امن وامان اور دماغ کنٹرول

ہر رمضان میں ہمارے ہاں جاپان میں سحری و افطاری کا بندوبست کیا جاتا ہے۔تقریباً ساٹھ ستر بندہ ان دو اوقات میں جمع ہوتا ہے۔میں نے آج دن تک مسجد میں کبھی بھی کھانا نہیں کھایا۔وجہ صرف یہی ہے کہ مسجد میں کھانا پکانے سے مسجد کی صفائی کا خیال نہیں رکھا جاتا۔عموماً بچا کھچا کھانا اور ھڈیاں بکھری ہوئی ہوتی ہیں۔ وضو والی جگہ پر پان پراگ کی لالیاں ، پیاز ،لہسن ، ادرک ،ٹماٹر ، گوشت کے چھیچھڑے اور مصالحہ جات کی بو آرہی ہوتی ہے۔ ،

شروع میں کچھ دن صبح فجر کے بعد صفائی کی لیکن پھر سوچا رمضان کے بعد ہی صفائی کریں گے۔ایک دن ظہر کی نماز کے وقت گیا تو وضو کی جگہ سے بد بو آرہی تھی اور ہمارے نوجوان امام صاحب صفائی کر رہے تھے۔دیکھ کر خوشی ہوئی کہ امام صاحب صرف منبر پر بیٹھ کر درس ہی نہیں دیتے عمل بھی کرتے ہیں۔لیکن جیسا کہ ہمارا مزاج ہے کہ امام صاحب اگر صفائی ستھرائی کا کام کریں تو شرم سی محسوس ہوتی ہے۔

کچھ میں نے بھی ایسا ہی محسوس کیا اور خدمت کمیٹی سے غلطی سے کہہ دیا کہ اگر کھانا پکانا کرتے ہیں تو صفائی بھی کر دیا کریں۔خدمت کمیٹی والے تقریباً سارے ہی اچھے اور سمجھدار ہیں۔جن سے کہا انہوں نے معذرت کی اور آئیندہ خیال رکھنےکا کہا۔

سب کو علم بھی ہے کہ میں مسجد میں کھانے پکانے کے حق میں نہیں لیکن کبھی ان حضرات کو اس عمل سےمنع بھی نہیں کیا کہ یہ ایک طرح کمیونٹی کے میل جول میں فائدہ مند عمل بھی ہے۔ مسجد میں سب کے جمع ہونے سے کچھ نا کچھ سب کیلئے اچھا ہی ہے۔کہ جاپان میں کئی الٹی سیدھی جگہ پر جمع ہوا جا سکتا ہے۔

تین چار دن بعد ظہر کے نماز کیلئے وضو کر رہا تھا۔کہ ایک نے اونچی آواز میں کسی کو مخاطب کئے بغیر کہا کہ میں نے صبح صفائی کردی تھی۔ کسی الو کے پٹھے کو بد بو آرہی ہو تو مجھ سےرابطہ کرے۔ میں سمجھ گیا کہ یہ صاحب مجھے کہہ رہے ہیں۔

ایک رمضان اور بہت سارے افراد کی موجودگی کی وجہ سے میں خاموش ہو گیا۔نماز کے بعد ان صاحب کو دیکھنے کی کوشش کی لیکن وہ سنتیں پڑھے بغیر غائب ہوگئے تھے۔بحرحال ایک دو افراد سے ان کا نمبر مانگا لیکن کسی نے نمبر نہیں دیا اور منت سماجت کردی۔

کوشش کرکے نمبر حاصل کر لیا اور ان صاحب سے عرض کیا کہ جناب الو کا پٹھہ بول رہا ہوں۔مجھ سے بد بو کا حال احوال پوچھ لیں۔ابھی اکیلے میں مل لیں نہیں تو رمضان کے بعد مسجد میں ہی ملاقات ہو جائے گی۔ اتنا کہہ کر میں نے فون بند کردیا۔

