گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے شیر کا ایک دن بہتر

جس جگہ ہماری زندگی بسر ہو رہی ہو۔اور ہوں بھی ہم شریف لوگ۔۔وہاں پر ایک دو کن ٹٹے یعنی بدمعاش بھی رہتے ہوں۔ہماری پہلی کوشش تو یہی ہوتی ہے کہ ہم ان سے بچ کے ہی رہیں۔۔جس رستے یہ لوگ ملیں اس رستے سے کنی کترا کر گذریں۔ہر طرح سے بچنے کے باوجود پھر بھی ان کے ہتھے چڑھ جائیں تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔


کوئی بہت ہی شریف یا میری طرح کمزور سا بندہ ہو گا تو منت سماجت کرکے جان چھڑانے کی کوشش کرے گا یا بھاگ کر جان بچا ئے گا۔۔۔۔لیکن کب تک؟


شریروں کے شر سے بچنا آسان کام نہیں ہے۔اگر وقتی طور پر ان سے دوستی کر لی جائے تو بھی ان کے شر سے بچنا مشکل ہے۔۔۔۔بات وہی گھسی پٹی ہے کہ بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی؟


اگر بندہ کچھ ہمت کرکے ان بدمعاشوں سے ہاتھ پنگا کر لے تو ہڈی پسلی ایک دو بار ہی ٹوٹے گی لیکن ہمارا تجربہ ہے کہ یہ کن ٹٹے بھی ایسے بندے سے کچھ محتاط ہو جائیں گے۔۔۔بلکہ بچ کر ہی گذریں گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہیں جی


اگر بندہ ہتھ پنگے سے بچنے کیلئے ان کن ٹٹوں سے دوستی گانٹھ لیتا ہے۔۔تو اس کا نقصان یہ ہوگا کہ لوگ بھی ان جیسا ہی سمجھیں گے۔۔اور کوئی بھی شریف النفس آدمی دوسروں کی نظر میں گرنا پسند نہیں کرتا۔


ذہنی و فکری طور پر پست لوگ دوستوں اور دشمنوں کیلئے یکساں نقصان دہ ہوتے ہیں۔ اگر پہلے ہی ہتھ پنگا کرکے ایک دو پسلیاں تڑوانے کی ہمت کر لی ہوتی تو۔۔۔۔۔


یہ روز روز کے ڈرون حملے روز روز کا ہیجڑوں جیسا احتجاج کرنے کی ضرورت نا ہوتی۔۔۔۔۔عام انسان ڈرون حملوں میں مرتے ہیں تو چند لوگوں کو دہشت گرد کہہ کر اور کچھ ایویں ہی مارے گئے کہہ کر جان چھڑا لی جاتی ہے۔۔۔


آج فوج کے بیس تیس بندے ہلاک کر دیئے گئے تو ہنگامہ کائے کا؟۔۔۔۔۔کسی نئی بات پر شور مچائیں۔۔


نیٹو کی سپلائی معطل کردی!!!!۔۔۔۔۔۔کب تک ؟۔۔۔کچھ لے دے کر دوبارہ شروع ہوجائے گی۔۔۔


اتنے غیرت والے اور موت کو للکارنے والے ہوتے تو اتنے ذلیل و خوار نہیں ہو رہے ہوتے۔۔۔۔۔۔۔


نیچوں کے ساتھ دوستیاں پالنے والے بھی نیچ ہی ہوتے ہیں۔۔۔نیچوں سے اچھائی کی امید رکھنے والے نیچوں سے بھی گھٹیا ہوتے ہیں۔


ہماری جنگ ہماری جنگ ۔۔۔۔اور مدد بھی انہی سے مانگی جاتی ہے۔۔جس پتھر کے دور میں جا بسنے کا خوف تھا۔۔۔اس دور میں تو عوام پہلے بھی بستے تھے اور اب بھی بس رہے ہے۔۔۔جنہیں پتھر کے دور کا ڈر تھا وہ پہلے بھی نہیں بستے تھے اور اب بھی نہیں بستے۔


نیچاں دیاں اشنائیاں کولوں فیض کسی نا پایا


انگور ککر چڑھایا ، ہر پھل زخمایا

گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے شیر کا ایک دن بہتر گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے شیر کا ایک دن بہتر Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 12:09 AM Rating: 5

16 تبصرے:

درویش خُراسانی کہا...

نیچوں کے ساتھ دوستیاں پالنے والے بھی نیچ ہی ہوتے ہیں
.
.
ٹھیک کہا ہے۔تحریر اچھی ہے

علی کہا...

میرا ایک دوست کہتا ہے یار اس سے تو اچھا ہے امریکہ پاکستان پر قبضہ ہی کر لے کم از کم ہمیں پاسپورٹ تو امریکی مل جائے گا اب ہر کام ویسے ہی انکی مرضی سے ہو رہا ہے اور خواری الگ۔ آپ تو باہر رہتے ہیں آپ تو جانتے ہی ہوں گے عربی جو سب کے سب نو گیارہ میں ملوث بتائے گے وہ مومن ہو گئے افغانی ویسے ہی بیچارے ہیں بس دہشت گرد ہیں تو پاکستانی،۔
پر حضور اتنا غصہ ٹھیک نہیں یہ تو روز روز کا تماشا ہے۔پیاز بھی کھانے پڑیں گے اور جوتے تو ویسے ہی کھا رہے ہیں۔

عبدالقدوس کہا...

