سویرے سویرے بیزاری ملی۔

جاپان کے پڑوس میں کوریا ہے۔۔جس کی آبادی جاپان سے آدھی بھی نہیں۔۔۔جاپان کی آبادی اس وقت تقریباً ساڑھے بارہ کروڑ ہے۔ جب ہم اسی کے دھائی میں جاپان آئے تو ہمارے ساتھ کورین بھی فیکٹریوں میں مزدوری اور ریسٹورنٹ میں برتن مانجھتے تھے۔


کورین لڑکیاں ویزے کیلئے دن کو سکول میں پڑھتی تھیں تو رات کو نائٹ کلبز اور ریسٹورنٹ میں کام کرتی تھیں۔ہم پاکستانیوں کی طرح کورین کیلئے بھی ویزہ کی شرائط بہت سخت ہوتی تھیں۔پاکستانی پھر بھی آسانی سے گھس جاتے تھے۔اور کورین رات کے اندھیروں میں بوٹ کے ذریعے سمندر عبور کرکے بھی جاپان آتے تھے اور غیر قانونی طور پر روزگار حاصل کرتے تھے۔


کوریا کی نسبت جاپان معاشی ،فوجی، رقبہ   ،آبادی  ،ہر لحاظ سے بڑا ملک ہے۔لیکن تاریخی تلخیاں ان دو ممالک میں بہت ہیں۔جاپان نے جنگ کے دوران اور کوریا جب تک جاپان کی کالونی تھا۔ہر لحاظ سے کوریا کو دبایا۔جبری بیگار سے لیکر عورتوں سے جبری جسم فروشی تک کروائی گئی۔


کوریا کا شمار اس وقت ترقی یافتہ ممالک میں کیا جاتا ہے۔اور معاشی طور پر بھی اس وقت جاپان سے بہتر ہے۔کورین کیلئے اب جاپان آنے کیلئے ویزے کی سختی نہیں ہے۔جاپان اگر بہت بڑا پڑوسی ہے تو کورین نے کبھی بھی جاپان سے دب کر معاملات نہیں کئے بلکہ ہمیشہ جاپان کے ساتھ سفارتی و سیاسی معاملات میں سختی کی۔


اور سپر پاور امریکہ کا ان دونوں ممالک میں ڈیرا ہے۔ہر اہم ساحل اور اہم شہر میں امریکی فوج کی چھاونیاں ہیں۔جاپانی اور کورین حکومت بھی امریکی چہرے کا رنگ دیکھ کر اپنی خارجی پالسیاں بناتی ہیں۔پاکستان کی طرح عوام امریکی مخالف جذبات بھی نہیں رکھتے ۔بلکہ اگر چٹّی چمڑی رشین کی ہوگی تو ان کیلئے کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔اگر یہی چٹّی چمڑی امریکی ہوگی۔تو کیا جاپانی کیا کورین ایک عجیب قسم کی احساس کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں۔


ایسی ہی احساس کمتری جیسی پاکستان میں چٹّی چمڑی کو دیکھ کر گلابی انگریزوں کی شکلوں سے پھوٹ رہی ہوتی ہے۔ عرض یہ کرنا چاہا رہاتھا کہ اگر پڑوسی ملک ہر لحاظ سے طاقت ور ہے تو اسکا یہ مطلب نہیں بنتا کہ اس کے گھٹنے چھونے شروع کر دئیے جائیں۔


دیکھا جائے تو اس خطے میں دوسرے ممالک کی نسبت امریکہ نے جاپان کو ہی تھانے دار بنا رکھا تھا اور بنا رکھا ہے۔تمام اندرونی اور خارجی پالیسیاں امریکہ اور جاپان کے مفادات دیکھ کر بنائی جاتی ہیں۔


ہمارے دانشور جو کھاتے ہی دانش فروشی کرکے ہیں۔یہ ہمیں گھٹنے ٹیکنے کا مشورہ کیوں دیتے ہیں؟  ان دانشوروں میں اگر عوام میں خود اعتمادی پیدا  کرنے کی صلاحیت ہی نہیں تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دانش فروشی کے نام پر جسم فروشی کیوں کرتے ہیں؟


رونے دھونے سے یا تگڑوں سے ڈرنے سے مسائل حل ہو جاتے ۔تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔چھوٹے ممالک کیلئے یہ سب سے آسان رستہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لکھنے والے اور جسے علم بھی ہو کہ اس کی   تحاریر ملک اور معاشرے میں اہمیت بھی رکھتی ہیں۔تو مایوسی اور بیزاری کیوں پھیلاتے ہیں؟

سویرے سویرے بیزاری ملی۔ سویرے سویرے بیزاری ملی۔ Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 11:20 AM Rating: 5

7 تبصرے:

جعفر کہا...

آپ کو کس نے کہا کہ یہ دانشور ہے؟
جسے الطاف حسین انقلابی لیڈر اور ایم کیوایم تقدیر بدلنے والی جماعت دکھائی دے
مونس الہی کے لیے جو نوحے لکھے
وہ بروکر ٹائپ چیز تو ہوسکتی ہے
دانشور نہیں

انکل ٹام کہا...

