چند دنوں کی چاندنی


دنیا کے چند چیدہ چیدہ ممالک کے علاوہ تمام ممالک میں فحاشی خانے یعنی بازار حسن کا کاروبار غیر قانونی ہوتا ہے(ظاہراً) اسلامی ممالک میں جو اس وقت معاشی ترقی کی راہ پہ گامزن ممالک ہیں ۔ان میں بھی قانونی طور پر عیاشی کے تمام کاروبار ممنوع ہیں۔لیکن ہوتے سب ہیں۔

وچکارلا رستہ نکالا جاتا ہے۔۔۔۔۔ہیں جی


ملائیشیا ، انڈونیشیا ، دبئی وغیرہ کی مثالیں سامنے ہیں۔ اسلامی یا غیر اسلامی ممالک میں ایسے کاروبار کو پولیس جانتے بوجھتے خاموشی سے دیکھتی ہے ،بعض اوقات حسب ضرورت کانٹا چھانٹی کرنے کیلئے چھاپے وغیرہ بھی مار دیتی ہے۔


لیکن قلعہ قمع کرنے کا کام نہیں کرتی بلکہ جانتے بوجھتے کھیلنے دیا جاتا ہے۔ترقی یا فتہ یا مالدار ممالک میں چائینا ، تھائی ، فلپائن ، رشیا ، رومانیہ وغیرہ سے جسم فروشی کیلئے جنس سپلائی کی جاتی ہے یا عیاش لوگ ان ممالک کا رخ کرتے ہیں۔


عموماً دیکھتا اور سوچتا ہوں کہ ایک عام کاروباری کیلئے ان ترقی یافتہ ممالک کا ویزا لینا نہایت مشکل ہوتا ہے اور اس قبیل کے کاروبار کرنے والوں کو سہولت سے ویزا مل جاتا ہے۔ظاہر ہے ایسا کاروبار مافیا ہی کر رہی ہوتی ہے۔ جاپان میں بھی ایسے کاروبار پہ مافیا کا ہی کنٹرول ہے یا کسی نا کسی طرح مافیا کے تعلقات والے یہ کام کرتے ہیں۔


ہم جب سولہ سالہ ایٹم بم قسم کی عمر میں جاپان آئے تو راہ چلتے رک جاتے تھے اور وہی پاکستانی اسٹائل کی گھورا گھوری۔۔۔گھر تک دس منٹ کی مسافت بعض اوقت دو گھنٹے میں طے ہوتی تھی۔


ہمارا پاکستانی ماحول اس طرح کھلم کھلا تو ہے نہیں کہ ہم میں فطری تجسّس نا ہوتا۔اب عمر کا ایک کثیر حصہ جاپان جیسے کھلم کھلے معاشرے میں گذار کرگھورنے کے کام کی بھی تکنیک آگئی ہے۔یعنی دیکھتے ہیں انجوائے کرتے ہیں۔لیکن دکھانے کا شوق رکھنے والی کو برا محسوس نہیں ہوتا۔بلکہ مسکرا کر وش کر, دیتیاں, ہیں۔۔۔۔۔۔۔ہیں جی۔۔


یعنی گھورتے بھی ہم ہیں اور سلوٹ بھی ہمیں کیا جاتا ہے۔کافی سوچنے کے بعد یہی سمجھ آئی کہ جو عورتیں خوبصورت لباس یا خوبصورت فیشن ایبل کم لباسی اختیار کرتی ہیں۔ان کا مقصد ہی دکھانا ہوتا ہے۔۔ لیکن طوائف کی بھی عزت نفس ہوتی ہے۔۔۔ہیں جی ۔


اسی طرح ایسی خواتین کو تکنیک سے دیکھا جائے تو انہیں برا نہیں لگتا بلکہ وہ خوشی محسوس کرتی ہیں۔اور اگر ہاوء سویٹ یو آر قسم کا جملہ کسا جائے تو مسکرا کر شکریہ ادا کر دیا جاتا ہے۔


میں نے ایک پولیس آفیسر سے ان فحاشی کے اڈوں کے متعلق ایک دفعہ پوچھا کہ یہ کام مافیا کر رہی ہے اور آپ کو معلوم بھی ہے کہ یہ ایک غیر قانونی کام ہے جاپان جیسے ملک میں ایسے تضاد کی کچھ سمجھ نہیں آرہی؟


ان پولیس آفیسر کا کہنا تھا کہ یہ کام کرنے والے اگر کسی عام اور غیر متعلقہ شہری کو تنگ نا کریں تو ہم جان بوجھ کر دیکھا ان دیکھی کر دیتے ہیں۔ میں نے کہا یہی تو پوچھ رہا ہوں کہ ایسا کیوں کرتے ہیں؟


