میرے محسوسات اور اردو بلاگستان

میں نے دو ہزار دس سے بلاگ لکھنا شروع کیا۔انٹرنیٹ اور کمپیوٹر کا استعمال انیس سو پچانوے سے کر رہا ہوں۔اردو کے بلاگ پڑھتا تھا لیکن مصروفیت اتنی ہوتی تھی کہ کبھی لکھنے کا خیال ہی نہیں آیا اور نہ ہی کسی بلاگ پر تبصرہ کرنے کا سوچا۔


دوہزار آٹھ کے معاشی بحران کے بعد کچھ فرصت ملی تو مختلف شوق پیدا ہوئے۔۔جن میں ایک بلاگنگ بھی ہے۔ایسے ہی گھومتے گھومتے سیارہ پر گیا اور جعفر حسین کے بلاگ پر جا نکلا اور تقریباً دو گھنٹے جعفر کے بلاگ پر ہی گذارے۔جعفر کے لکھنے کے انداز سے اتنا متاثر ہوا کہ اپنا بلاگ بنانے کا شوق ہوا۔یعنی مجھے بلاگ بنانے کی تحریک جعفر کی تحریروں سے ہوئی۔ بحرحال دوسرے بلاگرز حضرات سے معذرت کے ساتھ کہ میرے پسندیدہ بلاگر جعفر اور عمراحمد بنگش ہیں۔یا آجکل اچھا پڑھنے کو مل رہا ہے انکل ٹام کے بلاگ سے۔


بلاگنگ شروع کرنے کے کچھ ہی عرصے بعد میں نے محسوس کیا کہ کچھ بلاگر اور تبصرہ نگار سخت قسم کا تعصب رکھتے ہیں۔کوئی بھی پوسٹ ہو اسے دوسرے رنگ میں رنگ دیتے ہیں۔میرے جیسا کم فہم بندہ تو چاہتا ہے کہ اچھا لکھنے والوں سے کچھ سیکھ لے۔شروع میں سخت بیزاری ہوئی کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔


جیسے جیسے وقت گذرتا گیا ۔یہی محسوس ہونا شروع ہوا کہ کچھ لوگ مذہب کو بھی اپنے مطلب کیلئے استعمال کر رہے ہیں۔یعنی بعض باتیں مذہب کی پسند تو نہیں لیکن مسلمان ہونے کی وجہ سے قرآنی آیات کی تفسیر میں خوامخواہ کی بحث شروع کر رہے ہیں۔اس سے بھی بیزاری ہوئی اور کئی دفعہ سوچا کہ لعنت بھیجتا ہوں بلاگنگ پر۔۔۔۔لیکن میرا مزاج مستقل مزاج کہہ لیں یا پیچھے نہ ہٹنے والا ہٹ دھرم ۔اس وجہ سے بلاگنگ نہیں چھوڑی۔


ایک اور وجہ سے بلاگنگ جاری رکھی کہ بعض اوقات دل کی بات لکھنے سے کچھ دل ہلکا ہو جاتا ہے۔پھر آہستہ آہستہ کیچڑ میں لتھڑتے گئے کہ ڈھیٹ ہو گئے مکی صاحب کے علاوہ دوسرے جتنے بلاگر بھی لڑائی جھگڑا کر رہے ہوتے ہیں۔ان میں یا تو تعصب کی وجہ  سےلڑائی ہوتی ہے یا پھر کسی سیاسی جماعت سے جنونی قسم کی وابستگی۔


ایک شخص جو سارے بلاگستان کو گنداکرتا ہے وہ عبد اللہ نامی شخص ہے۔یہ شخص اتنا بڑا مسئلہ نہیں۔اس کے تیز مزاج کے تبصرے شائع کرنے والے بلاگر حضرات کا غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے۔یا پھر بے نام بیہودہ تبصرے جو ہوتے ہیں انہیں بھی صاحب بلاگ شائع کر تےہیں اور ان کی حوصلہ افزائی بھی کی جاتی ہے۔۔یا پھر دوسرے بلاگر کے نام سے کئے تبصرے وضاحت کرنے کے باوجود بلاگ سے ہٹائے نہیں جاتے۔