بحرحال ایسے بد اخلاق حضرات عموماً بھاگ دوڑ کرکے سفارشی ڈال کر معافی شافی مانگ کر معاملہ صاف کروا لیتے ہیں۔اور ہم بھی ایک دن بعد غصہ بھول جاتے ہیں۔ اس کےعلاوہ ایک ڈر بھی ہوتا ہے۔ مار کھانے کے معاملے میں تو خیر ڈھیٹ ہیں۔مارکھانے سے کیا ڈرنا۔ روٹی کھا لی مار کھا لی ایک برابر!!۔
لیکن یہاں جاپان میں اگر بندہ کسی کو کچھ سخت دست شفقت لگا دے تو بڑا پنگا ہوتا ہے۔

اسی طرح ایک دن ہم دوسرے صوبے سےگھر واپس آرہے تھے کہ رات کا وقت تھا۔اور کافی تھکاوٹ بھی تھی۔میرا جہاں تک خیال ہے میں غلط ڈرائیونگ کر رہا تھا۔ کبھی گاڑی کی رفتار زیادہ اور کبھی کم ہو جاتی تھی۔اور ہمارے پیچھے ٹرک آرہا تھا۔ جس کا ہمیں بالکل کوئی احساس نہیں تھا۔ ٹرک والے نے پہلے تو ہمارے اوپر گاڑی چڑھا کر چلائی کہ یہاں کے ڈرائیور انتہائی ضرورت کے علاوہ ہارن نہیں بجاتے۔گاڑیوں کی لائنیں لگی ہوں گی لیکن پی پاں بالکل نہیں ہوتی۔

پھر اس بیچارے نے ڈیپ لائٹ بھی ماری لیکن ہم مست تھے اور کوئی احساس نہیں ہوا۔آخر تنگ آکر اس بیچارے نے ہارن دیا اور ہم ڈر کر جاگ گئے۔لیکن اتنی دیر میں ٹرک ڈرائیور کا پارہ چڑھ چکا تھا۔ ہم نے گاڑی سائیڈ پر کرکے ٹرک والے کو رستہ دیا۔لیکن وہ بیچارہ غصے سے پاگل ہو رہا تھا۔
اس نے ہمارے آگے گاڑی لگائی اور بیچ سڑک میں ہماری گاڑی روک لی۔

اور گالیاں دیتا ہوا۔ٹرک سے اتر کر ہماری طرف آیا۔رات کا وقت تھا۔اگر دن ہوتا تو بیچارہ غیر ملکی کو دیکھ کر کنی کترا جاتا۔ یقین مانئے میرا کوئی لڑائی کا ارادہ نہیں تھا۔بلکہ میں نیچے اترا کہ ان صاحب سے معافی ہی مانگ لوں۔ لیکن ٹرک ڈرائیور صاحب قد آور اور کافی موٹے تازے تھے۔ انہوں نے آتے ہی جھانپڑ مارنے کی کوشش کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


اور ہمارا گھٹنا آگے نکل گیا۔شاید تھوڑا گھوما بھی دیا تھا۔میں پھر ایک دفعہ کہنا چاہوں گا کہ یقین مانئے میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ اس کے بعد پہلے میں نے اینمولینس منگوائی اور اینمبولینس والوں نے پولیس منگوائی۔

پولیس والوں نے دیکھا بھی کہ ٹرک نے ہماری گاڑی روکی ہوئی ہے۔لیکن ڈرائیور صاحب کو اسپتال اور ہمیں تھانے لے گئے۔قصہ مختصر کہ راضی نامہ ہوا۔پاکستانی مبلغ پانچ لاکھ ادا کیا معافی بھی مانگی۔اور ڈرائیور نے بھی ہم سے معافی مانگی کہ انہیں غصہ آگیا تھا۔

