حاجی صاحب کی پرچی


ایک فیصل آبادی دوست نے بتایا تھا کہ فیصل آباد میں ایک بہت بڑی سوتر(دھاگہ) کی منڈی ہے۔ حاجی صاحب کا اس منڈی میں بہت بڑا سوتر کا کاروبار ہے۔ حاجی صاحب جب کسی سے سوتر خریدتے ہیں تو بیچنے والے کو ایک عدد پرچی پکڑا دیتے ہیں۔


اگر حاجی صاحب نے یہ سوتر ایک لاکھ کا خریدا ہے تو بیچنے والے کو ایک لاکھ روپیہ نہیں دیں گئے ۔اسے مبلغ ایک لاکھ کی پرچی تھما دی جائے گی۔ کیوںکہ حاجی صاحب نامور کاروباری ہیں اور ان کا مارکیٹ میں اعتبار ہے۔ اس پرچی کی قیمت ایک لاکھ ہی رہے گی۔


یہ ایک طرح کا ٹریول چیک ہوتا ہے۔ جس شخص کے پاس حاجی صاحب کی یہ پرچی ہوتی ہے ۔وہ شخص اس پرچی کو خریداری کیلئے یا آگے بیچ دیتا ہے۔ اس پرچی پر خرید وفروخت کرنے والا پرچی کو کیش کرتے وقت قیمت گراتا جاتا ہے۔اور یہ پرچی آخر کار واپس حاجی صاحب کے پاس اصل قیمت سے کم پر واپس آجاتی ہے۔ کتنی کم ہوتی ہے اسکا کائی اندازہ نہیں ، لیکن اصل قیمت سے کچھ فیصد کم ہو جاتی ہے۔


یعنی حاجی صاحب بیٹھے بیٹھے مال کا مال اور دام بھی کھرے کر لیتے ہیں۔ یہ ایک سرمایہ کاری نظام کی آسان سی شکل ہے۔ جاپان میں کریڈٹ کارڈ کی وبا اتنی ہی ہے۔
جتنی کہ دوسرے ممالک میں ہے۔لیکن یہاں پر طالب علم ایک برگر اور کوکا کولا یا اسی طرح کی روزمرہ کی اشیاء کریڈٹ پر نہیں خریدتے لیکن دوسرے یورپی ممالک یا ترقی یافتہ ممالک میں یہی دیکھنے میں آیا کہ چھوٹی موٹی اشیاء بھی کریڈٹ کارڈ سے خریدی جاتی ہیں۔


ہائی سکول یا کالج، یونورسٹی کے طالب علم بھی ایسا کرتے ہیں۔


عوام کو اس نظام میں اسطر ح جکڑ دیا گیا ہے ،کہ اخراجات پورے کرنے کیلئے ہر حال میں نوکری یا چاکری کرنی ہی پڑتی ہے۔میڈیا پر ہر ضروری و غیر ضروری اشیاء کی اس طرح تشہیر کی جاتی ہے ۔کہ دیکھنے والا ایسا محسوس کرتا ہے کہ اگر یہ شے میرے پاس نا ہوئی تو میری زندگی نہایت کم تر اور بیہودہ ہے۔


مہینے کے آخر میں بل گھر کی پوسٹ میں پڑے ہوتے ہیں۔تنخواہ یا آمدنی سے پہلے ہی اس کا استعمال ہو چکا ہوتا ہے۔عموماً ترقی یافتہ ممالک کی اعلی اخلاقیات کی مثال دیتے وقت شرمندگی کے ساتھ بتایا جاتا ہے۔کہ عام دنوں میں مہنگی اشیاء کرسمس کے موقع پر نہایت سستی قیمت پر دستیاب ہوتی ہیں۔


تھوک کے حساب سے سستا خام مال خریدا جاتا ہے ۔اور سارا سال اس خام مال سے تیار اشیاء مہنگے داموں بیچ کر خوب کمائی کی جاتی ہے اور سال کے ایک نہایت بڑے میلے پر عددی طور پر سستا اور زیادہ مال بیچ کر مزید مال کمایا جاتا ہے۔


سوچنے کی بات ہے جو مال کرسمس پہ سستا ہو سکتا ہے وہی مال انسانیت یا اخلاقیات کے نام پر سارا سال سستا کیوں نہیں بیچا جاتا؟ اس مال کی تیاری پر آنے والے اخراجات تو سارا سال ایک جیسے ہوتے ہیں۔ کاروبار کرنے والے کو معلوم ہے کہ ایک شے ایک جگہ سے خریدی یا بنوائی جائے تو اس پر گودام میں لانے تک کے اخراجات پندرہ روپے آتے ہیں۔تیس روپے کی آگے بیچتے ہیں تو گودام سے خریدنے والا آگے ساٹھ روپے سے سو روپے کی بیچتا ہے۔


