ڈنڈا سروس


طاقت کا نشہ اقتدار کا ہو مال ودولت کا علم کا یا جسمانی طاقت کا انسان کو گھمنڈی بنا دیتا ہے۔ہر شعور رکھنے والا کوشش کرتا ہے کہ اعتدال اختیار کرے ،لیکن بعض اوقات لاشعوری میں اپنے آپ پر کنٹرول نہیں رکھ پاتا۔
اور جیسے جیسے وقت گذرتا ہے ، ناچیز انسان اس گھمنڈ کا عادی ہو جاتا ہے۔ جب کمزوری کا احساس ہوتا ہے تو وقت گذر چکا ہوتا ہے۔
اور چڑیا چگ جاتی ہے کھیت


لیبیا کے معمر قذافی شہید ہم تو شہید ہی کہیں گے۔جب تک قذافی زندہ رہے ان کا تمسخر اڑاتے ہوئے کبھی احتیاط نہیں کی۔


میرے جاننے والے کئی جاپانی مسلمان ہیں جو لیبیا پڑھنے کیلئے گئے۔مسلمان ہونے کے بعد صرف عربی سیکھنے کے شوق میں اپنے خرچے پر لیبیا اس لئے گئے کہ مصر ، سعودیہ اور دیگر عرب ممالک کی نسبت یہ ملک سستا تھا۔


جب لیبیا میں گئے تو لیبیا کی حکومت نے انہیں پر آسائش رہائش کے ساتھ ساتھ تمام اخراجات بھی دینا شروع کردئے۔ یہ اخراجات کئی ہزار ڈالرز میں ہوتے تھے۔ اس کے بدلے ان نئے مسلمانوں سے کسی قسم کا کوئی مفاد حاصل نہیں کیا جاتا تھا۔ ایک گھمنڈی اور عرب قوم پرست شخص کی حکومت میں ان نئے مسلمانوں نے اسلام سیکھا اور جاپان میں ہم پیدائشی مسلمانوں سے زیادہ اسلام کی خدمت کر رہے ہیں۔۔۔اس گھمنڈی شخص کیلئے صدقہ جاریہ چل رہا ہے۔


نا ہی ان نئے مسلمانون کو کسی قسم کے تعاون پر مجبور کیا جاتا تھا اور نا ہی کسی اور قسم کا مفاد ۔ سب نے اپنی تعلیم مکمل کی اور جاپان واپس آکر اپنی اپنی زندگی گذار رہے ہیں۔اگر مغربی دنیا کی نظر سے دیکھا جائے تو معمر قذافی ایک مغرور ،ظالم ،بے عقل قسم کے انسان کے طور پر نظر آتے ہیں۔
ایسی خصوصیات والی کوئی شخصیت تاریخ میں گذری جس نے بیالیس سال ایک ملک پر بادشاہت کی ہو؟ رہ گئے اپنی عوام کو حقوق نا دینے کے الزامات کی تو اگر مجھے پاکستان کی باد شاہت مل جائے تو میں عوام کو مغربی طرز کے حقوق دینے کے بجائے ڈنڈا سروس دینا زیادہ پسند کروں گا۔
عرب اشرافیہ کی جو حرکات یا کرتوت ہم یورپی ممالک میں دیکھتے یا سنتے ہیں، اگر اس اشرافیہ کو اس طرح کی آزادی سعودی بادشاہت دے دے تو کعبہ کو صنم خانے میں تبدیل کرنے میں دیر نہیں لگائیں گے۔ڈنڈا سروس ہونے کے باوجود جو قصے سعودیہ میں رہنے والے بیان کرتے ہیں۔وہی سن کرحقوق کی آزادی کے فوائد کا اندازہ ہو رہا ہے۔
کتیا جمہوریہ کا پھل ہم پاکستانیوں کو دیکھنے کو مل رہا ہے۔اپنے ووٹوں سے منتخب کئے ہوئے ہمارے جمہوری رہنماوں کے کرتوت سب کے سامنے ہیں۔۔کچھ دن پہلے اس کتیا جمہوریت کی آذادی کا مظاہرہ فحاشی اور بے حیائی کی صورت میں بی بی سی کی سائیٹ پر کراچی کا فیشن شو دیکھ کر اندازہ ہوا۔
عرب دنیا اور پاکستان کی عوام حقوق سے زیادہ ڈنڈے سے اپنی اپنی چراگاہ میں خاموشی سے چرتے ہیں۔ مجھ سے اختلاف ہے تو صرف آدھا گھنٹا کسی پر ہجوم جگہ پہ کھڑے ہو کر مشاہدہ کریں اور چراگاہ کا حال اپنی آنکھوں سے دیکھئے۔ کچھ سمجھ نا آئے تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔رنگ کے متعلق سوچئے کہ خربوزہ خربوزے کو دیکھ کر رنگ پکڑتا ہے۔
ہیں جی
معمر قذافی شہید میں ہزار خامیاں رہی ہو ں گی۔کرپشن ، اقربا پروری ، غرور و تکبر وغیرہ وغیرہ ، لیکن جیسا اسکا تصور میڈیا کے ذریعے تشکیل دیا گیا۔ کیا واقعی یہ شخص اتنا ہی بے عقل تھا؟
اگر اس سے زیادہ کوئی عقل مند ہے تو قذافی سے زیادہ کامیاب زندگی گذار کر دکھائے۔میڈیا میں کہا جا رہا ہے کہ مرنے سے پہلے معمر قذافی زندگی کی بھیک مانگ رہا تھا۔لعنت ایسے میڈیا پر جس کے ذہن میں خناس بھرا ہوا ہے۔ جس شخص کے بچے تک جان دے رہے ہوں وہ شخص موت سے ڈرے گا؟ جسے ہر طرف سے پناہ دینے کی دعوت مل چکی ہو وہ مرنے سے ڈرے گا؟
تلوے چاٹنے پہ راضی ہو جاتا تو مال و دولت تو بے حساب جمع کی ہوئی تھی۔


