منطق

جب ہمارا ایمان ، ذہن اور شعور پختہ نہیں ہو تو ہمیں کوئی بھی منطقی، علمی، دینی یا مذہبی بات فضول لگتی ہے۔ جب ہم زندگی کا مشاہدہ قریب سے کرتے ہیں تو انہی فضول باتوں میں حقیقت اور سچائی نظر آنے لگتی ہے۔
ہم کاروباری لوگ جب بھی غیر مسلم ممالک کا رخ کرتے ہیں تو اپنے کاروباری دوست جو غیر مسلم ہوتے ہیں ان کے ساتھ کھانا پینا کرنا ہوتا۔۔ عموماً جاپان میں بھی جاپانی دوستوں کے ساتھ ڈنر وغیرہ کرنا پڑتا ہے۔
تقریباً تمام غیر مسلموں کو علم ہے کہ یہ مسلمان ہیں الکوحل نہیں انڈیلتے ان غیر مسلموں کو بتانے کی ضرورت نہیں ہوتی ہمارے منہ متھے یا جنم بھومی کا علم ہونے پر انہیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص مسلمان ہے اور مسلمان شراب نہیں پیتا خنزیر نہیں کھاتا۔ کئی دفعہ ایسا بھی ہوا کہ کسی ڈنر پر ہم گئے اور وہاں پر دوسرے مسلمان بھی آئے ہوئے تھے۔ان مسلمانوں کو ہم نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے ڈرنک کرتے دیکھا۔ ان مسلمانوں کو بھی احساس ہوتا ہے کہ وہ غلط کام کر رہے ہیں اور اللہ کے حکم کی نافرمانی کر رہے ہیں۔ ان ڈرنک کرنے والے مسلمانوں کو دیکھ کر عموماً ذہن میں آتا ہے کہ انہیں حرام حلال کا احساس نہیں ہے اور یہ شراب کو صرف سوشل انرجی ڈرنک سمجھ کر انڈیل رہے ہیں۔

سوشل انرجی ڈرنک نوش کرنے والے مسلمان بھی خنزیر کا گوشت نہیں کھاتے بے شک مکمل ٹن ہوں لیکن خنزیر خوری سے بچتے ہیں۔
یہ منافقت، یہ خیانت کیوں؟
ایک کو جائز کر لیتے ہیں حرام ہونے کے باوجود اور دوسرے کو ناجائز کر لیتے ہیں؟
ہیں تو دونوں ہی حرام۔۔۔۔۔
یہ منافقت، یہ خیانت کیوں؟

اب تو جدید سائنس نے بھی بتا دیا کہ سور کے گوشت میں بیماری ہے۔
کچھ اسطرح بھی پڑھنے کو ملا کہ سور کے گوشت کو کھانے سے شہوت (جنسی جذبات) بھڑک اٹھتے ہیں۔ شراب سے بھی جنسی جذبات بھرک اٹھتے ہیں۔ دونوں قبیح چیزوں سے انسانی جسم اور روح پر برے اثرات پڑتے ہیں۔ خوراک کھانے سے انسانی جسم پہ اس خوراک کے اثرات تو سائنس سے بھی اور ہمارے مشاہدہ سے بھی ثابت ہے۔ایک باڈی بلڈر پروٹین کھاتا ہے تو تن سازی میں کامیاب ہوتا ہے۔ اگر جسمانی نقصان کا خیال ناکرے تو مختلف مقوی ادویات استعمال کرکے وقتی طور پر نہایت اچھا جسم بنا سکتا ہے اور خوب طاقتور بھی بن سکتا ہے۔

ہم غیر مسلم معاشرے مین رہنے والے خنزیر کے گوشت سے بہت پرہیز کرتے ہیں۔ میں نے کئی دفعہ سوچا کہ ہم سور کے گوشت کے متعلق تو بہت احساس ہیں۔ کسی کو مذاق میں چڑھائی ہوئی ہے کیا؟ یا نشے میں تو نہیں وغیرہ کہہ دیتے ہیں۔ لیکن مذاق میں سور تو نہیں کھایا؟
اسطرح کا جملہ نہیں کستے۔۔۔۔۔۔۔۔
جب اسلام نیا نیا آیا تو عرب معاشرے میں شراب کا استعمال عام تھا۔ہمیں علم ہے کہ شراب ایک نشہ ہے اور اتنی آسانی سے چھوٹنے والا کام نہیں۔
اس لئے شروع میں شراب سے کراہت اور ناپسندیدگی کا اظہار کیا گیا۔پھر آہستہ آہستہ اسے حرام قرار دیا گیا۔ جب شراب کی حرمت کا واضح حکم آگیا تو شراب مدینے کی گلیوں میں بہا دی گئی۔

