من نہ بدلے تو تن کیا بدلے

اسلام علیکم اماں جی
وعلیکم اسلام

خیریت ٹھیک ٹھاک ہیں۔
اللہ کا شکر ہے۔
تو جی رہا ہے اس کا مطلب ہے ٹھیک ہی نہیں ٹھاک ٹھاک ہی ہو گا۔
جی بالکل بہت زیادہ ٹھاک ٹھاک ہوں۔۔۔۔ٹھاہ ۔۔۔۔الحمد اللہ

ھالا۔۔۔۔۔۔۔ او دراصل تجھے یاد نہیں ہوگا ۔بڑی عید آرہی ہے۔
چھوٹی آئی ہے تو بڑی بھی آنی ہی ہے،آنے دیں

جانور ذبحہ شبحہ کرنا ہے۔
زرداری و گیلانی کو ذبحہ کر لیں!

او کون ہیں؟

بادام اور سیب کے کشتے مربّےکھا کر پلے ہوئے جانور۔
وہ تو بہت مہنگے ہوںگے۔
مہنگے تو ہیں۔۔۔۔۔۔۔

تجھے کیا۔۔۔۔۔۔ اللہ میاں نے دیا ہے تو ایک عدد خرید لے۔۔۔۔
نہیں اماں جی وہ بہت مہنگے ہیں میرے بس کے نہیں۔۔۔۔۔۔
کوئی لیگی ، شریفی ، جماعتی ، عمرانی ، مسلکی مشکی بکرا ذبحہ کرلیں سستا ہوگا۔
مجھے نہیں پتہ یہ نسل کہاں سے ملے گی۔
مہنگے والے ہی خریدیں گئیں؟بہت مہنگے ہیں۔۔۔۔۔۔

ایسی ناشکری نہیں کرتے قربانی کیلئے اچھا پلا ہوا اور مہنگا جانور ذبحہ کرنا ثواب کا کام ہے۔
نہیں اماں جی یہ میرے بس کے نہیں۔
کیوں پیسے نہیں ہیں؟

نہیں اماں جی اللہ کا شکر ہے پیسے تو ہیں۔
تو پھر؟
کوئی اور بکرا خرید لیں۔

محلے والے بکرے لائے ہیں۔
آپ بھی لے آئیں۔
ویسے کتنے کا ملتا ہے؟

وہ تو کہہ رہے تھے پچاس ہزار کا لائے ہیں۔
پچاس ہزار کا؟۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!!!!!!
یہ بکرا ہے یا زرداری و گیلانی؟
وہ تو تُو کہہ رہا تھا کہ بہت مہنگے ہیں۔!

جی اماں جی وہ بھی مہنگے ہیں اور یہ بکرا بھی مہنگا ہے۔
اچھا۔۔۔۔۔۔۔
اماں جی خرید لیں یہ بکرا اور عید سے پہلے مجھے ذبح کر لیں۔
کیا؟ (اماں جی کچھ سمجھی ہی نہیں)
بکرے بیچنے والا ثنا اللہ کا جاننے والا ہے۔ کل اس سے پتہ کرواوءں گی۔
جی ٹھیک ہے

بھائی جان معلوم کیا تھا بکرا۔ ( جھلا ثنا اللہ)
اچھا۔۔۔۔
تول کر خریدا جاتا ہے۔
اچھا ۔۔۔۔۔
پلا ہوا بکرا تین سے ساڑھے تین سو روپے کلو کا مل جائے گا۔
ہائیں۔۔۔۔!!۔۔۔۔گوشت خریدو گے؟
نہیں۔۔بکرا تول کر خریدا جاتا ہے۔ ایک کلو تین سے ساڑھے تین سو روپے کلو کا مل جائے گا۔
اچھا۔۔۔۔۔۔۔۔مریل ہوگا یا مردہ؟
نہیں زندہ ہو گا۔۔
ٹوٹل قیمت کتنی ہوگی؟
یہی کوئی دس ساڑھے دس ہزار۔
لیکن محلے والے تو پچاس کا لائے ہیں۔۔
وہ کیا ہے؟
نہیں بھائی جان انہوں نے بھی اسی بندے سے لیا ہے نا۔
تین سو کلو کے حساب سے۔
ایک بارہ ہزار کا
دوسرا
چودہ ہزار کا

