سخت جان دشمن

پاکستان کی سیاست کا دنگل شروع ہو گیا۔۔سیاسی کارکن اور سیاسی لیڈر ایک دوسرے کی جماعت اور جماعتی تاحیات مالکانہ حقوق کے لیڈر حضرات کی کردار کشی کا کام شروع کر چکے ہیں۔
کوئی کہتا ہے کہ فلاں امریکا کا ایجنٹ ہے کوئی برطانیہ کا اور کوئی یہود وہنود کا۔۔۔یا پھر لٹیرے حرام کھانے والے ،ملک دشمن وغیرہ وغیرہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔باقی جو بچتے ہیں وہ طالبان کے ایجنٹ ۔نہیں تو مذہبی انتہا پسند ۔۔۔۔۔۔۔۔عمران خان تو سابقہ بیوی کی وجہ سے مخالفین کی نظر میں یہودیوں کے ایجنٹ سمجھے جاتے ہیں۔
سارے ہی ایسے ہیں تو عوام کس کھاتے میں آئے گی؟ ظاہر ہے جس لیڈر کی مریدی کر رہے ہیں اس کے پیچھے ہی ہوئے۔

ہم مسلمانوں کے ازلی دشمن یہودیوں کے پاس ایسی کیا طاقت ہے کہ وہ بھولے بھالے مسلمانوں کو سازش کر کے اپنا مفاد حاصل کر لیتے ہیں۔۔۔

میں نے سوچا کہ غیر جانبدارانہ طریقے سے ان یہودیوں کی تاریخ سرسری سے ہی انداز میں دیکھی جائے آخر یہ قوم کیسے جیتی آئی اور ہمیشہ ہر زمانے میں لوگوں کو الو بناتی آئی۔
جاپانی کیوںکہ غیر مسلم ہیں جاپان اور اسرائیل یعنی یہودیوں کے آپس میں کاروباری تعلقات بھی ہیں۔بلکہ کافی قریبی تعلقات ہیں۔

سوچا جاپانی یہودیوں کے بارے میں کیا لکھتے ہیں اور ان کی نظر میں یہودی کیسے ہوتے ہیں۔۔مجھے کافی سے زیادہ تحریریں یہودیوں کی عیاری و مکاری کے متعلق پڑھنے کو ملیں۔ آپ کی تسلی کیلئے یہ بھی بتا دوں کہ یہودیوں کی تعریف والی کوئی جاپانی تحریر میری نظر سے نہیں گذری۔۔۔بلکہ آجکل تو یہ کہا جارہا ہے کہ فکوشیما کا زلزلہ اور تسونامی اسرائیل کے کسی ایٹمی تجربے کی وجہ سے پیدا ہوئے تھے۔

یہودیوں کی تاریخ کو ذرا مختصر اور مختلف انداز میں دیکھیں تو کچھ اسطرح ہے
رومیوں نے جب یروشلم کو فتح کیا تو یہودی یروشلم سے نکلے اور دنیا میں پھیل گئے۔زیادہ تر یہودی تجارت پیشہ تھے اور عیسائیوں کو یہودیوں سے نفرت تھی۔ عیسائی یہودیوں کو تکلیفیں دیتے تھے ،یہودی اپنے گنجان محلوں میں کٹ کر رہتے تھے۔عیسائیوں اور مسلمانوں کا زور تھا۔ ان دونوں مذہب کے پیروکار یہودیوں کو صنعت و حرفت سے روکتے تھے۔

اور یہودی کسی قسم کی زمین نہیں خرید سکتے تھے۔عیسائی اور مسلمان یہودیوں کو تنگ کرتے تھے جس کی وجہ سے یہودیوں کے مشاغل کا دائرہ تنگ ہوکر ان کے گنجان محلوں تک سمٹ گیا۔
طاقتور لوگ یا بادشاہ وغیرہ یہودیوں کو ستاتے اور لوٹتے تھے۔ اس کے باوجود یہ لوگ اپنی دولت اور تجارت سے شہر و قصبے تعمیر کرتے رہےانسانی تمدن و تہذیب کیلئے خدمات انجام دیتے رہے۔یہودی ہمیشہ دوسرے انسانوں کی برادری سے خارج ہی رہے ۔
دنیا میں ہر جگہ یہودی قابل نفرت اور تحقیر کے قابل سمجھے جاتے رہے اور سمجھے جاتے ہیں۔جب بھی کوئی طاقتور ان پر حاوی ہوتا ہے۔یہودیوں کی توہین و تذلیل کرتا ہے۔