ہمارے تاریخی ہیرو سلطان ٹیپو بھی اس دور میں شہید ہوتے تو ان کی موت کو بھی یہ میڈیا مسخ کر دیتا۔۔اور تاریخی کتاب سے ایک ہیرو غائب ہو جاتا۔
یہی میڈیا قذافی اور ٹیپو سلطان کو ایک ہی لائن میں کھڑا کر دیتا۔


کہنے والے کہہ رہے ہیں ۔کہ قذافی کی موت کتے کی موت ہوئی۔۔۔قذافی شہید کتے کی موت مرا تو کم ازکم اپنے اصولوں کا کتا تھا ، اپنے نظریات کا کتا تھا۔ اور کم از کم اپنی ذات کا وفادار کتا تھا کہ مر کر بھی بے وفائی نہیں کی۔
زندگی سے محبت کرنے والے کتے جن کا کوئی اصول کوئی نظریہ ہی نہیں فقط حب دنیا ہی جن کا اصول ، نظریہ ہے۔
وہ غیروں کے تلوے چاٹے رہے ہیں اور پرآسائش زندگی گذرانے کیلئے ان کے قدموں میں بیٹھے تلوے چاٹتے زندگی گذار رہے ہیں۔


اللہ میاں مچھر ، مکھی حقیر کیڑے مکوڑوں کی مثالیں دے کر اپنی بات سمجھاتے ہیں۔جو حد سے گذرتے ہیں ان کا کہنا ہوتا ہے کہ اللہ میاں کو ان حقیر کیڑے مکوڑوں کے علاوہ کوئی مثال نہیں ملی تھی؟
جو کچھ لمحوں کو رک کر سوچ لیتے ہیں وہ یہ کہہ کر جان چھڑا لیتے ہیں کہ اللہ کی باتیں اللہ جانے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہیں جی


معمر قذافی کی وصیت فیس بک سے پیسٹ رہا ہوں۔ تصدیق کرکے مجھے بھی بتا دیں کہ یہ سچ ہے یا جھوٹ۔
قذافی شہید کی وصیت


یہ میری آخری خواہش ہے میں معمر بن محمد بن عبدالسلام بن حمید بن عبدالمنیار بن حمید بن نائل الفویسی قذافی اﷲ کو حاضر ناظر رکھ کر کہتا ہوں کہ اﷲ ایک ہے اور محمد اس کے آخری رسول ہیں میں یہ عہد کرتا ہوں کہ میرا خاتمہ بطور مسلمان ہوگا میری موت کی صورت میں میری تدفین اسلامی روایات کے مطابق کی جائے اور موت کے وقت میں نے جو کپڑے پہن رکھے ہوں انہی کپڑوں کے ساتھ دفنایا جائے اور میرے جسم سے خون صاف نہ کیا جائے مجھے سرت کے قبرستان میرے اہلخانہ و عزیز و اقارب کے ساتھ دفنایا جائے میں چاہوں گا کہ میری موت کے بعد میرے خاندان خصوصاً بچوں خواتین کے ساتھ اچھا سلوک کیاجائے


