شعور

میری عمر سترہ سال تھی۔اس وقت میں دن کو سکول جاتا تھا ۔اور رات کو ایک فیکٹری میں کام کرتا تھا۔اس فیکٹری میں گاڑیوں کے پلاسٹک کے سپیئر پارٹس بنتے تھے۔ انیس سو اٹھاسی میں میرے آس پاس گنے چنے پاکستانی تھے جو قانونی طور پر جاپان میں رہتے تھے۔اس وجہ سےاگر بندے کے پاس ویزہ چاھئے سٹوڈنٹ ویزہ ہی کیوں نہ ہو۔بہت اہم ہوتا تھا۔


اور فیکٹریز کی مالکان بھی تھوڑے بہت نخرے اٹھا لیتے تھے۔میری عمر بھی کم تھی اس وجہ سے ہماری فیکٹری کے جو جاپانی حضرات تھے وہ شفقت سے پیش آتے تھے۔اور کافی خیال رکھتے تھے۔اس فیکٹری میں کافی سہولتیں میسر تھیں اور تنخواہ بھی اچھی تھی۔میں سکول کے اور اپنے اخراجات نکال کر بھی ٹھیک ٹھاک رقم بچا لیتا تھا۔


سب اچھا تھا۔لیکن ایک مصیبت تھی کہ کام ختم کرنے کے بعد اس فیکٹری کے تمام ملازمین اور مالک مالکن بھی صفائی میں لگ جاتےتھے۔جب مشینیں بند کرکے گھر جانے کا وقت ہوتا تھا تو دل کرتا تھا کہ اسی صاف ستھرے فرش پر سوجائیں۔


مالک مالکن ایسے مالدار کہ شاید پاکستان کے مالدار ترین حضرات بھی ان کے سامنے کچھ نہ ہوں۔دنیا کی مہنگی ترین گاڑیوں میں کام پر آتے جاتے تھے۔اور وہ بھی بغیر ڈرائیور کے۔


پہلی بارمیری کھوپڑی اس وقت گھومی جب مجھے مالکن نے برش اور گندگی دھونے کے محلول کی بوتل تھمائی اور کہا کہ ٹٹّی صاف کر دو!!!۔ بیت الخلا ایک دو نہیں پورے پانچ وہ بھی بمع فرش دھلائی کرنے کا کہا گیا!!۔


میں نے غصے سے کہا میں یہ صفائی کا کام نہیں کرتا ااور بگڑ کر مشین پر جا کر کام کرنے لگ گیا۔اگر پاکستان ہوتاتو کھڑے کھڑے نوکری سے جواب ملتا اور مالک صاحب مشٹنڈوں سے ٹھکائی بھی کروا دیتے۔بحرحال مالکن بیچاری نے کچھ نہیں کہا اور خاموشی سے بیت الخلا کی صفائی کر دی۔


دوسرے دن ہمارے ایک سپر وائیزر آبے صاحب ہوتے تھے۔انہوں نے مجھے دفتر میں بھلایا۔یہ آبے صاحب  باہر کے ممالک گھومنے پھرنے جا چکے تھے اور جوانی میں برطانیہ میں انگریزی سیکھنے  بھی گئے تھے۔یعنی یہ آبے صاحب واحد ہستی تھے۔جن سے میں اپنی گلابی انگریزی میں بات چیت کر لیتا تھا۔


انہوں نے مجھے کہا دیکھو یا سر گزشتہ کل بیت الخلا کی صفائی کرنے کی تمہاری باری تھی اور پہلی بار ہونے کی وجہ سے مالکن تمہاری مدد کیلئے تمہارے ساتھ کام کرنے آئی لیکن تم نے انکار کیا اور مالکن نے تمہارے حصے کاکام خود کیا۔ تم نے ایسا کیوں کیا؟


میں نے انہیں کہا کہ دیکھیں آبے صاحب میں ہوں سید زادہ اور وہ بھی بڑا وڈا شاہ جی۔یہ ٹٹّی صفائی کا کام تو ہمارے ملک میں بھنگی کرتے ہیں۔یہ کام کرنا تو میرے لئے نہایت ہی انسلٹ والا ہے۔مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میں نے لفظ انسلٹ ہی کہا تھا۔ آبے صاحب مسکرا کر چپ ہوگئے۔اور کچھ سوچنے کے بعد بولے کہ دیکھو بیت الخلا کی صفائی تو سب ہی کرتے ہیں۔میں بھی کرتا ہوں اور دوسرے سب بھی کرتے ہیں۔


لیکن اس سے پہلے ہم سب استعمال بھی کرتے ہیں۔اگر بیت الخلا گندہ ہوگا تو تمہیں بھی استعمال کرتے ہوئے تکلیف ہوگی۔ٹھیک؟ میں خاموشی سے سنتا رہا ۔اور کوئی جواب نہ دیا۔آبے صاحب نے نہایت پیار سے کہا بحر حال جب صفائی کی تمہاری باری آئے گی تو میں تمہارے پاس آوں گا تم صفائی بے شک ناکرنا۔لیکن میرے ساتھ ہی رہنا۔


