رنگیلے حکمران تے البیلے عوام

ہمارے پاس اندرون سندھ کے ایک بھائی ہوتے ہیں۔ان کا نام محمد البیلا ہے۔آپ نے کئی سکھوں کے نام سنے ہوں گے۔اگر سنگھ نا لگا ہوتو لگتا ہے۔یہ کوئی مسلمان ہی ہے۔ جیسے کبیر سنگھ وغیرہ۔ ۔۔


مسلمان جو دہلی میں بستے تھے۔ان کی عیاشیاں پڑھنے کو ملتی ہی ہیں۔۔۔۔۔۔۔جو دور بستے تھے۔۔ان بیچاروں کے منہ سے بار بار نکلتا تھا۔ ہنوزدہلی دور است۔


آپ کہیں گے کہ وہ تو رنگیلے شاہ نے لاپرواہی میں ایسا کہہ دیا تھا۔۔۔۔دہلی کے طلبگاروں کو دور سمجھ کر۔۔۔۔۔۔۔۔تاریخ پڑھنے والا تو اپنے حساب کتاب سے یا فہم سے بات سجھے گا۔ہمیں تو یہی سمجھ آئی کہ رنگیلا شاہ بھی اور اس کے بعد والے بھی اور اس سے پہلے والے بھی جو دہلی کے تخت پر بیٹھے تھے وہ مشرف و زرداری یا کوئی اسی قسم کے تھے اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جن کیلئے ہنوز دہلی دور است تھا۔وہ شریف والطاف و عمران و مولوی پھیجا  وغیرہ تھے۔ جو دہلی کے تخت پر چڑھ گیا وہ رنگیلا شاہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جو چڑھنے کی کوشش کر رہا ہے وہ مرد مومن مرد حق عوام کا سچا ہمدرد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دمادم مست قلندر۔


اگر دہلی کی چاہت میں یہ سب ایک دوسرے کی گردنیں نا مار رہے ہوتے تو شاید محمد البیلے کے ماں باپ سوچتے کہ کوئی اچھا سا نام رکھیں جس کے اچھے اثرات بچے کے کردار پر پڑیں اور بچے کے اخلاق ہی اچھے ہو جائیں۔ اور شاید کبیر سنگھ کے ماں باپ بچے کا نام بڑی چاہت سے عبد الکبیر رکھتے۔ اور اہل مغرب مرحومہ بیگم تاج محل یونیورسٹی میں اخلاقیات میں پی ایچ ڈی کرنے کیلئے آرہے ہوتے۔


اگر موازنہ کیا جائے اہل مغرب اور مسلمانوں کی اخلاقیات کا تو جناب عرض یہ ہے کہ ہم تو انہی اہل مغرب میں بستے ہیں اور شاید مریں بھی یہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور جن کیلئے ہنوز دہلی دور است(فارسی کا مطبل نا سوچیں بس کام چلائیں) ہے وہ شدید خواہش رکھتے ہیں کہ وہ بھی ادھر بسنے کے بعد ادھر ہی مریں۔


ایک غیر مسلم شرابی زانی اور  جو جو کام ہمارے اسلام میں حرام ہے وہ کرتا ہے۔لیکن اس کے چہرے پہ خوبصورتی کیوں ہوتی ہے؟ خوبصورتی نا سہی نحوست کیوں چھائی ہوئی نہیں ہوتی؟


اگر یہی کام ایک مسلمان کرتا ہے تو اس کے چہرے سے ہی پتہ چل جاتا ہے کہ یہ سارے حرام کام کرتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور ایسا کرنے والے کے چہرے کا حسن کیوں ماند پڑ جاتا ہے؟ اس کے چہرے سے نحوست کیوں پھوٹ رہی ہوتی ہے؟


میرا خیال ہے کہ یہ سب ضمیر کا معاملہ ہے۔غیر مسلم کوئی ایسا کام کرتا ہے جو مسلمان کیلئے حرام ہے تو اسے ضمیر صاحب کچھ نہیں کہتے۔ یہی کام جب ایک مسلمان کرتا ہے تو اسے علم ہوتا ہے کہ یہ کام حرام ہے۔ اس کے ضمیر صاحب سوئے ہونے کے باوجود اسے کچوکے لگاتے ہیں۔۔۔جس سے مسلمان ذہنی انتشار کا شکار ہو جاتا ہے۔یہ نحوست اس مسلمان کے چہرے پر کلیسا کے طرف بھاگتے ہوئے اپنے پیچھے رہ جانے والی مسجد گم کردینے کے لاشعوری احساس زیاں کی  پیدا کردہ ہوتی ہے۔  