اسرائیل کی زبان عبرانی ہے لیکن دنیا مین پھیلے ہوئے یہودیوں کی کوئی مشترک زبان نہین ہے۔ یہودی تقریباً ساری دنیا کے غیر یہودی انسانوں کی نفرت شکار رہے۔ طرح طرح کی تکالیف کا شکار رہے۔
لیکن کیا یہ ایک حیرت ابگیز قوم نہیں ہے۔ کہ انہوں نے اپنی نسلی اور ثقافتی یک رنگی برقرار رکھی ہوئی ہے!۔اپنی روایات اور قدیم رسم و رواج کی نگہداشت کر رہے ہیں۔
دو ہزار سال در در کے دھکے کھانے کے بعد یہ لوگ اپنے وطن واپس پہونچ چکے ہیں اور اپنے نجات دہندہ کا انتظار کر رہے ہیں۔
یہ دو ہزار سال کا پرانا وطن ان لوگوں کے دل سے کبھی نہیں اترا تھا اور ابھی بھی یہ لوگ عظیم تر اسرائیل کا خواب دلوں میں بسائے اپنے لئے نفرت کے پودے کاشت کر رہے ہیں۔
نفرت کی انتہا کا شکار ہونے کے باوجود تکالیف سہنے کے باوجود یہودیوں نے ہر دائرے میں قابل و با صلاحیت آدمی پیدا کئے اور شہرت حاصل کی۔

ہجرت پر مجبور ہونے کے بعد یہودی روس ،پولینڈ یورپ میں جا بسے تو مسلمانوں کے ساتھ اسپین اور پرتگال میں بھی پہونچ گئے۔ ہر جگہ یہودیوں نے ساہوکاری اور تجارت میں امتیازی مقام حاصل کیا۔
فرڈینیڈ نے جب غرناطہ فتح کیا تو مسلمانوں کو اسپین سے خارج کر دیا۔اسی اسپین میں یہودی مسلمانوں کی امان میں خوب پھیلے پھولے اور اس دور کو اپنا سنہری دور گردانتے تھے اور گردانتے ہیں۔
فرڈینینڈ کی یہودیوں کے مال و اسباب پر نظر تھی ۔یہودیوں سے کہا گیا کہ عیسائی ہوجاو یا جلاوطن اور اپنا مال و اسباب ضبط کروانے پر تیار ہوجاو۔
یہودیوں کی اکثریت نے مال و اسباب ضبط کروا کر جلاوطنی اختیار کی۔لیکن یہودیوں کے ساتھ لوگوں کی ازلی نفرت کی وجہ سے کہیں پناہ نہ ملی اس وقت کے فرانس اور برطانیہ نے بھی ان کا اپنے ملک میں گھسنا گوارا نہیں کیا۔ مسلسل سمندر میں سفر کرتے رہے اور یہودیوں کے متعلق مشہور ہو گیا کہ انہوں نے ہیرے پھانک رکھے ہیں ۔لوگوں نے انہیں قتل کیا۔سمندر مین مسلسل سفر نہیں انہیں بیمار کردیا۔آخرکار ہالینڈ نے ان یہودیوں کو اپنا ہاں فراخ دلی سے بسنے دیا۔ اس کے بعد ہٹلر نے دوبارہ ان یہودیوں کا حشر نشر کیا۔

امکان یہ ہی ہے ،کہ مستقبل میں بھی جیسے ہی مسلمان طاقتور ہوئے، یہودی تاریخ کے سب برے عذاب سے گذریں گے۔شاید ہٹلر کا ہالو کاسٹ ان کیلئے سنہری عذاب گنا جائے۔
اس وقت بھی زیادہ تر ممالک کے لوگ یہودیوں کو ناپسند کرتے ہیں۔لیکن کیا وجہ ہے کہ یہ لوگ ہر جگہ اپنا مفاد حاصل کر لیتے ہیں؟ ۔

دیکھا جائے تو دنیا کی زیادہ تر ایجادات بھی یہودیوں نے کی ہیں۔۔پاکستان ایٹمی طاقت ہے اور دفاعی لحاظ سے اسی ایٹم بم سے ہی مضبوط ہے۔یہ ایٹم بم بھی یہودی کی ایجاد ہے۔

ہمیں معلوم ہے یہودی اور عیسائی سے ہماری دوستی چلنے کی نہیں۔زیادہ تر مغربی ممالک میں مسلمان انہی عیسائیوں اور یہودیوں کے ساتھ زندگی بسر کر رہے ہیں اور اپنے ملک کی نسبت ان کی جان مال عزت محفوظ ہے۔

