خاص بندہ

آجکل میرے ساتھ کچھ اس طرح ہو رہا ہے ،کہ میرے جو چند ہی گنے چنے دوست ہیں، انکا کہنا ہے کہ مجھے ہر حال میں اپنا حلقہ احباب بڑھانا چاھئے۔وجہ ایک خاص واقعہ تھا کہ چھوٹی عید کے بعد دوچار بندوں کو ذبحہ کرنے کا ارادہ کیا اور کیل کانٹے سے لیس ہو کر پہونچ گیا، واردات کرتے ہوئے ہوئے احساس ہوا کہ یہ کیا گندگی کر رہاہوں اور اچھی طرح یاد ہے کہ ہاتھ روک لیا، واقعے کی تفصیلات بس اتنی سی ہیں،


کچھ شہر کےلوگ ظالم تھے، کچھ ہمیں مرنے کا شوق بھی تھا۔


بعد میں جو جاننے والے دوست تھے انہوں نے یہی کا کہ ٹھیک کیا، لیکن مجھے شرمندگی ہی محسوس ہوئی کہ شرفا کو ایسی گھٹیا حرکت نہیں کرنی چاھئے اور ایسے میدان میں بھی نہیں اترنا چاھئے جس کا کوئی مقصد ہی نا ہو۔۔فقط انا کو مسئلہ بنایا جائے تو جہالت ہی ہوتی ہے،


 میرے جاننے والے تو کافی ہیں ،لیکن مجھے ان کے نام  کم ہی معلوم ہوتے ہیں۔زیادہ تر جاپانی حضرات یا


پھر غیر ملکی حضرات  سے معاملات ہوتے ہیں، لیکن مجھے ان حضرات سے معاملات


کرتے ہوئے یا تعلقات نباتے ہوئے سیاست کرنے کی یا چمچہ گیری کرنے کی ضرورت  کبھی محسوس نہیں ہوئی۔


جاپانی قوم کو بات چیت یا معاملات کرنے کیلئے اپنے اخلاقیات پر قدرتی کنٹرول ہوتا ہے۔شاذونادر ہی کوئی آپ سے بیہودگی کرے گا،اگر کوئی ایسا ہوبھی تو آپ کو کوئی مجبوری نہیں ہوگی کہ اس کے ساتھ آپ تعلقات کا سلسلہ جاری رکھیں۔۔


تم ادھر ہم ادھر قصہ ختم۔۔۔


لیکن پاکستانیوں کے ساتھ تعلقات رکھنے کے معاملے میں ایسا کرنا کافی مشکل ہوتا ہے۔نماز بھی مشترکہ ادا کرنی ہوتی ہے تو نماز جنازہ پڑھنے پڑھانے کا خیال بھی ہوتا ہے۔۔۔اس لئے بیہودگی بھی اور بدمزگی بھی


دیکھنی پڑتی بھی ہے اور کر بھی جاتا ہے ۔۔بندہ پاکستانی جو ہوا۔۔۔۔۔اور شاید دس فیصد ہی ایسے ہوں گے


جو ادھار رقم تقاضہ کا نہیں کریں گے یا معاشی معاملات سے بچنے دیں گے۔نتیجہ بہت کم سب اچھا ہوتا ہے۔


جب ہم جاپان آئے تھے ،تو جو ہم سےپرانے پاکستانی تھے ان میں بہت کم تعداد قانونی رہائشی تھے،جن کے پاس مستقل ویزہ ہوتا تھا، یہ زیادہ تر جاپانی خواتین سے شادی کئےہوئے تھے۔فیکٹریز میں کام کرنے والے انڈین پاکستانی کھانے کے ریسٹورنٹ چلانے والے پرانی گاڑیاں برآمد کرنے والے،اکا دکا قالینوں کا کام کرنے والے۔


کچھ تصاویر وغیرہ بیچ کر یادکھا کر بیچارگی ظاہر کرکے چندہ نما کمائی کرنے والے بھی تھے،پرانے لوگوں کو جاپانی آتی تھی ، اس لئے ایک اور بھی منفعت والا کام ہوتا تھا، جسے ڈیرہ بازی کہا جاتا تھا،


اسی کی دھائی تک جاپان آنے کیلئے ویزے کی ضرورت نہیں ہوتی تھی،


اس وقت کے بیس تیس ہزارروپے(پندرہ سوسے دوہزار ڈالر) میں بندہ جاپان میں داخل ہو جاتا تھا، جو لوگ سوجھ بوجھ نہیں رکھتے تھے، وہ ایجنٹ کو زیادہ رقم دیتے تھے۔ ایئر پورٹ سے داخل ہوتے وقت امیگریشن کو بتایا جاتا تھا کہ جیب خرچ کیلئے تقریباً ہزار ڈالر جیب میں موجود ہیں۔