تصیح کرلیں
ہرگھچا زخمایا

ویسے ہمارے لوگ کسی کمی سے کم نہی ان کے لئے ایک اور پنجابی کی مثال ہے کہ

کی سانڈو دا ساک
تے کی کمی دا ویر

امریکہ کو بھی پتا ہے کہ کمی ہے جتنا مرضی غصہ کرلے ایک بار جھڑکنا ہے تو یہ فورا تلوے چانٹنے شروع کردے گا
ہمارے ایک دوست ہے وہ ایسے عمل کو کُتے لاڈیاں کرنا کہتے ہیں

ڈاکٹر افتخار راجہ کہا...

جب سب کچھ پنجابی محاورے سے ہی ثابت کرنا ہے تو فیر سنو
کمی دی کی دوستی تے سانڈو دا کی ساک
کتا ندی نہوایا کدی نہ ہویا پاک
یہ کوئی عام بندہ نہیں میاں محمد بخش صاحب رحمتہ اللہ کہہ گئے ہیں، جہاں زندگی کی بہت سی تلخیوں کو عام سے ا؛لفاظ میں بیان کرگئے ہیں وہیں یہ بھی بہت سے جگہوں پر فٹ ہوتا ہے۔
اوپر بیان کیے دو نوں اشعار کو بھی ساتھ ملا لیا جائے تو صورت حال واضع ہوجاتی ہے۔ مجھے بابا رحمت کی وہ کہانی یاد آتی ہے جس میں بنگالی ہر تھپڑ کھانے کے بعد کہتا کہ اب کے مار کے دکھا۔۔۔۔۔ لگتا ہے ہم نے بھی اپنے بنگالی بھائیوں سے اور کچھ نہیں یہ والا بات ضرور سیکھ لی ہے بلکہ پلے باندھ لی ہے

منیر عباسی کہا...

یہ سب تو ٹھیک ہے مگر آج 27 نومبر کےجنگ میں ایک خبر شائع ہوئی ہے جس میں وزیر خزانہ نے کہا ہے کہ سخت قدم نہ اٹھایا جائے ، اور کوئی رد عمل دکھا نے سے پہلے نتائج پہ غور کر لیں.

http://ejang.jang.com.pk/11-27-2011/Karachi/images/4255.gif

آپ جذباتی لوگوں نے سب کا بیڑہ غرق کر دینا ہے.

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

نیچوں نے پھر مصالحت اختیار کر لینی ہے۔۔۔ان کی دانشوری پیٹ سے شروع اور پیٹ پر ختم ہوتی ہے۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

علی صاحب غصہ کہاں جناب۔۔۔۔۔۔۔بس احساس ذلت ہے۔۔۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

تصیح کا شکریہ۔
جھڑک سے تلوے نا چاٹے تو مال دکھانے پر چاٹ لیں گے۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

جناب ڈاکٹر صاحب
بنگالی بھائیوں میں مار کھانے کی ہمت تھی یہ بیغرت تو مار کھانے سے پہلے ہی۔۔۔۔۔۔۔۔اتار کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

خیر ہے ڈاکٹر صاحب ۔۔۔۔۔ہمارے جذبات کی گیس بھی بھوک نے نکال دینی ہے۔

وقاراعظم کہا...

او غضب کرتے ہو پیر صیب آپ بھی شیر کی ایک دن کی زندگی؟ اوجی زندگی کی رنگینیوں کے لیے ہی تو گردنیں جھکاتے ہیں اور آپ انہیں کتنا خطرناک مشورہ دے رہے ہو جی۔ پر کچھ بھی ہو، ہونا وہی ہے جو ہوتا آیا ہے۔۔۔

اٹھے گا خنجر نہ تلوار ان سے------ یہ بازرو میرے آزمائے ہوئے ہیں

افتخار اجمل بھوپال کہا...

کيا ياد کراديا مجھے اور آنسوؤں کا سيلاب اُمڈ آيا ۔ ايک وقت تھا سن 1947ء جب مسلمانوں کے ايک گھر کا محاصرہ کرتے ہوئے مسلحہ سِکھوں نے کہا "يا کڑا پہن لو يعنی سکھ ہو جاؤ يا مرنے کيلئے تيار ہو جاؤ"۔ والدين کو پيچھے ہٹا کر جوان بيٹا آگے بڑا اور للکارا "لاؤ اپنی بہن کی ڈولی اور پھر پہناؤ مجھے کڑا"۔ اورعقاب کی طرح ايک سکھ پر جھپٹ کر اُس کا نيزہ چھين کر پہلے وار ميں اُسی کو ہلاک کيا اور پھر باقی 5 کو"۔ سکھ تو ختم ہو گئے مگر وہ جوان بھی اپنے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اللہ کو پيارا ہوا
کہاں گئے وہ مسلمان ؟

عبدالقدوس کہا...

جنگ اخبار میں معاوضے کا تقاضا بھی چھپ گیا ہے

عبدالقدوس کہا...

وہ مسلمان تو اسی وقت مرگیا تھا.
آجکل یوٹیوب پر ایک سکھ کی مسلمانوں کے لئے بستی والی تقریر عام دیکھی جاسکتی ہے

سعد کہا...

نیچ؟ نیچ تو ہم ہیں وہ نہیں۔

محمد یاسرعلی کہا...

ہمیں نہ تو امریکہ سے گلہ ہے اور نہ ہی بے غیرت حکمرانوں سے ہم کو گلہ ہے تو اپنے آپ سے جنہوں نے اب کے بھی انہی بے غیرتوں کو ووٹ دینا ہے۔

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.