حاجی صاحب کی پر چی گھومتے گھومتے کئی لوگوں کی جیب خالی کروا کر پہلے سرمایہ کار جس نے گودام سے مال اٹھا یا تھا اس کے پاس واپس آ جاتی ہے۔ سرمایہ کار اور اس کے ساتھی مال بھی اور دام بھی کھرے کر لیتے ہیں۔ اور عوام کو اس طرح اس دلدل میں پھنسا دیا گیا ہے۔کہ اپنی قوت خرید سے زیادہ قیمت کی اشیاء خریدتے ہیں۔اور اشیاء کی قیمتیں مصنوعی ضرورت کا احساس پیدا کرکے بڑھائی رکھتے ہیں۔آسان سی مثال ہے۔ضرورت کبھی کم نہیں ہوتی لیکن ہمیشہ خام تیل کی قیمت بہت زیادہ اور کبھی کم ہوجاتی ہے۔


کئی ممالک جیسے برازیل وغیرہ بھی اس وقت تیل برآمد کرنے والے ممالک میں شامل ہو گیا ہے۔لیکن تیل کی قیمت کم نہیں ہو رہی۔ نیا کنواں کھود بھی لیا جاتا ہے ،لیکن تیل کی قیمت گرنے نہیں دی جاتی۔


ایران جیسے ملک سے صرف
ایک ہی تو بغض ہے کہ اگر اس کا تیل بھی مارکیٹ میں عام ہو گیا تو قیمتیں گرنے کا خطرہ ہے۔یعنی سرمایہ کار ہی سیاست پر اثر انداز ہوتے ہیں
خام تیل جس سے پیٹرول ڈیزل وغیرہ بنتے ہیں اس کی طلب تو ہر حال میں اتنی ہی رہتی ہے ۔لیکن قیمت میں اتار چڑھاو لگا رہتا ہے۔
عوام کو اس نظام کا اسطرح غلام بنایا گیا ہے کہ ایک سستی شے کو مہنگا خریدنے پر مجبور کردیئے گئے۔اور اس مصنوعی مہنگی شے کو خریدنے کیلئے صبح شام رات دن بھاگ دوڑ میں لگے ہوئے ہیں۔اسی بھاگ دوڑ میں شادی کرتے ہیں بینک سے سودی قرضہ لیکر گھر بناتے ہیں۔اور گِٹے گوڈے جواب دینے تک اس گھر کا قرض اتارتے ہیں۔ اسی بینک سے سودی قرضہ لیکر بچوں کو اعلی تعلیم دلواتے ہیں اور جب بڈھا گھر میں گذر جاتے ہیں تو ان کی جگہ ان کے بچے لے لیتے ہیں اور پھر وہی شیطانی چکر شروع ہو جاتا ہے۔


ہم مسلمان سود کو حرام سمجھتے ہیں۔ہماری شریعت میں سود حرام ہے۔اگر ہم بینک میں رقم رکھیں تو اس پر سود مل جاتا ہے۔لیکن حرام ہونے کی وجہ سے یہ رقم نہیں لیتے۔لیکن ہماری مجبوری ہے کہ ہم اس بینکاری نظام کو استعمال کئے بغیر رہ نہیں سکتے۔


مزدور طبقہ بھی اپنی رقوم کی ترسیل کیلئے اسی سرمایہ درانہ نظام کے مائی باپ بینکاری نظام کو استعمال کرنے کیلئے مجبور ہے۔
اسی طرح ایک یتیم خانہ ، مدرسہ اور مسجد کو مشترکہ طور پر چلانے والے ایک مولاناصاحب کے پاس جانا ہوا تو انہیں چندہ دینے تک بات پہونچ گئی ،لیکن اس سے پہلے مجھے ایک عدد بیان سننا پڑا جو کہ سودی کاروبار کے متعلق تھا۔
میں اٹھا کہ کسی اے ٹی ایم سے رقم نکال کر لاوں اور ان مولانا صاحب کے حوالے کرکے ثواب کماوں۔۔۔۔۔۔
اٹھنے لگا تو مولانا نے ایک عدد پرنٹ کیا ہوا کاغذ میرے ہاتھ میں دیا اور فرمایا کہ ہمیں خوشی ہوگی کہ اگر آپ بھی اس کار خیر میں اپنا حصہ ڈالیں گے۔


