کمینہ کم ظرف

جب ایک غریب و مفلس لڑکا بھوک سے بے تاب ہو اور پیٹ بھر کر کھانا نہ نصیب ہو۔آس پاس دیکھے تو کوڑے کے ڈھیر پہ بچے کھچے باسی پکوان کے انبار دیکھے۔


پیٹ پوجا کیلئے چھوٹا بن جائے فرعونوں کے تکبر کی تسکین بنے۔ اپنے کنبے کی طرف دیکھے تو چھوٹے چھوٹے بہن بھائیوں کی بھوک سے خوفزدہ ہو جائے۔


نقطہ انجماد کی سردی میں پاوں میں سلیپر ہوں۔ سردی سے بچنے کیلئے شاذونادر ہی جسم پر چادر نصیب ہو۔ موزے جس کیلئے ایک ایسی خواہش ہو،جو عظیم پہاڑ کی چوٹی کے ٹو سر کرنے کی نسبت کٹھن ہو۔


جس کے ہم جولی فخر سے بتا رہے ہوں انکل فوجی ٹریننگ کیلئے یو ایس اے گئے تو یہ جیکٹ لیکر آئے،اس جیکٹ کی قیمت ابا جی کی ساری زندگی کی آمدنی سے بھی زیادہ ہو۔


لنڈے بازار سے گذرتے ہوئے سجے ہوئے ملبوسات اور جوتوں کو حسرت سے دیکھے۔لڑکے کو معلوم ہو وہ پڑھنے میں اچھا ہے،ہر دوسرا بندہ اسے ذہین بھی کہے۔


 لڑکا پڑھائی اس لئے چھوڑ دے کہ غریب باپ کی کمائی پڑھائی پر ضائع کرنے کے بجائے بہن بھائیوں کی پیٹ پوجا کے کام آئے گی۔لڑکا حقیقت پسندی سے سوچے پڑھ لکھ کر چند ہزار روپوں کی نوکری کی آمدنی سے اس کے  معاشی مسائل حل ہونے کو نہیں!۔


پڑھ لکھ کر بھی نوکری سفارش اور رشوت کے بغیر ملنے کو نہیں!۔سفارش اور رشوت کہاں سے لائے؟


سترہ اٹھارہ سال کی عمر میں لڑکا آلو کے چپس اور چیونگم کی عیاشی سے پہلی بار متعارف ہو!۔ اس کی خوشی دیکھ کر لوگ کہیں یہ جانگلی کہاں سے نازل ہو گیا!!!۔


لڑکے نے تو آلو نمک اور لال مرچ کے پتلے شوربے میں ہی تیرتے دیکھے تھے۔۔خوش ہی ہو گا نا!!۔وہ آلوکے پتلے شوربے کی عیاشی کی لذت اب بھی یاد آتی ہے!!۔


تو عرض ہے ذہنی عیاشو!!!۔


لڑکا مروت میں ان اللہ و انا الیہ راجعون تو کہہ دے گا۔ کہ زندگی نے اسے یہی سکھایا ہے کہ ہر ذی روح نے سانس سے رشتہ ہر حال میں توڑنا ہوتا ہے۔


ہر سانس لینے والے جانورنے خالق کے پاس واپس جانا ہے، چاہے نو سال کا ہو سولہ سال کا یا سو سال کا!۔


لڑکا تو یہی دیکھتا ہے کہ اس کی درسگاہیں جنم جنم کے مالدار سیاستدانوں کے مویشیوں کا باڑہ بنی ہوئی ہیں،اس کے استاد ان جدی پشتی سیاستدانوں کے مزارعے ہیں۔


اس کے تنخواہ دار محافظ سر پہ جام رکھ کر ناچتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور طبلہ بجا کر اس کا تمسخر اڑاتے ہیں۔


لاگی رے لاگی صنم تورے باغی!!!۔


لڑکا تو اس وقت اداس ہو جاتا جب اسی جیسا لڑکا چھوٹے کے کردار میں اس کے سامنے چائے کا کپ رکھتا ہے۔۔۔۔اسی جیسا لڑکا مکینک کی دکان کا چھوٹا بنا ذلیل ہو رہا ہوتا ہے۔


