھتی ہے۔
بعض اوقات ان سے مذہب پر بات کرتے ہوئے حیرت ہوتی ہے،
کہ میرے جیسے کم فہم سے زیادہ ان کے پاس اسلام کی معلومات ہوتی ہیں۔
حدیث کی کتب کا ترجمہ ، قرآن کا جاپانی ترجمہ یہاں آسانی سے مل رہا ہے۔
پرانے ترجمے غیر مسلم جاپانیوں کے کئے ہوئے ہیں۔ابن خلدون کا ترجمہ تک یہاں میسر ہے۔

اس وقت تو کئی جاپانی عالم دین بھی ہیں۔ ہمارے ایک عالم جو لبیا اور اظہر یونیورسٹی کے پڑھے ہوئے ہیں۔
ان کی خدمات اسلام کیلئے نہایت گرانقدر ہیں۔جنکا نام شیخ سلیمان ہاما ناکا ہے۔
ایک ہڈیوں کے سپشلسٹ ڈاکٹر ہیں جن کے ہاتھ پر ایک سال میں تقریباً دو ہزار جاپانیوں نے اسلام قبول کیا۔
ڈاکٹر فتاکی ھی دے او انڈونیشا وغیرہ میں کافی مشہور ہیں۔

جو جاپانی اسلام قبول کرتے ہیں ان کی اکثریت نفسیاتی اور اعصابی طور پر تھکی ہوئی ہوتی ہے۔
یہ وہ لوگ ہوتے ہیں، جو کسی پیدائشی مسلمان سے شادی کرکے اسلام میں نہیں آتےبلکہ ایسا کہنا زیادہ بہتر ہوگا ۔
کہ جو حق کے متلاشی ہوتے ہیں اپنی زندگیوں اور دلوں کی تسکین کیلئے اسلام قبول کرتے ہیں۔

ان نو مسلم حضرات کی آفٹر کیئر کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔کسی قسم کی سہولت نا ہونے کے باوجود شیخ سلیمان ہاماناکا یہ خدمات انجام دے رہے ہیں۔
اور انہی شیخ سلیمان کے ہاتھوں ہر سال تقریباً دس بارہ جاپانی اسلام قبول کرتے ہیں۔

ان میں زیادہ تر کا معاملہ کچھ اس طرح ہوتا ہے ،کہ بیوی اگر مسلمان ہے تو شوہر کو فی الحال اسلام یا کسی بھی مذہب سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔۔
شوہر اگر مسلمان ہو جاتا ہے تو بیوی کو مذہب سے کوئی دلچسپی نہین ہوتی۔
اگر احتیاط نا کی جائے اور ان خواتین و حضرات کی دیکھ بھال احسن طریقے سے نا کی جائے تو بہت سارے مسائل جنم لینے کا خطرہ ہوتا ہے۔
یہ مسائل معاشی ، معاشرتی ، سماجی کسی طرح کی بھی ہو سکتے ہیں۔

جو جاپانی مسلمان دعوت کا کام کررہے ہیں ۔ ان کا بھی کسی نا کسی مسلک سے تعلق ہوتا ہے۔
میرے علم کے مطابق زیادہ تر حنبلی ، اور مالکی مسلک کے مسلمان ہیں۔ لیکن یہ لوگ مسلک سے بالاتر ہو کر کام کر رہے ہیں۔
شیخ سلیمان انیس سو پچانوے سے انٹر نیٹ پر اسلام کا ہوم پیج کے نام سے سائیٹ چلا رہے ہیں۔
حدیث ، قرآن کا جاپانی ترجمہ ان کی سائیٹ سے دیکھا جا سکتا ہے۔اور یہ کام یہ کسی نمود و نمائش کے بغیر کر رہے ہیں۔