لیبیا کے عوام ملک کی شناخت اس کی کامیابیوں اور تاریخ اور اس کے آباﺅ اجداد اور ہیروز کے قابل احترام تشخص کا تحفظ کریں لیبیائی عوام کو آزاد اور بہترین لوگوں کی قربانیوں سے ہاتھ نہیں کھینچنا چاہئے


میں اپنے حامیوں سے کہتا ہوں کہ مزاحمت جاری رکھیں اور غیر ملکی قابضین کے خلاف آج ‘ کل اور ہمیشہ لڑیں تاکہ ہم دنیا کے آزاد لوگوں کو یہ پیغام دے سکیں کہ ہم ذاتی مفاد اور مستحکم زندگی کے بدلے سودہ کر سکتے تھے اور اپنا کاز فروخت کر سکتے تھے ہمیں اس حوالے سے کئی پیشکشیں کی گئیں تاہم ہم نے اپنے فرض اور قومی وقار کو مقدم رکھا اور مزاحمت کا راستہ اپنایا حتی کہ اگر ہم فوری کامیاب نہ ہوسکے لیکن ہم اپنی مستقبل کی نسلوں کو ایک پیغام دیں گے کہ قوم کے تحفظ کا انتخاب کرنا قابل فخر ہے اور دوسروں کی طرف سے آپ کو کچھ اور بنا کر پیش کرنے کے باوجود تاریخ آپ کو یاد رکھے گی

ڈنڈا سروس ڈنڈا سروس Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 11:27 AM Rating: 5

10 تبصرے:

Khawar king کہا...

بہت اچھا لکھا جی
کچھ اسی طرح کے خیالات ہیں جی
کنگ کے بھی
اور ہم دیکھیں گے کہ
لیبیا کے عوام
سر تے بانواں رکھ کے رون دے

معراج خٹک کہا...

اسلام وعلیکم

بہت اچھا لکھا ہے. ابھی لیبیائی عوام کا امتحان شروع ہواہے. دیکھتے ہیں یہ جس آزادی کے خواب دیکھ رہے تھے وہ ان کو کتنی حد تک ملتی ہے. سب سے پہلے تو ناٹو کا بل ملےگا کیونکہ انہوں نے مفت میں تو انکی مدد کی نہیں.

اللہ تعالی تمام مسلمانوں کو عقل سلیم عطا فرمائے. آمین.

dr Iftikhar Raja کہا...

مرنے کے چند ہی طریقے ہیں، جنگوں میں مرنے کے طور وہی ہیں، یہ مرد اس دور میں مغربی طاغوت کے خلاف ایک آواز تھا۔ جیسے ٹیپو سلطان برطانیہ کے خلاف مگر انجام وہی، گھر سے غدار
سچ لکھا لکھنے والے نے ہم دنیا کے آزاد لوگوں کو یہ پیغام دے سکیں کہ ہم ذاتی مفاد اور مستحکم زندگی کے بدلے سودہ کر سکتے تھے اور اپنا کاز فروخت کر سکتے تھے ہمیں اس حوالے سے کئی پیشکشیں کی گئیں تاہم ہم نے اپنے فرض اور قومی وقار کو مقدم رکھا اور مزاحمت کا راستہ اپنایا حتی کہ اگر ہم فوری کامیاب نہ ہوسکے لیکن ہم اپنی مستقبل کی نسلوں کو ایک پیغام دیں گے کہ قوم کے تحفظ کا انتخاب کرنا قابل فخر ہے اور دوسروں کی طرف سے آپ کو کچھ اور بنا کر پیش کرنے کے باوجود تاریخ آپ کو یاد رکھے گی

جاوید گوندل ، بآرسیلونا ۔ اسپین کہا...

