دیوالیہ

سبز پاسپورٹ چھوڑ کر جب لال پاسپورٹ سے سفر کرتے ہیں تو دل میں کسک سی اٹھتی ہے۔خلش۔۔۔۔۔۔۔۔دل کے خالی پن۔۔۔۔۔کا احساس بیچین سا کردیتا ہے۔


نیوزی لینڈ کے ائیر پورٹ پر امیگریشن والے نے پاسپورٹ لینے کے بعد بار بار پوچھا کہاں کا ہے؟۔بار بار کہا پاکستانی ہوں۔بالکل احساس نہیں ہوا کہ اس کے ہاتھ میں جاپانی پاسپورٹ دیا ہے۔ آفیسر کے کہنے پر بی لائن میں چلا گیا تو دیکھا رشین عوام  کی لائن لگی ہے۔


دوبارہ امیگریشن آفیسر نے پوچھا کہاں کا ہے اور رشیا کے اتنے سارے ویزے کیوں ہیں تیرے پاسپورٹ پر؟تھکاوٹ سے شاید سمجھنے بوجھنے والے تمام آلات کام نہیں کررہے تھے۔ تنگ آکر غصے سے کہا تجھے کیا تکلیف ہے؟ اور رشین میں ایک عدد تبرا بھیج دیا۔


آفیسر نے ہنس کر کہا تھا کہ اب معلوم ہو گیا آپ پاکستانی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سر


ابھی تک کبھی کبھی شرمندگی محسوس کرتا ہوں۔کہ  اخلاقی تباہ حالی نے بد اخلاقی کو پہچان بنا دیا۔۔۔۔۔۔۔   :oops:


یہاں جاپان کے ایک مشہور کامیڈین اور  ٹی وی سٹار ہیں شی مادا شن سکے،یہ میرے بھی پسندیدہ شخص ہیں۔ ان کی گفتگو سے ہی بندہ ہنس ہنس کے دوہرا ہوجاتا ہے۔


اس کے علاوہ یہ نہایت ہی علم والے بھی ہیں۔ ان کےٹاک شو وغیرہ نہایت دلچسپ ہوتے ہیں۔ان دنوں اچانک انہوں نے پریس کانفرنس کی اور ریٹائر منٹ کا اعلان کر دیا۔پچپن سال کی جوانی میں ریٹائر منٹ سب کیلئے حیرت انگیزتھی۔ جاپانی پچپن سالہ خواتیں و حضرات ابھی صرف جوان ہی ہوتے ہیں۔ یہی عمر کام کرنے کی اور شادی بیاہ (کچھ لمبی چھوڑ دی)کی سمجھی جاتی۔


 جب ان صاحب کی ریٹائر منٹ کی وجہ معلوم ہوئی تو سب کو اطمینان ہو گیا۔اور سب نے کہا بالکل ٹھیک کیا اور بعض نے تو غصے سے کہا کہ یہ اتنے دن خاموش کیوں رہا؟


اس جاپانی قوم کی عقل کا ماتم کریں۔کہ اور دیکھیں جو بات ہمارے معاشرے میں عام ہے۔ہمارے سیاستدان جو زبان استعمال کرتے ہیں۔وہ زبان اگر جاپان کا سیاستدان کوئی وزیر یا حکمران استعمال کرے تو پورے جاپان میں بھونچال آجائے۔


ان صاحب کے کچھ  دوستانہ تعلقات تھے جاپان کی مافیا کے ساتھ اور اس بات پر ان جاپانی مسخرے صاحب نے ٹی وی پر آنا چھوڑ دیا۔اگر خود سے ریٹائر منٹ کا اعلان نا کرتے تو ٹی وی والے ہی انہیں نشر نا کرتے ۔نشر کرتے تو عوام ٹی وی کا حشر کردیتے۔


اور پاکستانی  سیاستدان کہتے ہیں مجرموں کو چوراہے میں لٹکا دیا جائے گا۔ اپنی ہی عوام کو پرانا لٹیرا مہاجر بھوکا ننگا کہتا ہے۔ جو کسی بھی تہذیب یافتہ معاشرے میں ناقابل معافی الفاظ ہیں۔جب لیڈروں کی اخلاقی حالت ایسی ہوگی تو عوام کیوں نا طاقت کا استعمال کریں گے؟


