ہم اور ہمارے معاملات

حال ہی میں جاپان میں ایک پاکستانی کے ہاتھوں ان کی بیوی کا قتل ہوا۔سننے میں یہی آیا کہ گھریلو مسائل پر جھگڑا تھا۔جس پر یہ دردناک واقعہ رونما ہوا۔ ہم پاکستانی اسی کی دھائی میں جاپان آنا شروع ہوئے۔کوشش سب کی یہی تھی کہ کسی نا کسی طریقہ سے یہاں کا مستقل ویزہ حاصل کیا جائے۔

سب سے آسان طریقہ یہی تھا کہ جاپان میں جاپانی خواتین سے شادی کرلی جائے۔جاپانی زیادہ تر کورے کاغذ کی طرح ہوتے ہیں۔شادی بیاہ چرچ میں جا کر کر لیتے ہیں تو امواتی تقریبات بدھ مذہب کے طریقے کے مطابق کی جاتی ہیں۔ہمارے ایک جاننے والے عیسائی کی میت کو جلایا گیا اور ان کے آبائی قبرستان میں انکی خاک اور ھڈیاں دفنائی گئیں۔
جاپان میں کرسمس بھی نہایت زور شور اور دھوم دھام سے منائی جاتی ہے۔

کرسمس کومذہبی تہوار کے طور پر نہیں،صرف ایک معاشی تہوار یا میلہ سمجھ کر منایا جاتاہے۔کہنے کا مقصد یہ ہے کہ جاپانی مذہب کے معاملے میں اعتدال پسند واقع ہوئے ہیں۔اگر کسی کے ساتھ انسانیت کی بنیاد پر تعلقات ہیں تو کسی کے عقیدہ کو برا نہیں سمجھتے، کسی غیر ملکی سے شادی کرنے کی صورت میں اپنے شوہر یا بیوی کا مذہب اختیار کرلیتے ہیں۔
جاپانی اپنے آپ سے جھوٹ نہیں بولتے اس لئے ان کی کوشش ہوتی ہے،کہ اپنے ساتھی کا مذہب اختیار کرنے یا اپنے ساتھی کے ساتھ زندگی گذارنے کیلئے ساتھی کے ساتھ ہر طرح کا تعاون کیا جائے۔اور زندگی اچھے طریقے سے گذاری جائے۔
ہم مسلمانوں نے یہاں پر شادی کے وقت جاپانی خواتین کو کلمہ پڑھا کر مسلمان کیا اور شادی کر لی۔مقصد ویزا تھا اور لگے ہاتھوں آخرت کو بھی سنوارنے کا خیال تھا۔اتنا ہم سب کو علم تھا کہ غیر مسلم یا اہل کتاب کے علاوہ سے ہماری شادی نہیں ہو سکتی۔
ہم مسلمانوں کا جاپان آنے کا مقصد روزگار تھا۔اپنے ملک میں چھوڑ کر آنے والے گھر والوں کو سپورٹ کرنا مقصد تھا۔شادی کے بعد سب مستقل بنیادوں پر جاپان میں بس گئے۔ظاہر ہے زیادہ تر اپنے ممالک کے غریب گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔اگر میں اپنے آپ اور اپنے گھر کو دیکھوں تو ایک غریب گھرانے سے تعلق تھا۔دینی ،دینوی تعلیم و تربیت کوئی خاص نہیں تھی۔جو کچھ سکول یا مسجد کے امام صاحب سے سن کر سیکھا تھا وہ ہی اپنی تعلیم اور تربیت ہے۔

جاپانی خواتین و حضرات سے شادی کے رشتے میں منسلک ہونے والے زیادہ تر مسلمان روزگار میں مصروف ہوگئے۔کچھ لوگ معاشی طور پر مضبوط ہوگئے تو کئی مسائل حل ہوگئے۔جن حضرات کے معاشی حالت ٹھیک بہتر یا بہت اچھے نہیں ہوئے۔ ان کے گھریلو مسائل میں اضافہ ہوتا گیا۔