کاغذ دیکھنے پر حبیب بینک لمٹیڈ کا اکاونٹ نمبر لکھا ہوا تھا ۔۔اس کار خیر کے ادارے کے نام کا۔۔۔۔۔
یہ واقعہ لکھتے ہوئے میرا مقصد اس ادارے یا مولانا کی تحقیر کرنا نہیں ہے۔ صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں۔ ہم لوگ اس سرمایہ کاری نظام یا دجالی نظام کی دلدل میں دھنس چکے ہیں۔


اس گندے نظام کا حصہ رہنا پڑے گا یا پھر اس سے جان چھڑانی پڑے گی۔ لیکن اس کیلئے ہمیں کوئی رہبر کوئی لیڈر چاھئے جو اسلامی معاشرے پر مبنی فلاحی ریاست قائم کرے۔
اگر یہی نظام رہا تو میرے بینک میں کروڑوں روپے ہوں گے اور میں ساٹھ پینسٹھ سال کی عمر میں پریشان ہوں گا کہ بڑھاپے میں کہیں یہ رقم کم نا پڑ جائے۔۔۔۔۔۔۔ہیں جی
ساٹھ پینسٹھ سال کے جاپانیوں کے منہ سے عموماً سنتا ہوں کہ بڑھاپے کیلئے کچھ پس انداز کرنا ہے۔ اس لئے پارٹ ٹائم جاب کر رہا ہوں۔۔۔۔ہیں جی ۔۔۔۔؟
ہم اسلام کے نام لیوا سب سے زیادہ اس سرمایہ کاری نظام یا سودی نظام یا پھر حرام۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نظام کے جانتے بوجھتے یا انجانے میں آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔
اور سے نکلنا اس وقت ہمارے بس سے باہر ہے۔
اور یہی شیطانی نظام انسانیت کو جدید انداز میں اپنا غلام بنائے ہوئے ہے۔

حاجی صاحب کی پرچی حاجی صاحب کی پرچی Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 10:25 PM Rating: 5

13 تبصرے:

منیر عباسی کہا...

آپ شائد حیران ہوں کہ اسلامی اقتصادیات نام کی کوئی چیزنہیں ہے. اقتصادیات کو اسلامانے کا کام ایک دو صدی قبل شروع ہوا. اس سلسلے میں بھی بہت کم کام ہوا. میں صرف مولانا مناظر احسن گیلانی کی کتاب اسلامی اقتصادیات کا نام جانتا ہوں، جو کہ ہاتھ سے لکھی گئی حالت میں میرے والد کے پاس موجود تھی. اس کے بعد تقی عثمانی صاحب کا کافی کام پڑھنے کو ملا.

مگر عمومی صورت حال یہ ہے کہ اسلامی بنکنگ یا اسلامی اقتصادیات اب بھی ایک خواب پریشان کی حیثیت رکھتے ہیں اور اس سلسلے میں بہت سے لوگوں کے پاس اشکالات موجود ہیں جن کا شافی جواب کسی کو نہیں مل پا رہا.

تقی عثمانی صاحب کچھ برس ہوئے ایبٹ آباد آئے تھے، ان سے اسی سلسلے میں ایک سوال کیا گیا کہ ، سیونگ ڈیپازٹ سود ہیں، ہم نہیں لے سکتے، مروجہ بینکینگ اور اس کا منافع سود ہے، ہم نہیں لے سکتے، میرے پاس پیسہ ہے، گھر پہ رکھوں تو چوری کا احتمال، کاروبار کر نہیں سکتا کہ شد بد نہیں. کروں تو کیا کروں؟

افسوس کی بات مولانا نے اس کا کوئی شافی جواب نہ دیا. اور حقیقت یہ ہے کہ اسلامی بینکینگ بھی کچھ ایسی ہی لگتی ہے جیسے کہ چوری کی مرغی کو مسجد کے صحن میں ذبح کر لینا. کافی عرصہ ہوا ایک محفل میں بطور سامع بیٹھنے کا موقع ملا تو اندازہ ہوا کہ شرکا کو یہی اسلامی اقتصادی نظام والی پریشانی کا حل نہیں مل رہا. اور وہیں مجھے علم ہوا کہ اس سلسلے میں ، یعنی موجودہ جدید اقتصادی نظام کی کچھ ایسی شکل بن گئی ہے، کہ مروجہ اصولوں کے مطابق کوئی حل نکلنا مشکل نظر آ رہا ہے. شارع علیہ السلام نے بھی کوئی ایسی ہدایات نہیں جاری فرمائیں جس سے ہم کسی اقتصادی نظام کو اسلاما سکیں.


