پیارے پاکستانی

ہم جاپان میں تقریباً دس ہزار پاکستانی ہیں۔اور پاکستان کے ہر علاقے والے پائے جاتے ہیں۔سیاسی جماعتیں بھی تقریباً تمام پائی جاتی ہیں۔جماعت اسلامی ، پی پی پی ،اے این پی ،مسلم لیگ اب پ  ن ق ک ی ے ، ایم کیو ایم ،تحریک انصاف ، غیر سیاسی تبلیغی جماعت کافی متحرک ہے۔اور قادری صاحب کی جماعت بھی خوب کام کر رہی ہے۔ صرف جمعیت علماء اسلام نظر نہیں آتی جمعیت علماء اسلام کی کمی ہر پاکستانی پوری کر دیتا۔۔یعنی ہم ہر قسم کا فتوی ہاتھ میں لئے گھوم رہے ہوتے ہیں۔۔زیادہ تر پاکستانی پرانی گاڑیوں کی ایکسپورٹ کا کام کرتے ہیں۔اور تقریباً جتنے پرانے پاکستانی ہیں سب جاپانی بول لیتے ہیں۔پڑھت لکھت کرسکنے والے کم ہیں۔لیکن سب گذارہ کر لیتے ہیں۔


جو پاکستانی روس کو گاڑیاں ایکسپورٹ کرتے ہیں وہ تقریباً سارے ہی روسی زبان بول لیتے ہیں۔ لڑائی جھگڑے بھی پاکستان کی طرح یہاں بھی خوب ہوتے ہیں۔بس یہاں کے قانون کا ڈر ہے ورنہ قتل غارت بھی ہو ہی جانی تھی۔اور اگر کرائے کے قاتل آسانی سے میسر ہوں تو کل سے پہلے آج دو چار پھڑکا دیئے جائیں۔ لیکن اس کے باوجود سب مل جل کر رہتے ہیں۔ایک دوسرے سے لڑائی جھگڑا بھی کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے بغیر رہ بھی نہیں سکتے ۔


یہاں پر ہم سب کی پہچان پاکستانی ہے۔چاہئے میرا جیسا کھسیانا ہو کر وضاحتیں کرتا پھرے کہ میں تو جاپانی ہوں۔لیکن جاپانی ہی پوچھا لیتے ہیں یہ منہ متھہ اور کیوں جاپانی؟


اور اگر کوئی جاپانی پوچھ لے کہ پاکستان کی قومی زبان کیا ہے تو ہم نا چاہتے ہوئے بھی کہتے ہیں کہ پاکستان کی قومی زبان اردو ہے۔میرا دل تو بڑا کرتا ہے کہ کہہ دوں پاکستان کی قومی زبان تو ہند کو ہے۔لیکن بیستی کے ڈر سے کہہ نہیں پاتا۔وجہ یہ ہے جی کہ اقبالؒ کی شاعری بانگ درا وغیرہ  کا جاپانی کا کتابی ترجمہ شائع ہو چکا ہے۔


یہاں کی ٹوکیو یونیورسٹی اور شاید ایشیا یونیورسٹی میں بھی اردو کا چار سالہ کورس کروایا جا رہا ہے۔جاپانی اب کافی تعداد میں اردو لکھنا پڑھنا جانتے ہیں۔پولیس اور وزارت خارجہ وغیرہ میں بھی اردو دان بھرتی ہو چکے ہیں۔ہمارے اردو کے بلاگ اور جو یہاں سے اردو کی سائیٹ وغیرہ چلتی ہیں۔ان کو بھی نہایت شوق سے پڑھا جارہا ہے۔اور میرے جیسے سے یہ بیچارے جاپانی علم حاصل کر رہے ہیں۔۔۔۔۔ہیں جی


یہ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر ضرورت ہو تو ہم پاکستانی دنیا کہ ہر زبان سیکھ لیتے ہیں۔پاکستان میں اگر سو زبانیں یا بولیاں بولی جاتی ہیں۔تو سب ملتی جلتی ہیں۔تھوڑی سے کوشش سے کوئی بھی پاکستان میں بولی جانے والے زبان آسانی سے سیکھی جا سکتی ہے ،اگر ضرورت ہو تو۔۔۔۔۔۔۔


