خدا کی طرف پیٹھ کرنے والے

مشرف تھا۔۔۔۔انتہائی گھٹیا شخص۔۔۔مشرف کے جانے کے بعد بھنگڑے ڈالے گئے لڈووں سے منہ میٹھے کئے جانے کی تصاویر اخبارات میں دیکھیں تھیں۔
واقعی کچھ ایسا محسوس ہوا تھا۔کہ شاید پاکستان کے حالات اب بدل جائیں۔

مشرف کے آنے کے بعد اسلام آباد ائیر پورٹ پر جب بغیر کسی بیستی کے میں پاکستان میں داخل ہوا تھا۔تو خوشی سے بھنگڑا ڈالا تھا اور نواز شریف کو خوب گالیاں دی تھیں۔نواز دور میں جب پاکستان گیا تھا تو ائیر پورٹ پر پیلا کاغذ دکھا کر کہا گیا کہ یہ انشورنس ہے اس کے بیس ڈالر ادا کرو۔ میں نےایک پیار بھرا لفظ اپنے سویٹ لپس سے ادا کرکے کے کہا تھا۔ بیوقوف ہی بنانا ہے تو بیس ڈالر میں ہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کو نا بیچ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دھرتی ماں ہوتی ہے۔

بس اس کے بعد کافی پٹائی ہوگئی تھی میری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چار پانچ تھے پورا گینگ ائیر پورٹ پر ہی۔۔ویسے اس کے بعد سے مجھے بھی عقل آگئی ۔پاکستان جاتے وقت شلوار قمیض پہننا چھوڑ دی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔او نا جی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کپڑے ضرور پہنتا ہوں۔
عظیم قوم کا قومی لباس۔۔۔۔۔۔ہیں جی

پی پی پی کی حکومت آئی سال بعد سب نے شور مچانا شروع کیا تو میرا خیال تھا۔شور کرنے والے سب پاگل ہیں۔انشاء اللہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ایسا سوچنا ہی پڑتا ہے جب انسان پر امید ہو۔اس وقت تو شاید پاکستان کی تاریخ کا سب سے برا حال ہے۔شاید اتنی بری حالت اکہتر میں بھی نہ ہوئی ہو گی۔اگر ایسی حالت تھی بھی تو شاید صرف بنگلہ دیش والوں کی تھی۔ہم نے اکہتر کی جنگ نا تو دیکھی اور نا ہی ہمیں حقیقت بتائی گئی۔

ہمیں تو کمزور جسم ، کالے کلوٹے ،چڑچڑی عادات کے مالک شخص کے متعلق طنزیہ انداز میں پتہ چلتا رہا کہ بنگالی ایسے ہوتے ہیں۔جب پاکستان سے باہر بنگالی سے ملے تو کوئی خاص فرق نا پایا۔اعلی نسل کے پاکستانی اور بنگالی میں۔

اس اعلی نسل کے پاکستانی کا نطفہ شاید اسپیشلی بھگوان نے جنت سے اوتارا ہوگا(غور کریں حجت پوری ہورہی ہے)۔اسی لئے سب پاکستانی اپنے آپ کو بھگوان کا اوتار سمجھتے ہیں۔ بھگوان کا اوتار نہ ہوتے صرف انسان ہی ہوتے تو شاید اس گھٹیا دھرتی پہ اچھے طریقے سےرہنا برداشت کر لیتے۔ لیکن بھگوان کا اوتار اور یہ چند روزہ گھٹیا دھرتی !!۔۔۔ہیں جی۔۔۔۔۔اس کی عوام اور اس کی حفاظت پاکستانی کیوں کرے۔۔۔۔۔ہیں جی

جب دل کرتا ہے آبادی کی کمی کیلئے امریکہ آسمانی امداد بھیج دیتا ہے اور پندرہ بیس کھڑکا دیتا ہے۔ڈرون نامی پرندہ ایجاد ہی کم بچے خوشحال گھرانے کے قانون کی حفاظت کیلئے کیا گیا ہے۔ بل گیٹس کا ایک ٹرسٹ ہے۔ جاپان کی این جی او کو رقم ادا کرے گا۔جو پاکستان میں تین کروڑ بیس لاکھ بچوں کو پولیو کے ٹیکے لگائیں گے۔ ۔۔۔۔ہیں جی!!۔
ٹیکے پاکستانیوں کو لگیں گے جاپانیوں کے ہاتھوں اور ادائیگی چاچا گیٹس کریں گے۔ ۔۔۔۔۔ہیں جی

واہ جی واہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔بل گیٹس کتنا انسانیت کا ہمدرد ہے۔یہ بھی بھگوان کا اوتار ہے۔ اسی ٹرسٹ کا ایک اور مشغلہ بھی ہے۔یعنی دنیا کی آبادی کو کنٹرول کرنا۔ ماحولی آلودگی اور دنیا کے غذائی مسائل وغیرہ حل کرنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔وغیرہ ۔۔۔۔۔وغیرہ۔

ایسے انسانی فلاحی کاموں پر نظر رکھنے کیلئے اعلی نسل کے پاکستانیوں کے پاس وقت نہیں ہے۔ انہیں فی الحال اپنے لئے جنت نظیر صوبے بنانے ہیں۔ کراچی میں کون فلاحی کاموں کیلئے ماہواری فنڈ وصولے گا اس کا فیصلہ بھی کرنا۔