جاپان میں اولاد ہوگئی اور پاکستان کے خاندان کی طرف سے مسلسل ضروری و غیر ضروری اخراجات کا تقاضہ چلتا رہا۔اس سے جو سب سے برا اثر گھرانے پر پڑا وہ گھر میں معاشی مسائل کا بڑھنا تھا۔جس سے جاپانی اہل و عیال تنگ دستی کا شکار ہوگئے۔ اس تنگ دستی کی وجہ سے گھریلو جھگڑے ہونا شروع ہوئے اور مذہب صرف علامت ،۔۔یا۔۔۔۔۔ ملکی یا ذاتی پہچان تک محدود رہ گیا۔

جاپان مشرق میں ہونے کے باوجود ایک مکمل مغربی معاشرہ ہے۔لبرل یا سیکولر معاشرہ ہے۔اس معاشرے میں اولاد کی پرورش پاکستانیت یا مسلمانیت پر کرنا انتہائی مشکل ہے۔بنیادی اسلامی تعلیم دینے کے باوجود ماحول نا ہونے کی وجہ سے ان دینی تعلیمات کی بنیادیں مضبوط کرنا انتہائی کٹھن ہے۔
اولاد کے بڑھے ہونے کے ساتھ ساتھ ہم مسلمان کیلئے تکلیف دہ اور ناقابل برداشت مسائل سامنے آنا شروع ہو جاتے ہیں۔گھریلو لڑائی جھگڑے اور معاشی مسائل سے بچوں کے ذہن بھی بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔ جو ایک دو کشتیوں پہ سوار گھرانے کو الجھن زدہ دلدل میں دھکیل دیتے ہیں۔
جاپان میں اس وقت تقریبا مسلمانوں کی اکثریت والے علاقوں میں مساجد موجود ہیں۔لیکن ان مساجد میں بہت ہی کم جگہوں پر جاپانی جاننے والے علما یا امام حضرات موجود ہیں۔زیادہ تر مساجد میں وہی مسلکی اور فروعی مسائل کا معاملہ دیکھنے میں آتا ہے۔
اس دفعہ اس قتل کے سانحہ کے بعد جو معاملہ دیکھنے میں آیا کہ مقتولہ جو کہ مسلمان کی بیوی تھیں ان کی آخری رسومات بدھ مذہب کے مطابق ہوئیں۔ ان رسومات میں قاتل اور مقتولہ کے چودہ اور سولہ سالہ بچے بھی شامل ہوئے۔اور وارثین کی شدید خواہش کے مطابق یہ آخری رسومات ادا ہوئیں۔
قاتل جیل میں ہیں۔یہاں کے مسلمانوں نے بہت کوشش کی کہ مقتولہ کی آخری رسومات اسلامی طریقے ادا کی جائیں لیکن ان مسلمانوں کے مطالبے کو سختی سے مسترد کر دیا گیا۔
اور کہا گیا کہ ہماری ماں بہن بیٹی کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا اور اب اس کی میت بھی ہم سے چھین لینا چاھتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایسے معاملات پر جب ہم مسلمانوں کی مسلمانیت جاگتی ہے۔اور جس شدید قسم کے مذہبی جذبات کا اظہار ہم لوگ کرتے ہیں۔ یہی مذہبی جذبات اگر ہم اپنی معاشرت اپنے معاملات میں اختیار کریں تو میرے خیال میں کم ازکم ایک عشرے میں آدھے سے زیادہ جاپان مسلمان ہو جائے گا۔ اور ہمارا پاکستان سارے کا سارا مسلمان ہو جائے گا۔
اگر ان مقتولہ اوران کے بچوں کی تربیت اسلامی طریقے کے مطابق ہوتی تو میرا خیال ہے کہ ان مقتولہ کی آخری رسومات بدھ مذہب کے طریقے سے ادا نہیں ہوتیں۔

جاپانی نومسلم اور ان کے بچوں کو اسلامی تعلیم دینا، ان کے زندگی کے ساتھی کا فرض بنتا ہے۔اور اس کے بعد ان سے معاملات کرنے جاپان میں مقیم مسلمانوں کا بھی فرض ہے۔ اور پاکستان یا دوسرے مسلم ملک میں جاپان سے بھیجی گئی رقم سے زندگی گذارنے والے ان کے خاندان والوں کا فرض بنتا ہے۔

اگر ہمارے ممالک میں امن وامان ہو اور ہم اپنے جاپانی بیوی بچوں کو اپنے آبائی ممالک میں بسا سکتے ہوں تو پھر بھی ہمارے بہت سارے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔لیکن ان جاپانی بیوی بچوں کو ہمارے آبائی ممالک میں زیادہ خطرہ محسوس ہوتا ہے۔ہمارے پاس کوئی ضمانت نہیں ہے کہ جاپان مال کی لالچ میں انہیں اغوا نہیں کیا جائے گا۔انہیں دھوکہ نہیں دیا جائے گا۔