اسی جیسے چھوٹے چھوٹے لڑکے گندگی کے ڈھیر کے باسی پکوانوں سے پیٹ کی آگ بجا رہے ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔


لڑکا سوچتا ہے۔۔اگر میرا باپ دادا بھی زردار ہوتا۔۔پیرو مرشد ہوتا۔۔۔۔غیر اقوام کے تلوے چاٹ کر زمیندار و گدی نشین ہوتا۔۔۔۔۔سر پہ جام رکھ کر ٹھمکے لگانے والا جنرل ہوتا تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


تو یہ لڑکا بھی کم عمر ترین آئن سٹائن کا چاچا ہوتا۔۔۔آئی ٹی کے ماہرین کی ایسی کی تیسی کر رہا ہوتا۔۔۔۔ اس کی بہنیں بھی میوزیکل کنسرٹ میں شہادت کا رتبہ پا رہی ہوتیں۔۔سیاسی مجروں میں سیاستدانوں کی سپیچیاں سننے کے وقفے میں یہ لڑکا بھی میوزک انجوائے کرتا۔


(لاحولہ ولا قوۃ الابا اللہ)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کتنا کم ظرف ،،کتنا کمینہ ہے یہ لڑکا!!۔


ذہنی عیاشوں نے یہ تو سنا ہی ہو گا کہ


جس کے گھر دانے اس کے کملے بھی سیانے!!۔


غریب کو اللہ نواز بھی دے تو کم ظرف و کمینہ ہی رہتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اگر دل کا مفلس نہ ہوتو۔۔۔۔۔۔ہیں جی


 

کمینہ کم ظرف کمینہ کم ظرف Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 1:00 PM Rating: 5

21 تبصرے:

عبدالقدوس کہا...

بل گٹیس کہتا ہے کہ اگر آپ کسی غریب گھرمیں پیدا ہوئے ہیں تو اس میں آپ کا کوئی قصور نہیں لیکن اگر آپ غریب مر جاتے ہیں تو اس میں سراسر آپ کا قصور ہے.
میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ لوگ ارفہ سے نفرت یا اُس کے ہنر کی قدر کو صرف اسلئے ہی جھٹلا رہے ہیں کہ وہ ایک ریٹائرڈ کرنل کی بیٹی تھی.؟؟؟ اس میں قطعی اُس معصوم کا کوئی قصور نہیں تھا کہ وہ ایک فوجی کے گھر میں پیدا ہوئی.

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

ارفہ پاکستان کی دوسری کروڑوں بیٹیوں کی طرح ہمیں نہایت عزیز ہے۔
ارفہ کا ہنر صرف اس کے ماں باپ کیلئے ہی نہیں ہمارے لئے بھی قابل فخر ہے۔
اس کا باپ ریٹائیرڈ کرنل ہے تو ہمیں خوشی ہے کہ ہمارےقابل فخر سپاہی کی بیٹی نے ملک کا نام روشن کیا۔۔۔۔۔
لیکن دوسری کروڑوں بیٹیوں کو یہ سہولیات کیوں نہیں مل رہیں؟
ان کو بھوکا ننگا کیوں رکھا جا رہا ہے؟
پیدا ہوتی ہیں تو ماں باپ کا بوجھ جہیز نا ملنے سے سسک کر جیتی ہیں۔
شادی ہوبھی جائے تو بھی سسسکنا نصیب۔۔۔۔
کسی کرنل کی بیٹی سے نفرت کوئی نہیں کر رہا۔۔۔مقدس ہستی کو ملنے والی سہولیات غیر مقدس بنی ہوئی جو سسک رہی ہیں ان کو نہ ملنے کا رونا ہے۔
وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کا رونا ہے بھائی۔

ضاءالحسن خان کہا...

