بے چین دل

ہر طرف نفرت ،نفرت ،بغض ،بغض،۔۔۔۔ایک جاپانی دوست جو اسلام میں دلچسپی لے رہے ہیں۔انہوں نے سوالات کر کر کے پاگل کردیا۔


پورا ماہ رمضان ان کے سوالات بعض دین کی سوجھ بوجھ رکھنے والے دوستوں سے پوچھ پوچھ کر محتاط طریقے سے دیتا رہا۔مختلف مساجد کا رابطہ نمبر دیا۔جو جاپانی مسلمان جاننے والے ہیں ان سے رابطہ کر وانے کی کوشش کی۔۔۔۔۔۔


لیکن خدا کی قسم بد نام کر دیا اسلام کو اس فرقہ پرستی نے جو پیدائشی مسلمان اور سادہ لوح ہیں وہ بھی اس فرقہ پرستی کی وجہ سے دین بیزار ہو جاتے ہیں۔جو دوسرے کی ورایٹی کا نہیں وہ گمراہ ہے۔چاھے بیچارہ اپنے وقت کا کتنا ہی بڑا دین کیلئے قربانیاں دینے والا گذرا ہو۔اپنی ورائٹی کا نہیں تو ناپسندیدہ


اپنا بندہ ہے تو جو دل میں آئے کرے بے شک اسلام کو نقصان ہی کیوں نا پہونچے۔۔اسلام کا نقصان؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


جو لوگ بت پرستی میں مبتلا ہیں۔وہ بھی ان فرقہ پرستوں کی وجہ سے اپنے حال پر خوش رہنا پسند کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس دوست کو کہا کہ چلو کس مسجد کے امام صاحب کے پاس جاتے ہیں ۔جو کچھ پوچھناہے پوچھو اور میں ترجمہ کر دوں گا۔


ان کا کہنا ہے سب طرف سے ہو کر آگیا۔کچھ اطمینان نہیں ہوا۔ ہو سکتا ہے ان جاپانی صاحب کے ساتھ کوئی نفسیاتی مسئلہ ہو لیکن۔۔۔۔۔۔۔ان کی باتیں میرے جیسے کم علم ، کم فہم کو شرمندہ کر دیتی ہیں۔چن چن کے فرقہ پرستی کی سوالات کرتے ہیں۔تنگ آکر کہہ دیا بھائی جو دل میں آئے کریں۔میرا تو کوئی فرقہ مسلک  نہیں۔۔۔۔۔۔


آپ کا دل کرتا ہے تو اسلام قبول کر لیں۔۔مسلمانوں سے اطمینان نہیں تو مسلمان کو قبول نہ کریں  .۔۔۔۔۔ان سے تو جان چھوٹ گئی لیکن کیا کروں اس دل کا پھٹا جارہا۔۔۔بے سکونی ،بے چینی ، بیقراری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ذہن میں یہی سوچ آتی ہے کہ کیا میں مسلمان ہوں؟


قرآن اور حدیث پڑھتے ہیں تو کچھ اور نظر آتا ہے۔۔قابل عزت علما کرام کو دیکھتے  سنتے پڑھتے  ہیں تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نا ختم ہونے والی جستجو دل میں پیدا ہوتی  ہے۔ ایک عالم صاحب کو سنتے ہیں تو عقیدت محسوس ہوتی ہے کہ یہ کتنی پیاری باتیں کرتے ہیں۔دوسرے عالم صاحب بھی پیاری پیاری باتیں کر رہے ہوتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے۔پہلے والے عالم صاحب تو گمراہ ہیں۔۔۔۔۔۔دونوں اچھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن مسلک کی وجہ سے دونوں ایک دوسرے کی نظر میں گمراہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


مجھے تو دونوں عالم حضرات اچھے لگتے ہیں۔مسلکی تفاوت ،بحث مباحثہ ، اس کم فہم کو بیزار کر دیتا ہے۔ یہ بیزار مسلمان کسی غیر مسلم کو اسلام کی دعوت دینے کا فرض کیسے پورا کرے گا؟


اللہ تعالی سے ہی مدد مانگتا ہوں کہ مجھے سکون دے۔۔۔۔۔آمین


 

بے چین دل بے چین دل Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 9:45 PM Rating: 5

11 تبصرے:

عادل کہا...

