گورکھ دھندہ

ہمارا مذہب اسلام تو ہمیں نیکو کاری و اچھائی کی زندگی سکھاتا ہے۔اور ہم  مذہب پرست نیکو کاری کی زندگی کے بجائے صرف مسلک اور رسوم ورواج کو دین سمجھے ہوئے ہیں۔مذہب اسلام آیا ہی لوگوں کو متحد کرنے کیلئے ہے لیکن مذہب پرست ہزاروں فرقوں میں بٹ گئے۔ان باتوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ لوگ پاکیزہ بیہودگی کی تعلیم حاصل کرنا شروع ہو گئے۔


اس پاکیزہ بیہودگی کے تعلیم یافتہ پیروکاروں نے فرض کر لیا کہ مذہب پرستوں کا خدا صرف ایک مطلق العنان فرمانروا ہے انسانوں کو صرف ایک ہی بات سکھاتا ہے کہ خدا کی چاپلوسی کرکے خدا کو راضی کرو۔یہ چاپلوسی چاہے قتل و غارت سے ہو یا عبادات سے ہو۔ اگر اس عبادت اور قتل و غارت کا مقصد یہ ہے کہ خدا قوانین فطرت کو معطل کردے تو یہ عبادت اور قتل و غارت سب بیکار ہے۔ چاہے یہ سب پیدائشی حق ،  انسانی آزادی و خود مختاری کیلئے ہو یا اپنے خالق کو خلوص دل سے راضی کرنے کیلئے۔


مذہب پرستوں کے کاروبار میں فساد واختلال کی بد ترین صورت یہ ہے کہ مذہب پرست کسی پاکیزہ بیہودگی کے فرمانروا کے ہاتھ کٹھ پتلیاں بن جائیں۔یہ مذہب پرستوں کا وہ مقام ہے کہ حکومت وقت مذہب پرست مولویوں کو سیاسی تشدد اور دینیاتی کج بحثی اور گمراہی کیلئے استعمال کرتی ہے۔


ان مذہب پرستی کے دعوی دار مولوی نما مسلمانوں کا اصل منصب یہ نہیں کہ ایمان ، امید ، اور اخوت و محبت کے ذریعے مضطرب الحال عوام کے دکھے ہوئے دلوں پر تسکین کے پھائے رکھے؟


پاکیزہ بیہودگی کے تعلیم یافتہ پیروکاروں نے کبھی سوچا کہ وہ تو ان مذہب پرستوں سے بھی برے ہیں۔کہ ان کے جاہلیت پر مبنی جذبات کو بھڑکاتے ہیں۔اور نوحہ سناتے پھرتے ہیں کہ یہ انتہا پسند یہ مذہب پرست فساد الارض ہیں۔


درمیان میں ٹوٹ پھوٹ کر کباڑئیے کی دکان کا انبار بنے لاچار اپنے دائیں بائیں سے ایک دوسرے پر حملہ آور مذہب پرستوں اور پاکیزہ بیہودگی کے پیروکاروں کی جنگ کا ایندھن بنے ہوئے ہیں۔ اگر یہ لاچار دین کے طرف جاتے ہیں تو  دہشت گرد وطالبان،غیرت گروپ پکارے جاتے ہیں۔ پاکیزہ بیہودگی کے تعلیم یافتہ کی طرفداری کرتےہیں تو روشن خیال بے غیرت گروپ میں شمار کئے جاتے ہیں۔


پاکیزہ بیہودگی کے علمبردار اور مقدس مذہب پرست کون  ہیں؟  پاکیزہ بیہودگی کے پیروکار نام نہاد روشن خیال اور مقدس مذہب پرست زبردستی کے دین کے ٹھیکیدار ہیں۔یہ دو انتہائیں ہیں جو ہمارے معاشرے میں پائی جاتی ہیں۔اور تمام برائیوں کی جڑ ہیں۔ مقدس مذہب پرست واش لیٹ ٹائیلٹ  سےاستنجا کرنے کو طہارت نہیں سمجھتا پتھر اور خشک زمین پر گھسیٹی کرنے سے طہارت حاصل کر نے کو افضل سمجھتا ہے۔مذہب پرست کے عقیدے پر نہ چلنے والا واجب القتل ہے تو اپنے مسلک کا مشرک بھی دینی رہنما ہے۔


روشن خیال حجاب کرنا معیوب سمجھتا ہے تو عریانی کو افضل  ، آب زم زم کو غیر مقدس پانی کہتا ہے اور مشروب مغرب کے استعمال کو ذاتی عیب سمجھتا ہے۔مغرب کی سیاحت کو افضل سمجھتا ہےاور حج کو فضول اخراجات شمار کرتا ہے تو ریلیکس کیلئے پر فضا مقام پر جانے کو انسانی  ضرورت۔


دونوں بضد ہیں کہ وہ اہل حق ہیں۔ اور ہم لاچار؟ نا ادھر کے نا ادھر کے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اہل جاہل؟


 

گورکھ دھندہ گورکھ دھندہ Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 3:03 PM Rating: 5

11 تبصرے:

ابو عبداللہ کہا...

اسلام اس سے کہیں زیادہ تنگ نظر ہے جتنا روشن خیال بیان کرتے ہیں جبکہ اسلام اس سے کہیں زیادہ روشن خیال ہے جتنا مذہب پرست بیان کرتے ہیں۔

محمد سعید پالن پوری کہا...

ابو عبد اللہ کے تبصرہ سے اتفاق

درویش خُراسانی کہا...

ابو عبد اللہ : آج تو آپ نے قول زریں کہہ دیا۔ واہ واہ۔۔ہمیں بھی ابو عبد اللہ سے اتفاق ہے۔

شازل کہا...

یار الجھا کر بات کرنا کب سیکھا ہے
کچھ سیدھا سیدھا بھی بولنا چاہئے۔
جیسا میں نے بولا ہے :o

افتخار اجمل بھوپال کہا...

کوئی شخص ايک پرندے کو پنجرے ميں بند کرتا ہے اُسے بہترين غذا مہياء کرتا ہے ۔ اس کا ہر طرح کا خيال رکھتا ہے جو اُسے جنگل ميں ميسر نہيں ہو سکتا مگر وہ پرندہ بقول شاعرہ دل ہی دل ميں کہتا ہے " آتا ہے ياد مجھ کو گذرا ہوا ۔ وہ جھاڑياں چمن کی وہ ميرا چہچہانا"۔ انسان کا معاملہ کچھ عجيب ہے ۔ انسان انسان کا غلام بننے ميں خُوبی اور اور پيدا کرنے والے کا غلام بننے ميں عار محسوس کرتا ہے ۔ پھر وہ دو انتہاؤں ميں سے ايک پسند کر ليتا ہے ايک کا نام مذہبی ہے اور دوسرے کا روشن خيالی

سعد کہا...

یہ تو آدھا تیتر آدھا بٹیر والی بات نہیں ہو گئی؟

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

قول زریں :lol:

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

الجھا کر کہنے میں مزا اآتا ہے جی

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

اجمل صاحب بجا فرمایا

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

اسے اعتدال کہتے ہیں ۔۔میری ۔۔زبان میں

شازل کہا...

اسی لیے مشرف کہتے تھے کہ ہم "درمیانی" قوم ہیں :-)

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.