سور کے گوشت کے متعلق مسلمانوں سے کوئی رعایت نہیں برتی گئی۔ صاف صاف قرآن میں منع کردیا گیا کہ یہ کھانا نہیں۔
اللہ سے ڈرنے والے سیدھے سادے مسلمان تو ہمارے معاشرے میں سور کا نام زبان پر لانے سے ڈرتے ہیں کہ کہیں زبان ناپاک نا ہو جائے۔
بحر حال مسلمان کا تو ایمان ہے کہ اللہ میاں مخلوق کا خالق ہے اسے ہر جاندار کی نفسیات اور ضروریات کا بہتر علم ہے۔
پڑھتے سنتے آئے ہیں کہ اللہ کے احکامات کے پیچھے گہری مصلحت ہوتی ہے۔ دیکھا جائے تو ہمیں سمجھ نہیں آتی کہ سود کیوں حرام ہے؟ سود سے تو منافع حاصل ہوتا ہے!!۔مردار کیوں حرام؟ خون کیوں حرام؟
یہ سب انسان اور معاشرے کیلئے فتنے اور خرابی کا باعث بنتے ہیں اللہ میاں ان حرام و حلال کے ذریعے انسان کیلئے حدود مقرر کرتا ہے۔
کون اسے کے احکامات مانتا اور کون خلاف ورزی کرتا ہے۔ اللہ کی حدود کا خیال وہی کرتے ہیں جن کا ایمان اللہ کی ذات پر پختہ ہوتا ہے۔

ہم مسلمان ہیں۔۔ ہم گھریلو جانور پالنا چاھیں تو کتا بلی پال لیتے ہیں یا پھر طوطا طوطی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہیں جی۔
خنزیر کھانا حرام ہے۔ اسے ہاتھ لگانا یا پپّی کرنا تو حرام نہیں!!!۔
اب کوئی ایسا جگاڑ لگائے تو ہم کیا کر سکتے ہیں۔!!!!
تو ایسے حضرات سے عرض ہے کہ ایک عدد خنزیر پال کیوں نہیں لیتے؟
جب کوئی مہمان گھر تشریف لائے تو۔۔۔۔
تعارف کروایئے
دس از مائی سو سویٹ لوّلی اینمل۔۔۔۔ ہیں جی
خصماں نوں کھاو تے سانوں کی!!!
منطق منطق Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 8:07 PM Rating: 5

21 تبصرے:

dr Iftikhar Raja کہا...

ویسے آپ کی اس تحریر سے لگتا ہے کہ آپ بزرگ ہوگئے ہیں، آپ نے ایک بہت ہی زیرک معاملے کو چھیڑا ہے جس میں میری رائے کچھ مختلف ہے ساری نہیں، وہ اس طرح کہ اللہ میاں نے سؤر خوری کو ممنوع قرار دیا مگر لکھ دیا کہ جو مجبور ہو تو پھر اللہ ہی مہربان ہے۔ تاریخ اسلام میں کسی بندے کو سؤرکھانے پر نہ کوئی سزا دی گئی نہ ہی زکر ہے کہ کیا سزا ہوگی اور نیز یہ کہ اگر کو مجبور ہو تو معافی بھی ہے۔ شراب نوشی کے بابت بہت سخت احکامات ہین اور حضرت عمر رضی اللہ کے درر میں لوگوں کو سزائیں بھی ملیں، سود کے بارے میں معاملہ کچھ اور ہی ہے کہ سود اللہ اور اللہ کے رسول سے جنگ ہے اب جو اللہ اور اللہ کے رسول سے جنگ کرے گا وہ مسلمان ہوگا کیا؟؟؟ مولانا ط فرماتے ہیں کینڈا میں کہ گھر کی خرید کےلئے سود لینا جائیز ہے۔ یہ ساری منافقت ہے مذہب کو اس طرح تبدیل کرو کہ جو معاملہ غیر اہم ہو اسے اہم بنا دے جو اہم ہے اسے معمولی بنا دو فیر جو بہت لازم ہے اس کو بھول جاؤ، حق بات ہے کہ آج ہم چودہ سو برس بعد بھی بغیر سود نظام کو رواج نہیں دے سکے
پھر پوچھتے ہیں منافقت جانے کسے کہتے ہیں؟؟؟ ہیں جی تسیں دسو