فرقہ واریت غیر مسلموں کو اسلام سے کافی دور دھکیل دیتی ہے، اس بات میں کویَ شک نہیں۔ مگر فرقہ پرستی کویَ اسلام کا خاصہ نہیں۔ آج جتنے فرقے یہودیوں اور ہیسایوں میں موجود ہیں ان کا کویَ شمار نہیں۔ اگر ایک کافر اسلام میں دلچسپی رکھتا ہے تو اسے اﷲ تعالیٰ کی واحدانیت، اس کے نبی کی اطاعت ، جنت اور دوزخ اور جزا اور سزا کی اسلامی تعلیمات سے روشناس کرانا چاہیےَ۔ اگر پہلے ہی دھکے میں چار شادیاں، عورت کی وراثت میں آدھا حصہ اور مرتد کیلیےَ موجود سزا کا تزکرہ چھڑ جاےَ گا تو وہ بیچارہ کان پکڑ کر بھاگ جاےَ گا۔ مسلمان کو اپنی پوری کوشش کرنی چاہیےَ کہ اسلام کا بہترین نمونہ پیش کرے، اگلا ہدایت پاےَ یا نا پاےَ، وہ اﷲ کے ہاتھ میں ہے۔
میری محدود سمجھ فرقہ واریت کو ایک حد تک تو سمجھ سکتی ہے لیکن اس کے بعد جیسے کویَ بھی نارمل انسان کہے گا، دفعہ کرو جی!۔ احادیث سے ماخوذ مختلف احکام میری سمجھ میں آتے ہیں، مختلف علَما کا آپس میں اجتہادی اختلاف میری سمجھ میں آتا ہے اور حالات و واقعات کو مدنظر رکھتے ہوےَ مختلف اسلامی تعلیمات کا کچھ علاقوں میں زیادہ ذور ہونا اور کچھ علاقوں میں انہیں تعلیمات کا کم زور ہونا بھی میری سمجھ میں آتا ہے لیکن کیا وقت ہے کہ لوگ اپنے آپ کو مسلمان کہنا چھوڑ گیے ہیں! کویَ اپنے آپ کو کسی فرقے کا بتاتا ہے اور کویَ کسی فرقے کا۔ حالات تو اب یہاں تک ہیں کے کویَ بھی اپنے مسلک کے دفاع میں سینکٹروں احادیث پیش کرتا ہے اور کویَ بعید نہیں کے ایک ہی حدیث مختلف فرقے اپنے صحیح ہونے کے ضمر میں پیش کر رہے ہوں۔
بہرحال، اگر آ جا کر بات پھر بھی فرقوں پر ہی ختم ہو تو شاید وہ اپنے کج ذہن کی تسکین کیلیےَ سب ڈراما کر رہا ہو۔ اﷲ بہتر جانتا ہے۔ ہمیں امید اچھی ہی رکھنی چاہیےَ۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

عادل بھائی
اتنے پیارے تبصرے کا نہایت ممنون ہوں۔
میں ابھی تک بالکل آپ کے لکھے کی طرح ہی سوچتا آیا ہوں۔
شاید عمر کے اس حصے میں ہوں کہ نفسیاتی اور اعصابی طور پر دباوء محسوس کر رہا ہوں۔
میرا بھی ان صاحب کے متعلق یہی خیال ہے کہ پانچ سال کا عرصہ بقول ان کے اسلام کی تحقیق میں لگا چکے ہیں تو
میرے ساتھ ہی کوئی ڈرامہ کر رہے ہیں،
لیکن باتیں ان کی بھی کچھ ایسی ہیں کہ ایک مسلمان جو فرقہ پرستی سے نفرت کرتا ہے۔اس کیلئے کافی شدید بے چینی پیدا کرنے والی ہیں۔

عادل کہا...