تو؟ اب؟

DuFFeR - ڈفر کہا...

لیڈر کے بغیر انقلابوں کا وہی حال ہوتا ہے جو مصر کا ہو را
یا جو ہمارا مشرف کی جامد پہ ہوا
یہ سارے مسلے ثانوی ہیں
ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہی لیڈر کی کمی ہے
میں تو فیر کہہ دوں بانجھ ہو گئی مسلم قوم،
بے تخم مرد اور "انقلابی" عورتیں پیدا کری جا ری
لیکن لیڈر نشتا

سعد کہا...

میرا یہاں ایک سوال ہے۔ پاکستان میں بینک اسلامی، میزان بینک، بینک الفلاح تو اسلامی بینکنگ اور سود سے پاک نظام کا دعویٰ کرتے ہیں۔ کیا یہ لوگوں کو اسلام کے نام پر دھوکہ دے رہے ہیں؟

dr Iftikhar Raja کہا...

سودی نظام ایک عذاب ہے اور اسلامی معیشت کی بنیاد سودی نظام کے خلاف ہے مگر چونکہ مسلمان لوگ گزشتہ کئی صدیوں سے نیندر پھننڈ رہے ہیں لہذا انہوں نے اس طرف ہی نہیں بلکہ اپنے کسی معاملے پر توجہ نہیں دی۔ بس یہ کیا کہ ایک جدت کے حامل انقلاب کو چودہ سو برس پرانے کھونٹے سے باندھ دیا۔
اللہ کے نبی کا فرمان ہے کہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے تو انکو آج کے مولوی کے حرامی پنے کا علم تھا
ادھر یورپ میں لوگ پیٹ رہے ہیں کہ اسلامی بینکنگ کا نظام شروع کیا جائے مگر مولانا قادری فرماتی ہے کینیڈا میں سود پر گھر لینا جائیز ہے۔

ڈاکٹر جواد احمد خان کہا...