اس کے بعد کتنا بھی غصہ آئے لیکن ایک بار ضرور پانچ لاکھ یاد آتے ہیں اور دھینگا مشتی سے ڈر لگتا ہے۔نا چاھتے ہوئے بھی غصہ پینا پڑتا ہے اور برداشت کرنا ہی پڑتا ہے۔ یہاں کے بد معاش بھی جب تک ان کے آگے کوئی پھنسے نا تو یہ کسی کو تنگ نہیں کرتے۔اپنے اپنے مخصوص علاقوں میں مخصوص انداز کا دھندہ کرتے ہیں۔اگر آپ کوئی کاروبار کر رہے ہیں تو یہ آپ کے پاس بھتہ لینے نہیں آئیں گے۔

اگر آئے تو پولیس کو بلایا جا سکتا ہے۔بعض مخصوص کاروبار میں مخصوص جگہو ں پر بھتہ دیا جاتا ہے۔ہمیں جاپان میں آج تک بھتہ دینے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی اور نا ہی بدنام زمانہ جاپانی مافیا نے ہم سے کبھی بھتہ مانگا۔

جاپان کی باوردی پولیس اگر کسی کام سے ہمارے گھر یا دفتر میں آتی ہے تو ہم اسے چائے پانی بھی نہیں دیتے اگر دیں بھی تو وہ سختی سے انکار کر دیتے ہیں۔سفید لباس والے آئیں تو بعض جو انہیں دیتے ان سے پی لیتے ہے اور میرے جیسے سے گالیاں پی لیتے ہیں۔

باوردی پولیس والے کو چائے پانی دینا رشوت تصور کیا جاتا ہے۔اور اس بات کا پولیس والوں کو احساس ہوتا ہے اور انہیں سختی سے اس کے متعلق یاد دہانی کروائی جاتی ہے۔ اگر جاپان کی پولیس اتنی سختی سے قوانین پر عمل نا کروائے تو جاپانی بھی ہم پاکستانیوں کی طرح پھڈے باز ہیں۔روزانہ کے حساب سے چھوٹی چھوٹی باتوں کو انا کا مسئلہ بنا کر پھڈے بازی اور زور دکھانے کے تماشے یہاں بھی دیکھنے کو ملیں۔

لیکن قانون کی حکمرانی کا یہ حال ہے۔کہ گراری والا پستول جس میں چھ گولیاں ڈلتی ہیں۔وہ بھی شاید وقت ضرورت ٹھس ہی کر جائے۔کمر سے لٹکائے ایک مخنچو سا پولیس والا نہایت اعتماد سے معاملات ڈھیل کرتا ہے۔اور معاملات کو سنبھالنے کیلئے ایک ہی کافی ہوتا ہے۔

اس پولیس والے کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے۔ اس کو کس نے پولیس میں بھرتی کر لیا۔!!۔ لیکن اگر اس پولیس والے کو ہاتھ لگا دیا جائے تو بغیر کسی راضی نامے کے اندر کر دیا جاتا ہے۔

اس مخنچی سے پلسیئے سے کوئی نہیں ڈرتا۔بے لچک قانون سے سب ڈرتے ہیں۔ سیاستدانو اور حکمرانو کو بھی علم ہوتا ہے کہ اس پلسیئے کے ہتھ چڑھ گئے تو وزیر اعظم صاحب نے اگر تھانے فون کیا تو وزیر اعظم صاحب کو فون کرنے کے جرم میں ہی اٹھا کر لے آئیں گے۔

اس مخنچو سے پولیس والے کو دیکھ کر ہم اپنے بٹوے نہیں چھپاتے بلکہ ہمیں غیر ملکی ہونے کے باوجود ایک تحفظ کا احساس ہوتا ہے۔۔اور اس پلیئسے کے ڈر سے غصہ برداشت کرنا پڑتا ہے اور مولا جٹ جیسی بڑکیں مارنے کے باوجود کسی کو ہاتھ لگانے سے ڈر لگتا ہے۔

پاکستان کی پولیس جب ایسی ہوگی تو امن امان ہوگا۔ نہیں تو ایسے ہی دما دم مست قلندر ہی ہوتا رہے گا۔
امن وامان اور دماغ کنٹرول امن وامان اور دماغ کنٹرول Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 12:32 AM Rating: 5

15 تبصرے:

ڈاکٹر جواد احمد خان کہا...