غلط بلکل غلط 10000٪ غلط ۔۔۔ سبکو مل رہی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غریب جب تک اپنی ذہنی پسماندگی کو دور نہیں کرٖ گا تو کیا خاک ترقی کرے گا ۔۔۔۔ میں اپنے خاور جاپانی کے بلاگ پر بھی لکھ چکا ہوں کہ اچھو ڈنگر کو جب کمپیوٹر دلایا تو وہ اسکو صرف تگیاں دیکھنے کے لئے استعمال کرتا رہا چہ جائیکہ وہ اس سے کوئی تعمیری کام کرتا ۔۔۔ یہ تو صرف اپنے اندر کی لگن ہوتی ہے ورنہ کو صدور کی اولادیں بھی وہ کام نہیں کرپاتیں جو ایک موچی یا فیر جولاہے کی اولاد کر دیتی ہے ۔۔۔ ہیں جی

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

غریب کی ذہنی پسماندگی ۔۔۔۔۔۔۔
اچھو ڈنگر بیچارہ ہے ہی ذہنی پسماندگی کا شکار ۔۔۔
وہ تو یہی کچھ کرے گا جو اسے معاشرے دے گا۔
معاشرے کن لوگوں کے اثر ورسوخ میں ہے؟
اگر ذہنی طور پر پسماندہ غریبوں کے اثر رسوخ میں ہے تو پھر ڈنگر کو چارے سے ہی دلچسپی ہوگی ناکہ اس بات سے کہ کون اس کے دودھ اور اون سے مستفید ہو رہا ہے۔
آپ کی بات سے ایک ہی بات سمجھ آرہی ہے کہ معاشرے دو طرح کے لوگوں سے قائم ہے
ایک اون و چمڑی اتارنے والا اور دوسرا اون و چمڑی اتاروانے والا۔
ذہنی پسماندگی سے نکلنا ہے تو اون و گوشت اتارنے والے لوگوں میں شامل ہو جانا چاھئے؟

ضاءالحسن خان کہا...

بھائی صیب ذہنی پسماندگی دور کرنے کے لئے مالدار ہونا ضروری نہیں ہے ورنہ یہ تو آپ بھی بہت پہتر جانتے ہو کہ بڑے بڑے مالدار انتہائی گھٹیا ذہن کے مالک ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

میں یہی کہنا چاہتا تھا بھائی
اچھو ڈنگر اگر کمپیوٹر کا واہیات استعمال کرتا ہے تو امیرزادیاں میوزیکل کنسرٹ میں جا کر شہید ہوتیں ہیں۔۔۔غریب اچھو ڈنگر اور امیر شہزادیوں میں ذہنی پسماندگی مشترک ہی ہے۔
یہ بات میرے مشاہدے میں بھی ہے کہ ذہنی پسماندگی غریب یا غربت سے نہیں ہوتی۔۔۔۔
یہ پسماندگی دل و دماغ کے افلاس سے ہوتی ہے۔
وضاحت کردوں کہ
مغربی اور غیر اسلامی معاشرے میں اگر خواتین کنسرٹ میں جا کر شہید ہوتی ہیں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔

عبدالقدوس کہا...

آپ آخری مرتبہ کب پاکستان تشریف لائے تھے؟
ہمارا میڈیا یا ہمارے چندا ماننگے والے لوگ جان بوجھ کر اور بعض اوقات ادکاری کرواکر یہ حالات دکھاتے ہیں جو کہ حقیقت سے کوسوں دور ہوتی ہے. میں ایک پسماندہ قبصہ کا رہائشی ہوں جہاں پر ہائی اسکول نہیں، ہسپتال نہیں، پلے گراونڈ نہیں. جہاں پر مزدور پیشہ طبقہ کا ایک جم غفیر مقیم ہے لیکن یہاں بھی ایسا کچھ نہیں.
ابھی اس ملک کے لوگ اسقدر کم ظرف یا بے حس و بے غیرت نہیں ہوئے