میں اس بات سے تو اتفاق کرتا ہوں کہ اسلام معیشت کا کوئی باقائدہ نظام نہیں دیتا مگر ساتھ ہی ساتھ وہ ایک ایسا اصول بتادیتا ہے کہ جس کے سامنے ہر قسم کا نظام ہیچ ہے اور وہ اصول یہی ہے کہ کسی بھی قسم کے نقصان کے اندیشے کے بغیر منافع کا حصول کی ممانعت . اب اگر اس اصول کو سامنے رکھا جائے تو امکانات اور متبادل نطام ہائے معیشت کے کئی دروازے کھلتے ہیں. مثلًًا مشارکہ کا نظام میرا پسندیدہ ہے . اس نظام میں ملکیت بھی ہے اور کسی قدر اشتراکیت بھی .
مثال کے طور پر ریاست سارے وسائل کو اپنے تصرف میں لے لے. ایک خاس حد سے بڑی زمین اور ایک خاص حد سے بڑا مکان رکھنے کی اجازت نا ہو.زائد زمین یا زائد مکانات ریاست کی ملکیت ہوں تاہم منقولہ جائداد پر ریاست کا کوئی حق نا ہو. پھر ریاست سہریوں سے شراکت کی بنیاد پر کاروبار کرے. جیسے 500 ہنر مند اور غیر ہنر مند افراد کو چن کر ایک صنعتی یونٹ لگا کر دے. جیسے موٹر سائیکل کی فیکٹری اور اسکے لیے ھنر مند اور غیر ہنرمند افراد کو جمع کرے جو اس فیکٹری کو چلاسکیں اور ریاست اس پیداوار ( یعنی ) موٹر سائیکل پر ہر قسم کا ٹیکس معاف کردے کہ وہ ریاستی ملکیت ہے. ابتدائی طور پر اس منافع کا 75% یا زائد ریاست اپنے پاس رکھے اور بقیہ 25% یا اس سے کم سے تنخواہیں (غیر یکساں) اور منافع (یکساں ) ہر ملازم کو دے. جب فیکٹری پر لگایا ہوا پیسہ وصول ہوجائے تو منافع کا 50% یا کم ریاستی آمدنی کے طور پر رکھا جائے اور بقیہ 25% کے شیئرز بنا کر اسٹاک مارکیٹ میں فروخت کردیے جائیں. جس سے عام شہری منافع کما سکیں.
چھوٹے کاروبار پر دیے گئے شخصی قرضوں پر طویل المدت اور کم ترین شرح منافع پر قرضہ کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے. جیسا کہ اگر کوئی ٹیکسی کے لیے قرضہ لے تو آمدنی کے 20% یا کم ریاست کے پاس جائے اور بقیہ اس شخص کے پاس.
اس نظام کے ذریعے بہت کچھ ڈیلیور کیا جاسکتا ہے. مشال کے طور پر صحت کی سہولیات یا تعلیم کی سہولیات. مفت سرکاری علاج معالجہ کا برائے نام نظام کو ختم کرکے اسکہ میڈیکل انشورینس سے مشروط کیا جاسکتا ہے. کسی علاقےمیں اگر ایک لاکھ رہائشی یونٹس ہون تو اس پر ایک جدید آلات اور سہولیات سے لیس اسپتال بنایا جاسکتا ہے. پھر ہر گھر سے کیبل جتنا پیسا ہر ماہ وصول کرکے انکو میڈیکل انشورینس دی جاسکتی ہے. یہ پیسہ بجلی کے بل کے ساتھ بھیج کر یا دوسرے ذرائع سے زبردستی وصول کیا جاسکتا ہے. (خوشی سے کوئی نہیں دے گا) ساتھ ہی صحت کے ضمن میں لیے جانا والا ٹیکس منسوخ کردیا جائے. .اس نظام کو کامیاب بنانے کے لیے پرائیویٹ اسپتالوں پر بھاری ٹیکس عائد کیے جاسکتے ہیں کہ غریب یا متوسظ طبقہ کا کوئی فرد کسی پرائیویٹ اسپتال مین جانے کا سوچ بھی نا سکے...... اسی طرح تعلیم کا نظام بھی اپنایا جاسکتا ہے.
اسی مشارکہ کے نظام کی بنیاد پر کامیاب غیر سودی بینکاری نظام کی بنیاد رکھی جاسکتی ہے.
اس نظام میں دو مشکلات ہیں اول یہ کہ منافع کا حصول سرمایہ دارانہ ذہنیت سے جتنا آسان ہوتا ہے ، شراکت سے اس کا حصول اتنا ہی مشکل ہوجا تا ہے. اس نظام کو قائم کرنے کے لیے بہت سارا چیک اینڈ بیلنس رکھنا ہوگا اور نظام کو اتنا شفاف رکھنا ہوگا کہ ایک عام آدمی بھی اپنی کمپیوٹر اسکرین پر اس نظام کی ضروری تفصیلات کو دیکھ سکے اور پرکھ سکے.
ایسے ہنر مند افراد کی کمی جو منافع کا حصول یقینی بنا سکیں.
اگر ان دو مشکلات پر قابو پا لیا جائے تومجھے یقین ہے کہ ایک انقلابی اقتصادی نظام کی بنیاد رکھی جاسکتی ہے.
یہ مجوزہ نظام خالصتاََ میری ذاتی سوچ کا نتیجہ ہے اس لیے اس میں سقم کا پایا جانا عین ممکن ہے . اور عین ممکن ہے کہ دوسرے بھی میری طرح انہی خطوط پر سوچتے ہوں.
اسلامی اقتصادیات اور اسلامی معیشت مفتی تقی عثمانی صاحب کی مہارت کا میدان نہیں اس کے لیے پروفیسر خورشید احمد نائب امیر جماعت اسلامی کہیں زیادہ موزوں شخص ہیں . جنہوں نے اس معاملے میں گراں قدر کام کیا ہے.

سعد کہا...

ڈاکٹر صاحب آپ کیلیے: http://www.muftitaqiusmani.com/index.php?option=com_content&view=article&id=2&Itemid=5

امید ہے مفتی تقی عثمانی کے بارے میں آپ کے علم میں کافی اضافہ ہو گا اور آپ آئندہ ان کے بارے میں غلط رائے قائم کرنے سے باز رہیں گے

ڈاکٹر جواد احمد خان کہا...