شازل کی پوسٹ پر دو سیاسی جماعتوں کے بندوں کی لڑائی ہورہی ہے۔اور زبان بازاری استعمال کی جارہی ہے۔اس کے علاوہ بھی دوسرے بلاگ پر بھی کچھ ایسی ہی لڑائی دیکھنے کو ملی جس سے مجھے آجکل پھر بیزاری سی ہو رہی ہے۔ مجھے وقار اعظم پیارا ہے۔لیکن میں جماعت اسلامی کو ناپسند کرتا ہوں ۔لیکن میری ناپسندیدگی کی وجہ سے وقار جماعتی یعنی پھڈے باز مولوی نے مجھ سے کبھی جھگڑا نہیں کیا۔


دوسرے بلاگرز بھی جو عموماً نسلی لسانی تعصب کی وجہ سے جھگڑا کرتے ہیں۔سب اعلی تعلیم یافتہ ہیں۔اور مجھے ایک چیز سے سخت نفرت ہے وہ  نسلی لسانی یا سیاسی تعصب ہے۔مذہب کا فہم تو میرے پاس انتہائی کم ہے۔لیکن قادیانیوں کے علاوہ سب کے ساتھ گذارہ کر لیتا ہوں۔مجھ میں اگر تعصب ہے تو صرف قادیانی یا اس قبیل کے لوگوں کیلئے ہے۔


کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ صاحب بلاگ واہیات تبصرہ نگاروں کو نتھ ڈالیں اور تبصرہ نگار بازاری زبان کا استعمال بند کردیں۔بلاگرز اگر اپنے آپ کو پاکستانی سمجھتے ہیں تو لسانی نسلی تعصب سے پاک ہو کر بلاگنگ کریں۔جہالت اگر پنجاب میں ہے تو پختونخواہ میں بھی ہے۔سندھ میں ہے تو بلوچستان میں بھی ہے۔لیکن بلاگر تو پڑھے لکھے حضرات ہیں۔اصلاح معاشرہ کریں لیکن الزام تراشی کے بغیر بھی تو یہ کام کیا جا سکتا ہے۔


میں نے یہی محسوس کیا کہ کسی کی برائی یا جہالت کو اس  کی نسل کا قصور ثابت کیا جاتا ہے۔اگر کہیں مذہب کے نام پر دہشت گردی ہوتی ہے تو ایسا لکھا جاتا ہے کہ جیسے دوسرے بلاگر اس دھشت گردی کے حمایتی ہیں یا دہشت گردی کرنے والے یہی ہیں۔میرا اپنا رویہ دن بدن بگڑتا ہی جارہا ہے۔کچھ مخصوص حضرات کو پڑھنا ہی چھوڑ دیا یا سرسری سے انداز میں پڑھا کہ گند ہی لکھا ہوگا۔میرے خیال میں یہ بھی بغض کی ایک قسم ہی ہے۔کچھ اپنے رویئے سے بیزاری اور کچھ اپنے اعلی تعلیم یافتہ بلاگرز کے مزاج سے سخت بیزاری محسوس کر رہا ہوں۔ 


یہ کچھ میرے محسوسات تھے۔اپنے پیارے اردو بلاگستان میں ایک سال گذارنے کے بعد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میرے محسوسات اور اردو بلاگستان میرے محسوسات اور اردو بلاگستان Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 10:47 PM Rating: 5

40 تبصرے:

شازل کہا...

