وحشی قلب

فطرت کے اصل لحاظ سے انسانی قلوب وحشت پسند واقع ہوئے ہیں۔ کہیں پڑھا تھا کہ لوگوں کے دل صحرائی جانور کی طرح ہوتے ہیں،جو ان کو سدھائے گا اس کی طرف جھکیں گے۔


اس صحرائی جانور کے دل کو انسانیت کے نام پر یا مذہب کے نام پر سدھا کر اس میں انس و محبت کا  ایک اکتسابی جذبہ پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اور اسے معاشرے کی دوڑ میں شامل کر لیا جاتا ہے۔ اور معاشرے کو اپنے عقائد ونظریات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔


سکول مدرسہ کالج یونیورسٹی یہ سب ادارے اس جانور کے دل کو سدھانے کیلئے ہی ہیں۔کہ سدھر کر اکثریت کے عقائد ونظریات پر قائم معاشرے کا حصہ بن جائے۔


  انس ومحبت کا جذبہ اکتسابی جذبہ ہے ۔ جب  انس و محبت کے دواعی اسباب ختم ہو جاتے ہیں یا بعض وجوہات سے نفرت کے جذبات میں بدل جاتے ہیں تو قلوب انسانی وحشت کی طرف پلٹ جاتے ہیں۔اور پھر بڑی مشکل سے محبت کی راہ پر گامزن ہوتے ہیں۔


 اس سدھائے ہوئے وحشی قلب کے جانور  کی عزت نفس یا وقار پر حملہ کیا جائے تو دوبارہ وحشت کی طرف پلٹ جاتا ہے۔جب معاشرہ انتشار کا شکار ہوتا ہے ،جرائم قتل و غارت عام ہو جاتی ہے۔ 


 ہر طرف آپا دھاپی نفسا نفسی کا دور عام ہوجاتا ہے تو صرف وحشت کا نظام جاری ہو جاتا ہے۔ اکتسابی جذبہ


چاھے مذہبی ہو ،اخلاقی ہو ، انسانی  ہو، یا معاشرتی یا معاشی سب کچھ اس وحشت  کا شکار ہوجاتا ہے۔


 اس معاشرتی زندگی میں وحشی قلب کی انفرادی ذات صرف فریب ہے۔  انفرادی طور پر ہم سب قانون یا مذہب اور سلسلہ اسباب کے بہت بڑے دھارے کا ایک جزو ہیں۔


یا خدا ئے واحد کا جزو ہیں۔  ایسے بھی سوچا جا سکتا ہے کہ ہم ایک ایسے وجود کی آنی و فانی اشکال ہیں۔جو ہم سب سے عظیم تر ہے۔ہم فانی اور متناہی ہیں وہ ابدی اور لامتناہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


 اس وحشی قلب کو اگر خدائے واحد بصیرت عطا کردے تو یہ گرم رفتار رہتا ہے اگر جہالت میں مبتلا کردے تو اسباب خارجی سے متاثر ہوکر پریشان رہتا ہے۔اور سچا ذہنی سکون و آسودگی اسے نصیب نہیں ہوتی۔ جذبات کی شورش ختم ہوتے ہی یہ جاہل خود بھی ختم ہو جاتا ہے۔


اور جسے بصیرت عطا کی جاتی ہے۔ وہ روحانی اور ذہنی کوفت میں مبتلا نہیں ہوتا۔ اس کا تعقل اور بصیرت ہمیشہ قائم رہتی ہے۔اور وہ سکون قلب کی نعمت سے مالامال رہتا ہے۔


 ہمارا تجربہ ہے کہ اس اکتسابی معاشرے میں وحشی قلب کی دو قسمیں پائی جاتی ہیں۔ ایک جو اپنے آپ کو باعزت اور باوقار سمجھتا ہے۔اگر اس کا وقار مجروح ہوتو یک دم وحشت کی طرف پلٹ جاتا ہے اور سب کچھ تہس نہس کرنے پہ تل جاتا ہے۔


دوسرا ذلیل و کم ظرف ہوتا ہے۔اگر اسے اس کی حثیت سے بڑھ کر عزت دی جائے تو الٹے مٹکے کی طرح اندر کا سب کچھ باہر پھینک دیتا ہے۔اور دوسروں کی تذلیل پہ تل جاتا ہے۔


 دونوں میں ایک ہی شے مشترک ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وحشت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وحشی قلب وحشی قلب Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 2:45 PM Rating: 5

9 تبصرے:

ضیاء کہا...