بڑے بھائی ،
میں نے مفتی تقی عثمانی صاحب کی شان میں کیا گستاخی کردی؟
مفتی صاحب بلا شبہ علوم دینیہ اور اسلامی تعزیرات میں ایک اتھارٹی ہیں اور یہی انکی مہارت کا میدان ہے اور بلاشبہ انکی اہمیت اور مقام مسلمہ ہے. مگر معیشت اور اقتصادیات ایک بالکل الگ فیلڈ ہے. اگرچہ مفتی صاحب نے اس میدان میں نہایت قابل قدر کام کیا ہے تاہم وہ ایک ماہر معاشیات نہیں ہیں لہذا ان سے معیشت اور بینکاری سے متعلق ہر مسئلہ کے حل کی توقع نا کی جاسکتی ہے اور نا کی جانی چاہیے. مجھے سمجھ نہیں آیا کہ میری بات میں مفتی تقی عثمانی صاحب کی اہانت کا پہلو کہاں سے نکل آیا.

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

ڈاکٹرصاحب آپ نے ایسی کوئی بات نہیں کی سعد ہی مفتی صاحب کا مرید ہے۔
ویسے اگر تقی صاحب یا خورشید صاحب اتنے ہی با صلاحیت اور قابل ہیں تو
ہمیں متبادل نظام دے کر اپنی اور ہماری آخرت سنواریں۔

خالد حمید کہا...

لے دے کے وہی حل .. کہ شریعت نافذ ہو تو سب کچھ ہو سکتا ہے ورنہ ہر جگہ لوگ چور راستے نکال لیتے ہیں..
اور شریعت ................ فی الوقت تو بہت ہی مشکل لگتا ہے...

منیر عباسی کہا...

مجھے سمجھ نہیں آتی اسلامی مملکت میں شریعت پر عمل کرنے سے ہمیں روک کون رہا ہے؟ ہم شریعت کے نفاذ کا مطالبہ کس سے کر رہے ہیں. اور کیا شریعت صرف اسلامی بنکینگ کا نام ہے؟ اگر نہیں، جو کہ واقعی نہیں، تو ہم دوسرے معاملات میں تو اپنے اوپر شریعت خود نافذ کر سکتے ہیں نا. ہمیں کوئی گن پوائنٹ پر تو ناجائز منافع خوری نہیں کرواتا. کسی نے زبردستی رشوت خورانی تو ہم سے نہیں کروائی؟

عبدالقدوس کہا...

بلاگروں نے آپس میں لڑ لڑ کر اپنی تمام تر توانیاں ختم ہی کرلی ہیں. اب بلاگروں کی تحریروں میں وہ جان نہیں رہی قسم سے

معراج خٹک کہا...

اسلام وعلیکم

اسلام بینکاری کی مد میں الحمداللہ اچھا خاصہ کام ہورہاہے اور اسلامی بینکوں کی طرف رجحان بھی بڑھ رہا ہے. لیکن صدیوں سے جاری اس سودی نظام کو چلانے والے لوگ اس کو اتنی آسانی سے تو ختم نہیں ھونے دینگے نہ. بس اسی وجہ سے اس طرح کی باتیں پھیلائی جاتی ہیں کہ اسلامی بنکاری ناممکن ہے اور یہ مروجہ اسلامی بنکاری بھی ٹھیک نہیں ہے. لیکن جیسا کہ مفتی تقی عثمانی صاحب مدظلہم بھی فرماتے ہیں کہ اس میں بھی غلطیاں ھوسکتی ہیں تو اھل علم حضرات کو چاہیے کہ ان باتوں کی طرف ان بنیکوں کے شریعہ بورڈ سے رجوع کریں.

باقی اگر کسی دوست کو اس بارے میں اور پڑھنا یا معلومات درکار ہوں تو وہ مندرجہ ذیل کا مطالعہ فرمائیں:
http://deeneislam.com/ur/verti/jadid/islamic_banking/Islamic_vs_Conventional_Banking/article.php?CID=201

اسکے علاوہ بھی اگر کسی دوست کو کچھ معلومات وغیرہ چاہیے ہوں تووہ مفتی صاحب مدظلہم سے یاکسی اور عالم سے جن پر آپ کااعتماد ہواسکے بارے میں براہ راست معلومات حاصل کرسکتے ہیں، انشاٖءاللہ آپ کو مکمل رہنمائی مل جائیگی.

اللہ سبحانہ وتعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو.

والسلام.

سعد کہا...

حضرت میں نے یہ کب کہا آپ نے ان کی شان میں گستاخی کی؟ اگر آپ اس لنک پر کلک کرنے کی زحمت کر لیتے تو کم از کم آپ کو اتنا علم ہو جاتا کہ مفتی صاحب اس میدان میں بھی مہارت رکھتے ہیں۔

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.