آپ نے بالکل درست فرمایا ہے
آپ نے ایک جگہ لکھا ہےکہ میرے بلاگ پر دوسیاسی جماعتوں کی لڑائی ہورہی ہے۔ اور بازاری زبان استعمال ہورہی ہے
ویسے میں نے پہلی دفعہ بازاری زبان استعمال کی ہے کیونکہ مجھ سے مسلسل خدا تعالٰی سے مکی کی گستاخی برداشت نہیں ہورہی ہے۔ ویسے میں حیران ہوں کہ کئی لوگ اس معاملے پر خاموش ہیں۔ وہ جو ہر معاملےمیں اپنی ٹانگ اڑانا فرض سمجھتے ہیں ان کی خاموشی کا کیا مطلب ہے۔ کم ازکم وہ احتجاجی پوسٹ تو کرسکتے ہیں۔ خیر اس معاملے میں ان کا مدبر بننا سمجھ سے بالاتر ہے۔ اگر ان کی ذات کے بارے میں مکی نے لکھ دیا ہوتا تو جوابی حملے کرنے سے بعض نہیں آتے۔ خیر میں کوشش کروں گا کہ کسی تعصب کے بغیر لکھتا رہوں۔ آپ کی باتوں سے میں نے کافی روشنی حاصل کی ہے

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

شازل بھائی بعض اوقات خاموشی بہترین حکمت ہوتی ہے۔
ویسے میں نے صرف اپنی بیزاری کا اظہار کیا ہے۔کسی کو اس کے فعل سے منع نہیں کیا۔
بحر حال آپ کی پوسٹ اپنی جگہ ٹھیک ہی ہے۔

ضیاء کہا...

جعفر کون جعفر جس کو پتہ بھی نہیں کے لام سے لٹو آتا ہے ہا فیر کیا :) اور میرے سے متاثر نہیں ہوئے :(

فکرپاکستان کہا...

یاسر بھائی، میں نے آپکی بات کو تھوڑا سا مس انڈراسٹینڈ کیا اور وہ بھی اسلئیے کے مکی صاحب نے ہی اپنی تحریر پر کئیے گئے تبصرے پر اس خدشے کا اظہار کیا تھا کے یہ دونوں کتابیں شاید پاکستان میں اردو ترجمے کے ساتھہ نہ مل سکیں۔ لیکن ان میں سے ایک کتاب امام غزالی والی جسکا نام تہافت الفلاسفہ ہے باآسانی اردو بازار میں اردو ترجمے کے ساتھہ دستیاب ہے۔

مکی
11 May 2011 at
شکر ہے کہ مجھے عربی آتی ہے ورنہ میں بھی واہ واہ کرنے والوں کی صف میں کھڑا واہ واہ کر رہا ہوتا، ابن رشد کی تہافت التہافت میں نے بھی اردو میں تلاش کرنے کی کوشش کی تھی لیکن ناکامی ہوئی تھی، تاہم میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ اس کا اردو ترجمہ موجود ہے یا نہیں، اگر نہیں ہے تو پھر یقیناً وہ مولوی کے تعصب کا شکار ہوئے ہیں، خیر مجھے اس سے فرق نہیں پڑتا، کیونکہ عربی نسخہ بہرحال دستیاب ہے، آپ کو عربی تو نہیں آتی لیکن پھر بھی حوالے کے طور پر دونوں کتابوں کا ربط دے دیتا ہوں:
امام غزالی کی تہافت الفلاسفہ:

جب میں نے آپکا مندرجہ ذیل تبصرہ پڑھہ تو میں یہ ہی سمجھا تھا کے آپ ان ہی دو کتابوں کی بات کر رہے ہیں


یاسرخوامخواہ جاپانی Says:
جون 20th, 2011 at 10:51 پی ایم
ویسے چاچا ابو جاہل مولویوں اور مسلمان کے اسلام کی تصیحح کرنا چاہتا ہے تو ایسے الفاظ استعمال کرنا کسی صیحح الدماغ شخص کا کام نہیں۔
بیغمروں نے بتوں کو گالیاں نہیں دی تھیں۔
بت توڑے تھے۔چاچا ابو جاہل صرف تیش دلا رہا ہے۔
اور سمجھ رہا ہے کہ سب جاہل ہیں۔اور کچھ مخصوص لوگ ہی اس کی ذہنی سطح تک پہونچ سکتے ہیں۔
اس کی ذہنی سطح دو کتابیں پڑھ کر جن کا اردو میں ترجمہ نہیں ہے کچھ کھسک گئی ہے۔