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

ہر سال پاکستان آتا ہوں۔
مجھے سمجھ نہیں آئی کہ ایسا کچھ نہیں ہوتا سے آپ کا کیا مطلب ہے؟
چندا مانگنے والے میرے پاس ہر سال بہت آتے ہیں۔
بھیک مانگنے والے ہر چوک پر مجھے ہر سال کھڑے نظر آتے ہیں۔
آپ کا قصبہ پس ماندہ ہے تو میرا علاقہ انتہائی پسماندہ ہے۔
ہوسکتا ہے سکول مویشیوں کا باڑہ نا ہو۔میڈیا نے ایک آدھ کیس کو زیادہ اچھالا ہو۔
سیاستدانوں کی کرپشن فوج کے اعلی افسران کی کرپشن بھی نہیں ہوتی؟
طبقاتی فرق بالکل نہیں ہے؟
سرکاری نوکری بغیر سفارش کے مل جاتی ہے؟
پاکستان کے لوگوں کو کم ظرف ، بے حس و بیغیرت کہنا ایسے ہی جیسے میں اپنے آپ کو کہوں۔

بنیاد پرست کہا...

ضیا بھائی آپ کی بات ٹھیک ہے لیکن یہ بھی تو بتائیں اسکی یہ ذہنی پس ماندگی پیدا کیسے ہوئی ؟ اس نے تو جب سے ہوش سنبھالا گھر میں بھوک ، خوف ، بیماری دیکھی، اسے وہ اعتماد کہاں سے ملتا جو منہ میں سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہونے والے کو ملا، اسکی تو پہلے دن سے سوچ اس تک محدود رہی کہ وہ کہیں سے پیسے لا کر اپنے گھر والوں کو دے اور وہ تر لقمہ کھا سکیں ۔ آپکی یہ بات کہ غریبوں کے بیٹوں نے صدور کے بیٹوں سے بڑے کام کیے ہیں،یہ ایکسٹر آرڈنری کیس ہیں اور انکی تعداد بہت کم ہے ۔ میرا ایک دوست سکول میں آٹھویں کلاس تک ہمیشہ فرسٹ آتا تھا، ہر ٹیچر اسکی تعریف کرتا تھا، پھر ان کے گھر کچھ حالات آئے، اسکے والد نے اسے پندرہ سو تنخواہ کے لیے موٹر مکینک کی دوکان پر ڈال دیا، وہاں سے اب جاکر اسے پانچ ہزار ملتے ہیں جس سے اسکے گھر کا چولہا جل رہا ہے۔ ۔ ۔ اسی طرح کے لاکھوں لڑکے ذہین لڑکے اپنی چاہت کے خلاف ورکشاپوں، دوکانوں، کارخانوں میں مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔

علی کہا...

بات یہ ہے کہ معاشرے میں بڑی کھپ ہے۔ پہلے دو طبقے بنائے ہم نے پھر جب انکا فرق مٹنے لگا تو ایک نیا طبقی وجود میں آگیا جنہوں نے ان دونوں طبقوں کی برائیاں اپنا لیں۔
باقی میں ناسمجھ بندہ اچھی چول تو مار سکتا ہوں پر اچھی بات شاید نہ کہہ سکوں۔
بلاگ پر پہلی پوسٹ آزمائش کے طور پر ایک کہانی کی تھی۔ بات ملتی جلتی ہے اس کہانی میں آپ کے بلاگ سے ۔لنک پیسٹ رہاہوں امید ہے پڑھ کر آپ کمنٹ ضرور پیسٹیں گے۔
http://aili22.blogspot.com/2010/01/short-story.html

عبدالقدوس کہا...