ان پولیس آفیسر نے جواب دیا کہ معاشرے میں امن و امان قائم رکھنے کیلئے ایسا کرنا مجبوری ہے۔اور مافیا کا تعاون حاصل کرنے کیلئے بھی ایسا کرنا مجبوری ہے۔

مجھے حیرت ہوئی کہ امن و امان کیلئے پولیس کو مافیا کے تعاون کی ضرورت ہے!!!!!۔۔


۔اس کے بعد جو معلومات ملیں ان کے مطابق اگر لوگوں کے فطری جذبات جو ہیجانی کفیت پیدا کردیتے ہیں۔ ان کی نکاسی کا بندوبست نا کیا جائے تو معاشرے کے کم عمر اور کمزور لوگ اس سے متاثر ہوں گے۔ اور معاشرہ دن بدن بگاڑ کا شکار ہو جائے گا۔


اور نا انصافی عام ہو جائے گی۔!!!۔

نا انصافی عام کیسے ہو گی؟

معاشرے کا کمزور طبقہ زیادتی کا شکار ہوگا اور زیادتی یا ظلم کرنے والا بچنے کیلئے اپنا اثرو رسوخ مال ودولت استعمال کرے گا۔ جب ایسا ہونے سے معاشرے میں نا انصافی عام ہوگی تو معاشرے کا امن وامان تباہ ہو جائے گا۔


سرمایہ کارانہ نظام کا حصہ بن کر اگر کوئی ملک ترقی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مال ودولت کمانا کہنا زیادہ بہتر ہوگا۔ تو ایسی خواہش رکھنے والے ممالک کو یہ آزادانہ نظام اپنانا پڑے گا۔

اور اس نظام میں عفت وعصمت کا کوئی تصور نہیں ہے۔۔امن و امان میں نظر آنے والا معاشرہ کچھ ایسا ہے کہ جسے ہم بے حیائی کہتے ہیں یہ کوئی بری بات نہیں کسی کی ماں یا بیوی کو راہ چلتے راضی کرکے وحشی جذبات کو تسکین دی اور لی جا سکتی ہے۔۔


کسی خاتون کی راہ چلتے چٹکی لینے کو ہم غلیظ حرکت سمجھتے ہیں۔ یہاں کوئی خاص بات نہیں سمجھی جاتی۔۔۔بہت نہیں تو نفسیاتی کہہ کر در گذر کر دیا جاتا ہے۔۔۔۔یہ علیحدہ موضوع ہے کہ اس آوازے کسنے اور ذرا سی چٹکی کی وجہ سے اس معاشرے کی خواتین نفسیات اور اعصاب کی دوائیں بنانے والی کمپنیوں کی مستقل گاہک ہوتی ہیں۔


میں اپنے تضاد کی بات کروں تو جب بھی پاکستان جاتا ہوں تو بچپن میں سنی بات یاد آجاتی ہے کہ خواتین کے سامنے سر اٹھا کر بات کرنا بیہودگی اور خلاف ادب بات ہے۔ راہ چلتی خواتین کو دیکھ کر خود بخود سر جھک جاتا ہے۔ لیکن یہی کام جو جاپان میں کرنے کا ہے اس کا احساس ہی نہیں ہوتا اور نا ہی یہاں کی خواتین کو گھورنے کا دل کرتا ہے۔۔۔گھورنے کیلئے کچھ ہوتو گھوریں نا۔۔۔ہیں جی۔


اسی طرح ایک دفعہ میں اور میرا جاپانی دوست اوکلینڈ کی سٹریٹ پر کھڑے گپیں مار رہے تھے کہ ایک دیسی ہنسوں کا جوڑا آیا ۔دونوں سیر و تفریح اور آزاد ماحول ملنے کی وجہ سے کافی پر جوش تھے۔ مونث ہنس نے منی سکرٹ پہن رکھی تھی ہم دونوں نے دیکھا اور اور کھی کھی کرکے آپس میں تبصرہ کردیا۔

جب ہنسوں کا جوڑا نزدیک آیا تو میں نے اپنا پاکستانی کام شروع کردیا۔یعنی گھوریاں مارنا۔۔دونوں کو یہ بات نہایت ناگوار گذری مذکر ہنس نے مجھے گھور کر کہا کیوں گھور گھور کے دیکھ رہا ہے؟