جو بعد میں ایجنٹ یا ڈیرے والا ان سادہ لوح لوگوں سے نکلوا لیتا تھا۔ایجنٹ بندے کو لیکر نکلتا تھا،ٹکٹ بنواتا تھا،ایمبارکیشن کارڈ پُر کرکے دیتا تھا۔اور جاپان کے ائیر پورٹ پر لا کر چھوڑ دیتا تھا، بندے کی قسمت کہ بندہ داخل ہو گیا تو ٹھیک ،ائیر پورٹ سے ڈیپورٹ کر دیا گیا تو ایجنٹ غائب بندہ مقروض ہو کر ذلیل و خوار ہوتا تھا۔


جوجاپان میں داخل ہو جاتے تھے وہ ڈیرے میں داخل ہو جاتے تھے۔ڈیرے کے مالکان انہیں کہیں کام دلوا دیتے تھے۔اس ڈیرے سے ہر بندہ کھانے پینے کی اشیا، بجلی پانی گیس، وغیرہ کے اخراجات کے نام پر ایک مخصوص رقم ڈیرے کے مالک کو ادا کرتا تھا۔


اس کے علاوہ یہی ڈیرہ مالکان ھنڈی کے ذریعہ ان محنت کشوں کی رقوم پاکستان ارسال کرنےکی خدمات بھی انجام دیتے تھے،


پاکستانی نئے نئے آئے ہوتے تھے جاپانی کھانوں کے عادی نہیں ہوتے تھے،حلال حرام کا بھی مسئلہ ہوتا تھا،اس سے ایک اور کاروبار وجود میں آیا جسے ہم لوگ حلال فوڈ کہتے ہیں۔جو ابھی تک چل رہا ہے۔یہ علیحدہ بات ہے کہ یہ حلال فوڈ بیچنے والے شراب کے نشے میں یہ حلال فوڈ بیچ رہے ہوتے تھے۔


اس دور میں بڑے خوبصورت اور تگڑےکڑیل جوانوں کو ان ڈیروں پر ذلیل ہوتے دیکھا بیچارے ڈیرے والے کے چمچہ گیر قسم کے باڈی گارڈ یا کن ٹٹے بن جاتے تھے، جو شریف النفس ہوتے تھے،یا قسمت یاوری کرتی تھی تو خاموشی سے کنارہ کشی اختیار کر لیتے تھے، کوئی انکے گھروں پہ چلا جائے تو اچھے طریقے سے گلو خلاصی کرا لیا کرتے تھے۔


کوئی خود سر ان ڈیرے والوں سے بھاگ کر کسی دوسرے اچھے ڈیرے پر چلا جاتا تھا ،تو ان ڈیروں والوں میں لڑائی شروع ہو جاتی تھی،کہ ہمارا بندہ توڑ لیا۔ ایک دوسرے کے ڈیرے پر حملہ یا صرف دوسروں کو ڈرانے کیلئے افواہ پھیلا دی جاتی تھی،  زیادہ تر ان ڈیرہ نشینوں کی سوجھ بوجھ اتنی ہی ہوتی تھی،کہ ڈیرہ مالکان کی چاپلوسی اور چمچہ گیری کی انتہا کرتے تھے،بیچاروں کی مجبوری ہوتی تھی،کہ ان کا مفاد ڈیرے والوں سے جڑا ہوا ہوتا تھا،یا جن کے پاس ویزہ ہوتا تھا ان سے ڈرتے تھے کہ کہیں چھاپہ ہی نا پڑوا دیں۔


اس وقت جو ایک بات میں نے محسوس کی تھی ،کہ بھارتی اپنے ہم ملکوں کے ساتھ ہی رہتے تھے،اور بنگلہ دیشی بنگلہ دیشیوں کے ساتھ ، اکا دکا ہی پاکستانیوں کے ساتھ رہتے تھے، لڑائی جھگڑے میں کسی انڈین یا بنگلہ دیشی کا نام سننے میں نہیں آیا تھا،


ایک دفعہ ایک نئے پاکستانی جو کافی پڑھے لکھے اور سمجھدار تھے،ہمارے ڈیرے پر آئے ہمیں ان کی ذہانت کا اندازہ کافی بعد میں  ہوا شروع میں ہم انہیں صرف بیوقوف ہی سمجھتے تھے، ان دنوں جاپان میں بھی موبائل فون نہیں ہوتا تھا۔اوربہت کم ڈیروں پر بھی لینڈ فون کی سہولت میسر ہوتی تھی، زیادہ تر ہم لوگ پبلک فون سے ہی ایک دوسرے کو فون کرتے تھے، ہمارے ڈیرے پر فون ہوتا تھا،پہلے دن سے ہی جب بھی فون بجے یہ صاحب دوڑکر فون اٹھا لیتے اور کہتے ،


