ہیپی ویلنٹائن ڈے

ویلنٹائن ڈے نزدیک آرہا ہے۔ جوانانِ پاکستان سارا سال جشن کے انتظار میں رہتے ہیں۔
ویسے سوچتا ضرور ہوں کہ یہ جوانانِ پاکستان واقعی پاکستان کے ہیں یا یہ دیگر اشیا کی طرح ماماپاپا نے امپورٹ کئے ہیں؟
ہمارے پاکستان میں تو جناب ہر شے جعلی ملتی ہے۔مفتے کی دوائیاں بھی دونمبر نکلتی ہیں ۔بیچارے مریضِ دل کا حال تو خراب ہی ہونا ہے۔

اصلی جوانانِ پاکستان تو جشن میلاد النبی منا رہے ہیں ۔اور جو جعلی ہیں وہ جشن ویلنٹائن منا رہے ہیں۔آپ کہیں گئے۔ ویلنٹائن ڈے کا جشن سے کیا تعلق؟
بس جی ایسے ہی سرسری انداز میں ویلنٹائن ڈے کی تاریخ پڑھی تو یہ بھی مذہبی جشن ہی نکلا۔اگر آپ ضد کرنا شروع ہو جائیں کہ اس کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم بیچارے اصلی پاکستانی اور اصلی مومن یہی کہیں گئے ۔۔ہم تو جشن میلاد النبی بھی عقیدت سے مناتے ہیں اسکا بھی مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔۔۔۔ہیں جی

ہر نئی بات جو گھڑ لی جائے وہ بدعت ہوتی ہے۔شاید بدعت کو برا اس لئے کہا گیا کہ قومیں جب ایسی بھیڑوں کے ریوڑ کی طرح ہو جائیں جن کا کوئی چرواہا نا ہو۔
اس وقت مذہب یا اپنی ثقافت کی بنیادوں پر جمی رہیں۔اور احساس کمتری کا شکار ہو کر اپنی نئی نسل کو امپورٹ کرنا نہ شروع کردیں۔۔
۔
۔یہ ماما پاپا نئی نسل امپورٹ کیوں کرتے ہیں ؟
امپورٹ اس مقصد کیلئے کرتے ہیں کہ ترقی یافتہ قوموں سے کندھا ملانے کیلئے ترقی کرنا چاھتے ہیں۔۔دیسی طریقے سے ترقی کرنا مشکل لگتا ہے بس بد دیس سے امپورٹ کر لیتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔

آپ سوچ رہے ہوں گے۔ویلنٹائن ڈے منانے والے جوانان پاکستان کا قصور تو ہو سکتا ہے۔لیکن ماما پاپا کا کیا قصور؟
بات یہ ہے جی کہ غریب غربا اصلی پاکستانی بھی اولاد کو پیدا کرنے کے بعد چھوڑ دیتے ہیں کہ پل ہی جائیں گے۔۔۔۔۔ہیں جی

ویلنٹائن منانے والوں کے ماما پاپا کی طرح ان غریب غربا کی اولادوں کی کوئی ویلنٹائن ڈے منانے کی حوصلہ افزائی بھی نہیں کرتا۔۔۔بس یہی ان ماما پاپا کا قصور ہے۔

پرانے زمانے کی بات ہے ،کہ روم کے رومیوں کے پاس کوئی یونو بی بی ہوتی تھی جو تمام دیوتاوں کی ملکہ ہوتی تھی۔ 14 فروری اس ملکہ جی کا جشن دن ہوتا تھا۔۔
کس چیز کا جشن ۔؟
وہ مجھے بھی نہیں معلوم جی ۔بس ملکہ یونو بی بی بلے بلے والا جشن ہی ہوتا تھا جی۔

ملکہ یونو بی بی کے جشن دن کے دوسرے دن یعنی 15 فروری کو سب میلہ میلہ کھیلتے تھے۔۔جس کا نام لوپر کالیا ہوتا تھا۔
اس دور میں بھی مولوی بہت شور مچاتے تھے،اس لئے نوجوان لڑکے لڑکیاں علیحدہ علیحدہ رہتے تھے۔۔۔
یعنی خوامخواہ میں اکھٹے نہیں ہو سکتے تھے، کہ مولوی ڈنڈے لئے گھوم رہے ہوتے تھے۔
جب یہ لوپر کالیا کا میلہ ہوتا تھا۔۔اس میں سب کو مل جل کر کھیلنے کی اجازت ہوتی تھی۔
یعنی جنگل میں منگل۔۔۔۔۔کھا لے پی لے موج اڑا۔