پہلے تو میں نے بھاگنے کا سوچا لیکن جب تصدیق ہو گئی کہ پٹائی نہیں ہوگی۔ تو میں نے کہا اس جاپانی سے پوچھ لیں ہم لوگ کیوں گھور رہے ہیں۔بحرحال میں آپ لوگوں کو تکلیف دینے کی معذرت چاہتا ہوں۔

اس جاپانی نے کہا کہ اگر منی سکرٹ ہی پہننا تھا،تو ٹانگوں کا جنگل ہی صاف کروا دیتے۔کہ ہمیں یہ عجوبہ دیکھنا نا پڑتا۔

ان ننگی ٹانگوں پر کالا جنگل اگا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہیں جی

خیر میں نے تو پہلے ہی بھاگنے کی تیاری کی ہوئی تھی ۔جاپانی کا حال مجھے دوسرے دن معلوم ہوا کہ وہ بھی سیانا تھا۔۔۔ مجھے سے زیادہ تیزی سے بھاگا تھا۔


یہ پاکستانی مرد جو عورتوں کو غلیظ گھوریاں کرتے ہیں ۔اس کا حل تو بہت آسان ہے۔ بچوں کی اسلامی تربیت کریں معاشرے کو اسلامی تعلیمات پر قائم کریں۔ جب بچے بچیاں پندرہ سے بیس سال کی عمر کے ہوں تو بیاہ کر دیں۔گھوریاں کرنے کا شوق ختم ہو جائے گا،۔۔۔۔ہیں جی۔


اگر یہ کام مشکل ہے تو دوسرا کام نا چاھتے ہوئے بھی خیمے میں گھسن جانے والے اونٹ کی طرح گھستا ہی تو آرہا ہے۔۔۔رونا کائے کا؟

بحرحال مال و دولت کمانا ہے تو بے حیائی اختیا ر کریں۔ماں بہن بیٹی کھلم کھلا بے حیائی کرے تو اسے بے حیائی نا سمجھا جائے ،بلکہ معاشرے کے امن وامان کیلئے ضروری سمجھا جائے،۔۔۔۔۔در کروڑ لعنت ایسے مال و دولت پہ۔


ایسا امن وامان حاصل کرنے کے بجائے معاشرے کی برائیوں سے لڑنے کا جہاد کرنا زیادہ افضل ہے۔۔۔بے شک کوئی عمل و فعل کے تضاد کا طعنہ دے۔

ہم کوّے ہیں ہنس کی چال چلنا ہمارے بس میں نہیں۔

اگر تھوڑے احساس برتری سے کہیں تو اتنا کہہ سکتے ہیں کہ ہم ہنس ہیں ہمارا کاں چٹّا نہیں ہو سکتا۔


پرامن معاشرے کو سمجھنے کیلئے ایک لینک ہے ضرور دیکھئے۔

http://www.thenewstribe.com/2011/10/14/over-10000-children-sexually-explioted-in-uk/#.TpdwlFsWVqw

چند دنوں کی چاندنی چند دنوں کی چاندنی Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 3:31 PM Rating: 5

26 تبصرے:

DuFFeR - ڈفر کہا...

او یو مولویز
ہونہہہہ
اپنے آپ عیاشی کرو باہر جا کے
اور ہمیں اسلامی معاشرے کے قیام کے خطبے
تم لوگوں کو روشن خیالی چھُو تک کے نی گزری
ابھی بھیجتا ہوں میں معاشرے کے چاچے کم چاچیوں زیادہ کو تمہارا بستوبند کرنے کیلئے

dr Iftikhar Raja کہا...

مسلمانوں حد کردی ہے آپ نے وی۔۔۔۔۔ ہیں جی۔ ایک گھمبیر مسئلہ کو تین وار۔۔۔ ہیں جی۔۔۔۔ کہہ کر لپیٹ ہی نہیں دیا بلکہ اسکا مستقل حل وی بتلادیا۔۔۔۔۔۔ ہیں جی۔۔۔۔۔۔ کہ نکوں کی ٹیم پر شادی کردو ورنہ فیر ہو جاؤ تیار جو ہوتا ہے اسکےلئے۔۔۔۔۔ ہیں جی۔

مزے مزے میں ایک لمبا چھتر پھیرنا ثابت کرتا ہے کہ صاحب تحریر کوئی بہت دور تک پہنچا ہوا بزرگ ہے۔ یعنی جاپان تک پہنچا ہوا۔۔۔ ہیں جی

بدتمیز کہا...