آپکے تبصرے میں واضع لکھا تھا کے (جن کا اردو میں ترجمہ نہیں ہے ) اس جملے کی وجہ سے میں یہ سمجھا کے آپ ان دو کتابوں کا تذکرہ کر رہے ہیں اسلئیے میں نے آپ سے عرض کیا تھا کے آپ یا کوئی اور بلاگر کیوں کے محترمہ عنیقہ صاحبہ نے بھی دلچسپی ظاہر کی تھی کے اگر اردو ترجمے میں ملے تو وہ بھی پڑھیں گی، اور بلاگر اس کتاب کو اردو ترجمے میں خریدنا چاہئیں تو یہ کتاب اردو بازار میں دستیاب ہے میرے اپنے پاس بھی اردو ترجمے میں اسکی تینوں جلدیں موجود ہیں۔ اب مجھے آپ اور تمام بلاگرز بتائیں کے میں نے کیا غلط بات کی ہے؟ آپ نے طریقے سے جواب بھی دے دیا تھا کے مجھے سمجھنے میں غلط فہمی ہوئی ہے بات ختم ہوگئی تھی، میں کسی اور سے مخاطب تک نہیں تھا کے وقار اعظم بے مقصد درمیان میں کود پڑا اور مجھ پر الزامات کی بارش کردی کے میں نے امام غزالی کی شان میں گستاخی کی ہے اور پتہ نہیں کیا کیا الٹا سیدھا کہا۔ پوری بات آپ سب تک پہنچادی ہے میری بات کی تصدیق کے لئیے آپ شازل صاحب کے بلاگ پر جا کر دیکھہ سکتے ہیں کے میں نے جو کہا ہے اس سے باہر کچھہ بھی نہیں ہوا۔ اسکے گھٹیا الفاظ کے جواب میں میں نے اسکی زبان میں بات ضرور کی۔ میری آپ سے بھی ایک بار تھوڑی سی نوک جھونک ہوچکی ہے جسکی میں نے آپ سے معزرت بھی کی تھی، کل آپ نے بھی میرے بارے میں ایک بلاگ پر نا مناسب زبان استعمال کی مگر جواب میں میں نے آپ سے بدزبانی کرنے کے بجائے خاموشی اختیار کرلی اور آج شازل بھائی کے بلاگ پر صرف آپکو احساس دلانے کے لئیے یہ کہا کے آپ بھلے مجھہ سے بد زبانی کرلیں مگر میری کوشش ہوتی ہے کے آپکی عزت کروں۔ اب بتا دیں کے میں نے کیا غلط کیا پھر بھی اگر آپکو لگتا ہے کے میں نے آپ سے کوئی بدتمیزی کی ہے تو میں آپ سے معزرت خواہ ہوں۔ آپکو یاد ہوگا کے آپکے ہی کہنے پر میں نے عثمان صاحب کا تبصرہ اپنے بلاگ سے ڈلیٹ کیا تھا۔ میری نیت اللہ کا چکر ہے بلکل صاف ہے ورنہ میں آپ کے کہنے پر عثمان صاحب کا تبصرہ ڈلیٹ نہ کرتا۔

خرم ابن شبیر کہا...

میں تو سمجھ رہا تھا آپ نے مجھ سے متاثر ہو کر بلاگ لکھنا شروع کیا ہے :D
بس جی یہاں کچھ ایسا ہی چل رہا ہے
پہلے تو میں بھی بہت بحث میں حصہ لیتا تھا بلکہ اچھلتا تھا لیکن اب خاموش ہی ہو جاتا ہوں

احمد عرفان شفقت کہا...

سر جی، اپنے فیورٹ بلاگرز کا ذکر کرتے ہوئے آپ نے صرف بلاگر حضرات سے معذرت کی ہے....ایسا کیوں؟ خواتین بلاگرز سے کیوں نہیں کی؟

دوسرا سوال یہ ہے کہ ہر کسی کے کچھ پسندیدہ بلاگرز ہوتے ہیں. یہ کوئی معیوب بات تو نہیں. تو پھر یہ معذرت چہ معنی؟

محمد شہزاد کہا...

