الٹا سیدھا۔۔ایویں ایویں ہی

پہلے ہی کہاتھا یہ نحوست نا لو۔۔۔
ہمارے ہاں تو پیدا ہوا تھا اور ہم ابھی تک دمادم مست قلندر کا ناچ دھکتے کوئلوں پر چیختے ہوئے کر رہے ہیں۔
لونڈا مارا گیا پولیس کے ہاتھوں اور چار شہر جلنا شروع ہوگئے۔ساری تہذیب یافتہ قوم کا بھرم بیچ چوراہے دھواں دے رہا ہے۔
معاشی حالات کی تباہی کی ابتدائی سٹیج پر یہ حال ہے کالئے والو!!!!۔

آگے آگے دیکھو ہوتا ہے کیا!!!۔
دوسروں کے گھر جلانے والے اپنے گھر کو عموماً محفوظ ہی سمجھتے ہیں۔
کئی کہیں گے کہ وہ ہمارا گھر کب جلاتے ہیں۔؟ ۔تو عرض ہے ان کے پالے ہوئے کالے کتے کی وڈیو نہیں دیکھی جس میں کہہ رہا ہے ایک اشارہ کردووووووووووووووووووووووووووووووووووووں نا!!۔
ہاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دما دم مست قلندر ہوگی۔۔۔ہیں جی۔

ان کی تہذیب ان کی ترقی سب پیسے پر ہے کالئے ۔۔۔۔۔
امریکہ فلاحی ریاست نہیں ہے۔دیوالیہ نکل بھی گیا تو اسے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔بلکہ جب فائدہ دیکھے گا تو دیوالیہ نکال دے گا۔ملکہ الزابیتھ صاحبہ کے جھنڈے تلے پلنے والے ملک فلاحی ملک ہیں۔۔خیرات ملتی ہے نکموں کو۔۔۔۔۔بچوں کو سکول میں پڑھائی مفت میں ملتی ہے۔کالج یونیورسٹی کیلئے قرضہ ملتا ہے اہلیت کی بنیاد پر۔۔۔پھر معاشرے کا غلام ہوکر ساری زندگی تعلیمی قرض اتارتے رہو۔

جب اتر جائے تو گھر کا لون ادا کرنے کیلئے کام کرو۔جب ریٹائیر منٹ کا وقت آئے تو باقی ماندہ دن بستر پر یا پھر بڈھا گھر میں گذارو۔۔۔۔

یہ نہیں کر سکتے تو خیراتی پیسہ سے پینا پلانا کرو اور کسی گلی میں لڑھک جاو۔کھانا تو امریکہ کے سوپ کچن میں بھی مل جاتا ہے۔ہمارے داتا دربار کی طرح۔
بے شک افلاس برائیوں کی ماں ہے۔جہاں افلاس ہو گا وہاں اس معاشرے کے اثاثے بھی بے قدر ہو جاتے ہیں۔ہمیں اس سے غرض نہیں کہ ہمارا حال کیا ہے ہمیں اس سے غرض ہے مستقبل کیا ہو گا۔
ان کا مستقبل کیا ہو گا؟۔۔۔۔خوشحالی تو رفتہ رفتہ زوال پذیر ہے۔یہی حال آٹھ دس سال مزید رہا تو سب سامنے آجائے گا۔
لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ولائتی انڈے تیرا کیا ہو گا اس وقت؟؟؟؟؟۔۔۔۔۔کالئے دیس دیس ہوتا ہے۔۔چاہے گندگی کا ڈھیر ہی کیوں نا ہو!!۔

پیٹ پوجا کیلئے مل رہا ہے اور ملتا رہے گا۔
چند فیصد خوشحال گھرانوں کے پاکستان کو مستقبل کا پاکستان دیکھنا ہے تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اہل مغرب کی فحاشی اختیار کر لو۔اگر یک دم اس قوم کوخوشحالی مل گئی تو مستقبل کیا ہو گا؟
انڈین فلموں سے درآمد کیا ہوا؟
ہالی وڈ بالی وڈ نما خوشحال مستقبل؟

اللہ کے کاموں میں بے شک حکمت ہوتی ہے۔وہ جسے چاھے نواز دے اور جسے چاھے اسے اس کی حدود میں رکھے۔
جو ہے جیسا ہے الحمد اللہ جو اللہ کی مرضی ہم اسی میں خوش ہیں۔

ہاں جہدوجد اس انسان کیلئے ضروری ہے۔تن آسانی مردے کو ہی زیب دیتی ہے۔۔۔۔سفید لباس میں۔۔۔۔
ہم جو بدیس سدھارے ولائتی انڈے جب پاکستان جاتے ہیں تو ہمیں کلچر شاک لگتا ہے وجہ کوئی خاص نہیں ہم ولائت کی چکاچوند میں اپنی بینائی کھو دیتے ہیں۔
ہمیں ہر بات میں پاکستانیوں کی جہالت نظر آتی ہے۔ظاہر ہے جس دیس کے لوگ اتنے جاہل ہوں گے اس دیس کے جانور بھی جاہل ہوتے ہیں۔