میں یہ کہنے میں عار محسوس نہیں کرتا کہ میں بھی ان سے متاثر ہوں۔اور کسی قسسم کا دینی مسئلہ ہو تو ان سے مشورہ کرتا ہوں۔۔
بعض اوقات کسی پیدائشی مسلمان کی خیالات جاننے کیلئے کسی پاکستانی سے بھی مشورہ کرلیتا ہوں۔۔۔
جاپان میں جب مزدوری کیلئے آئے ہوئے مسلمانوں نے مساجد کی تعمیر کا کام شروع کیا،
تو کسی قسم کے مسلک کے فروغ کا سوچے بغیر چندہ جمع کیا اور دیا صرف اسلام کیلئے اور مساجد تعمیر کیں۔

بعد میں دو مسالک کی کشمکش دیکھنے میں آئی ،بریلوی حضرات اور دیوبندی حضرات کا اپنی اپنی مساجد پر قبضہ ہے۔
عام مسلمان اب بھی چندے دیتے ہیں اور ان مساجد میں اپنی نمازیں ادا کرتے ہیں۔
مسالک کی دھینگا مشتی یہاں پر بھی پاکستان کی طرح ہی ہے۔

ان مساجد میں نمازیں پڑھی جاتی ہیں۔ اور دیگر مذہبی تقاریب بھی ہوتی ہیں۔
عام جاپانی ان مساجد کا رخ بہت کم کرتے ہیں۔
صرف ٹوکیو جامعہ مسجد جس کی دیکھ بھال ترکی حکومت کرتی ہے وہاں پر کافی تعداد میں جاپانی آتے ہیں۔
تبلیغی جماعت کے حضرات اپنے مسلک کی مساجد کا جماعتی دورہ کرتے ہیں۔
اور فضائل اعمال بعد از نماز پڑھتے ہیں۔یا جاپان میں بس جانے والے تارک وطن مسلمانوں کے پاس گشت کیلئے جاتے ہیں۔

جو مسلمان یہاں رچ بس گئے ہیں، ان کے جاپانی دوست احباب اسلام میں دلچسپی لیتے ہیں اور آہستہ آہستہ اسلام کی طرف آنا شروع ہو جاتے ہیں۔
ٹوکیو میں اسلامک سرکل آف جاپان والے منظم طریقے سے کام کر رہے ہیں ۔
اور ان کا تعلق جماعت اسلامی سے ہے۔ان حضرات کو میں نے کافی تعلیم یافتہ اور تربیت یافتہ پایا۔

باقی دعوت کا کام یہاں پر کوئی خاص منظم طریقے سے نہیں ہو رہا۔
اس وقت جو شیخ سلیمان اور ان کے ساتھی مسائل محسوس کررہے ہیں وہ یہی ہیں ،
کہ نو مسلم خواتین و حضرات جن کے گھر والے ابھی اسلام نہیں لائے یا انہیں اسلام سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔
ان کے ساتھ نومسلم خواتین و حضرات تعلقات کیسے نبائیں۔

اسلام لانے کے بعد ان کے ازداجی تعلقات کو گناہ کبیرہ میں شمار کیا جاتا ہے۔
اور لوگ بال بچے دار ہیں ۔اسلام قبول کرنے سے پہلے یہ اسلام کی تعلیمات سے متاثر ہو کر اسلام لائے ہیں۔
اسلام لاتے وقت نماز، روزہ، حج،زکواۃ وغیرہ کے مسائل تو انہیں معلوم تھے۔
شراب ، حرام گوشت کا ممنوع ہونا بھی انہیں معلوم ہوتا ہے۔
فروعی مسائل یا اس طرح کی گھمبیر مسائل کا انہیں آہستہ آہستہ معلوم ہوتے ہیں۔

شروع میں ہی انہیں فرقہ ، مسلک ، کے چکر میں ڈال دیا جائے، معاشرتی ، سماجی گھریلو زندگی کے مسائل پیدا کر دیئے جائیں۔
تو یہ لوگ اسلام سے پھر جائیں گے۔
نا تو یہ لوگ ہمارے مفتوح ہیں اور نا ہی ہم سے کمزورہیں یہ اپنی مرضی سے مسلمان ہوئے ہیں ۔
ہمارے بس میں صرف یہ ہے کہ ان کے ساتھ اچھے معاملات کریں۔؎
انہیں بتا دیں کہ شریعت کس معاملے میں کیا کہتی ہے۔
ہو سکتا ہے ، ان نو مسلم حضرات کے روئیے سے ان کے گھر والے بھی مسلمان ہو جائیں۔