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

راجہ جی یہ لکھتے وقت یقین مانئے دماغ ادھر ہی جا رہا تھا۔۔
ذہن میں آیا تھا کہ خنزیر خوری کی حد کیا ہے؟
لکھ کر مٹا دیا کہ شراب خوری کو تو حد ہے خنزیر خوری کی کیوں نہیں؟۔
لیکن جناب بات وہی ہے کہ اس میں بھی اللہ میاں کی کوئی مصلحت ہوگی
اور جناب تبدیلیاں کرنے والے شراب کو بھی جائز کرکے پی رہے ہیں اور
دارلحرب کہہ کر سور خوری بھی کر رہے ہیں۔
ڈاکٹر ط ہی نہیں مصر کے علما نے بھی گھر بنانے کیلئے بینکی قرضے کو جائز قرار دیا ہوا ہے۔
بعض جگہ تو یہ پڑھنے کو ملا کہ دارلکفر میں بینک سے سود لینا جائز ہے۔
تماشہ ہی تماشہ جناب
ہن فئیر تسی وی دسو؟

dr Iftikhar Raja کہا...

خنزیر خوری کی حد اللہ میاں نے مقرر کی ہے ناں کہ اگر تم مجبور تو پھر اللہ معاف کرنے والا ہے، میرے خیال سے اسلام جو دین ہے ناں یہ معاشروں کو سدھارنے کے چکر میں ہے۔ مثلاُ کسی نے سؤر بوٹی کرلی تو دوسرے کو کیا فرق؟؟ مگر شراب نوشی سے معاشرہ براہ راست متاثر ہوتا ہے اور سود خوری سے ادھر مغربی نظام ڈوب رہا ہے جی، اگر آپ کے پاس پیسے ہیں تو سود سے ہی بڑھاتے جاؤ اور نہیں تو اور غریب ہوتے جاؤ

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

جی شراب خوری اور سود کے متعلق میں نے بھی یہی لکھا ہے۔

dr Iftikhar Raja کہا...

ڈاکٹر ط سمیت مصر کے علماء نے کہیں نہیں بتایا کہ اگر اللہ منع کرتا ہے تو ہم کون ہوتے ہیں جی اس میں پنگا لینے والے، وہ ڈاکٹر ذ والی بات ٹھیک ہے کہ میری اسلام میں حیثیت صفر جو بات قرآن و حدیث کےمطابق کہوں مانو نہیں تو ذکر وی مت کرو، یہی تو حضرت عمر رضی اللہ نے بھی فرمایا تھا اپنے خطبہ خلافت میں اور یہ لوگ؟؟؟

ڈاکٹر جواد احمد خان کہا...

جناب آپ نے تو ایک پھڑکتا ہوا جواب تحریر کر دیا ہے..

عمران اقبال کہا...

جناب میرے خیال میں میڈم نے اپنی تحریر اپنے دو لےپالک سوروں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے لکھی ہے... برا مت منائیے... :)

ضاءالحسن خان کہا...

اے وہ لگتا ہے کہ کچھ دن جو گذارے پر دیس میں شائد کہیں اس خنزیر کی خصلت دیکھ لی ہوگی اور بقول ایک دوست کی کہ وہ ٹائم بہت لگاتا ہے شائد اس لئے بھی پسند آگیا ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور یہ بھی سنا ہے کہ خنزیر النسل میں ایک مادہ ہوتی ہے اور اسکو 50، 60 نر سور بجاتے ہیں شائد یہ ادا پسند آگئی ہو ۔۔۔۔۔۔۔ :ڈ

بنیاد پرست کہا...