چوہدری خوشاب خان عرض کر رہا ہوں۔


اسی ڈیرے پر حلال فوڈ بھی بیچا جاتا تھا،ان صاحب نے حلال فوڈ کا آرڈر پہلےدن سے ہی وصول کرنے کی خدمات خود بخود سنبھال لیں۔اور بھائی جان کو اطلاع دے دیتے کہ فلاں بندہ کو حلال فوڈ کی سپلائی پہونچا دیں۔


یہ صاحب ٹائیلٹ میں بھی ہوتے تو کپڑے درست کئے بغیر بجتے فون کی طرف دڑکی لگاتے تھے۔سب حیران ہوتےتھے کہ اچھا خاصہ سمجھدار بندہ ہے لیکن اتنا بیوقوف کیوں ہے۔ کچھ عرصے بعد ہم نے دیکھا کہ ان صاحب نے اپنے آپ کو بھائی جان جو سب کے بھائی جان ہوتے تھے۔ان کو بھی اور آس پاس کے بندوں کو بھی بھائی جان کا خاص بندہ باور کرادیا۔


اس کے بعد ہم نے یہ بھی دیکھا کہ اگرکوئی نیا بندہ کسی کے رابطے سے اس ڈیرے کی طرف آیا تو بھائی جان کو نہیں جانتا تھا۔وہ یہی کہتا تھا کہ چوہدری خوشاب خان سے بات کرنی ہے۔ویسے ایک بات بتاتا چلوں کہ یہ بھائی جان دوسرے ڈیرے والوں کی نسبت شریف بندے ہوتے تھے،


کچھ عرصے بعد ہی ہم نے یہ بھی دیکھا کہ ان خاص بندے کو جو شروع میں بیوقوف سمجھتے تھے ان کی عزت کرنا شروع ہوگئے جو ان کی فنکاری سمجھتے تھے وہ دبے لفظوں کہتے تھے کہ یہ خاص بندہ ہے کوئی الٹی سیدھی بات مت کرنا ساری بات بھائی صاحب کے پاس پہونچ جائے گی۔


ہم بھی ان کی عزت کرنا شروع ہو گئے تھے کہ بندہ بہت ہی اچھا ہے۔ کئی مخلص لوگوں نے کہا بھی کہ آپ ابھی بچے ہو ذرا بچ کر رہنا یہ بندہ دونمبری ہے،ہم نے ان لوگوں کی بات سنی ان سنی کردی، یہ خاص بندے ہمارے جاپانی زبان کے سکول کے کلاس فیلو بھی ہو گئے تھے، مقصد انکا بھی ہماری طرح جاپان میں قانونی رہائش اختیار کرنا تھا،


کیونکہ ہم ان خاص بندے صاحب کو اچھا بندہ سمجھتے تھے،اور ان پر اندھا اعتماد بھی کرتے تھے، ہم اپنی سکول کی فیس ان کے کہنے پر انہی کو دے دیتے تھے اور یہ ایمانداری کے ساتھ سکول میں اپنی اور ہماری فیس جمع کروا دیتے تھے،


ہمارے علم میں شروع سے یہی تھا کہ ہماری سکول فیس پچاس ہزار ین ہے، چند ماہ بعد ہمیں اتفاقاً سکول فیس کی رسید دیکھنے کا موقع ملا تو دیکھا کہ ہماری سکول فیس تو صرف سینتالیس ہزار ین ہے، یعنی ہر ماہ تین ہزار ین سروس چارج ہم دے رہے ہیں۔


اگلے ماہ ہم نے دودن پہلے ہی فیس جمع کروا دی اور ان کے مانگنے پر بتا دیا کہ ہم نےتو فیس دے دی ہے۔


اور ساتھ میں ہی پوچھ لیا بھائی جان ہر ماہ ہمیں تین ہزار ین واپس کیوں نہیں کئے؟


جناب یہ بندہ خاص تھے ،ہم جیسوں سے مات کیسے کھاتے ۔۔صاف صاف کہہ دیا کہ میں تو ہر ماہ تجھے تین ہزارین واپس دے دیتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


اب میں ثبوت کہاں سے دیتا اور کس کو دیتا؟


اور میرا مقابل بندہ تھا بھی خاص بندہ جس کی اچھائی اور ایمانداری کی گواہی بھائی جان سے لیکر چمچہ گیرحضرات اور بھولے بھالے حضرات بھی دیتے تھے،