آپ کی بات درست ہے، ہم متحد نہیں ہو سکتے...
میں سوچ رھا تھا کہ اس دفعہ انتحابات میں پڑھے لکھے لوگوں کو ہی ووٹننگ کی اجازت ھو' لیکن بطور پاکستانی ہم زاتیات پر بہت جلد اتر آتے ہیں محض احتلافات کی بنا پر.
اکھٹے مل بیٹھ کر اکثر ازراہ مزاح بھی کسی کی زات' نسب یا ظاھری شکل و صورت کو ہی نشانہ بنانے کی کو شش کرتے ہیں.

جعفر کہا...

شاہ جی شرمندہ کرنے کی نہیں ہورہی۔

عمران اقبال کہا...

یاسر بھائی۔۔۔ سوچوں میں واضح تبدیلی بڑی خوش آئند ہے۔۔۔

کامیاب بلاگنگ کاایک سال بہت بہت مبارک ہو۔۔۔ اور اللہ زورِ قلم زیادہ کرے۔۔۔ آمین۔۔۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

عمران بھائی ۔۔۔شکریہ

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

نہیں جعفر پائی جان۔۔۔۔۔آپ کونسا( د) سے شرمیلی دلہن ہیں کہ شرمندہ ہوں۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

شہزاد بجا فرمایا

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

احمد بلاگر کی مونث کا معلوم نہیں ہے اس لئے لکھا۔ کسی خاتون بلاگر کی تعریف کر دیتا تو باقی خواتین بلاگر سے کیسے بچتا؟

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

خرم آپ سے تو ڈفر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں ڈفر سے دشمنی کیسے پالوں؟

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

فکر پاکستان صاحب یہ پوسٹ لکھی ہی اپنی گندگی محسوس کر کے ہے۔ کچھ بیزار سا ہو رہا ہوں۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

آپ کے متاثرین ہونے سے بچنے کی میں پوری کوشش کروں گا۔۔۔۔آپ تو ہمارے پیارے مولبی ہو۔

Javed Gondal Pakcom جاوید گوندل کہا...

۔مجھے چار مختلف زبانوں میں بلاگنگ یا اس سے ملتا جلتا اتفاق ہوا ہے۔ (بلاگنگ یا فورم یا ویب موڈرئشن ) اور میری ذاتی رائے میں ہر ایک زبان کا اپنا اسلوب اور زبان والوں کا اپنا انداز ہے۔ اسی طرح اردو کا اپنا اسلوب اور انداز ہے۔ ان سبھی زبانوں سے میں لطف اندوز ہوتا ہوں۔ مگر میری ہمیشہ سے کوشش رہی ہے کہ اردو کو وقت دوں یا اردو میں کام ہونا چاہئیے ۔ اور کچھ نہیں تو جس زمانے میں پاکستانی کارسرکار کے تمام فارم وغیرہ انگریز مں ہوتے تھے تو مجھے بیزارکن حیرت کے ساتھ چڑ ہوتی تھی کی یا خدایا جو قوم علم کی کمی کی وجہ سے اپنی مادری زبانوں میں اپنا مافی الضمیر بیان نہیں کرسکتی ۔ اور قوم میں انگریزی زبان صرف تین فیصد لوگ جانتے ہوں وہاں بجائے مادری یا قومی زبان میں کار سرکار کا کاروبار ہونے کی بجائے سرکاری زبان یعنی انگریزی میں ہوتا ہے۔ جس سے کسی نہ کسی صورت میں اس عام آدمی کو واسطہ پڑتا ہے جو انگریزی سے نابلد ہوتا ہے۔ تو کیا اردو میں فارم بانا اتنا ہی مشکل ہے یا جان بوجھ کر یوں کیا جارہا ہے؟۔ اسطرح کے بہت سے سوالات و مراسلات ہوتے رہے۔ بہت سے لوگوں نے اور تنظیموں نے اس بارے زمہ دار لوگوں کوجھنجھوڑا اور ابھی تک جھنجھوڑتے رہتے ہیں ۔ کہ آخر خدا خدا کرکے فارم وغیرہ کچھ اردو میں شروع ہوئے ہیں۔

