تعویذ

عموماً دیکھنے میں آتا ہے ، کہ سادہ لوح لوگ  کسی پیر صاحب کے آستانے پہ جاتے ہیں اور نہایت فخر سے

بتاتے ہیں کہ ان کے من کی مراد بھر آئی ، ان سادہ لوح لوگوں میں صرف انپڑھ جاہل ہی نہیں ہوتے دیکھنے میں نہایت ذہین فطین اعلی تعلیم یافتہ کامیاب زندگی گذارنے والے بھی ہوتے ہیں۔

 

آجکل کم نظر آتے ہیں لیکن کچھ عرصہ پہلے تک بڑھے بڑھے تعویذ  چمڑے میں سی کرگلے میں لٹکائے لوگ عام ہوتے تھے۔۔ یا شاید میں نے ایسے لوگوں کو دیکھنا چھوڑ دیا۔

 

ہم لمبا عرصہ پردیس میں رہنے والے جنم بھومی  کو واپس پلٹ کر جانے کے خواب آنکھوں  بسائے ہوئے لوگ ہیں۔۔۔عرصہ ہوا یہ خواب دیکھنا چھوڑ دیا۔۔۔۔۔جس جگہ سے اللہ تعالی رزق عطا کر رہے ہیں۔  اس جگہ  پر صبر شکر کرکے بسنا شروع ہو گئے ہیں۔

 

لیکن دل میں کہیں بھولی بسری شمع بعض اوقات ٹمٹماتی ہے۔۔ایک معصوم سی خواہش دل میں اٹھتی ہے کہ

بڑھاپا ہی سہی اپنے دیس میں گذرے اور کچھ نا سہی مزار ہی دیس میں مل جائے۔

 

آجکل تحریک انصاف کے انقلاب کا چرچا ہے۔۔۔لیکن نا جانے کیوں امیدیں باندھنے کو دل راضی نہیں ہوتا۔

جاوید ہاشمی قابل عزت بندے ہیں۔۔۔ان کی شمولیت کے بعد تحریک انصاف سے کچھ امیدیں وابستہ ہو گئی ہیں۔

 

لیکن 25 دسمبر کراچی کے جلسے میں شاہ محمود قریشی کی تقریر سن کر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔معافی۔۔۔۔۔کیا اداکار ہے جی۔۔۔۔تقریر دیکھ کر

 ہنسی آئی۔۔یہ شاہ صاحب مشرف شاہ کے بھی خاص بندے تھے۔۔۔باس بدل کر زرداری شاہ صاحب کے بندے

بن گئے۔۔۔

وزارت خارجہ کی کرسی چھوڑنے کا کہا گیا تو استعفی دے کر باعزت بری ہو گئے۔۔۔۔حکومت کے بیان کچھ اور تھے اور شاہ صاحب کے اخباری بیانات کچھ اور۔

 

یہی کراچی تھا جب چیف جسٹس صاحب کی آمد پر 42 بندے پھڑکا دیئے گئے تھے۔ اور عمران خان کو ائیر پورٹ سے دیس بدر کر دیا گیا تھا۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ جوان و نوجوان طبقہ پڑھا لکھا اور انپڑھ سب بہتری کی تبدیلی چاھتے ہیں۔۔۔

لیکن جسطرح کے بندے اس تحریک میں شامل ہو رہے ہیں۔۔اور جن کے متعلق کہا جاتا ہے یہ کرپٹ نہیں ہیں۔

کرپشن صرف مال ودولت کی ہی نہیں ہوتی کرپشن اپنے اختیارات اپنی طاقت کو غیر اصولی اور اور غیر اخلاقی طریقوں سے قائم رکھنا بھی کرپشن ہی ہے۔

ہم لوگ جو بار بار حکمرانوں بدلتا دیکھ چکے ہیں۔۔ہر بار بہتری کے وعدہ کاتعویذ گلے میں لٹکا چکے ہیں۔

ایوب ، بھٹو ، ضیا ، نواز شریف ، بینظر ،مشرف ، زرداری ۔۔۔سب انقلابی تعویذ ہی تھے۔

اس دفعہ کے انقلاب کو گریٹ گیم سمجھنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

عمران خان ہمارا ہیرو ہے۔۔ہمیں ڈر لگتا ہے کہ ہمارے ہیرو کو زیرو نا کر دیا جائے۔۔بعد کی نسلیں کتابوں میں پڑھ رہی ہوں ۔کہ ایک بار ہیرو نے فرمایا تھا۔ میری جیب میں چند کھوٹے سکے ہیں۔

 

 تحریک انصاف کے کارکنوں اور شیدائیوں سے یہی گذارش ہے ،اگر ملک کی بہتری کی خواہش ہے تو شخصیت پرستی کی انتہا پر نا جائیں۔۔۔بلکہ ابھی سے دلوں کو مضبوط کر لیں کہ انقلاب  کمزور دلوں اور  چھچھوروں کے بس کا نہیں۔

 

صرف جذباتیت ہی سے قوم و ملک میں تبدیلی نہیں آتی جب تک ہوش اور قوت برداشت نا ہو۔۔۔

پیر صاحب کا تعویذ گلے میں لٹکا کر ڈاکٹر کے پاس تو جانا ہی پڑتا ہے۔
تعویذ تعویذ Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 11:41 AM Rating: 5

2 تبصرے:

ضاءالحسن خان کہا...

ٍفیر آجاو تسی اور اکھاڑ لو جو اکھاڑنا ہے :) کچھ ملے نا ملے مگر مزار تہانوں ضرور ملنا ایتھے :(

سعد کہا...

تعویذ پر دنیا قائم ہے۔

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.