مہاجر

پاکستان میں ہر بالغ شخص کا شناختی کارڈ ہوتا ہے۔جاپان میں جدّی پشتی جاپانیوں کیلئے شناختی کارڈ نہیں ہوتا۔جو غیر ملکی یہاں پر لمبے عرصے کیلئے بستے ہیں۔ان کیلئے الین کارڈ ہوتا ہے۔جسے جاپانی میں غیرملکی کا شناخت نامہ کہا جاتا ہے۔آج سے پندرہ بیس سال پہلے تک تو جاپان کی شہریت لینا نہایت مشکل ہوتا تھا۔


لیکن ان چند سالوں میں جاپان کی آبادی میں مسلسل کمی اور بوڑھوں کی تعداد میں دن بدن اضافے کی وجہ سے شہریت لینا کافی آسان ہو گیا ہے۔مجھےبھی تقریباً گیارہ سال ہونے کو ہیں جاپانی شہریت کا دعویدار ہونے کے۔


مجھے جب کاغذات جمع کرنے کے تین ماہ بعد جاپان کی شہریت ملی تو بڑی حیرت ہوئی اور میں نے حکومتی اہلکار سے پوچھا صاحب اتنی جلدی مجھے کیوں شہریت دے دی گئی؟ تو ان صاحب نے سپاٹ لہجے میں کہا تھا۔کہ آپ نے درخواست دی اورکاغذات جمع کرائے تو ہماری نظر میں ٹھیک تھے اس لئے ہم نے آپ کو شہریت دے دی۔


میں نے کہا کہ جاپان کی شہریت لینا تو جان جوکھوں کا کام ہے کچھ ایسا ہی سنا تھا۔لیکن مجھے اتنی جلدی مل گی اس کی کوئی وجہ تو ہوگی؟ تو وہ صاحب بولے کہ مملکت جو ہوتی ہے وہ بندے یا انسان کو صرف ایک شے کے طور پر دیکھتی ہے۔اگر کوئی شے مملکت کے مفاد میں ہوتو اسے اہمیت دی جاتی ورنہ شے جو ہے صرف شے ہی ہوتی ہے۔


آج کافی عرصے بعد کچھ فرصت ملی اور میری بائیک جو سردیوں میں ململ کے کپڑے میں لپٹی سوتی رہی تھی۔میں نے نکالی اور ذرا پہاڑی علاقے کی طرف رائیڈنگ کیلئے نکل گیا۔موسم اچھا تھا۔اور چار سو سی سی کی بائیک کو اس حسین پہاڑی علاقے میں چلانے کا بڑا مزا آرہا تھا۔کہ بائیک نے جھٹکے لینے شروع کر دیئے۔


بائیک کو ایک محفوظ جگہ روک کر چیک کیا لیکن کچھ سمجھ نہ آئی تو سمجھا شاید اوور ہیٹ ہوگئی ہے۔خاور کو فون کرکے پوچھا تو انہوں کہا کہ اوور ہیٹ تو نہیں ہو سکتی ایندھن کے ٹینک میں پانی آگیا ہو گا۔ وجہ بھی یہی نکلی کہ سردیوں میں بائیک کھڑی رہی اور اچانک گرمی ہونے سے شاید کوئی کیمیائی عمل ہوا جس کی وجہ سے ٹینک میں پانی کشید ہو گیا۔شاید پسینہ وغیرہ۔


بحرحال میں نے بائیک کو فٹ پاتھ پر دھکے سے گھسیٹنا شروع کردیا۔چار سو سی سی کی بائیک کو گھسیٹنا بھی ہاتھی کو گھسیٹنا لگ رہا تھا۔کہ اتنے میں پولیس کی پٹرول کار آگئی اور مجھے روک کر میری تفتیش شروع کردی۔انہوں نے یہ نہیں پو چھا کہ جناب اجنبی یا خارجی صاحب آپ کو کیا مسئلہ ہے۔ انہوں چھوٹتے ہی سوال کیا کہ کہاں کے ہو؟