مطلب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں بھی لگا آوں ایک چکر ماسکو کا:) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ویسے بہت بڑھیا بات لکھی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بس اللہ سمجھا دٖ آمین

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

مولبی ساب۔۔۔۔۔۔۔لگادوں وہ آلا قول زریں؟ :D

محمد سلیم کہا...

یاسر بھائی ۔ کہنے کو تو اپ جوانی میں ہی جاپان چلے گئے تھے۔ مگر ایک اچھی تربیت اور کردار کی مضبوطی کا اظہار اپ کی تحریروں سے جھلکتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اپکو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔ اپ نے اتنا گہرا فلسفہ اور تصوف لکھ دیا۔

عدنان مسعود کہا...

بہت خوب یاسر صاحب، فلسفہ حیات بزبان وحشت

ایسے آہوئے رم خوردہ کی وحشت کھونی مشکل تھی
سحر کیا اعجاز کیا جن لوگوں نے تجھ کو رام کیا

جعفر کہا...

بہت اعلی بات لکھی ہے.

عمران اقبال کہا...

میں سلیم صاحب کے تبصرے کے ہر ہر لفظ سے متفق ہوں... یہ تحریر آپ کی اچھی سوچ اور عمدہ تربیت کی عکاس ہے... اللہ آپ کو ہمیشہ خوش و خرم رکھے... آمین...

انکل ٹام کہا...

تو پھر آپ کب سے مجھے اپنی شاگردی میں لے رہے ہیں ؟

نعیم اکرم ملک کہا...

یعنی کہ بنیادی طور پر "دِل تو پاغل ہے۔۔۔ دِل دیوانہ ہے"۔۔۔ اور موقع مِلتے ہیں کسی کا سِر پاڑ دیتاہے۔۔۔
نصابی چاہے غیر نصابی۔۔۔ حسابی کتابی۔۔۔ لال غلابی۔۔۔ سب کچھ ہے تو اکتسابی۔۔۔ آنی جانی دنیا فانی۔۔۔ کھیڈ پرانی۔۔۔ پائی جاپانی۔۔۔
وحشت کا کوئی نظام نہیں ہوتا۔۔۔ بلکہ ہر وحشی کا اپنا اپنا نظام ہوتا ہے۔۔۔ جو جسکے دانت کے نیچے آ جائے۔۔۔ رگڑا جاتا ہے۔۔۔
وحشی قلوب کے علاوہ ایک اور قسم کا بھی دِل ہوتا ہے۔۔۔ بکری دِل۔۔۔ ذرا دبکا مارو، اور کچھ بھی کروا لو۔۔۔ قلوب کی جامع کلاسیفکیشن کر کے انسکائلوپیڈیا مرتب کرنا شاید اتنا سیدھا کام نہیں ہو گا۔۔۔
خدا کا جزو تو خیر ہم نہیں۔۔۔ اسکا اپنا کوئی حساب کتاب ہے۔۔۔ کہاں ہم۔۔۔ کمزور مسکین۔۔۔ کہاں وہ۔۔۔ رب العالمین۔۔۔ ہاں البتہ ایک بہت بڑے نظام کا حصہ ہم ضرور ہیں۔۔۔ کشش ثقل سے لے کر خون کے سفید خلیوں تک۔۔۔ اور یہاں سے نِکل کر پھیلتی کائناتوں تک۔۔۔ ہے تو سارا ایک نظام۔۔۔ لاکھوں کڑوڑوں فارمولوں کا گھیچی میچی نظام۔۔۔
شاید کبھی یہ نظام بندوں کی سمجھ میں آ بھی جائے۔۔۔ لیکن شاید جب چیزیں کچھ کچھ سیدھی ہونے لگیں تو ایگزامینر ہمارے ہاتھ سے پرچہ کھینچ لے، اور مسکرا کر کہے۔۔۔ گیم اوور۔۔۔

dr Iftikhar Raja کہا...

بڑی فلسفیانہ قسم کی تحریر نہیں بلکہ تقریر کردی ہے آپ نے، چند روز قبل ادھر میلان یونیورسٹی کے ایک سیمینار میں شامل تھا، اس کا موضوع بھی یہی تھا واردات قلبی اور انسانی تربیت، مقریرین جن میں راقم شامل نہیں تھا کا خیال تھا کہ تربیت سے انسان کا کچھ تو بھلا ہوسکتا ہے مگر جب تک اندر کی کالخ نہ نکلے سو فیصد شفایابی ممکن نہیں۔ ۔ ۔

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.