بات ختم ہوگئی ۔ڈیڑھ ماہ بعد جب میں اس واقعے کو بھول گیا تو ایک دن آبے صاحب میرے پاس آئے اور کہا کہ آوء میرے ساتھ ان کا کہنا تھا کہ آج میری ٹٹّی صفائی کی باری ہے۔ میں ان کے ساتھ گیا اور انہوں نے مجھے کہا کہ بس کھڑے دیکھتے رہو۔ میں دیکھتا رہا اور انہوں نے سارے بیت الخلا کی صفائی کی اور آخر میں گندے برش تک دھو کر سلیقے سے برش کیلئے مخصوص جگہ پر رکھ دیئے۔


ہنسی مذاق کرتے ہوئے کافی کا کین مشین سے نکالا مجھے بھی دیا اور خود بھی پیا۔ لیکن میرے دل میں کچھ کچھ ہونا شروع ہو گیا تھا۔کچھ شرمندگی سی۔۔۔۔۔۔۔


بحر حال اگلی بار ان کے آنے سے پہلے ہی میں ٹٹّی خانے میں پہونچا ہوا تھا اور صفائی شروع کر چکا تھا۔آبے صاحب آئے اور مجھے کام کرتا دیکھا۔تو پوچھا مدد کروں؟ میں نے اکھڑے لہجے میں کہا نہیں میں خود کر لوں گا۔آبے صاحب ہنسے اور اپنے دفتر میں گھس گئے۔جب میں ٹٹّی کی صفائی کر چکا تو وہ کہیں سے چھپ کر دیکھ رہے تھے۔


میرے پاس آئے اور کافی کا کین میرے ہاتھ میں دیا اور کہا یاسر کل چھٹی ہے اور شام کا کھانا میرے گھر میری فیملی کے ساتھ کھانا۔دوسرے دن ان کے گھر گیا ان کے ساتھ کھانا کھایا ان کی بیوی کی شکایت سنی کہ آبے صاحب گھر کا کام کاج بالکل نہیں کرتے اور آکر بیئر کا ڈبہ کھول لیتے ہیں اور لمبے پڑ کر ٹی وی دیکھتے رہتے ہیں۔


آبے صاحب نے مجھے آنکھ ماری اور کہا یاسر گھر میں تو میں بھی شاہ جی آں۔او بھی بڑا ہی وڈا شاہ جی!!!۔


لیکن فیکٹری کا کام پوری ذمہ داری سے کرتا ہوں اس لئے گھر پہ شاہ جی ہوں!۔تم بھی اگر پاکستان میں ذمہ داری سے اپنا کام کرتے تو پاکستان میں ہی شاہ جی رہتے۔مجھے یہ سب عموماً پاکستان جاکر یاد آتا ہے یا کچھ ایسی خبر یا تصاویر دیکھ  کریاد آجاتا ہے۔ کہ یہ سب شاہ جی ہیں یا پھر کسی نواب صاحب کی نسل۔  


شعور شعور Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 11:02 PM Rating: 5

22 تبصرے:

شازل کہا...

پاء جی آپ کی ہمت کی داد دیتا ہوں
ایک حساس موضوع پر آپ نے روشنی ڈالی ہے

عمران اقبال کہا...

یاسر بھائی میں بھی سوچ رہا تھا کہ انہی بیٹھے ہوئے حضرات میں سے دو تین بندے اٹھ کر "اپنی مدد آپ" کے تحت صفائی میں لگ جاتے اور شاید اس گند تک نوبت ہی نا پہنچتی۔۔۔ اب اس گندگی میں بیٹھ کر اخباروں کو انٹرویو دے سکتے ہیں۔۔۔ لیکن صفائی کرتے ہوئے ماں مرتی ہے ان کی۔۔۔

ضیاء الحسن خان کہا...

واہ شاہ جی ۔۔۔۔۔ یہی تواصل کام ہوتا ہے جو مشٹنڈے نفس کی آہو آہو کرتا ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور جب یہ کام کرنے کہ بعد کبھی بندہ اکڑ دکھاتا ہے تو فورا اسکو اسکی اوقات یاد دلا دی جاتی ہے :ڈ

shaper کہا...

بہت عمدہ تحریر ہے اور آبے صاحب نے سچ ہی کہا ہے کہ ہم بھی اپنے گھر ہی ہوتے آگر پاکستان میں کام ذمہ داری سے کرتے

افتخار اجمل بھوپال کہا...

ميرا خيال ہے کہ يہ بيماری صرف ہند و پاکستان ميں ہے ۔ جب ہم ليبيا ميں تھے تو عمارت ميں 3 ليبی اور ہم 8 پاکستانی خاندان رہتے تھے ۔ تينوں ليبی عورتيں ہفتہ ميں ايک دن اُوپر سے نيچے تک سب سيڑھياں ۔ لابی اور نيچے کے 3 برآمدے صابن کے ساتھ دھوتی تھيں اور گھر کے سامنے کی گلی ميں بھی جھاڑو لگاتی تھيں ۔ کچھ ماہ بعد اُنہيں معلوم ہوا کہ ميری بيوی عربی بولتی ہے تو اُس کے پاس آئين اور کہا کہ آپ لوگ بھی ہمارا ساتھ ديا کريں ۔ ميری بيوی تيار ہو گئی ۔ جب ميری بيوی نے باقی پاکستانی عورتوں سے کہا تو سوائے ايک کے جو عمر ميں سب سے بڑی اور ٹيم ليڈر کی بيوی تھيں کوئی تيار نہ ہوا ۔ اُنہيں ليبی عورتوں نے واپس کر ديا اور ميری بيوی اُن کا ساتھ ديتی رہی مگر اُسے بھی ليبی عورتوں نے گلی ميں جھاڑو نہيں لگانے ديا

جعفر کہا...

