باڑہ تو باڑہ ہے جی

آپ نے کبھی خنزیروں کا باڑہ دیکھا ہے؟


نہیں دیکھا ہو گا جی۔


آپ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بستے ہیں ایسے نجس کا نام زبان پر آنے سے آپ کا دھرم نشٹ ہو جاتا ہے۔


 اور آپ کو پوتر ہونے کیلئے گنگا رام میں اشنان کرنا پڑ جاتا ہے۔


پوتر ہونے کے بعد شاید آپ دو رکعات نوافل بھی پڑھتے ہوں گے۔۔۔۔۔ہیں جی۔


ہم کیوںکہ خنزیر خوروں کے ملک میں رہتے ہیں ڈبل روٹی بھی دیکھ کر خریدتے ہیں۔


 کہ اس میں بھی خنزیر کی چربی شامل ہوتی ہے۔


اور تو اورسب سےزیادہ مزیدار دھی میں بھی اسی کا مواد شامل ہوتا ہے۔


آپ کہیں گے کہ تجھے کیسے پتہ چلا کہ یہ دھی سب سے زیادہ مزیدار ہے؟


تو جناب عرض یہ ہے کہ جب تک ہمیں معلوم نہیں ہوتا تھا۔۔۔اس وقت تک روٹی پکانے کا بندوبست گھر میں نہیں ہوتا تھا۔


ہم خنزیر خوری سے بچنے کیلئے یہی سب سے زیادہ مزیدار دھی اور بڑی ہی مزیدار ڈبل روٹی نوش فرماتے تھے۔


اور کئی سال تک ہمارا یہی معمول رہا۔


یعنی ہمارے کہنے کا مبطل یہ ہے کہ ٹنوں کے حساب سے مزے لے لے کر ہم لا علمی میں خنزیر تناول فرما گئے۔


اور ہر بار انگلیاں چاٹ کر ڈھکارتے رہے۔


اور مزے کی بات کہ بچنا بھی اسی خنزیر خوری سے ہی چاھتے تھے۔


لو دسو ۔۔۔۔۔ڈبل روٹی اور دھی میں بھی خنزیر۔۔۔۔۔۔ہیں جی


 اب بھی بعض اوقات آدھی رات کو آنکھ کھل جاتی ہے اور بے چینی ہوتی ہے کہ پوتر کیسے ہونے کا ہے۔


آپ نے سوچا ہوگا اب یہ لکھے گا کہ تجہد پڑھ کر اللہ میاں سے رو رو کر معافی مانگتا ہوں۔


ایسا کچھ نہیں جی کروٹ بدل کر دوبارہ سو جاتے ہیں۔


خراٹے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نہیں وہ مجھے نہیں آتے کہ شاید خنزیر کی چربی بھی ہمارے ڈھیٹ پن سے ہار گئی۔


عموماً سوچتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔


کہ اب کیا ہوت جب چڑیا چگ گئی کھیت!!۔


بخشنے والے نے بخش دیا تو ٹھیک ۔۔۔۔۔نہیں تو جلا لیں جی۔۔۔۔۔۔۔۔۔اللہ میاں تو اللہ میاں ہیں جو دل میں آئے کریں۔۔۔۔سانوں کی۔


 بات ہو رہی تھی خنزیروں کے باڑے کی تو جناب ہم نا چاھتے ہوئے بھی بعض اوقات ان خنزیروں کے باڑے کی طرف جا نکلتے ہیں۔نا چاھتے ہوئے اس لئے کہ بائیک پر ذرا گھومنے نکلتے ہیں۔


 ظاہر ہے پہاڑی یا پر فضا علاقے کی طرف ہی جانے کو دل کرتا ہے۔عموماً انہی دور دراز علاقوں میں خنزیر صاحب کی رہائش گاہ ہوتی ہے۔


پہلے تو انتہائی دماغ کو پھاڑ دینے والی بد بو استقبال کرتی ہے پھر جو دیکھتے ہیں تو تھوتھنیاں ہی تھوتھنیاں اور آپا دھاپی بے ڈھنگا شورشرابا۔


لیکن شاید آپ یقین ناکریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ خنزیر صاحب نہایت صفائی پسند ہوتے ہیں۔ان کا باڑہ لش پش کر رہا ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپ سوچیں گے وہ کیسے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔جناب یہ خنزیر صاحب اپنا ہضم شدہ مال بھی دوبارہ تناول فرما جاتے ہیں۔ظاہر  ہے صفائی تو ہوگی نا۔