عموماً یہ نو مسلم مسلمانوں سے ملنے کے شوق میں اپنی مساجد میں نماز کیلئے جاتے ہیں۔
تو جب دوسرے غیر جاپانی مسلمانوں کو معلوم ہوتا ہے ،
کہ ان کے گھر والے شوہر یا بیوی غیر مسلم ہیں تو وہ انہیں نہایت سختی سے بتا دیتے ہیں۔
کہ یہ گناہ کبیرہ ہے فوراً سے پیشتر علیحدگی اختیارکی جائے۔

یہاں سے مسائل جنم لیتے ہیں۔یا تو یہ لوگ واپس اپنے دین پر چلے جاتے ہیں ۔یا تضاد کا شکار ہو کر دکھی ہو جاتے ہیں۔۔۔
اس معاملے کا حل ہم مسلمانوں کے پاس کوئی نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شریعت میں تو گناہ کبیرہ ہی گردانا جائے گا۔۔۔۔
آجکل اس طرح کے معاملات ذہنی طور تھکا رہے ہیں۔۔۔۔۔

بحر حال ایک دوست نے بتایا کہ کوئی صاحب جاپان آئے۔
تو ان کے ہاتھوں سینکڑوں جاپانیوں نے اسلام قبول کیا۔
مجھے حیرت ہوئی کہ یہ تو ایک نہایت اہم خبر ہے۔
ہمارے جاننے والے مبلغ تو پریشان رہتے ہیں ،
کہ جو مسلمان ہو گئے انہیں فرقہ وارانہ مسلکی مسائل اور دیگر مسائل کیسے سمجھائے جائیں ۔
تاکہ آہستہ آہستہ مستقبل میں یہ نو مسلم سارے جاپان میں اسلام پھیلانے کا باعث بنیں۔
مزید معلومات کیلئے شیخ سلیمان سے فیس بک پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔اگر تبلیغی کاموں کیلئے جاپانی میں اسلامی مواد کی ضرورت ہوتو شیخ صاحب سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔
شیخ سلیمان کا فیس بک پر رابطہ
جاپان کے نو مسلم جاپان کے نو مسلم Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 5:24 PM Rating: 5

4 تبصرے:

علی کہا...

اللہ تعالیٰ ہمیں بھی سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت اور ہمت عطا فرمائے ہم نے بس پنگے بازی کرنی ہے اچھا کام کوئی نہیں کرنا

dr Iftikhar Raja کہا...

جناب صرف آپ کے ادھر ہی نہیں یہاں بھی یہی حوال ہے، خاص طور پر اطالوی نو مسلم تو پاکستانیوں کی مساجد میں کم ہی نظر آتے ہیں، رہی بات عربی خطہ سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کے اسلامی مراکز کی تو وہاں پر اطالوی لوگ کافی تعداد میں موجود ہیں، دنیا گول ہے کے مترادف ہمارے ادھر بھی ہر فرقہ کی اپنی اپنی مسجد ہے اور جس کی نہیں ہے وہ بنانے کے چکر میں ہے۔ تعویذ گنڈا بھی اب عام ہوگیا ہے

سعد کہا...

آپ بھی تبلیغ شروع کر دیں وہاں۔

ڈاکٹر جواد احمد خان کہا...

بہت عمدہ معلومات ملیں ہیں جاپان میں اسلام کی ترویج کے بارے میں...
زوجین میں سے کسی ایک کا مسلمان ہوجانے والا معاملہ پیچیدہ ہے مگر میری رائے میں اس پر بہت زیادہ زور نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اس سے کفر کی طرف واپسی کا خدشہ ہوتا ہے جو گناہ کبیرہ کے مقابلے یقینی طور پر ایک بڑی اور تباہ کن چیز ہوتی ہے. دین کو آہستہ آہستہ راسخ کرنا ہی سب سے اچھی ھکمت عملی ہوتی ہے. لوگوں کو متنفر کرنے سے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی منع فرمایا ہے.

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.