جناب کیا ہو گیا آپ کو؟ اتنے عرصے بعد لکھا تو وہ بھی بکواس کا جواب؟ جناب یہ جو ڈفر نام کا نہایت غلط بندہ ہے اس نے پیشنگوئی کی تھی کہ جب تک اس نامعقول کو کسی دوسرے ملک کا ویزہ نہیں ملتا یہ ایسے ہی اول فول لکھتی رہے گی۔ مذکورہ عورت کا کام ہی ہر پوسٹ میں ایسے دکھڑے لکھنا ہے۔ میں اب سوچتا ہوں کس کا ذوق اسقدر گھٹیا تھا کہ جناب کو سییٹی ماری یا چٹکی لی۔ اسلحہ اور عورتوں کے دو موضوعات تو ہو گئے جن پر ضرور ان کے بیوقوفانہ خیالات پر باہر رہنے والے ہنستے ہونگے۔ آپ بھی ہنسئے اور نکلئے۔

ڈاکٹر جواد احمد خان کہا...

بہت خوب جناب

احمر کہا...

الطاف حسین قریشی {اردو ڈایجسٹ} کے بھای اعجاز حسین قریشی نے اپنی زندگی کی کچھ خاص باتیں قلمبند کی تھیں، اس میں انہوں نے جرمنی میں تعلیم حاصل کرنے کے دوران پیش آنے والے واقعات کا بھی ذکر کیا- انہوں نے لکھا کہ شدید سردیوں میں جہاں ہم تمام تر کپڑوں میں ملبوس ہونے کے باوجود سردی سے بچنےکے لیے ہیٹر کے نزدیک بیٹھنے کی کوشش کرتے وہیں لڑکیاں منی سکرٹ میں یونیورسٹی آتیں اور ہمیں ان کے لیے جگہ چھوڑنی پڑتی- ایک دن تنگ آکر انہوں نے ان سے دریافت کیا کہ آخر آپ لوگ سردی سے بچاو کے لیے پورے کپڑے کیوں نہیں پہنتیں۔- ان کا جواب یہ تھا کہ "اپنی جسمانی خوبصورتی کی تمایش کے لیے یہ کوی زیادہ قیمت نہیں ہے"

احمر کہا...

تمایش = نمایش

براہ مہربانی مجھے بتایے گا کہ "حمزہ" اور دیگر زیر ، زبر، پیش وغیرہ کی بورڈ سے کیسے لکھی جاتی ہے-

خالد حمید کہا...

زبردست تجزیہ ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ لوگوں کو اسلام پر عمل کرنا پسند نہیں ہے۔۔ اور وہ ناپسدیدگی بھی ظاہر کرنا نہیں چاہتے۔۔ اسی وجہ سے وہ تنقید کرتے ہیں اور عمل سے بھاگتے ہیں۔۔۔

خرم ابن شبیر کہا...

بلکل یاسر بھائی آپ نے ٹھیک فرمایا اگر شادی وقت پر ہو جائے تو اس سے کافی فرق پڑتا ہے۔ لیکن آج کے دور میں ایسا ممکن نہیں ہے

انکل ٹام کہا...

اصل میں ہوتا یوں ہے کہ مغرب والے جو لڑکے گھورنے کی عادت سے محروم ہوتے ہیں اسکی وجہ انکی بغل میں ایک عدد خاتون کا ہونا ہے ، لہذا وہ صرف اپنے سامنے چلنے والی کو ہی گھور سکتے ہیں وہ بھی اس طریقے سے کہ بغل والی کو پتا نہ چلے ۔ اور سر جی میں تو ایک دو دفعہ گوروں میں اٹھ بیٹھا ہوں قسم لے لو وہ ایک نظر دیکھتے ہیں اور اتوں تھلے تک سب کچھ انکے دماغ میں تصویر جیسا آجاتا ہے ۔ میں تو بڑا پریشان ہوا کہ انکی آنکھیں اور میموری اتنی تیز کیسے ہے ۔

عادل کہا...

یہاں پر اوتاکو おたく اور اینجو کوسائ 援助交際 کا بھی ذکر آجاتا تو جاپانیوں کا کھاتہ سب کے سامنے کھل جاتا۔ ابھی یہ تو ہمیں پتا ہے، آپ کی نظر سے تو پتہ نہیں کیا کیا گزرا ہو گا۔

وقاراعظم کہا...