اور ہمیں مزید آسانی یہ ہے کہ ہم سب کی معاشرت ایک جیسی ہے۔بولنے والی زبان کا فرق ہونے کے باوجود محسوسات اور عادات ایک جیسی ہی ہیں۔آپ کا پاکستان میں ہر علاقے کے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہوگا لیکن آپ کو ان لوگوں سے معاملات کرتے ہوئے کوئی دقت محسوس نہیں ہوگی جیسی دقت آپ کسی دوسرے ملک کے لوگوں سے معاملات کرتے ہوئے محسوس کریں گے۔


اگر پردیس میں پاکستانی سے آپ کا واسطہ پڑتا ہے تو چاہئے یہ پاکستانی کسی علاقے کا ہی کیوں نا ہو۔کوئی سی زبان ہی کیوں نابولتا ہو۔آپ اس پاکستانی کی عادت یا مزاج کو سمجھ جائیں گے۔اگر کوئی ہندی یا اردو بولنے والا انڈین یا بنگالی بھی ہوتو فرق صاف معلوم ہو جاتا ہے۔ جو خود اعتمادی ، گفتاری ،چال ڈھال ،  پاکستانی میں ہوگی وہ انڈین ،بنگالی سے اسے نمایاں کر دیتی ہے۔کراچی کا بھائی بھی ہوگا تو اگر پاکستانی ہے تو دو چار کی ہوا خارج کردینے والی خود اعتمادی اس میں  ضرور ہوگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہیں جی


اور کردار میں جو تضاد ہے۔۔میرا جہاں تک تجربہ ہے ،یہ تمام پاکستانیوں میں یکساں پایا جاتا ہے۔الٹی سیدھی عادتیں بھی ایک جیسی ہی ہیں۔ الٹےکام بھی کرتے ہیں اور جب مسلمانی کی بات آجائے تو سب ایک جیسے ہو جاتے ہیں۔ 


عموماً ایسا ہوتا ہے کہ چند دوست جمع ہوں تو شغل وغیرہ کرتے ہیں۔گپ شپ ہوتی ہے ہنسی مذاق ہوتا ہے۔ایک دو تھوڑا چھچھورا پن بھی کرجاتے ہیں۔بعد میں شرمندگی بھی ہوتی ہے لیکن جب دوستوں کی محفل ہو تو سب ذرا ریلیکس ہوتے ہیں اور چھوٹی موٹی بات کا خیال نہیں رکھتے۔کچھ عرصے پہلے اسی طرح ہم چند ساتھی اکٹھے ہوئے تو ایک پاکستانی ریسٹورنٹ میں چلے گئے۔


کھانا آنے کاانتظار کرتے ہوئے گپیں لگا رہے تھے کہ ساتھ والے ٹیبل پر دو لڑکیاں آکر بیٹھ گئیں۔وہ اپنی باتوں میں مگن تھیں لیکن ہمارے ساتھیوں نے چھچھورا پن شروع کر دیا ۔یعنی ان جاپانی لڑکیوں کے متعلق الٹی سیدھی باتیں اور تبصرے شروع کردیئے۔ میں نے انھیں کہا بھی کہ بھائیو جب لینا دینا کچھ نہیں تو ایسے ہی کیوں خوامخواہ کے چسکے لے رہے ہو۔


دو تین بار منع کرنے کے باوجود جب باز نہیں آئے تو میں نے چڑکے کہا ان لڑکیوں کی لاعلمی میں ان کے متعلق اس طرح کی باتیں کرنا بد اخلاقی ہے۔اور مزید تپ کر میں نے کہا کہ اگر ہمت ہے تو ان سے گپ شپ لگا کر تعریف وغیرہ کرکے ٹھرک پوری کر لو۔!!۔


اتنا کہہ کر میں تو خاموش ہو گیا۔لیکن ایک چھچھورے نے ان سے ہیلو ہائے شروع کردی۔لڑکیوں نے بھی نہایت آسانی سے اس کے ساتھ گپ شپ لگانا شروع کردی اور جو دوسرے تھے۔وہ بھی ان لڑکیوں سے باتیں کرنا شروع ہو گئے۔ میں اکیلا  بریانی کھانا شروع ہو گیا اور ان کی بریانی ٹھنڈی ہونا شروع ہو گئی۔


سارے بہت پر جوش تھے۔اور بڑ چڑھ کر اپنے آپ کو چلبیلا اور چھل چھبیلا ثابت کر رہے تھے۔کہ ان میں سے ایک لڑکی نے اچانک پوچھا آج آپ لوگ کیوں جمع ہوئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔


جواب میں انہوں نے کیا کہنا تھا ایک صاحب نے فرمایا کہ آج جمعہ شریف ہے اور ہم مسلمان شریف نماز جمعہ کے بعد یہاں جمع ہوئے ہیں۔اسی لڑکی نے کہا کہ یہ جو نزدیک ہی مسلمانوں کی مسجد وہاں گئے تھےنا؟


سب نے کورس میں یس یس کہہ کر سر کو اوپر نیچے حرکت دی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ھائی ھائی ھائی


اسی لڑکی نے کہا کہ مجھے اسلام کے متعلق بتائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہیں جی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


جمعہ شریف ہو اور مسلمان شریف صاحب سے ایک خوبصورت لڑکی اسلام کے متعلق پوچھ لے جناب پھر تو سب عالم اور مفتی مبلغ وغیرہ ہو جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔سچی مچی بتاوں تو مجھے کچھ شک ہو گیا تھا کہ دال میں کچھ کالا ہے۔ سمجھنے والے سمجھدار سمجھ جائیں گے کہ ایسے معاملوں میں شک ہو ہی جاتا ہے۔۔۔ہیں جی


اسی لئے میں تو خاموش ہی رہا۔جو حضرات کچھ دیر پہلے اپنے آپ کو مردانہ حسن کا شاہکار ثابت کرنے پر تلے ہوئے تھے ،اب مبلغ اسلام ثابت کر رہے تھے۔میں نے پھر چھیڑنے کیلئے سب سے کہا اسلام کو چھوڑو یارو۔۔۔۔۔۔۔ان سے ڈیٹ کا ٹائم لو کیوں وقت ضائع کرتے ہو۔۔۔۔۔۔اب میری تو کمبختی آگئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نصحیتیں سرزنش وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔۔۔۔ یعنی میری مسلمانی مشکوک ہوگئی ۔۔۔۔ایسے موقعہ پر مسلمانی مشکوک ہو جاتی ہے جی۔۔۔۔۔ہیں جی۔


لطف کی بات یہ تھی کہ پنجابی ، اردو سپیکر ، پشتو سپیکر تینوں اس نشست میں موجود تھے۔ تینوں نے میرے منع کرنے پر مجھے وڈا آیا مولوی کہاتھا اور میرے مذاق کرنے پر سارے ناراض ہورہے تھے۔۔۔۔۔سارے ایک جیسے ہی ہوئے نا۔


میں تو خیر ویسے ہی ڈرپوک بندہ۔۔۔ہیں جی۔۔۔۔بھیگی بلی بنا کونے والی کرسی پہ دبک کر اپنا کھانا کھانے لگا۔۔۔


جب سب نے اپنا اپنا تبلیغی فریضہ پورا کر دیا اور کچھ ٹھنڈے ہو گئے تو ان لڑکیوں نے نہایت ہی نفیس اردو میں لطیفے سنانا شروع کردیئے۔اور کھانے کے پیسے ان حضرات کے بل میں ڈلوائے اور یہ جا وہ جا۔۔۔۔۔۔


میں نے اپنے حصے کا ہزار ین ٹیبل پر رکھا اور سب سے کہا پائی جانو۔۔۔۔دلبر جانو۔۔۔مولبیو۔۔۔۔۔۔اپنے اپنے پیسے دو اور لڑکیوں کے پیسہ دینا بھی نا بھولنا۔ عموماً ریسٹورنٹ کا بل میں ہی دے دیتا ہوں۔۔لیکن اس دن تو اپنے بھی دینا نہیں چاہتا تھا۔۔۔لیکن بیچاروں پہ ترس کھا کر اپنے دے ہی دیئے۔


اتنا تضاد ہم لوگوں ۔۔میں کیوں ہوتا ہے؟


اگر پہلے ہی مسلمانی کا سوچ لیا جائے تو کئی معاملات میں شرمندگی سے بچا جا سکتا ہے۔


اگر مسلمانی کو بریانی ہی کرنا ہوتا ہے۔۔۔۔۔تو۔۔۔۔۔بریانی سے ہی رغبت کیوں نہیں رکھتے؟


بس جب یہ بریانی ہم کھانا چھوڑدیں گے تو۔۔۔۔۔۔


پیارے پاکستانی ہو جائیں گے۔


 

پیارے پاکستانی پیارے پاکستانی Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 4:38 PM Rating: 5

17 تبصرے:

عامر کہا...