جو اخلاقی بیماریاں ہمارے معاشرے میں ہیں۔۔۔۔۔یہی بیماریاں اہل مغرب میں بھی ہیں(آپ کا دل رکھنے کیلئے اہل مغرب کو ہم زیادہ بیمار نہیں کہتے)۔شراب و شباب عمر کی کوئی قید نہیں بالغ ہے تو جو دل میں آئے کرے۔شادی شدہ ہے تو بھی بوائے یا گرل فرینڈ بنائے سب چلتا ہے۔ سواپینگ(تبادلہ وغیرہ ہوتا ہے جنس کا) وغیرہ مغرب میں کوئی اتنی خاص بری بات نہیں ہے۔


اگر ہم مان لیں کہ اہل مغرب ہم سے اخلاقیات میں بہت اعلی ہیں تو کوئی صاحب اپنے آپ کو پیش کرے گا اہل مغرب کے اخلاقی اعلی اقدار کو قبول کرکے ہمارے لئے مثال قائم کرنے کیلئے؟


ہم نے تو مغربی معاشرے میں رہتے ہوئے ایک ہی بات سمجھی کہ مسلمانوں کا اور اہل مغرب کے اخلاقیات کا پیمانہ مختلف ہے۔جو بات ہمارے ہاں برائی کی انتہا سمجھی جاتی ہے ان کیلئے کوئی خاص نہیں ہے۔بہن بیٹی کا بوائے فرینڈ ماں باپ، بھائیوں کے سامنے ہی بہن بیٹی کے کمرے میں جائے اور چاہے رات گذار دے۔ مغربی معاشرے میں کوئی بری بات نہیں ہے۔ بلکہ صبح کا ناشتہ بوائے فرینڈ کو ٹیبل پر ملے گا۔اور نہایت ہمدردی سے پو چھا جائے گا نیند تو اچھی آئی نا؟  ہمارے مسلمانوں کیلئے یہ ناقابل قبول ہی نہیں مرنے مارنے والی بات ہوتی ہے۔


اگر پاکستان کے پاکستانیوں کی اخلاقی تباہ حالی یا دیوالیہ پن کا الزام ساری مسلمان قوم کی اعلی اخلاقی اقدار کو دیا جاتا ہے۔۔۔۔تو عرض یہ ہے کہ دین سے انسیت رکھنے والے باریش کو حقارت سے مولوی پکارا جائے۔۔


دین سے انسیت رکھنے والوں کو دیوار سے لگا کر روشن خیالی کا پرچار کیا جائے اور رونا اخلاقی تباہ حالی کا کیا جائے!!۔


اخلاقی تباہ حالی کا رونا رونے سے پہلے ان رنگیلے شاہوں کا کچھ کریں جی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپ ووٹ یا اپنی بھر پور مدد لسانی و مسلکی یا انتہائی کرپٹ قسم کی شخصیت یا جماعت کو دیں اور رونا عوام کی اخلاقی بد حالی کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شاباش اے اس رنڈی رونے پر۔۔۔۔۔۔۔ہیں جی۔


زرداری اور گیلانی رنگیلے شاہ صاحبان کی پو شاکیں دیکھئے۔۔۔۔۔۔۔۔اور عوام کی افلاس زدہ زندگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔


گزشتہ رنگیلے شاہ المعروف مشرف شاہ کی رنگنیاں تے ٹھمکیاں دیکھئے اور ۔۔۔عوام کی لائن دیکھئے بینک کے باہر جو بجلی کٹنے کے ڈر سے بل جمع کرانے کھڈے  لگی ہے۔۔۔۔۔۔یا ایک چمچ میٹھا کھانے کی خواہش میں چینی کیلئے پیسے ہاتھ میں پکڑے لتر کھاتی عوام دیکھئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایسی عوام سے اعلی اخلاقیات کی امید رکھنا۔


پانی بھرے گھڑے میں مدانی گھوما کر مکھن نکالنے کی طرح ہے۔


اہل مغرب اور ہم میں فرق صرف اتنا ہی ہے کہ ہماری  رفع حاجت کرنے والی دیوار پر لکھا ہوتا ہے۔۔۔۔دیکھو گدھا کیا کر رہا ہے۔


اور اہل مغرب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایمرجنسی ہے کوئی اتنی بری بات تھوڑی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بس یہ لکھا ہوا نہیں ہوتا۔


اچھا یا برا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔احساس ہے یا نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کرتے دونوں ہی ہیں۔۔۔۔۔۔ہیں جی


 

رنگیلے حکمران تے البیلے عوام رنگیلے حکمران تے البیلے عوام Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 2:14 PM Rating: 5

7 تبصرے:

ضیاء کہا...