ساری تہمید بیان کرنے کا مقصد یہ تھا کہ اردو ہماری قومی زبان بھی ہے اور ضرورت بھی ہیں اسے ترقی دینا اشد ضروری ہے۔ مگر اردو زبان میں یا یوں سمجھ لیں دیسی تنطیم سازی یا دیسی تنظیم کا عہدیدار ہونا۔ دیسی زبان میں بلاگنگ کرنے کا ایک اپنا ہی منفرد اسٹائل ہے۔ اور اگر اردو بلاگرز حضرات برا نہ مانیں تو عرض کروں کہ اردو کے اپنے مخصوص انداز کو جو چھاپ ہم نے دی ہے یہ مناسب چھاپ نہیں ۔ اردو کے بلاگ اور بلاگرز انگلیوں پہ گنے جاسکتے ۔ ہیں اور قارئین کی تعداد بھی اسی نسبت سے بہت تھوڑی ہے۔ مگر یہ حالات سدا نہیں رہنگے کیونکہ پاکستان میں یہ انٹرنیٹ اور اردو میں بلاگنگ کا آغاز ہے اور اس میں بے تحاشہ اضافہ ہوگا۔ اور ہورہا ہے۔ اسلئیے جو لوگ انٹرنیٹ تشریف لاتے ہیں اور حسب روایت یہاں وہی کھینچا تانی دیکھ کر یا تو بلاگنگ سے توبہ کر لیں گے ۔یا سب پہ دو لفظ بییجھ کر اردو بلاگروں سے بھی کنارہ کشی کر جائیں گے۔اور یہ اردو کی خدمت کی بجائے اردو کے ساتھ دسمنی کرنے
کے مترادف ہوگا۔

اسلئیے سب بلاگرز کو تحمل مزاجی، خوش اسلوبی ، خوش اخلاقی۔ اور اعلٰی ظرفی سے کام لینا چاہئیے۔ تانکہ اچھی مثال قائم ہو۔ اور ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ شاید یوں کبھی اللہ کرے ہم بھی اردو کو ترقی دے کر اپنے لوگوں کو علم بزریعہ اردو کا رستہ دکھا کر زندہ قوموں میں شامل ہوسکیں۔

شعیب صفدر کہا...

جعفر واقعی عمدہ بلاگر ہے اور اُس کے بلاگ سے بلاگ بنانے کی تحریک میسر آ سکتی ہے۔
نام تو نہیں لیا مگر یون لگا کہ یہ تنقیدی تحریر کے ہم بھی شکار ہیں، محترم کیا آپ میرے بلاگ کی اُس تحریر کا ذکر کریں گے جس میں آپ کو تعصب محسوس ہوا ہو؟ یا کوئی اور خامی تا کہ مجھے اصلاح کرنے کی ہدایت ہو۔

احمد عرفان شفقت کہا...

بلاگر کی مونث ہے بلاگرہ اور اس کی جمع ہوتی ہے بلاگرات.

وقاراعظم کہا...

پیر صیب شازل کے بلاگ پر میں نے کس سیاسی جماعت کی حمایت کی ہے؟ دراصل بریلوی حضرات امام غزالی کو گالیاں دیتے ہیں اور اس کے تبصرے میں بھی یہی تھا۔ ادھر سیاسی جماعتوں کی لڑائی کہاں سے ہوگئی؟

حضور قلم کارواں پر آپ نے اس نام نہاد فکر پاکستان کے گالیوں بھرے تبصرے دیکھے ہیں؟ اس کے جواب میں ہم نے کہاں گالیاں دی ہیں؟ اس شخص کو تو پتہ بھی نہیں ہوتا کہ یہ کیا کہنا چاہتا ہے۔ بس اسے اپنا اندرونی بغض و عناد ہی نکالنے کی جلدی ہوتی ہے۔

