بھڑاس














ہرتاجر گروہ اپنی پروڈکٹ نہایت پر جوش انداز میں بیچتا ہے۔ پروڈکٹ کی فروخت کے بعد کسٹمر سروس ہوتی ہے۔۔

اگر پروڈکٹ بنانے والی کمپنی اچھی اور ایماندار ہے تونفع و نقصان کا حساب کرکے اشیا بیچنے کے بعد کی دیکھ بھال کا بندوبست کر لیتی ہے۔

 

ایک بارخرید نے کے بعد کوئی چیز ہمیں پسند آتی ہے اور بنانے والی کمپنی سے مطمعین ہوتے ہیں تودوبارہ ضرورت کے وقت اسی کمپنی کی بنائی ہوئی چیز خریدنے کی کوشش کرتے ہیں۔

 

 

 کمپنی کا معیار تو لازمی شے ہے۔لیکن خریدار کی پسند  بھی ہوتی ہے۔کسی کو کچھ پسند ہوتا ہے اور کسی کو کچھ۔۔

خریدار کو ایک شے پسند ہے تو اس پر اپنی پسند کی شے مسلط نہیں کی جاسکتی۔۔زبردستی کی جائے تو خریدار بھاگ جائے گا۔دھونس دھمکی سے سے بیچنا تو نہیں ہوتا بد معاشی ہوتی ہے۔

 

 

ہمارے یہاں جاپان میں عموماً کچھ لوگ گھر گھر گھومتے ہیں۔کوئی ان کی بات سن لے تو ٹھیک ہے ورنہ چند پرنٹ شدہ صفحات تھما کر شکریہ ادا کر کےسر جھکا کر اگلا دروازہ کٹھکٹھانا شروع ہو جاتے ہیں۔

 

کبھی ان سے بد تمیزی نہیں کی جب بھی آئے اگر وقت ہوا تو ان کی بات سن لیتا ہوں۔اگر وقت نہیں تو ان سے معذرت کرلیتا ہوں تو یہ لوگ خوش خوش آگے نکل جاتے ہیں۔

 

 

 جاپانیوں کی اکثریت بدھ مذہب کی ہے، ان میں بھی مختلف فرقے ہیں۔ہر ٹیپمل کا اپنا ہی انداز دوکانداری ہے،مرید ٹیمپل میں جاتے ہیں چندے کے ڈبے میں پیسے ڈالتے ہیں تالی بجا کے ہاتھ جوڑ کے اپنی منت مانگ لیتے ہیں۔

انہی ٹیمپل میں تعویز نما ٹوٹکے بھی بیچے جاتے ہیں۔

 

جیب میں ڈال لیں یا گھر ، گاڑی میں رکھ لیں بلاوں اور مصائیب سے بچت ہو جاتی ہے۔

 

 

ان بدھ مذہب کی عبادت گاہوں یا بتوں کے مزار پر چرسی موالی نہیں ہوتے(بس شرابی دو گھونٹ پی کر آتے ہیں)  اور ناہی ان عبادت گاہوں کے بھکشو اپنے مسلک کو حق پر ثابت کرنے کیلئے گلے پھاڑ کر ایک دوسرے پر چڑھ دوڑتے ہیں۔

 

یہاں پر عیسائی بھی بستے ہیں ، بدھسٹ بھی اور نا جانے کیسے کیسے ڈرامائی مذہب والے بھی ہیں، ہم مسلمان بھی بستے ہیں۔ سارے اپنی مذہبی رسومات مناتے ہیں۔چندے جمع کرتے ہیں۔پاددری، بھکشو ، مولوی یا کسی اور قسم کا مذہبی رہنما اپنے کام میں لگا رہتا ہے۔

 

اس معاشرے کی ایک بات جو مجھے اچھی لگتی ہے۔وہ یہ ہے کہ ہر کوئی اپنے مذہب پر چلتا ہے اور دوسرے کے مذہب یا دوسرے مذہب کے پیرو کاروں پر حملے نہیں کرتا۔ ہر کسی کواپنے عقیدے کے مطابق پوجا پاٹ کرنے کی آزادی ہے۔ اڑوس پڑوس والوں یا معاشرے میں انتشار پھیلانے والا کوئی مذہبی میلہ یا اجتماع نا ہو تو  امن وامان قائم رکھنے والے ادارے کسی بھی مذہب کے ماننے والوں کو تنگ نہیں کرتے