ان سیاستدانوں اور حکمرانو سے جاہل مولوی ہی اچھا جو کم از کم پولیو کے ٹیکوں کو غیر شرعی کہہ کر کچھ تو اپنا حق ادا کر رہا ہے۔۔ٹیکہ تو غیر شرعی نہیں۔۔۔۔لگانے والا دھرم نشٹ کر جائے گا۔۔۔۔تالیاں ہی تالیاں۔۔۔۔ہائے ووئے۔۔۔۔۔تین کروڑ بیس لاکھ نا سہی ایک ڈیڑھ کروڑ ہی سہی۔۔۔۔۔۔۔ صوبے بنوانے ہیں ،اور اس کے بعد ہر شے اپنے نزدیک ہو جائے گی۔۔۔۔۔۔۔۔موجاں ہی موجاں۔ ایک صوبہ تالیوں والوں کیلئے ابھی سے بنا لیں۔۔۔بعد میں امریکہ نے بنوانا تو ہے ہی۔ حقوق ٹھمکیاں کے نام پر۔

پاکستان کے چوراہوں پہ میک اپ سے شٹی باڈی ٹائیٹ قسم کے بھیکاری اسی پولیو کے ٹیکے کا کرشمہ ہی تو نہیں؟ دیکھ لیں قطار اندر قطار گھوم رہے ہوتے ہیں۔ اب تو گھر آکر گھنٹی بجا کر بھی مانگتے ہیں۔

آجکل میں پرانے خصم سے جان چھڑا کر نیا خصم لایا جائے گا۔۔بھنگڑے تے مجرے۔۔۔۔بلے بلے

کوڑے ایتھے وی کوڑھے تے مکّے وی کوڑھے۔۔۔۔ہیں جی
خدا کی طرف پیٹھ کرنے والے خدا کی طرف پیٹھ کرنے والے Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 6:36 PM Rating: 5

6 تبصرے:

مطلوب کہا...

السلام اعلیکم
حالات بدلنے میں بہت وقت باقی ہے بلکہ پاکستان تاریخ کے مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے ہر طرف سے یلغار ہو رہی ہو تو "دڑ وٹنے" میں ہی عافیت ہوتی ہے
آپ کی پٹائی کاسن کر افسوس ہوا

ضیاء الحسن خان کہا...

کیوں تسی ۷۱ میں بھی جاپان اچ ای تھے بلے بھئی بلے ایڈے تسی مشوم :)

اور دوجی گل اے میرے پایان ۔۔۔۔۔۔۔۔ ٹینشن لینے کا نہیں دینے کا ہے :)

خالد حمید کہا...

یارا...
یہ سب کچھ ٹھیک ہونے کی کوئی ایک امید بھی نظر نہیں آتی... دوووووووووووووووور دووور تک...
کچھ نہیں ہونے والا..... سب ایسے ہی چلتا رہے گا...
اور عوام ایسے ہی پٹتی رہے گی......

Javed Gondal Pakcom جاوید گوندل کہا...

کوڑے ایتھے وی کوڑھے تے مکّے وی کوڑھے۔۔۔۔
یاسر بھائی ! یہ پیدائشی اور نسلی کوڑھے ہیں۔ بہر حال "کچھ تو کرنا پڑے گا۔ ورنہ کچھ تو ہو کر رہے گا"۔ اور جو کچھ خود نہ کیا جائے اور وہ خود ہی ہوجائے ، وہ انتہائی خطرناک ہوتا ہے۔ اور یہ ننھا سا نکتہ پاکستانی قوم نہیں سمجھ پارہی۔
اوپر سے لیکر نیچے تک ایک ٹولہ براجمان ہے ۔ کوڑھیوں کا ٹولہ۔ یہ مغل میلہ یہ لوٹ سیل دنیا کی کسی قوم کے تاریخ میں آج سے پہلے نہیں لکھی گئی ہوگی شاید۔ تو پھر پاکستان کے دشمن بھی اس لوٹ سیل کیوں کر نہ ہاتھ رنگے؟ ۔ زنخے تو اسوقت پولیو کے ٹیکوں سے پیدا ہونا چھوڑیں گے جب ملک پہ قابض زنخے جان چھوڑیں گے۔

Zero G کہا...

یارا…
یہ سب کچھ ٹھیک ہونے کی کوئی ایک امید بھی نظر نہیں آتی… دوووووووووووووووور دووور تک…
کچھ نہیں ہونے والا….. سب ایسے ہی چلتا رہے گا…
اور عوام ایسے ہی پٹتی رہے گی……


انتہائی دکھ کے ساتھ سو فیصد متفق :cry:

علی بن سفیان کہا...

جب اپنے آپ کو پٹنے دیں گے تو پٹیں گے ہی۔
ہم نے جناح کو بھلا کر گاندھی کو بسا لیا ہے تبھی ایک گال پر لگنے کے بعد دوسرا گال آگے کرتے ہیں ۔۔ ہیں جی۔۔ ان کی فلمیں گانے واہیات عریاں ناچ۔۔ وغیرہ

محمد علی جناح تو کہتے تھے کہ ایک پر کوئی مارے اور اگلے پر لگے یہ پھر آپ کی غلطی ہے۔ اور وہ تو پاکستان کا مطلب کیا ۔۔ لا الہ الا اللہ کہتے تھے۔
ادھر کہیں یہ مطلب مجھے نظر نہین آتا۔۔ نیچے سے اوپر تک۔

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.