یہ سچ ہےکہ قرآن میں سود کو اللہ کے ساتھ اعلان جنگ لکھا ہے اور احادیث پاک میں سود کے بارے میں انتہائی شدید وعیدیں وادر ہوئی ہیں لیکن اتنی شدید وعیدوں کا مطلب یہ نہیں کہ بندہ دائرہ اسلام سے ہی نکل گیاہے، ہاں یہ کہا جاسکتا ہے کہ سود کھانے والے کبیرہ گناہ کا مرتکب ہے۔ اسلام میں مطلقا ہرقسم کے سود کو ہمیشہ کے لیے حرام کیا گیا ہے، خواہ دارالاسلام میں ہو یا دارالحرب میں ہو۔ مسلمان کے لیے دنیا کے ہرگوشے میں ہمیشہ سود سے بچنا ضروری ہے، امام مالکؒ اور امام شافعی اور امام احمد بن حنبل نیز حنفیوں سے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک سود کا لین دین دارلحرب میں بھی جائز نہیں ہے۔ صرف امام ابو حنیفہ اور امام محمد دارلحرب میں حرربی کافر سے سود لینے کی اجزت دیتے ہیں۔ سود دینا ان حضرات کے نزدیک بھی جائز نہیں ہے۔کچھ علما نے ضرورتِ شدیدہ کے تحت کار، گھرکے لیے بقدر ضرورت لون لینے کی اجازت کی بات کی ہے اس کا جائز طریقہ بھی بتایا ہے کہ بینک خود خریدکر اپنا منافع شامل کرکے آپ کے ہاتھ فروخت کردے اس شکل میں زائد رقم بینک کو دینا جائز ہوگا اور زائد رقم بھی ثمن کے تحت داخل ہوگی۔
شریعت اسلام میں حدود کی تعداد چھ ہے: ۱:․․․ ڈاکہ‘ ۲:․․․چوری‘ ۳:․․․زنا‘ ۴:․․․تہمتِ زنا‘ ۵:․․․ شراب خوری‘ ۶:․․․مرتد کی سزا۔
سور اور سود کے برعکس شراب میں چونکہ نشہ ہوتا ہے اور بندہ گالم گلوچ کرتا ہے ،اس لیے اس پر حد رکھی گئی، دورنبوت میں کوڑوں کی کوئی خاص تعدادمقررنہ تھی حضرت عمر رضی اللہ نے ․شرابی کی سزا ۸۰ کوڑے مقرر کی تاکہ لوگ حد وعقوبت کو حقیر سمجھ کر دیدہ دلیری پر نہ اترآئیں۔یہ رائے حضرت علی کی تھی کہ آپ شراب نوشی کی سزا اسی(۸۰)کوڑے مقرر کردیں کیونکہ جب کوئی آدمی شراب پیتاہے تو اسے نشہ ہوتاہے اور نشہ میں ہذیان بکتاہے اور لوگوں پر تہمت لگاتاہے اسی لیے تہمت کی سزا ہی شراب نوشی کی سزا مقرر کردیں جو کہ ۸۰کوڑے ہے۔

افتخار اجمل بھوپال کہا...

محترم حضرات ۔ السلام عليکم
ميری درخواست ہے کہ جب ذکر اللہ کے دين کا ہو تو اللہ کی کتاب کا حوالہ دے ديا کيجئے اور وہاں جو ترجمہ اور بصورتِ ضرورت تفسير ہو من و عن لکھا کيجئے
اللہ ميری اور سب کی درست راہ کی طرف رہنمائی فرمائے
حلال و حرام بابت سؤر اور شراب طويل مضمون ہے ۔ اللہ نے ہمت دی تو ميں اس پر اس تحرير کے حوالے سے جلد لکھوں گا تاکہ ايسے قارئين جنہيں مطلوبہ سہوليات ميسّر نہيں وہ بھی مستفيد ہو سکيں

dr Iftikhar Raja کہا...

حضور جب بات قرآن اور حدیث کی ہورہی ہو تو باقی کے لوگوں کی کچھ حقیقت نہیں جو مرضی کہتے پھریں، رہی باقی علماء کی تو ان کی تو یہ حالت ہے کہ 1400 برس بعد بھی بغیر سودی نظام نہیں نافذ کرواسکے، میرا تو خیال ہے یورپ والے سود سے تپ کر ہی مسلمان ہوجائیں گے اور فیر ان نام نہاد مسلوں کی خیر نہیں ۔۔۔۔۔۔ ہیں جی

انکل ٹام کہا...