بہت اعلیِ جناب ، خاص طور پر یہ جملہ کہ :
” کوشش کرکے نمبر حاصل کر لیا اور ان صاحب سے عرض کیا کہ جناب الو کا پٹھہ بول رہا ہوں۔مجھ سے بد بو کا حال احوال پوچھ لیں۔ابھی اکیلے میں مل لیں نہیں تو رمضان کے بعد مسجد میں ہی ملاقات ہو جائے گی۔ اتنا کہہ کر میں نے فون بند کردیا۔“
شریفانہ بدمعاشی کی تارخ میں سنہری حرفوں سے لکھے جانے کے لائق ہے۔۔۔۔
جو حال جاپان کا ہے کم و بیش وہی معاملہ سعودی عرب کا ہے ۔ ایک تھپڑ تین سے چھ ہزار ریال کا پڑ سکتا ہے۔ لہذا میرے جیسے بہت سے نازک دل والے دل ہی دل میں سامنے والے کی ایسی کی تیسی کرتے ہیں۔ بات ایک دوسرے کو ایک ناپاک جانور سے تشبیہ دینے سے آگے بڑھتی ہی نہیں۔۔۔۔۔سچی بات تو یہ ہے کہ ایسے وقت میں پاکستان بہت یاد آتا ہے۔

حجاب کہا...

پاکستان کی پولیس ہو ہی نہ جائے ایسی ۔۔

افتخار اجمل بھوپال کہا...

ہائے [ يعنی ايک لمبی آہ ] ۔ کتنا مُسکل کام بتا ديا ہے آپ نے

عادل کہا...

یاسر بھایَ آپ کا بلاگ کچھ دیر سے پڑھ رہا ہوں۔ جب پہلی بار پڑہنا شروع کیا تھا تب ایک ہی دفعہ میں چار ماہ کی تحاریر پڑھ ڈالی تھیں۔ مجھے ویسے بھی مشرقی کلچر کے ساتھ کچھ انس سا ہے۔ یہ James Clavell کے ناولوں ، Takashi Miike Akira Kurosaw ،Kim Ji-woon اور Park Chan-wook کی فلموں، Santoshi Kon،Mamoru Oshii اور ٘ Miyazaki کی animes اور Yakuza اور Chinese Triads پر مبنی بے تحاشہ ڈاکومینٹریز میں سے کسی کا بھی قصور ہو سکتا ہے۔ کچھ دن اسی شوق میں Hiragana اور Katakana کا ناکام حفط بھی کیا لیکن Kanji کی شکل دیکھ کر الٹے پاوَں واپس ہو گیا۔ جاپان کے بارے میں پاکستانیوں کے سفر نامے ڈہونڈتا تھا لیکن کچھ کامیابی نہ ہویَ۔ آپ کا بلاگ میرے لیے ایک ہولی گریل کی طرح ہے۔ پاکستانی نزاد اردو بلاگر جو جاپان میں جوانی سے پلا بڑھا ہو، جاپانی فر فر بولتا ہو اور اپنے ملک اور دین کیلیےَ درد رکھتا ہو۔ مِنوں ہور کی چایَ دا اِے۔

آپ کی تحریر بلکل بجا ہے۔ میرے خیال میں مین مسَلہ قومی ذہنیت کا ہے۔ میں یقین کے ساتھ کہ سکتا ہوں کہ آج ہمارے پریزیڈنٹ صاحب کی جگہ کویَ عام پاکستانی لا کر کھڑا کر دیں تو کویَ فرق نہیں پڑے گا۔ قومی یکجہتی کا جنازہ پچھلے کچھ سالوں میں نکل گیا ہے، باقی جو رہ گیا ہے، اگر کچھ رہ گیا ہے، تو امریکہ بہادر لیبیا میں کچھ مصروف ہیں، فارغ ہوتے ہی نظرِ کرم فرمائیں گے۔