میرے جاننے والے کروڑوں پتی مسلمان اپنے بیوی بچوں کو آسٹریلیا ، انگلینڈ، نیوزی لینڈ ،امریکہ میں بسانا چاھتے ہیں لیکن اپنے مسلم ملک میں بسانے سے خوفزدہ ہیں۔

ان ممالک میں مسلمانوں کو ہر طرح کی مذہبی آزادی ہے۔۔بے شک کئی مسائل کا بھی سامنا ہے۔اتنا تو دیار غیر میں برداشت کیا جاسکتا ہے۔

یہودی اگر اتنی تکالیف کے باوجود دنیا کو اپنے ہاتھوں میں نچا رہے ہیں تو ہم اپنے ملک کو ہی سنبھال نہیں پا رہے۔وہ چند کروڑ ہم کروڑہاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں نے تو یہی دیکھا ہے ۔مسلمان مسلمان کے کے ہاتھوں محفوظ نہیں۔ جب مسلمان مسلمان کے ہاتھوں محفوظ ہو جائے گا۔ تو شاید ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نا امیدی گناہ ہے نا جی
سخت جان دشمن سخت جان دشمن Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 9:25 PM Rating: 5

9 تبصرے:

عمران اقبال کہا...

آپ کی تحریر کا مغز یہ ہے کہ یہودیوں نے کسی بھی حال میں اپنے مذہب، اپنی ثقافت اور رہن سہن کا سودہ نہیں کیا۔۔۔ وہی نفرت جو مسلمانوں اور عیسائیوں سے انہیں ملی، اس نفرت کو کئی گنا دل میں بسا کر ایک عزم، نظم و ضبط، تسلسل اور بہترین منصوبہ بندی کے ساتھ دنیا کو تسخیر کرنے نکل پڑے اور آج وہ کامیاب ہیں۔۔۔ تاریخ گواہ ہے کہ یہودیوں نے کہیں بھی، کسی بھی صورت اور شرائط پر اپنے مذہب کا سودا نہیں کیا۔۔۔ جبکہ مسلمان مذہب کے سوداگروں اور غداروں سے بھرے پڑے ہیں۔۔۔
انہوں نے دنیاوی علوم کو بھی ویسے ہی اہمیت دی جیسے اپنے مذہبی علوم کو۔۔۔ اور دونوں میں ہمیشہ برابری رکھی۔۔۔ جبکہ مسلمان یا تو مکمل "مسلمان" ہو جاتا ہے۔۔۔ یا مکمل "غیر مسلم"۔۔۔ سمجھ تو آپ گئے ہوں گے۔۔۔

ضاءالحسن خان کہا...

بھائی ہر چیز کا ایک مقصد ہے ۔۔۔ اور مسلمان تو آیا ہی ایک خاص مقصد لے کر بلکہ بھیجا گیا ہے ۔۔۔۔۔ تو مسئلہ ہے مرکز سے دوری کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پانی کے جہاز کو ریل کی پٹری پر چلانے کی کوشش کری جائے تو نتیجہ یہی ہوگا جو آجکل ہم لوگ دیکھ رہے ہیں ۔۔۔۔۔ تو اس وقت کی سب سے اہم ضرورت اپنے مقصد کو پہچاننا اور اس پر لگ جانا ہی کامیابی کی راہ پر گامزن کر سکتا ہے نہیں تو انتظار کرو ۔۔۔۔۔۔۔۔ الھم احفظنا منھم

dr Iftikhar Raja کہا...

بزرگوں آپ اس طراں کی تپی ہوئی تحریریں اور تحاریر لکھنے سے باز آجاؤ، نہیں تو کسی دن حق بات کہنے کے جرم میں اندر کروا دئیے جاؤ گے اور ہم ڈھونڈتے پھریں گے کہ وہ ہمارے جاپانی صاحب کیا ہوئے۔