اس نام نہاد فکر پاکستان نے ایک پوسٹ لکھی تھی "جماعت اسلامی یا جماعت حرامی" کیا اس کے جواب میں میری "کاشف یحیی المعروف فکر حرامستان" کے عنوان سے کوئی پوسٹ دیکھی ہے کبھی؟ کیا کبھی ہم نے لندن والے پیر صاحب کو گالیاں دی ہیں؟ پھر آپ نے یہ کیسے الزام لگایا وقار اعظم پر حضور؟

میرا ایک سوال یہ بھی ہے کہ ایسا کون سا فرد ہے جو کسی نہ کسی سیاسی جماعت یا فرد کا پسند نہیں کرتا۔ یہاں بہت سے لوگ عمران خان کے بھی دیوانے ہیں۔ انکو تو کوئی نہیں کہتا کہ عمرانی پھڈے باز، یہ جماعتی ہونا کوئی بہت بری بات ہے کیا؟ میرے خیال میں تو جو یہ کہتا ہے کہ میں کسی کو پسند نہیں کرتا یہ دراصل خارجیت کی ہی ایک قسم ہے۔

اپنے افکار اور خیالات کی تشہیر کرنا اور سیاسی شعور و آگہی کے لیے بلاگنگ کا استعمال میرا نہیں خیال کہ کوئی غلط کام ہے۔ دنیا بھر میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ لیکن یہاں تو لفظ سیاست کو گالی بنادیا گیا ہے۔ پھر بھی میں صرف اتنا پوچھنا چاہتا ہوں کہ اپنے بلاگ پر میں نے کہاں جماعت اسلامی کی پرومشن کی ہے؟

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

وقار میں نے آپ کو اپنا پیارا کہا فکر پاکستان صاحب کو نہیں۔مولوی پھڈے باز کہا ہے جماعتی پھڈے باز نہیں کہا۔جماعتی یعنی لکھا ہے۔لیکن جماعتی پھڈے باز تو نہیں نا۔
میں اس سے پہلے بھی جماعت اسلامی کےمتعلق اپنے خیالات آپ کو بتا چکا ہوں ۔کہ مجھے جماعت پسند نہیں ہے۔
مودودی ؒ صاحب اگر حیات ہوتے تو میں بھی جماعتی ہی ہوتا۔
میری مرضی جماعت اسلامی کو پسند کروں یا نہ کروں۔یہ تو میرا حق ہے ناجی۔
باقی آپ کی بات بالکل ٹھیک ہے کہ آپ نے کسی جگہ بھی جماعت کی تشہیر والا کام نہیں کیا اور اگر کسی نے جماعت کے خلاف لکھا تو آپ نے جوابی پوسٹ بھی نہیں لکھی۔
فکر پاکستان صاحب عموماً نہایت غصے سے حملہ آور ہوتے ہیں۔جس کی وجہ سے میں نے ان کا بلاگ پڑھنا ہی چھوڑ دیا ہے۔ کئی جگہ پر ان کے تبصرے دیکھنے کو ملے جو مجھے اچھے نہیں لگے۔لیکن اردو بلاگستان کا ماحول اچھا کرنے کی کوشش کرنا بھی ہمارا فرض بنتا ہے۔ فکر پاکستان صاحب کا انداز منافق کہنا یا مذہنی جماعتوں کو ہی فساد کی جڑ کہنا اور نہایت ہی سخت زبان میں تبصرے وغیرہ کرنا مجھے قطعی پسند نہیں ہیں۔ لیکن اگر وہ اصلاح معاشرہ کیلئے کسی کی دل آزاری کئے بغیر لکھنا شروع کردیں تو ہمیں تو خوشی ہی ہوگی۔ چند لوگ ہی ہیں جو دوسروں کے جذبات سے کھیلتے ہیں اور اپنے آپ کو ہی بہتر سمجھتے ہیں۔یہ پوسٹ میں نے اپنے روئیے میں بہتری اور دوسرے بھی الزام تراشی یا بازاری زبان استعمال کئے بغیر لکھنا شروع کردیں اس مقصد کیلئے لکھی ہے۔لیکن امید نہیں کہ بہتری پیدا ہو گی۔ :(
کسی بھی سیاسی جماعت پر تنقید کرنا ہر کسی کا حق ہے۔اور تنقید کرنے والے کو گالیاں دینا مذہب معاشرے میں کسی طرح بھی اچھا نہیں ہو سکتا۔

شازل کہا...