جو مسلمان معاشی طور پر مظبوط ہیں انہوں نے اپنے جاپانی بیوی بچوں کو دبئی میں بسا رکھا ہے۔لیکن بیچارے وہاں پر بھی پریشان ہی ہیں۔۔۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہم مسلمانوں کے حال پر رحم فرمائے اور ہمیں اپنے حال پر رحم کرنے کا احساس عطا فرمائے۔۔آمین
ہم اور ہمارے معاملات ہم اور ہمارے معاملات Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 2:49 PM Rating: 5

8 تبصرے:

محمد سلیم کہا...

انا للہ و انا الیہ راجعون۔ پڑھ کر بہت افسوس ہوا۔

ڈاکٹر جواد احمد خان کہا...

ایک افسوسناک سانحہ ہے. آپ نے جن مسائل کی طرف اشارہ کیا وہ مسائل آپکو دارالکفر میں لازماََ ملیں گے.
کتنا اچھا ہوتا اگر آپ اس حادثہ کے اسباب اور کچھ ضروری تفصیلات کے ساتھ بیان فرمادیتے.

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

جواد بھائی ضروری تفصیلات ذاتی قسم کی باتیں آجاتی ہیں۔ایسے معاملات میں۔
بحر حال قاتل نے تیزدار آلے سے قتل کرنے کے بعد خودکشی کوشش کی تھی۔
اب پولیس کی حراست میں ھے

عادل کہا...

اس تحریر سے کچھ ملتا جلتا واقعہ ٹورونٹو میں کچھ دیر پہلے پیش آیا۔ ملزم نے بیٹی کو غیرت کے نام پر قتل کر دیا۔ معاملہ منختصر، ایک غیر اسلامی، غیر پاکستانی لبرل معاشرے میں ملزم کی توقعات گراوَنڈ رییَلیٹی سے کچھ مشابہ نہ تھیں۔
اگر تھوڈا غور کیا جاےَ تو معاملہ کافی پیچیدہ ہے۔ دھوبی کا کتا نا گھر کا نا گھاٹ کا۔ بچوں کی ایسی پرورش ہو کہ جی جی کرتے ہر فرمان پر حاضر ہوں، بیوی نیچی آنکھوں سے، جھکی کمر کے ساتھ ڈرتے ہونٹوں سے روز کام سے واپسی پر شاہانہ استقبال کرے، ماں باپ ہر ایک کے سامنے فخر سے بتائیں کے ان کا فرزند ارجمند لاکھوں کما رہا ہے اور ہر ماہ دتھیوں مال گھر بھیجتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ لیکن جب ان معملات میں کچھ کمی واقع ہو جائے تو ولایت میں مقیم پاکستانی میں موجود غیرت کا لاوا جوش مارتا ہے اور کسی نا کسی کے سر چڑھ جا تا ہے۔
یاسر بھائی آپ کی حالیہ تحاریر میں میں کچھ پیسیمزم کے جراثیم دیکھ رہا ہوں۔ کیوں جی؟

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

یہ جراثیم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دھوبی کا کتا گھر کا نا گھاٹ ۔۔۔۔۔۔۔۔کا احساس ہونے سے پیدا ہو رہے ہیں۔
واپسی کے راستے بند تو نہیں لیکن ہم واپسی کے راستوں میں کانٹے دیکھ رہے ہیں۔

عادل کہا...

اﷲ آپ کو خوش رکھے۔ انسان کی زندگی ایک مستقل جدوجہد ہے، اﷲ تعلیٰ سے امید اچھی رکھیں۔ بس جان کا خاتمہ ایسے موڈ پہ نہ ہو کہ آس پاس کے لوگ کلمہ شکر پڑہیں۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

شکریہ عادل بھائی۔
انشاء اللہ کوشش پوری ہوگی انجام بخیر ہی ہو

شازل کہا...

مجھے جاپانی کی بجائے چاہئیز خواتین میں زیادہ خوبصورتی دکھائی دیتی ہے
چپٹے نقوش ایک پوری پٹی پر پھیلے ہوئے ہیں.

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.