اچھا
انہوں نے پچاس کیوں کہا؟
پتہ نہیں۔
محلے والوں کو پچاس ہزار ہی کہا ہے۔
اوہ
۔۔۔۔۔۔۔۔
قربانیاں دینا آسان کام تھوڑی ہے!!!!!!۔

لیکن پچاس ہزار کیوں کہاتھا؟
کوئی جوشیلا بھی جوش میں آکر پچاس ہزار کا ہی خریدتانا۔
وہ کیوں؟
انہی سے کہتا ہمیں بھی لادو۔
پاکستان میں لوگ عموماً دوسروں سے کام کروانے کے چکر میں ہوتے ہیں۔
مہنگائی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔لگے ہاتھوں۔۔آمدنی ہو جائے تو کیا حرج ہے۔
رزق حلال عین اور غین عبادت ہے۔
لگے رہو۔۔۔۔۔بدل کے رہے گا پاکستان۔۔۔۔انقلاب زندہ باد
من نہ بدلے تو تن کیا بدلے؟
من نہ بدلے تو تن کیا بدلے من نہ بدلے تو تن کیا بدلے Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 1:26 PM Rating: 5

9 تبصرے:

ضاءالحسن خان کہا...

جب من اور تن نہیں بدل سکتا تو ۔۔۔منہ ہی بدل لو

خالد حمید کہا...

بھائی یہاں کراچی میں تو بہت ہی مہنگے ہیں ۔۔۔
ویسے آپس کی بات ہے آج کل تو متوسط طبقے کے لیئے قربانی واقعی قربانی ہوگئی ہے۔۔

جاوید گوندل ، بآرسیلونا ۔ اسپین کہا...

کرپشن کچھ اسطرح ہماری ہڈیوں میں گھس گئی ہے۔ کہ پوری قوم ہی کرپٹ لگنے لگی ہے۔ اور ہر دوسرا آدمی کرپشن ، جھوت، مکاری ، فریب۔ ہیرا پھیری سے شاکی ہے۔

حجاب کہا...

اماں جی سے بات چیت اچھی لگی :-)

م بلال م کہا...

بہت خوب جناب. معاشرے کی سوچ کی کیا خوب عکاسی کی ہے. ویسے ہر معاملے کی طرح اس معاملے میں بھی لوگ سینے چوڑے کر کے کہتے ہیں کہ ہم نے ”اتنے ہزار“ کا بکرا خریدا ہے۔ عاجزی میں بھی اکڑ ۔۔۔

dr Iftikhar Raja کہا...

میری پرسوں ابا جی سے اسی موضوع پر بات ہورہی تھی مگر چونکہ وہ ذرداری گیلانی وغیرہ سب کو جانتے ہیں اس لئے صرف بیل کی قیمت اور مہنگائی کا رونا رویا گیا۔ باقی کیسٹ وہی تھی۔

عادل بھیا کہا...

خوب یاسر بھیا۔۔۔
مبارک ہو نئے پتہ پر منتقل ہونے کی۔ بہت سی دُعائیں آپکی تحریروں کی اِس نئی رہائیش گاہ کیلئے۔ میں اپنے بلاگ کے بلاگ رول میں بھی یہی نیا پتہ دے رہا ہوں۔

عرفان بلوچ کہا...

تحریر پر تبصرہ
یاسر بھائی بہت خوب ۔۔
الحمد للہ ۔۔ آپ کی جاپانیت میں پاکستانی جراثیم کی موجودگی خوش آئیند ہے
امید ہے اگلے سال امی کے ساتھ عید کریں گے ۔ ان شاء اللہ

تبصرہ پر تبصرہ
اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم
یہ حجاب کو آپ کا امی سے بات چیت کرنا اچھا کیوں لگا ہے
عید قربان پر کالی دال تو نہیں پکانےکا ارادہ ہے

شفیق احمد کہا...

ہر آدمی خود اپنے آپ کو دھوکہ دے دےرہا ہے۔ ریاکاری اور بڑاءی کا دور دورہ ہے۔ اللہ تعالی عاجزی اور نیکی کی توقیق عطا فرماءے۔صحیح معنوں میں مسلمان بناءے امین ثم امین۔

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.