ملکہ یونو بی بی کے جشن والے دن حسینائیں ، نازنینائیں ، اور در فٹے قسم والیاں بھی اپنا اپنا نام لکھ کر ایک بکس میں ڈال دیتی تھیں۔
اب جو قسمت جو نصیب جیسے پاکستان میں اماں ابا نے بیاہ کروادیا ۔ کیسا شکوہ کیسا گلا۔

دوسرے دن لوپر کالیا کے میلے میں جانے کیلئے سب جوان اس ڈبے سے ایک ایک پرچی نکال لیتے تھے۔
اور پارٹنر کا ہاتھ پکڑے کر لوپر کالیا کے میلے میں چلے جاتے تھے۔ کچھ اسی طرح بیاہ رچا لیتے تھے۔
اور کچھ اگلے سال کا انتظار کرنے کیلئے اپنی اپنی راہ لے لیتے تھے۔

اس کے بعد کچھ ایسے ہوا کہ کلاوڈس دوئم جو روم کے شہنشاہ صاحب تھے،
ان کے دور میں سپاہی حضرات کو شادی کرنے کی اجازت نہیں تھی۔
ایک مولوی صاحب تھے عیسائیوں والے جن کا نام تھا ویلنٹائن صاحب۔
انہوں نے سپاہی اور اس کی لیلا کا نکاح پڑھا کر شادی کروادی۔
شہنشاہ صاحب کو غصہ آگیا۔انہوں نے مولوی ویلنٹائن صاحب کو گلے میں پھندہ ڈال کر سیدھا لٹکایا اور شہید کر دیا۔۔۔۔

اس کے بعد ان شہید مولوی صاحب کی شہادت کا دن ہر سال عیسائیوں کیلئے جشن منانے کا دن ہو گیا۔۔
جسے عیسائی لوگ محبت کا جشن کہتے ہیں۔۔جاپانیوں کو تو موج میلا کرنے کا بہانہ چاھئے ہوتا ہے۔

یہ جاپانی بھی بڑے شوق سے یہ محبت کا جشن مناتے ہیں۔۔لیکن ان بیچاروں کو کچھ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ یہ ہے کیا۔۔۔
بس کھا لے پی لے موج اڑا۔

امپورٹ شدہ جوانان ِپاکستان جتنا مولوی صاحب سے بھاگتے ہیں ۔یہ تو ہم سب کو معلوم ہی ہے۔۔
میں جوانانِ پاکستان کو اطلاع دینا چاھتا ہوں۔
اوئے پاغلو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ جشن بھی دیوی جی سے شروع ہوا تھا۔۔لیکن مولویوں کی سازش سے مولوی ویلنٹائن شہید کے جشن کا دن ہو گیا ہے۔
پاغلو عقل کے ناخن لو ، یہ جشن منا کر مولویوں کی سازش کا شکار کیوں ہوتے ہو۔
پھر نا کہنا بتایا کیوں نا تھا۔۔۔۔۔ہیں جی
ہیپی ویلنٹائن ڈے ہیپی ویلنٹائن ڈے Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 10:58 AM Rating: 5

24 تبصرے:

عبدالقدوس کہا...

یار ہاڈے نال کوئی نیں پھس دی ایس دن وی

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

بٹ ساب تسی درآمدہ شدہ نہیں ہونا۔۔
اللہ سکھی رکھے تہاڈے اماں ابا نوں۔

انکل ٹام کہا...

یہ مولویوں سے کہاں کہاں سے جان چھڑانی پڑے گی ؟؟؟ ویسے طریقہ کیا ہے ہیبی پیبی ویلینٹائن کرنے کا :ڈ

عادل بھیا کہا...

یاسر بھیا آپکے پاس لکھنے کیلئے بہترین عنوانات اور مواد ہوتا ہے۔ اور نہ صرف یہ سب سے بڑی بات، آپکے پاس ماشاءاللہ بہترین سوچ اور احساسات بھی ہوتے ہیں۔
ایک بات جو تھوڑی سی محسوس سی ہوتی ہے وہ یہ کہ آپ جیسے کھُل کر نہیں لکھتے، اکثر تحاریر کچھ دبی دبی سی لگتی ہیں۔۔۔۔ کبھی کبھار اپنی بات کو بیان کرنے کیلئے طنز اور مزاح کا سہارہ لینا نہایت عمدہ لگتا ہے لیکن ہمیشہ ہی ایسا کرنا دِل کو بھاتا نہیں۔ میرے کہنے کا مطلب ہے کہ آپ مزید کھُل کر اپنے دِل کی بات کہنے کی کوشش کیا کیجئیے۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