شاید خنزیروں کا پورا ایمان صفائی ہی ہے۔


لیکن ایک بات ہے ان خنزیروں میں قومی یک جہتی ہوتی ہے۔ان کے باڑے میں آپ کو کتا بھی بستا نظر نہیں آئے گا۔


اب یہ کتے کی ہمت پر ہے کہ وہ بس سکتا ہے تو بس کے دکھائے۔


ہم فل ایکسلیٹر دبا کر ان کے باڑے کے پاس سے جلدی جلدی گذرتے ہیں اور آگے کہیں رک کر وضو کریں یا ناکریں منہ ناک میں پانی ڈال کا اچھی طرح دھو ضرور لیتے ہیں کہ کھاتا پیتا ابل کر باہر نکلنے کو تیار ہو جاتا ہے۔


آپ بھی سوچ رہے ہوں گے کہ اسے آج کیا سوجھی کہ خنزیروں کا قصیدہ لکھنے بیٹھ گیا۔۔۔۔۔۔۔اور آپ کو کراہت بھی آرہی ہوگی۔۔۔۔ہے نا جی۔


چند دن پہلے میں بائیک پر گھومتے گھومتے ان خنزیر صاحب کی رہائش گاہ کی طرف نکل گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہیں جی


بس جی پاکستان کے حالات  کرانچی کی خبریں اور حکمران کی تھوتھینیاں  ،سیاستدانوں کا بےڈھنگا شور شرابا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


عوام کے متعلق میں کچھ نا بولوں۔۔ میں بھی عوام میں سے ہی ہوں جی۔۔۔ہیں جی


  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بس وہ خنزیروں کی رہائش گاہ ان کا شور شرابا آپا دھاپی وغیرہ وغیرہ دماغ کی سکرین پر چل جاتا ہے۔


ایک گالی بار بار زبان پر آتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تخم خنزیر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔    

باڑہ تو باڑہ ہے جی باڑہ تو باڑہ ہے جی Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 5:03 PM Rating: 5

11 تبصرے:

افتخار اجمل بھوپال کہا...

مجھے نہ گ٠ِن آئی نہ لُطف آيا ۔ صرف پرانا ايک واقعہ ياد آيا ۔ 1977ء کی بات ہے ہم بيلجيم ميں تھے ايک دن ميرا ساتھی کہنے لگا کہ ماسٹرِخت [ہالينڈ] جانا ہے ۔ چھُٹی کا دن تھا ۔ کار ميں بيٹھے اور چل ديئے ساتھ ايک بيلجيک کو کو لے ليا ۔ وہاں دوپہر کا کھانا کھانے لگے ۔ تو ہر کھانے ميں سوّر کسی نہ کسی طرح موجود تھا ۔ تنگ آ کر ہم نے اُبے چاول کا کہا ۔ جب چاول آئے تو ان پر چھوٹی چھوٹی لال ٹکڑياں پڑی تھيں ۔ پوچھا يہ کيا ہے ؟ جواب ملا "ڈيلکيسی ہے ۔ سوّر کے گوشت کی ٹکڑياں"۔ بغير ہاتھ لگائے بل ادا کر کے باہر نکلے اور پھل لے کر کھائے

وقاراعظم کہا...

جی بالکل بجا فرمایا حضرت، تخم خنزیر ہیں یہ سارے۔۔۔۔

محمد سلیم کہا...

یاسر بھائی، اس سے بہتر تشبیہ نہیں دی جا سکتی تھی شاید ان لوگوں کیلئے

عمران اقبال کہا...

تشبیہ تو بلکل درست ہے۔۔۔ اللہ ہی پوچھے ان سور نما حکمرانوں اور سیاستدانوں کو۔۔۔ اللہ ہی ہم پر رحم فرمائے۔۔۔ آمین

عمران اشرف کہا...

آپ کے خیالات سے سو فیصد متفق ہوں۔ شاید ان تشبیہات سے بہتر اور کچھ ہو نہیں سکتا۔

محمد سعید پالن پوری کہا...

واہ جی کیا روانی ہے۔ انداز بیاں سے بڑا حظ اٹھایا بالخصوص اس جملہ سے:
شاید خنزیروں کا پورا ایمان صفائی ہی ہے۔

خالد حمید کہا...