یاسر بھائی!۔
مشرف کو ہیرو ماننے والے۔ قذافی اور دیگر کے لئیے کتے کی موت لکھ کر اپنے خبث باطن کا اظہار کرنے سے بعض نہیں آئیں گے۔ جبکہ وہ خود مغرب اور کنیڈا کے کے راتب کے کے لئیے ایڑیاں رگڑتے ہیں۔ محض چند دنیاوی سہولیات کے راتب کے لئیے۔جس میں کسی کے اپنے ذاتی اوصاف حمیدہ کی بجائے۔ اپنی اخلاقی روایات و دینی اقدار کو صبح شام پامال کرنا ٹہرا ہو۔ تو ایسی زندگی اور اس "راتب " کو اسی پیمانے سے "کتے کی زندگی" کہنا بجا نہ ہوگا۔؟

مان لیتے ہیں کہ قذافی ایک آمر تھا۔لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کس دور میں اور کسطرح کی بادشاہت کوہٹا کر ، مٹا کر اقتدار میں آیا ۔ اس پہ بھی روشنی ڈالی جانی چاہئیے تھی۔ بہت ممکن ہے قذافی کا طریقہ حکومت غلط تھا ۔ اسے واپسی کا رستہ بند نہیں کرنا چاہئیے تھا۔ مگر انگلی اٹھانے والے یہ بھی بیان کر دیں کہ افریقہ کے ایک اور مسلمان ملک نائجیریا جو تیل کی دولت اور قدرتی وسائل سے مالامال ہے ۔ اس نے کونسی ایسی ترقی کے تیر مار لئیے جس مثال بنایا جاسکتا ہو۔
ہمیں قذافی سے ہی نہیں بلکہ اسلامی دنیا کے تقریبا سبھی مسلمان حکمرانوں سے ایک شکایت ہے کہ وہ اپنے ممالک مییں کچھ ایسے میکانزم واضح کرتے جس سے ملک خدا پہ خدا کی حاکمیت اور مخلوق خدا کی فلاح ہو۔تانکہ مسلمان دنیا اسقدر اخلاقی و مادی ترقی کرے کہ کوئی اسے یا اس کی چند کالی بھیڑوں کو "ڈکٹیشن" نہ دے سکے۔ اور جب کوئی بزورو طاقت باہر سے حملہ آور ہو تو پوری قوم اسکے دانٹ کھٹے کر سکے۔جیسے گو کہ افغانستان کی مثال یہاں نہیں دی جاسکتی کہ افغانیوں کو ابھی تک اپنی مرضی کی حکومت بنانے اور حکومتی نظام وضع کرنے کا موقع نہیں ملا ۔ مگر ایک قوم کے حیثیت سے دنیا کی غریب ترین قوم اور وسائل کی انتہائی کمی کے باوجود دنیا کی امریر ترین اور ٹیکنالوجی میں اول ترین طاقتور قوم کے سامنے سییسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہیں۔

ضاءالحسن خان کہا...

بلکل ٹھیک تجزیہ کیا ہے ہاسر بھائی ۔۔۔۔۔ اور اس کتیا پر تو لعنت ہی بھیج دین وہ اس کتے کی دم کی طرح ہے جو کبھی بھی سیدھی نہیں ہوگی

ڈاکٹر جواد احمد خان کہا...

بہت خوب جناب،
خراب اثرات زائل کرنے میں جواب نہیں ہے آپکا...

بنیاد پرست کہا...

یاسر بھائی بہت اعلی۔ مزہ آیا پڑھتے ہوئے۔
پاکستانی میڈیا میں مغربی پراپیگنڈہ کی گونج کے درمیان میں اس جیسے کالم کی بہت ضررورت تھی۔

سعد کہا...

اللہ اس کی مغفرت فرمائے۔ آمین

خالد حمید کہا...

بہت بہترین زبردست

سعود کہا...

قذافی چالیس سال تک امریکہ اور مغرب سے ٹکر لے کر حکومت کرتا رہا ، لیکن تعلقات بنانے کے بعد چار سال حکومت نہ کر سکا۔ ہوے دوست تم جس کے دشمن ان کا آسماں کیوں ہو؟؟؟

یقینا قذافی نے اپنے ملک اور قوم کے لیے بہت اچھے کام کیے اور مسلم دنیا کے لیے خدمات بھی کم نہیں ۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کے بھادر آدمی تھا ۔

لیکن پچھلے کافی عرصہ سے وہ جن کا حکمران تھا ان کی اکثریت اس سے سخت نفرت کرنے لگی تھی، اور یقینا ان کے پاس جواز بھی ہونگے۔ جس پر گزرتی ہے وہی جانتا ہے ۔نفرت اندھی ہوتی ہے جو دشمن کے خلاف ساتھ دے وہی دوست ہوتا ہے۔

قذافی کے بعد حالات صحیح ہو جاینگے یا اور خراب یہ ایک الگ معاملہ ہے، ہم بھی تو مشرف کے بعد زرداری کو بھگت رہے ہیں تو کیا مشرف کو ہٹانے کی مہم غلط ہو گئی۔

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.