کن ٹٹّے ،بدمعاش ،دھشت گرد تو ہماری سیاسی جماعتوں کے سود مند کارکن ہوتے ہیں۔کراچی کے موجود حالات میں حکمرانوں کا پیغام عام ہوا کہ بھتہ خور جلد ازجلد کراچی چھوڑ دیں۔ جب دوبارہ فکری خفیہ میٹنگ ہوئی تو معلوم ہوا کہ یہ بھتہ خور ،دھشت گرد کراچی سے نکل گئے تو کراچی میں سیاست کون کرے گا؟۔


مجبوراً حکومت پاکستان نے اپنے حکم نامے میں اصلاح کی اور فرمایا کہ بھتہ خور بھتہ لینا چھوڑ دیں!!!!۔ واہ واہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ منہ سے بلا ارادہ نکل گیا!!۔ بھتہ کے بدلے میں امریکی امداد میں سے ان کیلئے خفیہ فنڈ کا بندوبست کر دیا جائے گا۔ جس قوم کے اخلاقیات کا دیوالیہ نکل گیا ہو اور انہیں احساس بھی نہ ہو کہ وہ کیا بک رہے ہیں اور کیا کر رہے ہیں۔ ایسی قوم کی بہتری کی امید کرنا بیوقوفی ہے۔


دیس سے دوری کا احساس اس وقت نعمت محسوس ہوتا ہے۔جب جاپانی قوم کی اخلاقیات دل میں دھڑکن کی طرح محسوس کرتے ہیں اور اپنوں کے اخلاق کا دیوالیہ گھر کی محرومیت کا احساس ختم کر دیتا ہے۔ 

دیوالیہ دیوالیہ Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 10:28 PM Rating: 5

14 تبصرے:

غلام مرتضیٰ علی کہا...

آپ نے موصوف کے مافیا کے ساتھ دوستانہ تعلق کی بات کی تو ایک سینیر اردو کالم نگار(جس نے پلاٹ الاٹمنٹ سکینڈل) سے کافی شہرت یا بدنامی پائی تھی کے کل کے کالم میں ٹوکیو کے امن و امان کے حوالے سے درج ایک بات یاد آگئی، جو میں ہضم نہیں کرپایا۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ مہربانی فرما ک ر اپنے جاپان میں طویل قیام کے تجربے اور مشاہدے کی روشنی میں اس کی تصدیق یا تردید فرما دیں۔ آپ کی بڑ ی مہربانی ہو گی۔
موصوف فرماتے ہیں کہ ""ٹوکیو پولیس نے شہر کو پرامن رکھنے کے لیے غنڈہ عناصر کا تعاون حاصل کر رکھا ہے اور ان سے شہریوں کی جان و مال کا تحفظ کا کام لیا جاتا ہے۔""
http://jang.com.pk/jang/aug2011-daily/24-08-2011/col2.htm

عمران اقبال کہا...

جناب عالی... ہمارے وزیر داخلہ جو کہ آج کل عوام کےنمائندے تصور کیئے جاتے ہیں.... ان کے بیانات تو بلنڈرز سے بھرے پڑے ہیں... آج میں سوچ رہا تھا کہ کاش کوئی ایسی حکومت آئے، جو رحمان ملک، زرداری اورگیلانی کو بھرے مجمعے میں ننگا کرکے چھتر مارے... اور وہ ہائے اللہ، اوئی اللہ کرتے پیچھے ہاتھ رکھ کر ادھر ادھر بھاگتے پھریں... کاش ایسا ہو جائے... کہ تشریف اتنی لال ہو، کہ کرسی کے بارے میں سوچتے ہوئے بھی پھر دس بار سوچیں...

عمران اقبال کہا...