واہ سایئں واہ ۔۔۔۔۔۔ تسی آجاو اب تو جہاز ہیں اور دلی بھی دور نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ باقی کوئی بھی آئے اور جائے نصقان تو عوام کا ہی ہوگا تسی ٹینشن نا لو سرکار جاپان والے

خالد حمید کہا...

تا تا تئی تھا..................................................
دل دی گلاں باتاں .....
کی لکھ دتا تسی پاء جی..................... ہیں جی.....

منیر عباسی کہا...

میرے ذہن میں کچھ یہی خیالات تھے اور ادھر گوگل پلس پہ بھی کسی نے کسی چوری کا ذکر کر کے مسلمانی کا مرثیہ پڑھا ہے. میری درخواست اتنی سی ہے کہ چور کو چور کہیں، اس کو الٹا لٹکائیں، اس کے ساتھ جو کرنا ہے کریں، مسلمانی اور اسلام کو گالیاں نہ دیں.

اگر ان کے اسی فارمولے کو لیکر آپ کے محلے میں رہنے والے کسی شرابی یا زانی کی وجہ سے آپ کو بھی زانی کہہ کر دھتکارا جائے ( جو کہ فی زمانہ ایک بہت ہی عجیب بات ہو گی) تو آپ کو کیسا لگے گا؟ میں نے کہیں اور بھی ذکر کیا تھا کہ کیا جامعہ پنجاب میں طالبات کے ساتھ جنسی بد سلوکی کے بعد یہ کہنا درست ہوگا کہ جامعہ پنجاب کو بند کیا جائے. تمام یونیورسٹیوں کو بند کیا جائے. ان تمام یونیورسٹیوں میں پڑھانے والے مرد اساتذہ کو الٹا لٹکا دیا جائے. یہ لوگ تو ہیں ہی ایسے. بھوکی ننگی نظروں سے اپنی بیٹیوں کی ہم عمر لڑکیوں کو تاڑتے رہتے ہیں. کیا ان کے گھر میں ماں بہنیں نہیں؟
بلکہ آگے بڑھ کر تمام عصری تعلیم کے ادارے بند کرنے کا مطالبہ کر دیا جائے؟
میں جانتا ہوں اور آپ سب بھی جانتے ہیں کہ ایسی بات غیر مقبول اور فضول ہی ہوگی. ان سب حرکتوں کے باوجود کوئی بھی جامعہ پنجاب کو بند کرنے کی حمایت نہیں کرے گا. تو پھر مسلمانوں کی غلط حرکتوں کی بنیاد پر اسلام کو گالی کیوں دی جاتی ہے اور اس گالی کو خصوصا ایسے انداز میں کیوں ادا کیا جاتا ہے جس سے کچھ مخصوص لوگوں کی توہین کا پہلو نکلتا ہو؟

اس پر بہت کچھ کہنے کی گنجائش ہے. بہت کچھ سوچا جا سکتا ہے مگر مانا نہیں جا سکتا کہ اگر مان لیا تو ملا اور "ہم " میں کیا فرق؟ ہیں جی؟

جعفر کہا...

عمدہ

Zero G کہا...

عباسی صاحب سے مکمل اتفاق .

Javed Gondal Pakcom جاوید گوندل کہا...

پاء جی !
آپ پگو پگو کے لتر تو نا ماریں۔
ویسے ایک حل ہے تریسنٹھ سالوں سے ملک امریکہ کو ٹھیکے پے دے کر دیکھ لیا۔۔۔ اب چند سال مولویوں کو دیکر بھی دیکھ لیں۔۔۔۔ انشاءاللہ شافی آرام آئے گا۔ ۔۔۔۔۔

ویسے ستم ظریقفی دیکھیں۔۔ روشن خیال اور اسلام بیزاروں نے جس قدر اس ملک میں اسلامی۔ مولوی۔ اسلام۔ وغیرہ کو رگیدا ہے۔ ۔ ۔ ان بے چاروں کی بے بسی دیدنی ہے کہ ہر گزرنے والے دن کے ساتھ ۔۔۔ پاکستان کے عوام کی امیدیں اسلام سے وابستہ ہوتی جارہی ہیں ۔۔۔۔ کہ یہ ایک نظام ہم نے ابھی آزما کر نہیں دیکھا۔۔ کہ چلو مولویوں کو آمزا لینے دیں ۔۔۔ حرج ہی کیا ہے؟۔

سعید کہا...

یہ ڈاکٹر صاحب کا تبصرہ اپنا تبصرہ بھی سمجھا جائے.

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.