میں سر سے پاوں تک پسینے میں ڈوبا ہوا تھا۔جواب دیا کہ پاکستانی ہوں۔اس کے بعد انہوں نے میرا غیر ملکی شناخت نامہ مانگا تو مجھے یاد آیا کہ میں تو خوامخواہ جاپانی ہوں۔میں نے کہا جناب میں تو جاپانی ہوں!!۔پولیس والے نے کچھ دیر میرا منہ متھا دیکھا اور نہایت بد تمیزی سے کہا شناخت نامہ دکھا نہیں تو گرفتار کر لوں گا۔


غصہ تو بہت آیا لیکن برداشت کرکے کہا جناب آپ میرا لائسنس دیکھ لیں یا ہیلتھ کارڈ دیکھ لیں۔پولیس والے کے کچھ  کہنے سے پہلے ہی میں نے دونوں نکال کر اسے دے دئیے۔اس کے بعد تقریباً ایک گھنٹہ اس پولیس والے نے ہیڈ کوارٹر فون کیا ہیڈ کوارٹر والوں نے جس شہر کا میرا پتہ تھا اس شہر کے سٹی کونسل والوں سے یا ڈرائیونگ لایئسنس والوں کو فون کرکے تصدیق کی ہو گی۔


جب تصدیق ہوگئی تو پولیس والوں نے مجھے کہا کہ بھئی معذرت چاہتے ہیں اب تو جا سکتا ہے۔اب میری باری تھی میں نے کہا  میں اب کیسے جاوں بری طرح تھک گیا ہوں۔یہاں سے تقریباً پانچ سو میٹر کے فاصلے پر گیس سٹیشن نظر آرہا ہے وہاں تک میری بائیک کو دھکا لگاو۔پولیس والا جو جوان تھا اس نے دھکا لگایا اور میں بائیک پر بیٹھ کر گیس سٹیشن تک گیا۔


بائیک پر بیٹھے ہوئے میں سوچ رہا تھا۔کہ ان پولیس والوں نے مجھے سے نہیں پوچھا کہ میں پٹھان ہوں ، پنجابی ہوں ، بلوچی ، سندھی ، اردو بولنے والا(مہاجر میں نہیں کہتا)۔ہزار وال یا سنی شیعہ ،وہابی دیوبندی ، بریلوی ،حیاتی مماتی وغیرہ وغیرہ ۔انہوں مجھ سے پوچھا تو کہاں کا ہے یہ بھی نہیں پوچھا کہ تو کون ہے۔میں نے بھی لاشعوری طور پر پاکستانی ہی جواب دیا۔


میری شہریت تو جاپانی ہے۔لیکن میں کیا ہوں؟ کچھ اس طرح کے محسوسات دل میں پیدا ہوئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کچھ کچھ پاکستان کے اردو بولنے والے پاکستانیوں کے جذبات بھی محسوس ہوئے کہ وہ اقلیت میں ہیں۔ہمارے رشتہ دار بھی جو کراچی کے ہی ہو کر رہ گئے۔جن کی دوسری نسل کراچی میں ہی پیدا ہوئی اور صرف اردو ہی بولتی ہے۔


 وہ لوگ ہمارے بچپن میں چھٹیاں گذارنے آتے تھے اور جب واپس کراچی جاتے تھے تو کچھ شرارتی مذاق کرتے ہوئے کہتے تھے کہ ہندستوڑے بھوک لگی تو کراچی کو دوڑے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب سمجھ آیا کہ کتنا تعصب ہے اس جملے میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہم لوگ روزگار کیلئے بہتر زندگی کی تلاش میں، اپنے پیاروں کو پر آسائش زندگی دینے کی دھن میں کیا تھے اور کیا ہوگئے۔ دیس دیس ہوتا ہے اور گھر گھر ہوتا ہے۔در بدر ہو کر انسان کتنا ہے مالدار کیوں نہ  ہوجائے۔دل کا خلا پر نہیں ہوتا۔


اور آج مجھے یہی محسوس ہوا کہ میری قومیت تو مہاجر ہے۔

مہاجر مہاجر Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 10:55 PM Rating: 5

11 تبصرے:

جعفر کہا...

واہ شاہ جی واہ
دل سے نکلی، دل کی باتیں، سیدھی دل کو لگی ہیں
زبردست۔

shaper کہا...

یاسر آپ بہت اچھا لکھہ رہے ہیں اسی طرح لکھتے رہیں
ہم تو ایسے مہاجر ہیں کہ اب تک سفر میں ہیں

درویش خُراسانی کہا...