سب سے پہلے بات کرتے ہیں چندہ مانگنے اور بھیک مانگنے والوں کی
چندہ مانگنے والوں میں زیادہ تر وہ لوگ ہوتے ہیں جو کہ کام چور ہوتے ہیں اور جنہیں بخوبی تجربہ ہے کہ وہ ایک اس قوم کو خدا اور رسول کے نام پر بہت آسانی سے بیوقوف بنا کر اچھا خاصا مال ایک ہی دن میں کما سکتے ہیں اور بلاشبہ کماتے بھی ہیں.
سیاست دان کی کرپشن تو واضع ہے لیکن فوج نے کیا کرپشن کی ہے؟ دفاعی بجٹ جو ہمیں اس قدر بڑا نظر آتا تو میں بتاتا چلوں کہ اس میں افواج پاکستان کے تمام اداروں کے ساتھ ساتھ سائنسی تحقیقاتی ادارے بھی آتے ہیں جن میں پاکستان ایٹمی بم ساز ایجنسی سرفہرست ہے اور ملک کے دفاعی بجٹ کی صورت حال کیا ہے اس کا اندازہ آپ بے چارے ثمر مبارک مند کی ویڈیوز سے لگا سکتے ہیں جس میں وہ چیخ رہا ہے کہ ہمیں فنڈ دو ہم تمہیں عربوں سے زیادہ تیل اور توانائی کے ذخائر دے سکتے ہیں.
طبقاتی فرق بالکل موجود ہے لیکن غریب کا بچہ جو ہنر مند ہوتا ہے اُس کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے معلوم نہیں آپ کو بابر اقبال یاد ہے کہ نہیں. البتہ بتاتا چلوں کہ وہ کسی کرنل کا بچہ نہیں ہے تفصیلات کے لئے اُس کی ویب سائیٹ دیکھ سکتے ہیں آپ
سرکاری نوکری آج بھی سفارش کے بغیر مل جاتی ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ آپ میرٹ پر پورے آتے ہوں اور ناصرف پورے آتے ہوں بلکہ مقابلے کے اس دور میں آپ سب سے نمایاں خصوصیات کے حامل بھی ہوں.
کچھ ادارے جیساکہ پولیس وغیرہ میں بھرتی کے لئے رشوت و سفارش دونوں کی ضرورت ہوتی ہے لیکن اس میں بھی نمایاں خصوصیات کے حامل افراد بنا کسی سفارش اور رشوت کے بھرتی ہوتے ہیں.

عبدالقدوس کہا...

ویسے یہ بھی خوب رہی۔۔
ہمارے یہاں ایک سید صاحب رح مرحوم ہوا کرتے تھے ۔ جب کبھی اخبار میں زہریلی شراب پی کرمرنے والوں کے متعلق اخبار میں خبر آتی تو وہ وعظ میں تنقید کے طورپر ایسے افراد کو شراب شہید کہا کرتے تھے

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

عبد القدوس بھائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرے خیال میں آپ کا تعلق فوجی گھرانے سے ہے یا ق لیگ سے۔۔۔۔یا مولانا فضل الرحمن کی لیگ سے سب اچھا ہی ہوتا ہے ایسی حالت میں۔
میں بھی فوجی سکول میں دس جماعتاں پڑھا ہوں۔
تعلیم کا فرق مجھے ابھی تک عام سکولوں کالجوں میں پڑ ھے ہوئے اور فوجی سکول کے دہ جماعتاں پاس میں صاف محسوس ہوتا ہے۔
ایف جی سکول کے دہ جماعتاں پاس اور عام درس گاہوں سے پڑھے بی اے پاس کا موازنہ کر لیجئے گا ۔۔دونوں لائق ہونے چاہئں۔۔۔میرے خیال میں کوئی خاص فرق نہیں ملے گا۔۔بلکہ دہ جماعتاں پاس کچھ بہتر ہی ہو گا۔
آپ ارفہ بی بی محروم کی عقیدت میں حقائق کو دیکھنا نہیں چاھتے۔۔۔فوج نے کرپشن نہیں کی تو ان تریسٹھ سالوں کا حساب کون دے گا۔۔۔۔اور میں اس فوج کی کرپشن کا شکار ہونے تک ۔۔۔پاکستان آرمی لکھا ٹی شرٹ گرمیوں میں لازمی پہنتا تھا۔۔میں نے پہلے بھی کہا ہے کہ جو تعلیمی معیار ارفہ بی بی یا اسی کلاس کے دوسرے بچوں کو میسر ہے وہ اچھو ڈنگر کو کیوں نہیں؟
میں اس وقت کے جاپان کو دیکھتا ہوں ۔اور جنگ کی تباہ حالی کے بعدجاپان کی تاریخ دیکھتا ہوں تو ان کی حالت نئے نویلے پاکستان کی نسبت بری تھی۔ لیکن یہاں زردار اور پیر و مرشد کے بچے کو بھی اور اچھو ڈنگر کو بھی تعلیمی سہولیات ایک جیسی میسر تھیں اور ہیں۔۔۔۔تو بتائیں تریسٹھ سال کی پاکستانی تاریخ کا حساب کتاب میں کس سے لوں؟۔۔۔اور آپ جیسے پندرہ بیس سال مجھے سے چھوٹے کل مجھ جیسوں سے ماضی کا حساب مانگیئں تو یہ حساب کس سے دلوایں؟
اچھو ڈنگر تو کل بھی ڈنگر تھا اور آج بھی ڈنگر ہے۔