یاسر بھائ آپ کا میرے سے پریکٹیکل لائف کا ایکسپیرنس کئ گنا زیادہ ہے۔ ہم تو ابھی سٹوڈنٹ لائف کا مضا لے رہے ہیں لیکن آپ کا معاملہ میرے سے بہت ملتا جلتا ہے۔
پاکستان میں رہ کر انسان دینی لحاظ سے بہت شیلٹرڈ زندگی گزارتا ہے۔ کینیڈا جا کر میں نے بہت ساری چیزوں کا سامنا کیا جن کے بارے میں میں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا(میری عمر اس وقت تقریباً اٹھارہ سال تھی)۔ انسان سوالات کے ایسے بھنور میں پھستا ہے کے دم گھٹنے لگتا ہے۔ مثال کے طور پر، میں کبھی زندگی میں اپنے ایمان کے بارے میں شک میں نہیں پڑا تھا لیکن حالات نے ایسے موڑ پہ لا کھڑا کیا کہ میں یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ اسلام ہی کیوں۔ اﷲ کا کرم ہے کہ ان حالات کا مجھ پر مثبت اثر زیادہ ہوا اور میں اب باریش ہونے کے ساتھ ساتھ پکا نمازی بھی بن گیا ہوں۔ میں نے بہت ساروں کو لڑھکتے بھی دیکھا اور بہت ایسے بھی پاےَ جنہیں نا پاکستان میں کویَ فرق پڑا اور نا ہی کینیڈا میں۔ ان حالات میں جب آپ سے کویَ کافر اسلام میں فرقہ واریت کے بارے میں سوال کرے تو یقین مانیں دل خون کے آنسو ردتا ہے۔
میں آپ کی توجوہ اس طرف بھی لانا چاہوں گا کہ ہیسایَ مشینریز اسلام کے خلاف پروپیگینڈا پھیلانے میں بہت زور و شور سے کام کر رہے ہیں، خاص طور پر جاپان جیسے ملک میں جہاں پر شنٹو جیسا دین ہیسایت سے زیادہ رائج ہے۔ ایک عام جاپانی کے ذہن میں ٹوٹی پھوٹی اسلام کی شکل کو مزید مسخ کرنے میں وہ کویَ کسر نہیں چھوڑیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ بہت سارے لوگ جو اپنے آپ کو کہتے تو مسلمان ہیں لیکن جن کے عقائد کا اسلام سے قریب کا بھی کوئ لینا دینا نہیں، غیر مسلم ممالک کی سیکولر حکومت کے دم پر، اسلام کو بدنام کر رہے ہیں۔ ان آستین کے سانپوں نے میرے خیال میں ہیسائیوں سے بھی زیادہ نقصان کیا ہے۔
اسلام ایک مکمل دین ہے جو ایک واضح کتاب کے ساتھ اس دنیا میں موجود ہے۔ اگر پوری دنیا مسلمان ہو جائے یا پوری دنیا کافر ہو جائے، اﷲ تعالیٰ کو کوئ فرق نہیں پڑتا۔ ہر ایک نے اپنے کئے کا پانا ہے۔ اﷲ چاہے تو حضرت ابو طالب جیسے شخص کا خاتمہ کفر پہ ہو اور حضرت ابو سفیانؓ جیسے کا خاتمہ ایمان پہ ہو۔ اس کی دنیا ہے، جیسے چاہے کرے۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

بجا فرمایا عادل بھائی
میرا جہاں تجربہ اور حالیہ معاملات میں مختلف مسالک کے لوگوں سے بات چیت سےجو شدت سے محسوس کر رہا ہوں۔
وہ کچھ ایسا ہے کہ سیکولر جن کی میں مخالفت کرتا آیا ہوں۔
ان سیکولرز اور غیر ملکی سیکولرز حکومتوں کی نسبت یہ فرقہ پرست اسلام کو زیادہ نقصان پہونچا رہے ہیں۔
جب اندر سے ہی آپادھاپی مچی ہوئی ہو۔۔۔۔باہر والے جس طرح چاہیں کر سکتے ہیں۔

fikrepakistan کہا...