بہت عمدہ! مزہ آ گیا یاسر صاحب۔۔

افتخار اجمل بھوپال کہا...

ميں کسی زمانہ ميں سوچا کرتا تھا کہ شايد ميں ہی غلط ہوں مگر اب معلوم ہوا آپ بھی ہيں ۔ شايد اور بھی ہوں گے

ڈاکٹر جواد احمد خان کہا...

ہا ہا ہا ہا ہا .....بہت اعلیٰ ..ویسے جاپانی لڑکیاں شاید لحاظ کر گئیں ورنہ اس صورتحال میں تو زبردست تفریح ہو سکتی تھی.
ویسے یہ بات بالکل صحیح ہے کہ دیار غیر میں آدمی جتنا پاکستانی ہوتا ہے اتنا ملک میں رہتے ہوئے نہین رہ پاتا.
کاش کہ اللہ تعالیٰ کوئی ایسا انتظام کر دیں کہ ساری نفرتیں اور رنجشیں محبتوں میں تبدیل ہو جائیں.

زیرو کہا...

نہ کرو یاسر بھائ ،
بڑی بری ہوئ دوستوں کے ساتھ،
ویسے شکر ہے ابھی بھی لڑکیوں نےھتھ ہولا ہی رکھا ، جو نکال لیتیں وہ محرم نامحرم کے مسائل ، تو کیا ہوتا.
:D

Wafa.Anjum. Uk کہا...

lekin yahan uk main pakistaniyon ko terrorist samja jata hi jo kay bohat afsoos ki baat hi

Waqar کہا...

!!Wah

Buhut khoob

عین لام میم کہا...

بہت خوب لکھا ہے بھائی۔۔۔۔۔ اور آخری لائنیں تو کمال ہیں۔۔ مسلمانی، بریانی اور پاکستانی۔۔۔!

خالد حمید کہا...

بادشاہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کمال دا لکھیا۔ :-)

جاویداقبال کہا...

بہت خوب بہت اچھالکھاہے ایساہلکاپھلکا واقعی بہت اچھالکھاہے

وقاراعظم کہا...

ہاہاہاہا، پیر صیب بہت اعلی بھئی، یعنی جاپانی گڑیوں نے بجادی، ان اچانک مولویوں کی. ویسے حقیقت یہی ہے. منافقت بہت زیادہ در آیا ہے ہم میں....

انکل ٹام کہا...

مجھے ایک کہانی یاد آگئی میں اکشے (فلموں والا نی) اپنے دوستوں کےساتھ جا رہا تھا راستے میں ایک موٹا چائنیز جا رہا تھا اکشے نے پیچھے سے کہا کہ دیکھو کتنا موٹا ہے ، موٹے نے پیچھے مُڑ کر کہا "میں موٹا نی ہوںںںںںں" اکشے کی آہو آہو ہو گئی

جعفر کہا...

ملی نغموں کی بجائے ایسی تحاریر قومی یکجہتی کے لیے زیادہ مفید ہیں

بلاامتیاز کہا...

بہت خوب جی ..

عبداللہ آدم کہا...

دوستوں کو بھی پڑھاءیں یہ مضمون۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایکسیلنٹ لکھا۔

dr Iftikhar Raja کہا...

واہ جناب مزہ آگیا، پر یہ لطیفے ہم ہیں دیکھ سکتے ہیں جو پاکستان سے باہر ہیں، ادھر بھی اس طرح کے لطیفے اب عام ہوگئے ہیں، کوئی پتا نہیں کب کوئی اردو بولنے والا اٹالین آپ کے سامنے موجود ہے۔

مطلب ہمیشہ برسر رسک، اور یہ ہیں جی میرا خیال ہے صرف آپ کا اور میرا ہی تکیہ کلام ہے ہیں جی

عبدالقدوس کہا...

موجاں لگیاں نے پیئن

م بلال م کہا...

پڑھ کر مزہ آیا۔ اچھی تحریر ہے۔ اب ان الفاظ کے ساتھ ساتھ کیا لکھوں؟ کیا لکھوں؟ کیا لکھوں؟ بس اسی ”کیا“ کا جواب نہیں ہوتا تو آپ کی اکثر تحریر پڑھنے کے بعد تبصرے/رائے دیئے بغیر پتلی گلی سے نکل جاتا ہوں۔ ویسے ہم آپ کے مستقل نہیں تو ”نیم مستقل“ قاری ضرور ہیں۔

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.