بے ربط سوچیں

 نائن الیون کے بعد ہم دیکھ رہے ہیں۔کہ امریکہ مسلسل معاشی بحران کا شکار ہے۔۔پہلے سنا تھا کہ جب معاشی بحران آتا تھا تو سرمایہ کار کہیں جنگ چھیڑ کر پیسہ کمانے کا طریقہ نکال لیتے تھے، لیکن اس وقت تو امریکہ کوئی نیا معاذ کھولنے سے رہا پہلے جو معاذ کھول رکھے ہیں ان سے ہی نکل نہیں پا رہا۔


اس دفعہ امریکہ دیوالیہ ہونے کو جا رہا ہے اور ساری دنیا اسے دیوالیہ ہونے سے بچانا چا ہتی ہے۔ظاہر ہے جاپان چین اور دیگر معاشی طور پر نمایاں ترقی پذیر ممالک نے ڈالر کا اسٹاک کر رکھا ہے۔اگر یہی ممالک یک دم اپنے اسٹاک میں پڑے ڈالر بیچ دیں تو؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔معاشی ماہرین اس کا اندازہ خوب لگا سکتے ہیں۔


جاپان کی معاشیت برآمدات سے قائم ہے۔ان دنوں ڈالر کے مقابلے میں ین کی بڑھتی ہوئی قدرکو روکنے کیلئے جاپانی حکومت نے بھی مداخلت شروع کر دی ہے۔یعنی جاپانی حکومت نے ڈالر خریدنا شروع کر دیئے ہیں۔ شاید مزید ایک معاشی جھٹکے میں جاپان کے وزیر اعظم خان صاحب ساری جاپانی عوام کو جھٹکا کرنے کا سوچ رہے ہیں۔یہ خان صاحب کچھ ہمارے خان صاحب کی طرح کھسکے ہوئے ہیں۔ڈالر خریدنے کے بعد آج ین پھر اپنی جگہ آ کھڑا ہو۔


اس دفعہ ملکی اور بیرونی  قرضے کی انتہائی سطح بڑھا کر امریکہ دیوالیہ ہونے سے تو بچ گیا؟ لیکن زیادہ تر سرمایہ کار پریشان ہی ہیں کہ کسی کو بھی امریکہ پر اعتماد نہیں ہے۔ پتھر کے دور میں بسنے والے طالبان تو اب بھی پتھر کے دور میں ہی ہیں۔ان طالبان کو تو آنے والے معاشی بحران سے کسی قسم کی پریشانی نہیں ہو رہی ہو گی۔


لیکن حیرت پاکستان کے حکمرانو اور میڈیا پر ہو رہی ہے کہ کسی نے کسی قسم کا کوئی سپیشل فیچر نہیں لکھا اور نا ہی امریکہ کے دیوالیہ ہونے کی خبر کو کوئی اہمیت دی۔  ناہی ہمارے کسی بلاگر نے اس کے متعلق کچھ لکھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دو چار معاشی ماہرین تو ہوں گے ہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


پاکستان امریکی امداد کا طلب گار ہے اور امریکہ خود اس وقت معاشی بحران کا شکار ہے۔کیا پاکستانی حکمرانو کے پاس مستقبل کا کوئی لائحہ عمل ہے؟ افغانستان پر حملے کے وقت امریکہ حضور کا فرمانا تھا کہ اگر ہمارا ساتھ نا دیا تو پتھر کے دور میں دھکیل دئے جاو گے۔ اب اگر امریکہ دیوالیہ ہو گیا تو امداد نا ملنے سے بھی یہی پتھر کا دور چلتا رہے گا۔


طالبان سر کٹا کر سرخرو ہوئے اور ہمارے پیارے حکمران سر جھکا کر بھی ذلیل ہوئے۔رہ گئی بات پتھر کے زمانے کی تو۔۔۔زمانہ تو زمانہ ہے۔۔۔۔۔پتھر کا ہو یا ڈالر کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔غیرتوں کا سودا نہ کرنے والے جانتے ہیں کہ زمانہ کیا ہے۔۔۔۔۔اور وہ اب بھی سر کٹوا رہے ہیں۔


نو دس سال پہلے کی نسبت جو پاکستانی شہری کچھ عزت کی زندگی گذار رہا تھا۔اس وقت دو وقت کی روٹی کیلئے پریشان ہے۔ہم باہر سے اخراجات بھیجنے والے بھی پریشان ہیں کہ  گھر والےبا عزت وقت کس طرح گذاریں۔ جوان نسل بیروزگار ہے۔ہر شہری اعلی تعلیم یافتہ ، ہنر مند ، باصلاحیت تاجر تو ہونہیں سکتا کہ کچھ بہتر ذریعہ معاش اختیار کر لے۔