ویسے یاسر بھایَ، آپ کی نظرسے Karel van Wolferen کی کتاب The Enigma of Japanese Power گزری ہے؟

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

عادل صاحب تشریف آوری کا شکریہ
اور اس ناچیز کی کوئی تحریر آپ کی دلچسپی کا باعث ہو سکتی ہے تو میرے لئے نہایت خوشی کی بات ہے۔
کارل صاحب سابقہ جرنلسٹ ہیں اور جاپانی سیاست کے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔
ان کی یہ کتاب بہت پہلےپڑھی ہے۔اس کے علاوہ بھی کافی کتابیں ہیں۔
حقیقت۔۔۔۔۔۔آجکل مجھے پاکستان میں امریکیوں کی حرکا ت بالکل ایسی ہی دیکھائی دے رہی ہیں۔
جو وہ اس وقت تک جاپان میں کرتے آئے ہیں۔ اور آپ کی بات بجا ہے۔امریکہ اتنی آسانی سے پاکستان کی جان نہیں چھوڑے گا۔
میں نے ان ایک نئی کتاب جو جاپانی میں ہے۔چند ماہ پہلے خریدی تھی۔
اس کتاب کا ٹائٹل اردو ترجمہ کچھ اس طرح بنتا ہے
۔امریکہ کے ساتھ ڈوبتی ہوئی دنیا کی آزادی۔

لیکن یہ کتاب ابھی تک ٹائٹل سے آگے نہیں پڑھ سکا۔
بس کچھ سیاست وغیرہ اکتاہٹ سی ہو رہی ہے۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

ڈاکٹر صاحب
آپ کے جذبات کیلئے ہمارے دل میں ہمدردی ہے۔
ایک چھ ہزار ریال ادا کرکے دیکھئے۔
دل میں ناپاک جانور سے تشبیہ دینے والے جذبات سے بھی جان چھوٹ جائے گی :D

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

حجاب
جاپان پولیس جیسی ہوگئی تو نقصان آپ کا بہت ہوگا۔
آپ کی مافیا بھتہ وصولنے کے قابل نہیں رہے گی۔
میں تو ایک آنہ آپ کو نہیں دوں گا :D

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

بسم اللہ کریں جی
اللہ مدد کرے گا۔
ویسے اسلام آباد کی پولیس کے ایک اعلی افسر
نوکری چھوڑ لمبی داڑھی رکھے جاپان میں محنت مزدوری کررہے ہیں اور نہایت خوش ہیں۔

سعد کہا...

تحریر پڑھ کر جاپانی پولیس کے بارے میں کافی معلومات حاصل ہوئیں نیز یہ بھی علم ہوا کہ آپ لڑائی بھڑائی کے بھی شوقین ہیں :D

محمد سلیم کہا...

یاسر بھائی، کیا باتیں یاد دلا دی ہیں اپ نے۔ ایک بھائی بند کو سامنے کے دو دانت سونے کے بنوا کر لگانے پر مجبور کرنے کے جرم میں سعودیہ کا ویزا لے کر بھاگ جانے میں عافیت نظر ائی تھی مگر وہاں پر جب سارے کن ٹٹے سیدھے ہو جاتے ہیں تو ہم بھی ایسے سیدھے ہوئے کہ وہ پرانی باتیں اب صرف ایام جاھلیہ کی باتیں نظر اتی ہیں اور ہم شرفاء میں شمار ہوتے ہیں۔

عادل کہا...