رحمان ملک اینڈ گینگ کے ساتھ براہ مہربانی الطاف حسین بمع ڈاکٹر فاروق ستار اینڈ پارٹی اور نواز شریف بمع جماعت، ان کو بھی اتنے چھتر پڑنے چاہیں کہ بس مزہ ہی آ جائے... ہاں الطاف بھائی کو زرا زیادہ زور سے مارنے کا بڑا جی چاہتا ہے...

آنٹی سن رہی ہیں آپ... میں نے پھر بھائی کی شان میں گستاخی کر دی... ہون آرام اے...

خالد حمید کہا...

"دیس سے دوری کا احساس اس وقت نعمت محسوس ہوتا ہے۔جب جاپانی قوم کی اخلاقیات دل میں دھڑکن کی طرح محسوس کرتے ہیں اور اپنوں کے اخلاق کا دیوالیہ گھر کی محرومیت کا احساس ختم کر دیتا ہے۔ "
اس جملے نے دکھی کردیا.........
پتہ نہیں بحیثیت قوم ہم کب ٹھیک ہوں گے... :(
امید تو نہیں لگتی.... کیوں کہ جن راستوں سے اچھائیاں نکلتی ہیں ان راستوں پر غنڈے بدمعاش قابض ہیں..

Zero G کہا...

یاریہ آنٹی کون ہیں؟

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

مرتضی صاحب
میں نے بھی یہ کالم پڑھا ہے۔
اگر ان صاحب نے غلط لکھا ہوتا تو۔۔۔۔۔۔۔۔میں چونکہ انہیں ناپسند کرتا ہوں
ایک عدد پوسٹ لکھ مارتا۔
لیکن حقیقت کچھ ایسی ہی ہے کہ جاپان ہی کیا دنیا کے ہر ملک میں پولیس اور مافیا کے درمیان عموما خفیہ معاملات ہوتے ہیں۔
جاپان کا معاملہ کچھ اس طرح ہے کہ اگر صرف تعاون کا کہا جائے تو یہ معاملہ سمجھ آنے کا نہیں،
اس کے متعلق تفصیل سے لکھنا ہوگا۔
انشا ء اللہ اگلی پوسٹ میں اس پر لکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ فی الحال صرف اتنا کر سکتا ہوں کہ تردید نہیں کر سکتا۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

عمران بھائی
بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے؟

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

عمران بھائی یہ آنٹی کون ہیں؟
اشارے نہ کیا کریں۔۔۔۔۔۔۔۔بھائی کا اثر :D :D

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

اررے خالد بھائی
ایسے لکھ دیا یہ جملہ
اداس نا ہو ں جی

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

معلوم نہیں عمران نے آنٹی کا نام ہی نہیں بتایا۔۔۔۔ایسے ہی اشارے کر گئے

مطلوب کہا...

السلام اعلیکم
اب تو ہم دوسرے ملکوں کے قصے سن سن کر ادھ موئے ہو چکے ہیں لیکن اس اپنی قوم پر خاک اثر ہوا ہے دن بدن حالات بد سے بد تر ہوتے جارہے ہیں. جاوید چوہدری نے دوسرے ممالک کے اتنے زبردست قصے بیان کیے کہ رال ٹپک پڑی.
دل نے کہا چھوڑ اس ملک کو جو مافیاز کا گڑھ بن گیا ہے کہیں اور جاکر بستے ہیں کم ازکم مارا ماری سے تو جان چھوٹے گی وغیرہ وغیرہ

Javed Gondal Pakcom جاوید گوندل کہا...

عمران بھائی ! خیر زیادہ چھتر تو نہیں بس ۔ دس صبح دس شام۔ امید ہے کافی ہونگے اور شافی آرام آئے گا۔

غلام مرتضٰی علی کہا...

بے حد شکریہ یاسر بھائی

بلاامتیاز کہا...

او کیئوں دل ساڑنے او اپنڑا ۔ ۔نال اساں نا وی
نیشنیلٹی تہ چا کدی نے پر تساں نے جراثیم تساں واں جاپانی نی ہون دینے
ادھے تتر ادھے بٹیر بنڑ گے او

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.