عام مزدور کی ضرورت  تو دو وقت کی روٹی ہی ہوتی ہے۔اگر وہ بھی نا کما سکے تو کیا کر سکتا ہے۔ اس وقت تو جاپان جیسے ملک میں بھی عام بندے کی زندگی نہایت کٹھن ہو گئی ہے۔اور اس سال تو شاید جاپان میں خو د کشی کرنے والوں کا ریکارڈ قائم ہو جائے۔


ڈر لگتا ہے کہ کہیں پاکستانی خودکشی کے معاملے میں جاپان سے جیت نا جائیں۔ ان سیاستدانوں کے دیوانے عوام خودکشی نا کر سکے تو ویسے ہی ایکدوسرے کو مار کر مر جائیں گے۔۔۔۔ویسے یہ جو اتنے روزانہ مر رہے ہیں یہ کیا خود کشی جیسی حرام موت میں شمار نہیں کئے جا سکتے؟


معذرت جناب میں ایسے ہی جذبات میں آپ کے شہیدوں کی شان میں گستاخی کر گیا۔۔۔۔معافی کا طلب گار ہوں۔۔


    

بے ربط سوچیں بے ربط سوچیں Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 11:47 PM Rating: 5

9 تبصرے:

سعد کہا...

آخر میں تصویر صحیح حالات کی عکاسی کرتی ہے۔

فکرپاکستان کہا...

یاسر بھائی ہاتھی کے پاوں میں ہی سب کا پاوں ہوتا ہے، امریکہ اگر دیوالیہ ہوا تو چین خود بہ خود دیوالیہ ہوجائے گا کیوں کے چین معیشت کا دارومدار بھی امریکہ کی معیشت پر ہی ہے، امریکہ ہی چین کا سب سے بڑا بائر ہے، جاپان کے وزیراعظم صاحب پاگل نہیں ہیں جو ین کے مقابلے میں ڈالر کو سپورٹ کر رہے ہیں،وہ ایسا کر کے درحقیقت اپنے ہی ملک کو بچا رہے ہیں۔ سب جانتے ہیں کے امریکہ اگر دیوالیہ ہوا تو بڑے بڑے بت گر جائیں گے۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کے امریکہ کے صرف دیوالیہ ہونے کی خبر سے ہی پوری دنیا کے اسٹاک ایکسچینز نوز ڈائیو گری ہیں۔

Javed Gondal Pakcom جاوید گوندل کہا...

یاسر بھائی!
رمضان المبارک ہے۔ قلم اٹھاتا ہوں رکھ دیتا ہوں۔ وجہ صرف یہ کہ اتنے مبارک مہینے میں پاکستان میں وہی گندی سیاست اور معؤسم لوگوں کی ۔ مظلوم اور غریب لوگوں کی گردنیں اڑا کر سیاسی مقابلہ بازی کی جارہی ہے۔ دل پہ ایک بوجھ ہے بس کہ یہ دور بھی ہم نے جینا تھا اور اپنے آپ کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کہلوانے اور اسکا پروپگنڈہ کرنے والے ۔ انسانی گردنیں اڑانے کا مقابلہ کرکے اپنی طاقت کا اظہار کر رہے ہیں۔ لعنت ہے ان سب پہ۔
درندہ بھی بغیر کسی خاص مقصد کے یعنی بھوک۔ مادہ، بچوں کے تحفظ اور جان کے خوف کے علاوہ درندگی سے باز رہتا ہے۔ جب کہ پاکستانی اور مسلمان کہلوانے والے اپنے ہی ہم نفسوں کو کاٹ رہے ہیں اور حکمران بے غیرت ماسوائے اپنے مفادات کے لئیے جوڑ توڑ کے علاوہ کچھ نہیں کرتے ۔ زیادہ سے زیادہ ایک آدھ بیان ۔ ہم یہ کردیں گے ۔ وہ کردیں گے۔ اب کے مار کر دیکھ پھر دیکھ۔ اور ایک رحمان ملک ۔ جب سے یہ صاحب قوم کے تحفظ کے لئیے مشیر داخلہ اول اور ویزر داخلہ بعد میں بنے ہیں۔ قوم کا بیڑا غرق ہے اور انہیں تبلیغی جماعت جیسی نہائت بے ضرر سے تنظیم جس اختلاف رائے و اتفاق رائے سے قطع نظر ۔ انہیں دہشت گرد تنظیم نطر آتی ہے۔ اے کاش انہیں واپس برطانیہ ایکسپورٹ کیا جاسکتا۔ جب چوزوں کی رکھوالی پہ گیڈر بٹھا دئیے جائیں تو ہم لوگ خون کے گھونٹ کیوں نہ پئیں ۔ یہ بھی ایک وجہ ہے۔ کہ دل دکھا ہوا تھا۔اور کچھ لکھنے کرنے کو جی نہیں چاہتا۔ ماسوائے اوٹ پٹانگ چند جملے ادہر ادہر اور بس۔