 

اسلام کے پیروکاروں کی حالت دیکھتے ہیں تو ہر کوئی حق پر اور سچا ہوتا ہے۔محرم کے دنوں میں سیکورٹی کیلئے کروڑوں روپے لگتے ہوں گے۔پھر خطرہ کہ نا جانے کب کیا ہو جائے۔ لیکن جلسے جلوس مجالس ماتمی پریڈ چھوڑی نہیں جا سکتی کہ یہ اسلام کا لازمی حصہ ہے(ہوتا ہے جی)

 

کچھ دنوں بعد عید میلاد النبی کا جلوس بھی نکالا جائے گا۔۔۔(ضرور نکلے گا جی)۔۔اس کیلئے بھی سیکورٹی چاھئے ہو گی۔۔۔دوسرے ممالک کا نہیں پتہ پاکستان میں  اور پاکستانی عوام باجماعت نماز کیلئے اگر  مسجد جائے تو ضرور دیکھتے ہیں کہ کونسے برانڈ کے پیکیج کے اسلام کی مسجد ہے۔

 

 جب بھی میں نے کوئی متقی پرہیز گار مسلمان دیکھا  وہ ہر حال میں کسی نا کسی برانڈ کا ہی نکلا۔سوشل نیٹ ورک پر یا انٹر نیٹ کی مختلف سائیٹ پر جتنا میں نے اسلامی مذہبی مواد دیکھا آخر کار کسی نا کسی برانڈ کا ہی نکلا۔

ہر کوئی دلائل سے ثابت کر ہی دیتا ہے کہ وہ ہی سچا اور حق پر ہے۔

 

اگر بات حق اور سچ تک ہی رہے تو ٹھیک ہے۔لیکن ایک طرف بدعتی ، مشرک کا نعرہ ہوتا ہے تو دوسری طرف گمراہ ، گستاخِ رسول کانعرہ ہوتا ہے۔۔۔ایک فرقہ کافر ہے تو دوسرا نواسے رسول کے قاتل۔۔۔۔۔ہر کوئی پکا جہنمی۔۔۔۔۔۔

 

 

سارے ہی اپنے اپنے مردے دعاوں اور ختمِ قرآن سے ہی بخشوا رہے ہوتے ہیں۔۔سارے ایک اللہ ہی کو راضی کرنے پر لگے ہوئے ہیں، اپنا اللہ راضی کرنے کے چکر میں ہر دوسرے کو ناراض رکھنا فرض سمجھتے ہیں۔ ۔سیاست کا حال بھی یہی ہے ہر سیاسی جماعت مخلص محب وطن عوام کی بے لوث خدمت کا دعوی کرتی ہے اور ہر جماعت پر کرپشن اقربا پروری کا الزام ثابت ہو ہی جاتا ہے۔

 

 

لاہور کی سنہری مسجد کے مولوی صاحب نے امریکی سفیر سے ساٹھ لاکھ کا چندہ وصول کرتے وقت یہ نہیں دیکھا ہو گا کہ یہ مالِ حرام ہے یا حلال۔۔۔۔۔۔ ناہی دیکھا ہوگا کہ کس مسلک اور کس مذہب والے نے دیا۔ یہ چندہ بھی مولوی صاحب نے شہدا کے درجات بلند ہونے کی دعا کرنے کے بعد وصول کیا ہوگا یا وصول کرنے کے بعد دعا ؟ ۔۔۔۔۔

 انہی مولوی صاحب سے پوچھ لیا جائے ، جناب سود کی کمائی کیسی ہے؟۔۔۔۔۔چندہ دینے تک ٹھیک ہے  باقی حرام!!