اگر یہ دانشور ہے تو مجھے علامہ اقبال جتنا درجہ تو ملنا چاہیے نہ ،،، کہتے ہیں اندرون لاہور میں تھڑوں پر بیٹھ کر جو سیاست پر بحثیں ہوتی ہیں موصوف ویسی ہی زبان رکھتے ہیں ۔۔۔ جس بندے کو بات کرنے کی تمیز نہ ہو اسکو دانشور کہہ کر انکل ٹام جیسے دانشوروں کی بستی نہ کرو جی

عمران اقبال کہا...

اچھا تو جاپانی اور کورین بھی عربیوں کی طرح اسی بیماری کا شکار ہیں... کہ جہاں گورے نظر آئیں تو نعرہ لگائیں... "ہور چوپو"...
سائیں ہم تو احساس کمتری میں مر گئے کہ ہماری بھی کوئی وقعت ہو... کم از کم ہمارے کام کی ہی قدر کر لی جائے... اب جس امریکن میں، میں کام کر رہا ہوں... روٹیشن پر کبھی کبھی کوئی امریکن گورا آ جاتا ہے میرے جیسا کام کرنے... اب ہوتا یہ کہ وہ تو "یو ٹیوب" پر ویڈیوز دیکھتا رہتا ہے اور میں رزقِ حلال کے چکروں میں مصروف رہتا ہوں... اب یہ الگ بات ہے کہ وہ گورا مجھ سے کم از کم چار گنا زیادہ تنخواہ لیتا ہے... وجہ... گوری چمڑی اور جسم پر کچھ عدد نمایاں ٹیٹوز۔۔۔
ہائے او ربا۔۔۔ ہمیں بھی گورا ہی بنا دیتے۔۔۔ مسلمان ہی رکھتے کہ اس پر کوئی کمپرومائز نہیں کیا جا سکتا۔۔۔

عمران اشرف کہا...

مجھے لگ رہا ہے اب سب حسن نثار کے پیچھے پڑ جائیں گے. میرے خیال میں آپ ان کے خیالات سے اختلاف کر سکتے ہیں لیکن کسی کے لئے برے الفاظ استعمال کرنانامناسب ہے (مبصریں کے لئے). مجھے یقین ہے میرے تبصرے کے بعد بھی کافی 'علامہ' اور 'دانشور' خواتین اور حضرات اپنے خیالات کا اظہار کریں گے.
آپ نے کوریا اور جاپان کے بارے میں جو معلومات دیں ، اچھی لگیں.

ایم اے راجپوت کہا...

السلام علیکم ورحمتہ اللہ
آپ نے اچھی تحریر لکھی ہے

غلام مرتضیٰ علی کہا...

بہت درست لکھا آپ نے۔
حسن نثار ہی کے ایک کولیگ عبدالقادر حسن صاحب کا فرمانا ہے کہ موصوف کا محبوب مشغلہ مسلمانوں کی توہین و تذلیل ہے۔ (مفہوم)
ویسے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر امریکا اتنا ہی عظیم اور ناقابلِ تسخیر ہے تو نہتے طالبان کے ہاتھوں بری طرح پٹ کر افغانستان سے بھاگ کیوں رہا ہے۔ طالبان اگر دہشت گرد ہیں تو ان سے مذآکرات کیوں کر رہا ہے؟
حسن نے بھارت کی بے مثال ترقی کی مثال دی ہے۔ اگر بھارت نے واقعی بے تحاشا ترقی کر لی ہے تو ابھی تک وہاں کروڑوں لوگ فٹ پاتھوں پر کیوں مقیم ہیں۔
ہزاروں کسان ہر سال خود کشیاں کیوں کر رہے ہیں؟
بھارت کا ایک تہائی رقبہ ماو باغیوں کے قبضے میں کیوں ہے؟
بھارت سات لاکھ فوج تعینات کرنے کے باوجود کشمیریوں کے دلوں سے آزادی کی آرزو کیوں ختم نہیں کر سکا؟
حیرت ہے کہ بھارتی امورِ خارجہ کی کرتا دھرتا نروپما راو تو یہ بیان دے کہ بمبئی دھماکوں کے بعد پاکستان کے ساتھ مذاکرات ختم کرنا بڑی غلطی تھی۔ لیکن ہمارا پیارا دانشور ہمیں سمجھائے کہ بھارت کو اپنا باس مان لو۔ بھئی آخر کیوں؟؟؟؟
سُن اے تہذیبِ حاضر کے گرفتار
غلامی سے بتـر ہے بے بقینی

Zero G کہا...

حسن نثار صاحب کو شروع سے پڑہیں اور غور سے پڑہیں میرا جہاں تک ناقص خیال ہے تو وہ کچھ ایسا غلط بھی نہیں کہتے ، ان کے ایک پارٹی کے تعریفی قصیدوں سے تو خیر میں بھی متفق نہیں۔ پر اوور آل ان کو جو میں نے سمجھا ہے وہ یہی ہے کہ وہ قوم کو اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کا درس ہی دے رہے ہیں نا چاہے سخت الفاظوںمیں ہی سہی، اگر اسی بہانے قوم کچھ کر جائے[جس کی امید کم ہی نظر آتی ہے]تو کیا برا ہے ، گدھا اگرایک جگہ اڑ جائے تو اس کو بھی چلانے کے لئے ڈنڈا پریڈ تو کرنی پڑتی ہے نا!

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.