ہم کوشش کرسکتے ہیں کہ اپنی بلاگنگ کو بہتر بنائیں
کم ازکم میں نے عہد کرلیا ہے کہ ائیندہ صبر اور برداشت سے کام لوں گا لیکن اللہ پاک اور نبیوں کے بے حرمتی برداشت نہیں کروں گا نہ کرنی چاہئے.

حجاب کہا...

ایک سال یعنی بلاگ کی سالگرہ مبارک ہو ۔۔۔

عین لام میم کہا...

سالگرہ مبارک ہو۔۔۔۔ ہم جیسے ’معصوم‘ بلاگروں سے شکر ہے کسی کو کوئی ناراضی نہیں۔۔۔ اور اس لئے ہمیں کوئی مینشن بھی نہیں کرتا۔۔۔۔۔ :((
ــ بدنام ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا؟

ابوشامل کہا...

پہلی سالگرہ مبارک ہو جناب ۔۔۔۔ امید ہے لکھتے رہیں گے

انکل ٹام کہا...

یاسر نی چاں ویسے وقار بھای اتنے بھی ڈاڈھے نہیں ہیں ۔۔۔ اور میں پسندیدگی کا اظہار الفاظ کی بجاے بریانی کی پلیٹ کے ساتھ زیادہ پسند کرتا ہوں :mrgreen:

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

گوندل صاحب بجا فرمایا

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

شعیب صاحب آپ کی تحریر میں کبھی کچھ محسوس نہیں ہوا۔تنقید تو آپ کا حق ہے۔وکیل صاحب ایسا ہی کہتے ہیں

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

شازل بھائی ہم آپ کے ساتھ ہیں۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

شکریہ حجاب

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

عین میم لام صاحب شکریہ

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

شکریہ ابو شامل صاحب

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

انکل ٹام میں آپ کےلئے بکرا چرسی مست تیار کرواتا ہوں۔

سعد کہا...

کچھ بلاگوں پہ میں لعنت بھج چکا ہوں لہذا میں انہیں پڑھنے یا تبصرہ کرنے کی زحمت گوارا نہیں کرتا۔
باقی آپ کی طرح میرا پسندیدہ بلاگر بھی جعفر ہے۔

سعد کہا...

اوہ یہ اوپر یو آر ایل غلط ٹائپ ہو گیا 8O

سعد کہا...

اور سالگرہ کی مبارکباد دینا بھی بھول گیا :evil:

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

کوئی بات نہیں تین دن بعد یاد تو آگیا نا

Javed Gondal Pakcom جاوید گوندل کہا...

دیر سے ہی ، میری طرف سے بھی مبارکاں ہوں۔

اویس سعيد کہا...

Thanks Yasir bhai , Net pe phli mrtba Urdu mn Kam ki chezain or un se wabasta or XZiada kaam ki chezain (Jafar of Umr k blogs ) milne p kafi khushi hai . Jazak ALLAH pa ji

MNaveed کہا...

سلام یاسر بھائی کبھی کبھی بلاگی چبل ہم بھی ما ر لیتے ہیں یا آپ جیسے کسی بزرگ سے چھآپا مار لیتے ہیں بس گوگل کی مہربانی ہے لکھتے آپ بہت دلسوز انداز میں ہو باقی یہ اردو بلوگستان کہاں پایا جاتا ہے چاچا گوگل تو بےبس ہیں اسے تلاشنے میں.ایفون پر البتہ ایک اپپ سے تھوڑی بلوگستانی ٹھرک بھجا لیتے ہیں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.