میں نے کارل صاحب کی یہ کتاب تقریبا ایک سال پہلے پڑھی تھی۔ ان کی تحریر میں بِگ بزنس، سیاستدان اور بیوروکریسی کے آپس میں تعلقات کے بارے میں پڑھ کر بہت حیران ہوا تھا۔ Institutionalized corruption کا سحیح اندازہ مجھے اسی کتاب سے ہی ہوا۔ بحرحال میرے کہنے کا مطلب یہ نہیں ہے کے جاپان ایک کرپٹ ملک ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں کرپشن بہت ہی سوفسٹیکیٹڈ لیول کی ہوتی ہے اور شاید وہاں کے عام آدمی کے بس کی بات نہیں۔

عدنان مسعود کہا...

جاپانی پلس کے بارے میں‌پڑھ کر ایسا لگتا ہے کہ دھول دھپا اس سراپا ناز کا شیوہ نہیں، اللہ انہیں خوش رکھے۔
پلیس بروٹیلی دیکھنی ہو تو ریاستہاے متحدہ امریکہ تشریف لایئے، یہاں ابھی حال ہی میں اوکلینڈ کے آسکر گرانٹ کو قتل کرنے والے پولیس افسر کو ایک سال کچھ ماہ کی سزا ہوئی، اسکا دفاع تھا 'میں تو ٹیزر نکال رہا تھا، غلطی سے بندوق چل گئی'۔ آج کل محترم پیرول پر رہا ہیں۔ دو ہفتے قبل فلرٹن شہر میں ایک ذہنی معذور بے گھر شخص کیلی تھامس کو پولیس والوں نے اس قدر مارا کہ وہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ اس کی مرنے سے پہلے اور بعد کی تصویر دیکھ کر دل روتا ہے۔ فلرٹن پولیس چیف طبی چھٹی پر ہیں۔

لندن میں ٹلوں کے ساتھ مظاہروں میں آنکھ مچولی کر لیتے تھے کہ بابی کے پاس ڈنڈا ہی تو ہے۔ جامعہ میں رینجرز بھی ڈنڈوں سے مارتی تھی تو چھاوں میں بٹھاتی تھی۔ یہاں تو غالب امکان ہوتا ہے کہ مقتل میں کاسہ سر بھی اسی کا ہوگا۔

خالد حمید کہا...

بہترین۔۔۔
اور پاکستان میں مختلف قومیتوں کے ساتھ ساتھ ایک اور قوم بھی پائی جاتی ہے جسے پولیس کہا جاتا ہے۔۔۔
جو اس قوم میں شامل ہوجاتا ہے وہ ان جیسا ہی ہوجاتا ہے( 99 فیصد واقعات ایسے ہی ہیں)۔۔۔
تو یہ توقع تو ہے ہی نہیں کہ پولیس ٹھیک ہوسکتی ہے۔۔۔۔۔
یہ خواب ہے اور اس خواب کا تصور تک منع ہے۔۔۔

انکل ٹام کہا...

ایک ہی دفعہ واسطہ پڑا تھا پولیس سے ، چار منٹ کے اندر اندر آئی تھی اور پھر چار مہینے بعد دشمنوں کے ساتھ عدالت میں جو ہوا اسکی کار گزاری بھی فون کر کے سنائی تھی ۔ پولیس والوں میں بیغیرت بڑے ہیں ۔ ایک دفعہ کرتار سنگھ کے ساتھ ہم بھی رات کو سائیکل نکال کر آوارہ گردی کرنے نکلے ۔ ۳ بجے ایک پولیس کی گاڑی نے روک لیا ایک پولیس والا تھا اور دوسری والی تھی انہوں نے تھوڑی گپ ماری اور کہا کہ فلانے علاقے کی طرف نہ جانا وہاں ایک بڈھا ہے جو تھوڑا ریسسٹ ہے حالانکہ وہ دونوں خود بھی گورے تھے ۔ لیکن بہت سے لوگ جنکے پولیس کے ساتھ برے تجربے ہیں وہ انکو پوپوز کہہ کر بلایا کرتے ہیں ۔

وفا کہا...

agr aap uk main hote tou aap ka fine is sey be zeyada hota.......

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.