میرے خیال میں تو اگر آپ پاکستان میں ہوتے تو یہ ایک گھنٹا بھی نہ رکتے بس صرف انکو ایک سرخ پرچی دینی تھی ، وہ کیا ہے جس پر ایک تصویر بنی ہے۔
کس کی تصویر ۔۔۔۔زرداری کی ۔۔۔۔۔۔۔۔نہیں نہیں
اچھا اچھا بے نظیر کی ۔۔۔۔۔۔نہیں نہیں
تو پھر پرویز مشرف کی ۔۔۔۔نہیں یار وہ کون ہے جس کے سر پر بڑی ٹوپی ہے
اچھا اچھا قائد اعظم کی ۔۔۔ہاں ہاں وہی وہی

ویسے اگر آپکے کاغذات پورے اور درست بھی ہوتے پھر بھی شائد اس سرخ پرزے کے بغیر خلاصی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟

رہی قوم پرستی والی بات تو ایک شخص سے کسی نے پوچھا کہ مسلمان ہو یا مھاجر
تو اس نے جواب دیا کہ اللہ تُجھے اسطرح حیران کرے جس طرح تم نے مجھے کیا ہے۔

وسیم بیگ کہا...

سلام یاسر بھائی
پردیس میں چاہے ساری عمر بھی گزار لیں نیلا کالا پیلا جو پاسپورٹ مرضی ہمارے پاس آ جائے فر بھی ہماری پہچان پاکستان ہی رہے گی
اور یہ بات ہم کو بھولنی بھی نہیں چاہئیے بلکہ فخر ہونا چاہئیے
ویسے بھی یہاں ہم کو شہریت تو دے دیتے ہیں لیکن دل سے کبھی تسلیم نہیں کرتے

محمد سعد کہا...

خوب صورت تحریر ہے۔ ما شاء اللہ۔
ایک چیز کی نشاندہی بھی کرتا چلوں کہ ٹیگ لگاتے وقت ٹیگز کے درمیان انگریزی والا کوما لگایا کریں۔ دوسری صورت میں ورڈپریس اردو والے کومے کو پہچان نہ پانے کی وجہ سے سب کو ایک طویل سے ٹیگ کی شکل دے دیتا ہے جیسا یہاں دیکھ رہا ہوں۔
باقی جہاں تک پاکستان کی اردو بولنے والی آبادی ہے، تو میرا ماننا ہے کہ وہ کوئی الگ اقلیت نہیں بلکہ ہماری اکثریت ہی کا ایک حصہ ہیں۔ اب تھوڑا بہت تو لوگوں میں کسی چیز پر فرق ہوگا ہی۔ زبان کے اس چھوٹے سے فرق کی اس اتنی بڑی حقیقت کے سامنے کیا حیثیت کہ ہم سب ہیں تو پاکستانی ہی۔ اگر ان چھوٹی چھوٹی چیزوں پر ہم خود کو مختلف سمجھنے لگ گئے تو کل ایک محلے کو بھی دوسرے محلے سے کوئی الگ ہی چیز سمجھا جائے گا اور محلوں کے درمیان بھی خواہ مخواہ کی جنگیں چھڑی ہوئی ہوں گی۔

Hasan کہا...

http://youtu.be/SQiaCjr-ywA

علم کا متلاشی کہا...

بہت عمدہ تحریر ہے آپ کی۔ بہت خوبصورتی سے آپ نے مختلف باتوں کا احاطہ کیا ہے۔ ہمیں اپنے پاکستانی ہونے پہ فخر ھونا چاھیۓ لیکن یہ پیٹ ہے جو ملکوں ملکوں رزق تلاش کرنے پر مجبور کرتا ہے لیکن ہم ہیں پاکستانی ہی-

سعد کہا...

آپ تو بے ضرر قسم کے مہاجر ہیں۔ ہمیں دہشت گرد مہاجروں سے نفرت ہے :wink:

خالد حمید کہا...

بہت خوب بلکہ بہت ہی خوب

وقاراعظم کہا...

پیر صیب بہت زبردست تحریر ہے. بڑی خوبصورتی سے غریب الوطنی کے احساسات کو قلمبند کیا ہے....

احمد عرفان شفقت کہا...

پیاری تحریر ہے جناب ۔

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.