عادل بھیا بہت بہت شکریہ
دراصل کچھ باتیں لکھتے وقت محسوس کرتا ہوں کہ ایسا لکھنے سے پڑھنے والا مجھے تشدد پسند محسوس کر سکتا ہے۔
یا ایسا لکھنے سے اپنی بات کہنے کے بجائے جس کیلئے لکھا جارہا ہے اسے غصہ دلا کر سوچنے پر مجبور کرنے کے بجائے ۔
صرف دفاع پر مجبور کر دینے کا خطرہ محسوس ہوتا ہے۔
اگر مذہب کی بنیاد پر ہی لکھنا شروع کر دیا جائے تو پرھنے والا آدھی تحریر پڑھے گا اور بھاگ جائے گا۔
اسی لئے میری کوشش ہوتی ہے جتنی سادگی اور آسان الفاظ میں اپنی بات کہہ سکوں اسی میں شاید بہتری ہے۔
اور شاید یہی وجہ ہے کہ آپ کو میری تحریر دبی دبی سی محسوس ہوتی ہے۔۔
کوشش بھی یہی ہوتی اور انشا اللہ مزید کوشش کروں گا۔۔کہ اپنی تحریر اور سوچ میں اچھا ئی اور بہتری پیدا ہو۔

وقاراعظم کہا...

یہ بھی مولوی کی سازش نکلی. اللہ پوچھے ان سے کہیں بھی جان نہیں چھوڑتے. ویسے یہ بکس میں سے پرچیاں نکالنے کا میلہ اب بھی ہوتا ہے کیا؟ اگر ہوتا ہو تو............... ;)

علی کہا...

بھائی جان ہم بھی پرچی والے معاملے میں انٹرسٹڈ ہیں باقی سانوں کی پتہ کی بلا اے ویلنٹائین۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

پرچی کھینچ کر بھی در فٹے منہ والی کے ساتھ ہی میلہ دیکھنے جانا ہے تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہور چوپو

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

یعنی آپ کی قسمت میں بھی در فٹے منہ والی کی قسمت ہی کالی ہونی ہے؟

کاشف نصیر کہا...

یاسر صاحب تسی چھا گئے ہو

نبیل کہا...

بہت عمدہ

شعیب صفدر کہا...

اب سمجھ میں آیا کہ یہ تو پروفیشنل جیلیسی ہی جب ہی تو یہاں کا مولوی وہاں کے مولوی کی بدعت کو نہیں مان رہا۔۔۔۔۔۔ کر لو گل۔

علی کہا...

یعنی کہ سنا ہی ہو سم تھینگ از بیٹر دن ٹھینگا

بنیاد پرست کہا...

جس طرح میلاد النبی کا جشن منانے والوں کو عمل نبی یاد نہیں اس طرح ویلینٹائن ڈے کا جشن منانے والوں کو عمل ویلنٹائن یاد نہیں۔ نبی نے عمل کا نمونہ چھوڑا اور اسی ہی کی ساری زندگی دعوت دی اور قرآن نے بھی معیار عشق اطاعت کو قرار دیا، ہم صرف عیسائیوں کیطرح برٹھ ڈے کو لے کر بیٹھ گئے۔ دوسری طرف ویلنٹائن نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر زنا سے بچانے کے لیے نکاح پڑھوایا، جشن منانے والے اسی کا نام لے کر سارے سال کی زنا کی کسر اسی دن پوری کرتے ہیں۔

عدیل کہا...

بہت عمدہ لکھا۔ اور بالکل ٹھیک لکھا

سعد کہا...

آپ نے بتا دیا اس کا شکریہ۔ مگر اس کا اثر نہیں ہوا مجھ پر :D

ڈاکٹر جواد احمد خان کہا...

ماشاءاللہ ۔۔۔ کیا خوب انداز ہے۔ آپکے یہاں کا جیسا رد کہیں اور نہیں پایا جاتا ۔۔۔ آپ مولوی بنے بغیر رد کرنے اور مخالفت کی فضا کو بدلنے میں عمدہ مہارت رکھتے ہیں۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

شکریہ ۔۔تے کتھے برساں؟

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

بس جی عدالت میں وکیل وکیل کا ہی دشمن ہوتے ہے:ڈڈڈ

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

بہتری کی دعا ہی کرسکتے ہیں۔۔۔باقی اللہ بڑا بادشاہ

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

شکریہ جناب

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

یعنی ڈھیٹ ہوئے نا۔
لیکن بھتیجھے آپ جیسی خوف صورت شکل والے سے کون چاکلیٹ وصولے گا؟

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

شکریہ ڈاکٹر صاحب

نعمان محمد کہا...

کمال ہو گیا پا جی۔۔۔۔۔آج تک یہ وبال دھمال سمجھ نہیں آتا تھا۔۔۔اب کبھی بھولے گا نہیں۔۔۔۔
انداز نرالا ہے۔ اور کیا خوب ہے۔
ویسے آپ نے یہ نہیں بتایا کہ جو مولویوں کی مان کر چلتے ہیں وہ کیا کریں؟؟ ؛-)

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.