جہاں تک امریکہ کی بات ہے ۔ ایک مرد قلند نے کہا تھا اور میں اس قول کا چشم دید گواہ ہوں۔ اس نے کہا تھا۔ سویت یونیں باہر سے ٹوٹے گا اور امریکہ اندر سے ٹوٹے گا۔ اور اور دونوں کی ٹھوٹ پھوٹ کی وجہ "بوریا نشین" ہونگے۔

مسئلہ یہ ہے کہ کسی کے ٹوٹنے یا بننے سے پاکستان کو تب تک کوئی فائدہ نہیں ۔ جب تک یہ خود نہیں بنتا۔ ورنہ وہی خار مغیلاں ہونگے۔ شہروں کے اجڑنے بسنے سے مانگت کبھی آباد نہیں ہوتے۔ اور پاکستانی حکمران " مانگتوں" میں پہلے درجے پہ ہیں۔امریکہ دیلوالیہ ہوجائے یا چائنہ عالمی طاقت بن جائے۔ ہمارے ملک کے حکمرانوں نے اس قوم کے نصیب میں کاسہ گدائی مسلط کر دیا ہے۔

ابو عبداللہ کہا...

ارے صاحب یہ تو آپ نے بڑی آنٹی آنٹی سی بات کر دی کہ اردو بلاگر میں سے بھی کسے نے نہیں لکھا۔ خیر یہ سب ڈرامے ہیں۔ ڈالر کی جگہ نئی کرنسی لانے کے کھیل کی شروعات ہو رہی ہے۔ یاد رہے میں نے مقابلے پر نہیں کی جگہ لانے کی بات کی ہے۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

ابو عبد اللہ کیوں روزہ مکروہ کر وا رہے ہیں۔ :D
یہ نئی کرنسی والی بات میں سمجھا تھا شاید ایک جاپانی بلاگر کے تخیل پرواز ہے۔
بحر حال کسی بھی تبدیلی کیلئے ہمارے الو صاحبان کی تیاری تو بلکل نہیں ہو گی۔
امریکہ اگر دیوالیہ نہیں کر رہا تو اس میں بھی کوئی مصلحت ہی ہوگی۔
دیوالیہ ہو جانے سے امریکہ کا تو کچھ بھی نہیں بگڑے گا۔۔کہ ان کی پلاننگ ہوتی ہے۔
باقی سارے بلے بلے ہی ہے

منیر عباسی کہا...

یہ نئی کرنسی شائد یورو ہے؟

یورپ آئے گا سیلاب بلا امریکہ کے بعد؟

واضح رہے سیلاب بلا سے مراد ایک کانسپیریسی تھیوری ہے.

Javed Gondal Pakcom جاوید گوندل کہا...

امریکہ کے دیوالیہ ہونے سے چین کو کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا ۔ باوجو اسکے کہ امریکہ سب سے زیادہ چین کا مقروض ہے۔

Javed Gondal Pakcom جاوید گوندل کہا...

البتہ آپ کی اوپر لگائی گئ تصویر ادھوری ادھوری ہے۔ اسمیں بہت سے الو غیر حاضر ہے۔ ایک لمبی فہرست ہے۔

جاویداقبال کہا...

بات تو آپ نے سچی کی ہے لیکن دراصل ہمارے حکمران اتنے پالتو بن چکے ہیں کیونکہ کتابھی ایک وفادار جانور ہےان کو اس سے تشبیہہ دے کر اس کی بے عزتی نہیں کرناچاہتاہے یہ نام کے ہیں تو پاکستانی لیکن غلامی امریکہ کی کرتےہیں امریکہ کی ہی زبان بولتےہیں لوگ مرتےہیں تو مریں انہیں کیاان کے اپنوں میں سے کوئی مرے تو ان کو غم ہوناں۔ اللہ تعالی سے دعاہے کہ ہمیں ایسے حکمرانوں سے نجات ملے آمین ثم آمین

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.