گوگل نے تمام ڈاٹ کوڈاٹ سی سی کو اپنے سرچ انجن پر بلاک کردیا ہے.
http://www.techspot.com/news/44622-google-search-blocks-11-million-cocc-websites-to-fight-malware.html

Javed Gondal Pakcom جاوید گوندل کہا...

یاسر بھائی!

آپکی تحریر کافی دنوں سے دیکھ رکھی تھی مگر سکون سے پڑھنا اور دیکھنا چاہتا تھا۔

محتم محمد سعید پالن پوری صاحب جس جملے کو نمایاں کر گئے ہیں مجھے اسی جملے سے اختلاف ہے۔ یعنی ان دو جملوں سے ۔ ۔ ۔

"شاید خنزیروں کا پورا ایمان صفائی ہی ہے۔"
"بخشنے والے نے بخش دیا تو ٹھیک ۔۔۔۔۔نہیں تو جلا لیں جی"
پہلا جملہ مسلمانوں کے لئیے ایک مخصوص حدیچ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ جبکہ دوسرا جملہ خدا سے کچھ کچھ "بغاوت" کی بُو کا عنصر لئیے ہوئے ہے۔

ممکن ہے مجھے سمجھنے میں غلطی لگی ہو اور خدا کرے ایسا ہی ہوا ہو۔ مگر میرے ناقص فہم میں مجھے جو اعتراض ہوا وہ بتا دیا کہ آپ سے تعلق مجھے بہت عزیز ہے اور میں کبھی نہیں چاہوں گا کہ خدا نہ کرے آپ کچھ کچھ :بغاوت" کی وجہ سے اللہ کو ناراض کریں۔ امید کرتا ہوں آپ میری بات کو غلط نہیں لیں گے۔

جہاں تک مضمون کا تعلق واللہ آپ نے سب کو ننگا کردیا ہے"بیچ چوراہے کے" جس کے لئیے آپ کو داد نہ دینا سخت زیادتی ہوگی

Javed Gondal Pakcom جاوید گوندل کہا...

مخصوص حدیچ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کی بجائے۔۔۔ ۔ ۔ مخصوص حدیث پڑھا جائے۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

محترم گوندل صاحب
استغفراللہ
آپ کے احساس دلانے سے محسوس ہوا کہ واقعی کچھ ایسا بھی سمجھا جاسکتا ہے
لیکن میرا قطعی طور پر بغاوت کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
خنزیر وں کی صفائی جس میں وہ اپنا گند بھی کھا جاتے ہیں اور کراہت بھی محسوس نہیں کرتے اس کا اشارہ لسانیت کی بنیاد پر اپنے بھائی بندوں کا صفایا کرنے والوں کی طرف ہے نا کہ صفائی نصف ایمان کا تمسخر اڑانا۔
دوسرا بغاوت کی بو والا جملہ ۔۔۔۔اگر قدر کے متعلق سوچا جائے تو میرے خیال میں بغاوت نہیں ہے۔
میرے مقصد ہربرے فعل سے بچنا ہے۔اگر کوئی گناہ مقدر میں لکھ دیا گیا تو میرے بس سے باہر ہے۔
باقی آپ کی ہر سرزنش سر آنکھوں پر محترم ۔۔۔امید رکھتا ہوں آئیندہ بھی میری اصلاح کرتے رہیں گے۔جس کیلئے میں آپ کا مشکور ہوں گا۔ میں ایک بار پھر عرض کردوں کہ میرے پاس الفاظ کا افلاس بہت زیادہ ہے،بعض اوقات احتیاط کرنے کے باوجود اپنی بات احسن طریقے سے لکھ نہیں پاتا۔

dr iftikhar Raja کہا...

ادھر بھی جناب خنزیر بندے کے پیچھے اس طرح ہے کہ بس، آنکھ جھپکی نیہیں اور خنزیر اندر گھسا نہیں، بس چاروں آنکھیں کھول کر بھی اس سے بچنا اوکھا کام ہے۔
ویسے ہمارے ہاں بھی بہت ہیں مگر بشکل انسانی جو کردار خنزیری اپنائے پھرتے ہیں اور ان کو کہہ بھی دیا جائے کہ توں نے ہیں ہی خنزیر تو برا بھی مان جاتے ہیں فوراُ سے پیشتر

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.