اصل بات سور کھانے کے نہیں تھی بلکہ بحثیت جانور اسکے ساتھ رویہ کیسا رکھنا ہے اس متعلق تھی ۔
اٹھائے گئے نکات نہایت بچگانہ تھے ، ہنسی اس وقت ڈبل ہوتی ہے جب بچگانہ اعتراض کوئی پھرا ہوا دماغ کرے ۔
میں تو آسان سے انداز میں کہتا ہوں کہ اسلام ہمیں اچھے دوستوں اور اچھے لوگوں کی صحبت میں رہنے کا کہتا ہے بلکہ حدیث کا مفہوم کچھ ایسے بھی سننے کو ملا ہے کہ انسان اپنے دوست کے مذہب پر چلتا ہے ۔ اور نفسیات ہمیں اسکی وجہ یہ بتاتی ہیں کہ انسان جیسے لوگوں میں رہتا ہے ویسی ہی خصلتیں اسکے اندر پیدا ہوتی ہیں ۔

اب سور کے ساتھ اچھا سلوک کرنے والوں کو خود ہی سوچنا چاہیے کہ انکے اندر کیسی خصلتیں پیدا ہوں گی ۔ ایک خصلت تو ضیاء بھائی نے بتائی جو میں نے خود پہلی دفعہ سنی اور یاسر بھائی نے جو جنسی جذبات بھڑکانے والی بتائی وہ بھی پہلی دفعہ سنی ۔

حجاب کہا...

پوسٹ پڑھ لی حاضری لگا دیں میری ۔۔۔

عادل کہا...

یاسر بھائ اون فائر!!

خالد حمید کہا...

سؤر سے حددرجہ احتیاط اس کی عادات و حرکات کی وجہ سے ہے۔۔۔۔

عمیر ملک کہا...

سور کے حرام ہونے پہ تو کوئی دوسری رائے نہیں ہو سکتی۔ بات اس رویے یا کراہت کی ہے جو سور کے ساتھ منسلک ہے۔ نہ چاہتے ہوئے بھی میرے ذہن میں یہ سوال موجود تھا۔۔۔۔ ظاہر ہے پوچھنے کی ہمت نہ تھی اور نہ ہی ہونی تھی۔۔۔ وجہ بھی نظر آ گئی!
مجھے نہ تو کوئی شوق ہے پالنے کا نہ ہی ارادہ۔۔۔ سوال پوچھنا غلط نہیں اگر اس کے جواب کو قبول کرنے اور سمجھنے کی غرض سے دیکھا جائے۔ اوپر ایک دو تبصرے سور کی خصلتوں کے بارے لکھے گئے، یہ ایک قابل غور وجہ ہے۔
لیکن دیکھا جائے تو تمام جانوروں میں ہی کوئی نہ کوئی ایک یا زیادہ " جانوروں" والی عادت ہوتی ہے۔۔۔ اکثر پالتو جانور بھی جانور ہی ہوتے ہیں۔۔۔!
امید ہے معلومات میں مزید اضافہ ہوگا ۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

عمیر ملک صاحب سوال کرنے میں میرے خیال میں کوئی حرج نہیں ہے۔
جس سے پوچھا جائے گا۔وہ برا محسوس نہیں کرے گا۔
آپ اگر پوچھیں خنزیر کا کیا قصور ہے کہ اسے کھایا نہیں جاتا اور اسے ناپسند نہیں کیا جاتا؟
آپ پوچھیں تو ایک دفعہ سوچنا پڑے گا کہ یہ شخص مسلمان ہی ہے نا؟ اگر مسلمان ہے تو تمسخر کیوں اڑا رہا ہے۔
ویسے خنزیر کے قصور وار ہونے یا ناہونے کے متعلق ہم سے غیر مسلم پوچھتے رہتے ہیں۔ کسی مسلمان نے اس سے کراہت کرنے یا اس کا گوشت ناکھانے کے متعلق کبھی نہیں پوچھا۔
میرا جواب آسان سا ہوتا ہے کہ ہمارے مذہب میں اسے برا یعنی حرام کہا گیا ہے اس لئے میں نہیں کھاتا اور ناپسند کرتا ہوں۔غیر مسلموں کی خوراک ہے وہ کھائیں ہمیں کوئی اعتراض نہیں پالیں ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔۔۔۔۔۔نام کے مسّلے ہی ہمارا مذاق اڑانا شروع کردیں تو جناب ہماری نظر میں یہ نام نہاد مسّلے سوءروں کی خصلت والے دکھائی دیتے ہیں ۔۔ہیں جی

وقاراعظم کہا...