مرتا کیا نا کرتا خاموش ہو گیا،، اس ڈیرہ بازی نظام میں رہ کر ہماری بچت کی وجوہات صرف دو تھیں، ایک ہمارے پاس ویزے کا ہونا اور دوسرا ہمارے بڑے بھائی کا جاپان میں ہونا جن کی سلام دعا لوگوں سے اچھی تھی۔۔۔۔۔۔ورنہ ننھی منی جان اور خودسری۔۔۔۔۔۔۔ نتیجہ صاف ظاہر تھا۔


اس کے بعد ابھی تک جاپان میں رہتے ہوئے ہم نے یہی دیکھا ہے کہ اگر دوستیاں پالنی ہیں یا پاکستانیوں سے معاشرت کرنی ہے تو کسی ایک گروہ میں شامل ہونا پڑے گا۔۔۔گروہ میں شامل ہونے کے بعد خاص بندہ بننا پڑے گا یا پھر لوگوں کیلئے فائدہ مند بننا پڑے گا کہ ہر کوئی آپ کا خاص بندہ بننے کی کوشش کرے۔


اگر یہ نہیں کر سکتے تو سب کی چمچہ گیری کرکے ہاں میں ہاں ملانی پڑے گی۔


یہ کام ہمارے بس کے نہیں اس لئے ہم نے مخصوص سی دوستیاں رکھی ہوئی ہیں۔چند دوست ہیں لیکن سب مخلص،


میں تو یہی محسوس کرتا ہوں ،کہ ہم پاکستانیوں میں گروہ بندی، شخصیت پرستی کے جراثیم حد سے زیادہ ہیں۔مذہبی رحجان رکھنے والوں کا بھی یہی حال ہے ،سیاسی ، معاشرتی معاملات کا بھی یہی حال ہے،


اور سارے ہی ان خاص بندوں کے ہاتھوں کھلونا بنے ہوئے ہیں۔۔۔۔۔جو خاص بندے نہیں ہیں ،وہ عدم تحفظ کے احساس کا شکار ہونے کی وجہ سے کسی بھی مذہبی ، سیاسی ، معاشرتی گروہ کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔۔۔۔۔


۔جو ایسے گروہ کا حصہ اپنے مزاج کی وجہ سے نہیں بن پاتا وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اپنا نفع نقصان نہیں سمجھتا۔اور بیوقوف سمجھا جاتا ہے۔


کیا پاکستان کی فوجی اور سیاسی لوگوں کی کرپشن اسی خاص بندے کی وجہ سے نہیں ہے؟۔


۔ہمارے معاشرے کی اخلاقی تباہ حالی اس خاص بندے کی وجہ سے نہیں ہے؟۔۔۔۔۔۔۔۔


۔دیکھنے میں تو یہ خاص بندے نہایت ایماندار اور مخلص ہوتے ہیں۔۔۔۔لیکن کیا وجہ ہے کہ ہمارے ملک ، معاشرے میں کوئی کام بغیر رشوت یا اثر رسوخ کے نہیں ہو پاتا؟؟۔۔ہم مذہبی و معاشی معاملات سے لیکر معاشرتی معاملات میں بھی تباہ حال ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیوں؟


خاص بندہ؟۔۔۔۔۔اور یہی خاص بندہ اثر رسوخ بھی رکھتا ہے اور ایماندار بھی ہوتا ہے۔!!!۔


ایک بات پر میں خاور سے بھی متفق ہوں کہ ہم پاکستانیوں کی زیادہ تعداد اچھے لوگوں کی ہی ہے۔۔۔ہیں جی

خاص بندہ خاص بندہ Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 3:32 PM Rating: 5

2 تبصرے:

عادل کہا...

واہ! معسومیت کی ایسے لوگ کمر توڈ دیتے ہیں۔ کبھی جہالت کا فائدہ اٹھا کر اور کبھی یارانے میں پھسا کر۔ مجھے آج تک یہ سمجھ نہیں آئ کے اس طرح کے لوگ اپنے ضمیر کی ملامت کو کیسے برداشت کرتے ہیں۔ مجبوری کے تحت کسی سے زیادتی کرنے اور جان بوجھ کر کسی کی بیچارگی کا فائدہ اٹھانے میں بہت فرق ہوتا ہے۔

انکل ٹام کہا...

ایسے لوگوں کو ضمیر ہوتا نہیں جی ، مر چکا ہوتا ہے ۔ اور انکو خود بھی اسکی تاریخ وفات یاد نی ہوتی

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.