واہ جی پیر صیب بہت اعلی. دیسی ہنس منی اسکرٹ پہنا کر بھی غیرت مندی کا مظاہر کرتے ہیں. ہیں جی..... :D

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

مولوی ڈفر
بلا لیں اپنی چاچی کوبھی ہم مولوی ڈرتے ورتے نہیں ہیں۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

آپ تو جناب اٹلی والے پہونچے ہوئے بزرگ ہیں۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

جی یہ مولوی ڈفر تو ہیں ہی نجومی۔
کبھی کبھی خون گرم رکھنا چاھئے جی

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

جزاک اللہ ڈاکٹر صاحب

DuFFeR - ڈفر کہا...

http://www.mbilalm.com/download/urdu-paksign-keyboard.php

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

بس کچھ ایسا ہی مجبوری کے مسلمان بھی کرنا چاہتے ہیں۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

ان کی جان جاتی ہے جی

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

خرم میں غلط تو فرماتا ہی نہیں ہوں

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

چاچا ٹام یہی تو سمجھا رہا ہوں
انہیں تکنیک اآتی پے

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

نیچے ڈفر بھائی نےکی بورڈ کا لینک دیا ہے۔
وہاں سے فونٹ اور کی بورڈ ڈاون لوڈ کر لیں۔
شفٹ دبا کر فل سٹاپ دبائیں تو زیر کوما دبائیں تو زبر اور پی دبائیں تو پیش لکھی جا سکتی ہے۔ اسی طرح شفٹ دبا کر ھندسے کا چار دبائیں تو حمزہ لکھا جا سکتا ہے۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

ڈفر بھائی شکر یہ

عمران اقبال کہا...

بدتمیز صاحب... فرق بس اتنا ہے کہ باہر کا ویزا لگوا کر بھی اسی طرح کی اول فول بکی جارہی ہے... اور وہ بھی مسقتل مزاجی کے ساتھ...

عمران اقبال کہا...

جناب، گئے دنوں کی بات ہے، نوے نوے جوان ہوئے تھے۔۔۔ دبئی کے جمیرا بیچ ہوٹل میں اکاونٹس میں نوکری مل گئی۔۔۔ کبھی کبھی سپاٹ چیکنگ کے لیے ساحل سمندر پر واقع ریستوران کے چکر لگانے پڑتے۔۔۔ اب نئے نئےتھے اور ساحل سمندر پر براجمان دو پیس میں گوری چمڑیاں دیکھتے تو دل کو بہت کچھ ہوتا۔۔۔ پھر جب ہر دوسرے دن یہی نظارے کو دیکھنے کو ملے اور عادت سی بن گئی۔۔۔ تو یہ دن بھی آئے کہ یہ گند بلا دیکھتے ناگواری چھا جاتی۔۔۔ اور وہ ساری "ایکسائٹمنٹ" دفع دور ہو گئی جو پہلے دو دن تھی۔۔۔
اور پھر کچھ یوں ہوا کہ یونیورسٹی میں ہماری کلاس میں کافی خواتین تھیں، جن میں سے دو عبایہ پہنتی تھیں اور ہر وقت ان کی آنکھیں نیچی رہتی، نماز کی پابند، کم بات کرتیں اور ہر طرح کی بیہودگی سے دور رہتیں ۔۔۔ میں پورے وثوق سے کہتا ہوں کہ جتنی عزت کلاس کے لڑکے ان کی کرتے تھے، سلیو لیس والی لڑکیوں کی نہیں کرتے تھے۔۔۔

بات وہی ہوئی کہ کنیڈا والے مردوں کے لیے شارٹ سکرٹ پہنے لڑکی کوئی نئی بات نہیں۔۔۔ وہ تو دیکھ دیکھ کر تھک گئے ہیں۔۔۔ اس لیے ان کے پاس سے گزرتی منی سکرٹ میں گزرتی خواتیں میں ان کو کوئی انٹرسٹ نہیں اور نا ہی اب ایسے مناظر ان کے ہیجانی نفسیات سے کھلواڑ کرتے ہیں۔۔۔

عرفان بلوچ کہا...

یاسر بھائی صرف فحاشی کا کاروبار ہی نہیں بلکہ تقریبا تمام ہی جرائم حکومتی سرپرستی کے بغیر نہیں پنپ سکتے
کسی بھی مافیا سے ٹکر لینے کے بجائے مفاہمت کی پالیسی کئی وجوہات سے اپنائی جاتی ہے ایک کا ذکر تو آپ نے کر دیا یعنی امن امان کو برقرار رکھنا
دوسری وجوہات میں سے زیادہ تر مختلف طبقوں کا ذاتی یا گروہی مفاد وابستہ ہوتا
پاکستان تو اس کی سب سے بھیانک مثال ہے ۔ کون سا کام ہے جو کسی نہ کسی حکومتی ادارے کی سر پرستی میں نہیں ہو رہا ۔

قمر کہا...

مزا آ گیا

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.