بہت خوب پیر صیب. مزہ آگیا.... :D

بنیاد پرست کہا...

سور سے کراہت کی وجہ مذہبی تو ہے ہی اسکی گندی صفت اور عادات بھی ایک وجہ ہے ، آپ کتے، بلی کو کھاتا، بیٹھتا، چلتا پھرتا دیکھیں اور سور کو دیکھیں آپ کو خود ہی یہ کراہت محسوس ہوگی، ٹیسٹ کرکے دیکھ لیں۔
ایک دفعہ میری ایک انگریز کی ساتھ سوائن فلو پر بات ہورہی تھی، سائنسی حقائق پر بات کرنے سے پہلے اس نےمیرے سے پوچھا تم لوگ سور کیوں نہیں کھاتے، میں نے اسی اپنے دین فطرت کی تعلیم سے آگاہ کیا کہ اللہ نے ہمارے اوپر انعام کرتے ہوئے ہر نقصان دہ چیز سے ہمیں بچایاہے، اور مذہبی احکامات ایسے دیے ہیں کہ ان میں ہمارے لیے بہتری ہے۔ سور کے حرام ہونے کا تذکرہ تو یہودی اور عیسائی کتابوں میں بھی موجود ہے۔ لیکن ان لوگوں نے جان بوجھ کر اس آسمانی حکم سے انحراف کیا، شاید تم میری اس بات سے متفق نہ ہو لیکن یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ سور کی بے حیائی نے یورپ و امریکہ کو بھی بے حیا بنا دیا ہے، جہاں اس کے کھانے سے اجتناب کیا جاتا ہے وہاں زنا و فحاشی بھی کم ہے۔ مسلم اکثریت کے ممالک میں اب دوسرے ذرائع سے فحاشی پروان چڑھ رہی ہے ، ان ذرائع سے اجتناب کرنے اور حلال گوشت کھانے والوں کی طبیعت میں بے حیائی اب بھی نہیں۔

What Am I میں کیا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ » Blog Archive » سؤر اور شراب کہا...

[...] موضوع پر ياسر صاحب نے ايک تحرير لکھی تھی جس پر کچھ تبصرے بھی شرع [...]

درویش خُراسانی کہا...

بات میرے خیال میں یہ ہے کہ اگر ایک چیز اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دی تو پھر اس سے بچنا ہی چاہئے۔
انکل ٹام کی بات درست کہ جیسے دوست ویسے ہی عادات، نیز یہ ضرب المثل تقریبا تمام زبانوں میں ہے انسان کو اسکے دوستوں کو دیکھ کر پہچانو۔

رہی راجہ صاحب کی بات کہ مجبوری ،تو جناب میرے خیال میں یورپ میں کوئی ایسی مجبوری نہیں کہ بندہ بھوک سے مرنے لگے ، یا پیاس سے مرنے لگے تو یا خنزیر کھائے اور یا شراب پئے۔

اور وہاں بھی یہ مسئلہ ہے کہ اتنا کھانا ہے کہ صرف سانس چلتا رہے یہ نہیں کہ اسکو کرایہ بناو کر کھائے۔ یا جام کے جام الٹ دے۔


ایک بات راجہ صاحب نے کی کہ مصر کے علماء ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو جناب اس سلسلے میں عرض ہے کہ ایک وقت میں انہوں نے گانے سننے کو بھی جائز قرار دیا تھا۔
نیز انکا کون کونسا کارنامہ ذکر کیا جائے۔یہ طہ جسکا ذکر آپ نے کیا ہے ایک متنازعہ شخص ہے۔ کئی تاریخی حقائق سے انکار کرنے والا ہے ، صرف ایک باطل فرقے کو خوش کرنے کیل؛ئے۔
نیز یہ بات بھی ہے کہ مجبوری میں صرف خنزیر کا ذکر ہی کیوں ، اس وقت تو کتا ، بلی وغیرہ بھی کھایا جاسکتا ہے۔تو پھر صرف خنزیر کے ساتھ مجبوری کا ذکر کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔

اور میرے خیال میں حد کا حکم تو کتا تھانے پر بھی نہیں آیا تو پھر وہی بات کہ صرف خنزیر کا ذکر ہی کیوں۔؟؟؟؟؟؟؟؟

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.