عبدالقدوس کہا...

بھائی میرا تعلق نا تو کسی فوجی گھرانے سے ہے اور نا ہی کسی ایلیٹ فیملی سے. آپ نے تو پھر فوجی اسکولوں میں تعلیم حاصل کی ہے میں نے کھوتی اسکولوں میں تعلیم حاصل کی ہے.
جہاں تک طبقاتی تعلیمی نظام کی بات ہے تو فوج سے زیادہ اس نظام کو سوئلینز نے اپنایا ہوا ہے. آپ سونامی نیازی صیب کے چمچوں کو دیکھ لیں جو طبقاتی نظام تعلیم کو ختم کرنے کی بات کرتے ہیں اور خود بیکن ہاوس سکول سسٹم کے مالک ہیں.
مجھے کوئی اور مسئلہ نہیں بس دکھ اس بات کا ہو رہا ہے کہ آپ نے اپنے غصے کی تان توڑنے کے لئے ایک معصوم بچی کی موت کا انتخاب کیا. شاید آپ کسی اور موقع پر یہ لکھتے تو میں بھی آپ کا ساتھ دے رہا ہوتا. آپ کو ڈراون حملہ کیوں نہیں یاد آیا اپنے غصے کی تان توڑنے کے لئے...

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

بالکل عبدالقدوس بھائی آپ کی بات سو فیصد ٹھیک ہے۔
مجھے اس معصوم بچی کا اتنا ہی دکھ ہے جتنا آپ کو۔۔۔۔
غصے کی تان اس اندھی عقیدت کی وجہ سے ہی ہے کہ کتنی معصوم بچیاں ۔۔۔۔
بیکن ہاوس سکول سسٹم میں پڑھنے والوں کیلئے بَلی چڑھائی جا رہی ہیں۔۔۔اور اللہ نے ذہنی صلاحیتیں انہیں بھی اتنی ہی دیں ہیں جتنی ہماری معصوم بچی ارفہ کو عطا کی تھیں۔۔
نیازی کو بھی میں نہیں چھوڑا ۔ اور لکھا ہے کہ سپیچیوں کے درمیان کنجر خانے کی کیا تک؟
یہ کنجر خانہ میری معصوم بہنوں بیٹیوں کیلئے کیا اچھی تبدیلی لائے گا؟۔۔۔۔بحرحال آپ سے یہی گذارش ہے کہ میرے لکھے کو یہ سمجھ کر نا پڑھیں کہ مجھے ارفہ بی بی یا ان کے والدین سے کسی قسم کی نفرت یا بغض ہے۔۔۔۔۔ارفہ اللہ میاں کے پاس اچھی اور ابدی جگہ پر چلی گئی اور ہماری دل سے دعا ہے اللہ تعالی اسے جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے۔۔۔اور مجھے یقین ہے ضرور عطا فرمائے گا ۔۔جو لاکھوں ارفہ زندہ ہیں ان کا سوچتے ہیں کہ ہم ان کیلئے کیا کر سکتے ہیں۔
جب لوہا گرم ہو تو چوٹ اسی وقت کام کرتی ہے۔۔۔اسی لئے میں نے اس موقع پر یہ کچھ لکھا۔۔۔اگر اللہ کو منظور ہوتا تو ارفہ جیسی باصلاحیت بچی کے وسیلے سے ہمارے ملک کا نام روشن ہوتا اور یہ بچی کئی بچیوں کے خواب بن جاتی۔۔۔ارفہ نے ملک کا نام روشن کر دیا ہمیں اب کوشش کرنی ہوگی کہ ہماری دوسری معصوم بچیاں سماج کے بوجھ تلے دبائی نا جائیں بلکہ انہیں بھی یہی کچھ مہیا کیا جائے جو ارفہ کو میسر تھا۔۔۔