یاسر بھائی مجھے دل کی گہرائی سے دکھہ ہورہا ہے کے اس مسلک پرستی اور فرقہ پرستی کی لعنت کی وجہ سے ایک غیر مسلم مسلمان ہونے سے گھبرا رہا ہے، عادل بھائی نے جو بات کی ہے ڈرامے والی ممکن ہے وہ ٹھیک ہو مگر میرا ایسا ماننا ہے کے انسان ایک درجن کیلے بھی لیتا ہے تو چار الگ الگ جگہ سے ریٹ معلوم کرتا ہے کوالٹی دیکھتا ہے پوری تسلی کرتا ہے پھر لیتا ہے، تو یہ تو مذہب بدلنے کا معاملہ ہے ظاہر ہے بغیر مطمعین ہوئے کیسے کوئی اپنا مذہب بدل سکتا ہے۔ میں بھی یہ ہی رونا اپنے بلاگ پر روتا رہتا ہوں فرق صرف اتنا ہے کے آپ نے نرم الفاظوں میں اظہار کیا ہے اور میں تلخ الفاظوں میں اسکا اظہار کرتا ہوں کیوں کے میرا بہت واسطہ رہا ہے اور آج تک بھی میں یہ کام جہاد سمجھہ کر کرتا ہوں اور ہر فرقہ ہر مسلک کے چیمپیئن کو چیلنچ کرتا ہوں کے کوئی ثابت کردے کے اسلام کی رو سے فرقہ بندی مسلک پرستی جائز ہے ارے فرقہ بندی اور مسلک پرستی تو دور کی بات کوئی یہ ہی ثابت کردے کے چاروں اماموں میں سے کسی ایک امام کی تقلید کرنا ہی جائز عمل ہے، اگر چاروں صحیح ہیں تو چاروں کی تقلید کرو نا بھائی یہ کیا منافقت ہے کے ہاں جی چاروں امام حق پر ہیں مگر ہم تو مانیں گے بس کسی ایک کی۔ مگر افسوس کے آج تک کوئی بڑے سے بڑا پھنے خاں ثابت نہیں کرسکتا، اور میں اس بلاگ پر بھی اسلام کے ٹھیکیداروں کو چیلنچ کرتا ہوں کے کوئی بڑے سے بڑا پھنے خاں ثابت کردے مجھے کے اسلام میں فرقہ بندی یا مسلک پرستی جائز ہے جو بھی ثابت کردے گا میرا وعدہ ہے میں اسکا ہی مسلک اپنا لونگا۔ آج بھی مسجدوں کے منبروں سے یہ لوگ منافرتیں اور منافقتیں پھیلا رہے ہیں اسلام کے نام پر جبکہ اسلام سے دور کا واسطہ بھی نہیں ہے کسی کا سب کے سب فخر کرتے ہیں دیوبندی ہونے پر بریلوی ہونے پر وہابی ہونے پر اہل حدیث ہونے پر شیعہ ہونے پر۔ مگر کسی کو بھی یہ توفیق نہیں کے مسلمان ہونے پر فخر کرسکے۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