یہ تو مذاق میں کہہ دیا، ویسے سنجیدہ اور سچ بات یہ ہے کہ انہوں نے اپنے آپ کو ایک مقصد دیا اور پھر اس کےلئے جئے جنکو مقصد کی سمجھ نہ آئے وہ کاز پڑھیں۔ مگر ہم نے کیا کیا؟؟ بغیر کسی مقصد کے جئے اور جو بغیر مقصد کےلئے جئے گا وہ اس کھسرے کی مانند ہے جسکے بارے میں کہا گیا
کوئی مرے کوئی جئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کھسرا گھول پتاسے پئے
میں اس سارے المیہ کو مجموعی طور پر علماء اور ملاء پر ڈالنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کروں گا، جنہوں نے دین اسلام جیسے انقلاب اور جدت پسند مذہب کو، عیسائیت،یہودیت و ہندومت کی طرح کا ایک مذہب بنا دیا جس میں عبادات، پیریا بت اور مزار یا خانقاہ ہی سب کچھ ہے اور ان کے باہر مذہب کچھ بھی نہیں، پانچ فرض بتا کر ہمارا منہہ بند کردیا گیا مگر علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے کبھی لاگو کرنے کی کوشش نہ کی گئی۔ اللہ کہتا ہے اقراء پڑھ اور مولبی کہتا ہے نہ پڑھ، یہ عذاب ہے اور جب تک ہم لوگ اس چھٹے فرض کو مکمل طور پر آپنے اوپر لاگو نہین کرتے ۔۔۔۔۔۔۔۔ادھر ہیں رہیں گے، عوام جوتیاں اور لیڈر ککڑ کھارہے ہوں گے، مسلمان کو فقط وعدہ حور۔۔۔۔۔

سعد کہا...

فی الحال تو یہ دھتکاری ہوئی قوم پوری دنیا پر مسلط ہو چکی ہے۔

وقاراعظم کہا...

میرے خیال میں تو یہودیوں سے بڑی سلہ رحمی کا سلوک کیا ہے مسلمانوں نے ہمیشہ جناب جبکہ عیسائی انہیں حضرت عیسی علیہ السلام کا قاتل قرار دے کرشدید نفرت کرتے رہے ہیں. مسلمانوں کے اچھے سلوک کی مثال تو میثاق مدینہ میں بھی دیکھی جاسکتی ہے اور پھر غزوہ خندق میں ان کی غداری اور قریش مکہ کی مدد و اعانت کے بعد ہی انہیں مدینہ منورہ سے نکالا گیا. لیکن بحیثیت مجموعی مسلمانوں کے ساتھ انکے تعلقات بہتر ہی رہے جبکہ عیسائیوں سے انکی دوستی کو ابھی زیادہ عرصہ نہیں گذرا.

افتخار اجمل بھوپال کہا...

يہوديوں نے مار کھائی تو صرف اللہ سے کھائی ورنہ بنی اسرائيل ہميشہ ہی نہ صرف عوام بلکہ نبيوں کو بھی زچ کرتے رہے ۔ عصرِ حاضر چونکہ غير اللہ کی آماجگاہ بن چکا ہے يہاں اسرائيلی سامراجی نظام سر چڑھ کے بول رہا ہے ۔ ميرے ساتھ جب کوئی بھائی بند مسلمانوں کی مظلوميت کی بات کرتا ہے تو ميں اُس سے پوچھتا ہوں "کہاں ہيں مسلمان ؟ کيا آپ نے کہيں ديکھے ہيں ۔ ميں نے تو بچپن ميں پڑھا تھا کہ مسلمان ايک سوراخ سے دو بار نہيں ڈسا جاتا اور يہ کہ مسلمان سے اُس کا ہمسايہ محفوظ ہوتا ہے ۔ يہاں تو اپنے آپ کو مسلمان کہنے والے ايک ہی سوراخ سے بار بار ڈسے جاتے ہيں اور پھر اُسی سوراخ پر ہاتھ رکھتے ہيں جہاں سے بار بار ڈسے جا چکے ہوتے ہيں اور ان سے ہمسايہ تو دُور کی بات ہے اپنے سگے بہن بھائی بھی محفوظ نہيں رہتے جب معاملہ دولت کا آ جائے"۔

افتخار اجمل بھوپال کہا...

جناب اس سٹيشن ماسٹرنی سے مکمل تعارف کروايئے

http://tehreemtariq.wordpress.com/2011/12/17/%D8%A7%D8%B3%D9%B9%DB%8C%D8%B4%D9%86-%D9%85%D8%A7%D8%B3%D9%B9%D8%B1%D9%86%DB%8C/#comment-803

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

افتخار صاحب
یہاں پر تو کتے بلے بندر وغیر ہ کو بھی ایک دن کیلئے پولیس کا سربراہ بنا دیا جاتا ہے۔
معاشی مقصد حاصل کرنے کیلئے اس طرح کی باتوں کی تشہیر کی جاتی ہے۔

عادل بھیا کہا...

مکمللللل اتفاق کرتا ہے، نہ صرف میں یہی وجہ گردانتا ہوں بلکہ حقیقت بھی یہی ہے

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.