ایک بار میں پانچ سال پاکستان نا جا سکا۔پانچ سال بعد جب پاکستان گیا تو ہر شے میں مجھے جہالت نظر آتی تھی۔
ایک دن تو میری حیرت سے بری حالت ہوگئی کہ میں نے دیکھا کہ ایک دیوار پر بھینس کے اوپلے لگے ہوئے ہیں۔میں حیران و پریشان کھڑا اس حیرت انگیز معاجرے کو دیکھا رہا تھا۔اور بھینس کی جہالت پر افسوس کرتا رہا کہ کیسی جاہل بھینس ہے کہ اسے اور کوئی جگہ نا ملی کہ اس نے اس دیوار کو گندھا کر دیا!!!!۔
اس کے بعد مجھے بھینس سے سخت نفرت ہو گئی ۔مجبوری ہے اس کا دودھ تو پی لیتا ہوں۔یہ مجبوری نا ہو تو ایسے جاہل جانور کو ذبح کرکے مزیدار کباب بنا کر کھا جاوں!!۔

۔جاپان کی بھینسیں تو باڑے میں ہی حوائج ضروریہ سے فارغ ہوتی ہیں۔!!
آپ تو پاکستان میں بستے ہیں دیہی علاقوں میں بھینس کے ایسے کرتوت دیکھتے ہی رہتے ہوں گے!!۔۔۔۔۔۔۔۔جاہل بے عقل جانور۔
الٹا سیدھا۔۔ایویں ایویں ہی الٹا سیدھا۔۔ایویں ایویں ہی Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 10:34 PM Rating: 5

5 تبصرے:

جعفر کہا...

آپ کو پانچ سال کے بعد واپس آنے پر جہالت نظر آئی
آپ کی نظر کا قصور ہے
اہل نظر تو ایک گھنٹہ امریکی چینل دیکھ لیں تو ان کو ہر جگہ جہالت کے ڈیرے نظر آنے لگتے ہیں
کیا سمجھے؟

ڈاکٹر جواد احمد خان کہا...

یاسر بھائی ،
مغرب کے بارے میں تو اقبال بہت پہلے کہہ چکے ہیں کہ انکی تہذیب اپنے خنجر سے آپ خودکشی کرلے گی۔۔۔۔لیکن اگر برا نہ مانیں تو ایک بات کہوں ہمارا حال ان سے کہیں زیادہ برا ہے ہم نے ہر طرح سے ثابت کر دیا ہے کہ ہم بقا کے حقدار نہیں۔۔۔۔۔ یہ کسی مرعوبیت کی وجہ نہیں بلکہ حقیقتاْ امر یہ ہے کہ پاکستانی کو ابھی تک اجتماعی فائدے اور اجتمائی نقصان کا شعور تو ہونا بڑی بات ہے جو لوگ اجتماعیت کی بات کرتے ہیں انہیں ایسے دیکھا جاتا ہے جیسے وہ مریخ سے آئی ہوئی مخلوق ہو

عمران اقبال کہا...

تو ثابت ہووا کہ جاپان اور کنیڈا میں کوئی زیادہ فرق نہیں... بس آپ واپس پاکستان جا کر جہالت دیکھتے ہیں... اور کچھ لوگوں کو کنیڈا سدھارنے کے بعد پاکستانی جہالت نظر آتی ہے...

انگریزستان میں جو ہو رہا ہے... صحیح ہو رہا ہے... ہمیں غیر مہذب اور غیر ترقی یافتہ کا طعنہ دینے والے آج اپنے گھر کا منظر بھی دیکھ لیں... ہم میں اور ان میں کچھ خاص فرق نہیں محسوس ہو رہا.... گھر ہمارے بھی جلتے ہیں... آج گھر ان کے بھی جل رہے ہیں... آج انہیں بھی ویسے ہی درد محسوس ہو رہے ہیں، جن کی نوبت ہمارے گھروں تک انہوں نے پہنچا دی ہے...

قربِ آخرت ہے جناب... ہر جگہ فساد اور لڑائی جھگڑا... اب کوئی فیصلہ کن تبدیلی آنے کو ہی چاہتی ہے... اب دیکھیں کہ اس تبدیلی کو دیکھنے کے لیے ہم زندہ رہیں گے یا پھر اسی فساد، لڑائی جھگڑوں میں غرق ہو جائیں گے...

خرم ابن شبیر کہا...

میں تو اس دفعہ چھ ماہ کے بعد آیا ہوں مجھے بھی کچھ کچھ جہالت نظر آئی ہے پہلے بھی ہوتی تھی لیکن اس بار کچھ زیادہ ہی نظر آ رہی ہے جہالت

خالد حمید کہا...

واہ بھئی واہ...
ویسے جس جس کو جہالت نظر آرہی ہے ... وہ تو
تہذیب یافتہ طبقہ میں شامل ہوگیا..
اعتدال پسند بھی اور غیر جانبدار بھی.... :lol: :lol: :lol:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.