فکر پاکستان بھائی
مسئلہ یہ ہے کہ مجھے تو صرف اتنا سمجھنا ہے کہ ایسے حضرات جو اسلام میں دلچسپی لے رہے ہوں۔
اور فرقہ کے متعلق مختلف سوالات کریں تو ایک مسلمان کی حثیت سے میرا ان کے ساتھ کیا رویّہ ہونا چاھئے۔
اس دفعہ مختلف مسالک کے لوگوں سے رابطہ کیا تو بات مقلد اور غیر مقلد پر آکر اٹک گئی۔۔۔۔
تقلید کرنے فوائد اور نقصانات میں مجھے الجھا دیا گیا۔۔۔۔۔
اگر ان سب کی باتیں مانو تو۔۔۔۔۔۔ میں تو خود ابھی تک گمراہ تھا۔۔
بحرحال اس وقت میں تو کافی ذہنی طور پر انتشار کا شکار ہوں۔
فی الحال اپنی نماز پڑ رہا ہوں اور کسی قسم کی بات سوچنا چھوڑ دی ہے۔
اس وقت سب فرقہ پرستوں کیلئے کچھ اس طرح کے جذبات ہیں کہ سب بھاڑ میں جاو ءمیرے لئے تو اللہ اور اس کا رسول ﷺ ہی کافی ہیں۔

خالد حمید کہا...

یاسر بھائی کیوں پریشان ہوتے ہیں ... فرقہ واریت تو شروع سے ہے اور رہے گی... اور یہ ہر مذہب میں پائی جاتی ہے.
(اور جو لوگ اس فرقہ واریت کو گالیاں دیتے ہیں میرے خیال میں وہ خود ایک فرقہ تخلیق کررہے ہیں.ہے نا تفریح کی بات..) اور
مسالک میں تو مسائلی اختلاف ہوتے ہیں ان کی وجہ سے پریشان نہیں ہونا چاہئے..
بات تو اختلافی ہے لیکن کیئے بغیر چارہ نہیں ہے.....
کہتے ہیں جب یہ دیکھنا مقصود ہو کہ حق پر کون لوگ ہیں تو یہ دیکھنا کہ کفر کس (فرقہ) کا مخالف ہے..
اور گستاخی معاف......
میں نے یہاں پاکستان میں کفر تو کفر ہر فرقے کو مسلک حفنی کے دیوبند فرقہ کے مخالف پایا...
پھرکہا کہ گستاخی معاف

محمود غزنوی کہا...

یاسر صاحب جن لوگوں نے آپ کو تقلید کرنے نا کرنے کے فوائد و نقصانات میں الجھایا ہے وہ کون لوگ ہیں ؟ کیا یہ ممکن نہیں کہ وہی لوگ آپ کو فرقہ پرستی اور نفس پرستی کی کھائیوں میں گر نے سے بچا کر اہلسنت کے ہزار سال سے متفقہ چلے آنے والے چار مسالک میں سے ایک مسلک پر اکٹھا کرنا چاہ رہے ہوں ؟ جن مسالک میں کوئی افراط و تفریط ہے نہ غلو، بلکہ انکے مسائل ہر دور کے مستند علما کی تنقیدی نظر اور تحقیق کے بعد ہر شک وشبہ اور غلطی سے پاک ہوچکے ہیں، آپ نے اپنے بلاگ پر شاہ اسمعیل شہید رحمہ اللہ پر پوسٹ شیئر کی ہوئیں ہیں جو کہ حنفی تھے، آپ انہی کے مکتبہ فکر اور انہی کی تحریک کے اول مجاہد شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ کا ان چار مسالک کے متعلق موقف ملاحظہ فرمالیں۔ آپ نے آگے فرمایا "اگر ان سب کی باتیں مانو تو۔۔۔۔۔۔ میں تو خود ابھی تک گمراہ تھا۔" جناب کیا یہ ممکن نہیں کہ ایک عام دنیادار آدمی دین کے متعلق اپنی سوچ میں غلط ہو۔ ہوسکتا ہے کہ آپ اور فکر پاکستان صاحب شاہ ولی اللہ محدث دہلوی سے ذیادہ ان مسالک کے بارے میں علم رکھتے ہوں کہ شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ تو ان سب مسالک کو حق قرار دیتے ہوئے احناف کو ترجیح دیتے ہیں اور مجتہد ہوتے ہوئے بھی احناف کی تقلید کرتے ہیں اور آپ ان مسالک کو فرقہ پرستی قرار دیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔
شاید آپ غیر مقلد ہیں ، لیکن یہ بات سچ ہے کہ آج تک اہلسنت کے کسی بھی مستند عالم نے مذہب شیعہ کے تمام لوگوں اور فرقوں پر کفر و شرک کا فتوی نہیں لگایا، ایک غیر مقلد پر کیوں لگائیں گے جب وہ غیر مقلد اپنے عقائد میں متشدد بھی نہ ہو۔