عبدالقدوس کہا...

اسکے لئے ہمارے لوگوں کو جاگنا ہوگا. ہمارے فورم پاک نیٹ کی ایک منتظم خاتون فرمایا کرتی ہیں کہ انسان کو سمجھ تب تک نہیں آتی جب تک اُس کے پیٹ میں کچھ نا جائے. یعنی اس سب سے پہلے ہمیں جاگیرداری نظام جو بھٹو صیب جو آج کے وڈے لیڈر سمجھے جاتے ہیں نے قائم کیا تھا اس کو ختم کرنا ہوگا.

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

جس کے گھر دانے اس کے کملے بھی سیانے

ڈاکٹر جواد احمد خان کہا...

بہت اعلیٰ یاسر بھائی۔
برسبیل تذکرہ مجھے یہ تحریر پڑھ کر ایک دوست کی بات یاد آگئی۔ وہ کہتا تھا کہ یار میرے ساتھ بہت ظلم ہوا ہے کہ جب مجھے خواہش تھی تب مین محروم تھا اب منعم ہوگیا ہوں تو خواہش نہیں ہے۔ انسان کبھی بھی بچپن کی محرومیوں کے اثرات سے نہیں نکل سکتا چاہے بعد میں وہ ارب پتی ہی کیوں نا ہوجائے۔
اپنے وطن کے بچوں کو جب بھی دیکھا ہے تو محروم ہی دیکھا ہے۔ جسکی آپ نے بہت خوبصورتی سے اس تحریرمیں نشاندہی کی ہے۔
مجھے حیرت صرف اس بات پر ہے کہ محترم عبدالقدوس صاحب کو پاکستان میں طبقاتی تقسیم اور اسکے اثرات نظر نہیں آرہے ہیں اور وہ بھی اس وقت جب قلت اور محرومی پاکستانیوں کا خاندانی نام بن چکی ہے۔
جناب اگر آپ کو پاکستان میں محرومی کے اثرات نظر نہیں آرہے تو برائے مہربانی آپ کسی بھی اخبار کے اندر کا صفحہ جہاں اندرون شہر کی خبریں ہوتی ہیں۔ کئی دن کے اخبار جمع کرنے کی بھی ضرورت نہیں صرف کسی بھی ایک دن کا اخبار لےلیجیے۔آپ کو خور اندازہ ہو جائے گا کہ ہم کس راستے پر چل رہے ہیں اوراگر تھوڑی سی دماغی عرق ریزی کریں گے اسکی وجوہات بھی شاید آپکی سمجھ آجائیں گی ۔

عبدالقدوس کہا...

کملے تو گملے ہوتے ہیں :D

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

جواد بھائی اپنے عبدوالقدوس بھائی عقیدت مند پاکستانی ہیں۔
محبت کرنے والے ہیں۔۔۔۔محبت کرنے والوں کو غصہ تو آتا ہی ہے؛ڈ

عبدالقدوس کہا...

بھائی محرومیاں تو بلاشبہ ہر دور میں رہی ہیں لیکن اسقدر بھی نہیں کہ ہمیں صومالیہ یا ایتھوپیا کے ساتھ ملانا شروع کردیا جائے

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.