 

جس طرح عوام کی زندگی کٹھن ہے اس طرح مذہب بھی اس عوام کیلئے کٹھن بنا دیا گیا ہے۔مذہب جو انسانوں کی زندگی میں امن و سکون کیلئے ہوتا ہے  پاکستانی عوام کیلئے وجہ فساد بن چکا ہے۔

 

 

یہ عوام کبھی سیاسی دوکاندار کے ہاتھوں بیوقوف بن رہے ہوتے ہیں تو کبھی مذہبی دوکاندار کے ہاتھوں ،تریسٹھ سال میں کوئی ایک حکمران بھی ایسا آیا جو کہتا ہو۔ وہ ملک و قوم کا غدار ہے؟ جو کہتا ہو وہ کرپشن کررہا ہے یا اقربا پروری کر رہا ہے؟

 

سارے ہی اچھے سچے کھرے حق پر ہی تھے۔ تریسٹھ سال میں کوئی اچھائی عوام کو ملی؟ کوئی تبدیلی آئی؟ زندگی پہلے کی نسسبت آسان ہوئی؟ روزگار کیلئے اب غیر ممالک جانے کی ضرورت نہیں؟

مسلکی لڑائی میں کسی کی جیت ہوئی ؟

 

اب انقلاب کی خواہش ہو رہی ہے۔زرداری صاحب کو بیمار کر کے دبئی بھیج دیا گیا۔شاید واپسی کی ضد کریں تو لٹکا دیئے جائیں۔۔اسی طرح کبھی سیاسی و مذہبی رہنماوں کے ہاتھوں تماشہ بننا ہے تو کبھی بیرونی طاقتوں کی خاطر بیوقوف بننا ہے ، دیسی  مذہبی و سیاسی دوکانداروں  کو آزمایا جا چکا ہے۔۔

 

ایک طرف مذہبی دوکاندار دوسری طرف سیاسی دوکاندار، باقی جھوٹے فراڈیئے(سیکولر ، لبرل ، قادیانی وغیرہ) جن کے ہاتھوں ایک دوسرے کی زندگی اجیرن ہے تو یہ ملک کافروں کو دے کر غلامی قبول کر لینی چاھئے کم از کم انسانیت کو کچھ تو سکون ملے گا۔۔۔

نعرہ لگاو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

امریکہ و برطانیہ آوے ہی آوے!!!!!۔

جو امریکہ و برطانیہ کا غدار ہے موت کا حق دار!!۔ 




 
بھڑاس بھڑاس Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 4:20 PM Rating: 5

6 تبصرے:

سعد کہا...

جہاں قانون کی حکمرانی ہو وہاں امن ہوتا ہے ورنہ وہی ہوتا ہے جو پاکستان میں ہو رہا ہے۔

علی کہا...

حق ہے سچ ہے

ڈاکٹر افتخار راجہ کہا...

یہ سارا لومڑ پروگرام ہے جی، دیکھتے رہتے ہیں اگر شکار آسان ہوا تو پکڑلیا نہیں تو چکمہ دے کر نکل لئے۔
آپ نے میرے دل کا حال بیان کردیا

ابو عبد اللہ کہا...

واہ جی واہ یاسر بھائی کمال اے- لگ دا اے آپ کو بھی برانڈ مل جانا ہے زرا آہیں تو پاکستان :)

ڈاکٹر جواد احمد خان کہا...

جیسا کہ سب نے کہا کہ جہاں قانون کی حکمرانی نہیں ہوتی وہاں وہی کچھ ہوتا ہے جو پاکستان میں ہو رہا ہے۔
اور اس بات سے بھی سو فیصد متفق ہوں کہ پہلے وقتوں میں دین کی بات خدا کو راضی کرنے اور جنت کے حصول کے لیے ہوتی تھی اب بلا استثناء تسلط، غلبہ اور دنیا کے حصول کے لیے ہو رہی ہے۔
لیکن ان سب باتوں پر اتفاق کے باوجود آپ برا نا مانیے تو ایک بات کروں۔ دین کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکمل کر دیا ہے اب اگر کوئی شخص ، گروہ یا جماعت اس میں اضافہ یا نئی بات کی بات کرے تو ایسے شخص، گروہ اور جماعت کی حقارت ،اس سے نفرت اور بیزاری کا کھلم کھلا اظہار ضروری ہے۔ صحیح العقیدہ کی مذمت اسکے عقیدے کی بنیاد پر نہیں کی جانی چاہیے بلکہ اسکے اندر موجود دنیا کی طلب پر کی جانی چاہیے۔
والسلام

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

جواد بھائی سچ کہا حق کہا۔۔
اور میں دنیا کی طلب کرنے والوں ہی کی مذمت کرتا ہوں۔

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.