یہ بات مشاہدے کی ہے کہ ان اہلست کے ان متفقہ مسالک کے راستے سے ہٹنے کی وجہ سے آج کل اتنے فرقے نکل آئے ہیں کہ ایک غیر مسلم تو دور کی بات ایک مسلمان اس بارے کنفیوز ہوجاتا ہے ۔ہمارے ایک بزرگ وساوس کا شکار ان لوگوں کو ایک نصیحت کرتے ہوتے ہیں وہ آپ کے ساتھ شیئر کرتاہوں ، انشا اللہ آپ کو بھی فاعدہ دے گی ۔ وہ فرماتے ہوتے ہیں " جب کبھی رات کو تمہاری کسی پہر آنکھ کھلے تو تہجد میں یر وہیں بستر پر لیٹے لیٹے آسمان کی طرف منہ کرکے یہ دعا کردیا کرو کہ اے اللہ جن لوگوں کا رستہ تیرے نزدیک حق ہے میری اس کی طرف راہنمائی فرمادے اور مجھے اپنے دین کے متعلق شرح صدر نصیب فرمادے۔

محمد عاطف سلمان کہا...

JazakAllah Mahmood Ghaznawi Sahab
Aap ne to Shak o Shubeh ka Soomnaat Ka Mandar tor dia apni mudalil baat keh kar.
Wassaalam

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ کے متعلق اس وقت بحث چھیڑنا نہیں چاہتا۔
بحرحال غزنوی بھائی آپ کا بہت بہت شکریہ۔

عادل بھیا کہا...

آپکی باتوں سے متفق ہوں خصوصآ خالد حمید بھیا کی کہ پریشان ہونا اِسکا حل نہیں ہے. آپ خوش قسمت ہیں کہ اللہ تعالٰی نے آپکے اندر کسی بھی وساطت سے یہ صراطِ مستقیم کی جستجو پیدا کردی. میں بھی کچھ عرصہ پہلے کچھ ایسی ہی کنفیوژن کا شکار تھا لیکن بس ایک ہی دُعا کرتا رہا ’’اللھم اھدنا صراط المستقیم‘‘ اور اب الحمدللہ یہ کنفیوزن کافی کم ہوگئی ہے. آپکو بھی یہی کرنے کی دعوت دیتا ہوں. اور مُجھے پکی اُمید ہے کہ ان شاْاللہ جلد ہی آپ بھی مطمئن اور آپکے وہ جاپانی عزیز بھی مشرف بہ اسلام ہو جائیں گے.
یہ تو پکی ٹھکی بات ہے کہ 73 فرقے ہوں گے مگر اگر غور فرمائیں تو موجودہ دور میں تو سینکڑوں فرقے ہیں. لہٰذا جس ایک فرقے کو جنـتی قرار دیا جاتا ہے اُسکی کئی شاخیں ہوسکتی ہیں. لہٰذا آپ فرقہ واریت کو کم کرنے کی کوشش ضرور کریں مگر پریشان ہونا حل نہیں. عُلماْ سے رابطے میں رہیں جلد ہی آپ جان جائیں گے کہ کون زیادہ سیدھے راستے پر ہے. اپنی طرف سے اچھائی کی تلاش اور برائی سے ہر ممکن بچنے کی کوشش کرتے رہئیے. دیکھئیے گا سب ٹھیک ہو جائے گا.

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.