امتحان

ماں باپ نالائق بچے کی بے ڈھنگی محنت دیکھتے ہیں مگر بچہ باربار ایک ہی کلاس میں فیل ہو جاتا ہے۔ماں باپ تنگ آکر بچے کو سکول سے نہیں اٹھاتے کہ شاید اگلے امتحان میں پاس ہی ہو جائے۔بچے کو سبق پڑھایا جاتا ہے ٹرائی ٹرائی اگین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،ساتھ میں مکڑی کا جالا بننے والی انگریزی کی کہا نی بھی پڑھائی جاتی ہے مکڑی جالا بناتے بناتے نیچے گرتی ہے اور پھر دوبارہ چڑھ کر جالا بننا شروع ہو جاتی ہے،


ہم نے شاید یہ کہانی نویں دسویں کی انگریزی کی کتاب میں پڑھی تھی۔ اس مکڑی کو دیکھ کرنپولین نے سبق حاصل کیا اور دوبارہ کشتوں کے پشتے لگانے نکل کھڑا ہوا تھا۔ ایک بچے کی نالائقی دیکھتے ہوئے ماں باپ دوسرے بچوں کو امتحان دینے سے نہیں روکتے کہ امید ہوتی ہے ،کہ دوسرے لائق ہوں گے۔


پاکستانی قوم ٹرائی ٹرائی اگین کرتے ہوئے امتحانات سے گذرتی آئی ہے،قائد اعظم کے بعد کا امتحان ، یحیی خان امتحان ، ایوبی امتحان ، بھٹو امتحان ،ضیا امتحان ، بے نظیر ، نواز ، مشرف امتحان ، اور اب بھگت رہی ہے زرداری امتحان۔ یہ سارے انقلابی نعروں والے امتحان تھے۔۔سارے انقلاب گندی نالی کی نظر ہو گئے۔


 دیکھا جائے تو ان سارے امتحانوں میں پاکستانی قوم فیل ہو چکی ہے۔اگلے امتحان میں بیٹھنا ہے کہ نہیں ،امید باندھنی ہے کہ نہیں اس کا فیصلہ اب پاکستانیوں کے ہاتھ میں ہے۔تبدیلی کی خواہش تو ہر کسی کی ہے۔


اگلا امتحان عمرانی ہے۔اس میں بھی بیٹھ کر دیکھ لینا چاھئے ،شاید کامیاب ہو ہی جائیں۔۔امتحان سے زیادہ پاکستان کا مسئلہ نظام کا ہے ،جو پاکستان میں کہیں نظر نہیں آتا۔جو لیڈر زبانی کلامی وعدوں کے بجائے نظام دے گا وہ ہی پاکستانیوں کا حقیقی محسن ہوگا۔


ہمارے ایک دوست ہیں دولت خان پاکستان کی پولیس کے بھگوڑے ہیں یعنی کرپٹ نظام میں اپنی جگہ نا بنا سکے ۔جگہ بنانے والے ہو تے تو اعلی تعلیم یافتہ اور پولیس میں اچھی پوسٹ پر ہونے کے باوجود سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر جاپان میں آکر مزدوری نا کر رہے ہوتے۔


دولت خان نے ایک قصہ سنایا کہ ایک بار تفتیش کے سلسلے میں پشاور جانا ہوا تو سب مسجد کے سامنے بیٹھے ہوئے تھے۔نماز کھڑی ہوئی تو ایک تھانیدار صاحب اٹھے منہ کی نسوار پھینکی   دوڑتے دوڑتے جاکر نماز پڑھ کر آگئے۔


دیکھنے والے سب ہنسے اور کہا خان صاحب ہاتھ دھویا نا منہ دھویا کم از کم کلی تو کر لیتے کچھ بھی نہیں دھویا اور نماز پڑھ کر آگئے۔۔۔


خان صاحب نے اپنے انداز میں کہا۔


ماڑا امتحان دے آیا اے،پاس ہوتا ہے یا فیل رزلٹ آنے پہ دیکھے گا۔


تم بیٹھا رہا اور  امتحان ہی نہیں دیا تم کیوں ہنستا ہے۔


ایک بار عمرانی امتحان بھی دے لیتے ہیں۔۔۔۔شاید پاس ہی ہو جائیں۔۔۔ہیں جی


پاس نہ بھی ہوئے تو کونسا ہمارا جو نقصان ہو رہا ہے اسے روک لیں گے؟


بے وضو کی نماز ہی سہی ،ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے  رہنے سے پڑھ لینا ہی بہتر ہے۔


چلو ماڑا ایک اور امتحان دے لیتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔


یہ تو آپ کو معلوم ہی ہے۔


جو نشہ نسوار میں ہے۔۔۔۔ہیں جی

امتحان امتحان Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 5:19 PM Rating: 5

6 تبصرے:

ھارون اعظم کہا...

جو قوم بغیر تیاری کے امتحان میں بیٹھتی ہے، وہ پاکستانی قوم کی طرح فیل ہوتی ہے۔ بغیر محنت اور مقصد کے کوئی بھی کامیاب نہیں ہوتا۔

سعد کہا...

جو نشہ نسوار میں ہے ۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

ایک اور امتحان سہی جی

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

سعد چسکا تو چسکا ہوتا ہے چھوڑے نا چھٹے

علی کہا...

بہت عمدہ۔ بہت خوب۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

شکریہ علی صاحب

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.