واہ شاہ جی
عمدہ موضوع اور اچھی تحریر
مبارک قبول کریں
اور ایک درخواست کہ ایسی چیزوں پر آپ بہت اچھا لکھتے ہیں
لہذا ذرا اس پر توجہ دیں، 'دوسری' مصروفیات سے وقت نکال کر

منیر عباسی کہا...

وقت بہت بڑا استاد ہے جناب. بہت کچھ سکھا دیتا ہے. آپ نے وطن بدری کے ساتھ ساتھ جو کچھ سیکھا وہ بہت قیمتی ہے. ہم پاکستانی ابھی تک اپنی شاہ جیت میں پھنسے ہوئے ہیں. یہی ہوگا . کچھ نہیں بدلنے والا. اُس دن کسی کا کالم پڑھ رہا تھا جو اس نے ترکی کے رجب طیب اردگان اور اس کی پارٹی کے بارے لکھا تھا. انھوں نے بھی تو اپنے معاشرے میں ناممکن کو ممکن بنا ڈالا.


اسی طرح لکھتے رہا کیجئے.

محمد سعید پالن پوری کہا...

ترقی و تنزلی کے اسباب پہ روشنی ڈالتی پوسٹ۔ تحریر میں بھی کافی روانی ہے

خاور کھوکھر کہا...

کمیون والی سوچ

سعد کہا...

:?

بلاامتیاز کہا...

شکر ہے جی آپ نے بھی دوات توڑی ..
اعلی تحریر ہے .
پر مجھے تو گھر میں بھی کوئی شاہ جی نی مانتا.

افتخار اجمل بھوپال کہا...

آبے صاحب کے اس جملے ميں نے صرف ايک لفظ تبديل کيا ہے کيونکہ ميرا خيال ہے آبے صاحب نے يہی کہا ہو گا "گندگی کی صفائی تو سب ہی کرتے ہیں ۔ میں بھی کرتا ہوں اور دوسرے سب بھی کرتے ہیں"
کوئی ہے جو کہہ سکے کہ وہ اپنی گندگی روزانہ اپنے ہاتھ سے صاف نہيں کرتا ؟
ليٹرين يا بيت الخلاء ميں سب سے گندی چيز وہی تو ہوتی ہے جسے ہر انسان روزانہ اپنے ہاتھ سے صاف کرتا ہے ۔ پھر نخرہ کيسا ؟

کل بجلی جانے والی تھی تو ميں پورا نہ لکھ پايا تھا

خرم ابن شبیر کہا...

جی جناب بات تو اچھی ہے سیکھنے والی بات ہے باقی باتوں کی بات میں تو آپ کی عمر کا اندازہ لگا رہا ہوں کہ آپ 17 سال کی عمر میں جاپان میں تھے یقینا آپ 15 یا 16 سال کی عمر میں گے ہونگے 30 سال یہاں ہوگے ہیں اس طرھ 46 یا 47 سال کے آپ لگتے ہیں :D

ابوشامل کہا...

شاہ صاحب، بہت عمدہ لکھا ہے اور اچھی بات یہ کہ سبق آموز بھی۔ اللہ زور قلم میں اضافہ فرمائے

شعیب صفدر کہا...

یہ ہی تو خرابی ہے ہمارا وڈا پن ہی ہمیں اور ہمارے ماحول کو گندہ کرتا ہے!! صرف ظاہرن ہی نہیں بلکہ باطن مین بھی! مگر ہم ہے کہ گند صاف نہیں کرتے اور گند میں پڑے رہتے ہیں!!!

ڈفر - DuFFeR کہا...

سپیچ لیس

خورشید آزاد کہا...

لاجواب تحریر ہے. اسی طرح کی بے شمار مثالیں میں نے ہانگ کانگ اور یہاں انگلینڈ میں اپنی آنکھوں سے دیکھی ہیں.

یہاں انگلینڈ میں جہاں میں رہتا ہوں ہر کام میں، ہر کاروبار میں آپ کو پاکستانی نظر آئیں گے لیکن ہر ہفتے کچرا لے جانے والے اور صبح صبح گلیوں میں صفائی ستھرائی کرنے والے سارے انگریز ہیں. جب میں نے اس کی وجہ پوچھی تو مجھے جواب ملا پاکستانی یہ کام نہیں کرتے.

لعنت ہو ایسی جھوٹی شان پر.

حجاب کہا...

بہت اچھا لکھا ہے ، ویسے بات تو ٹھیک ہے اپنے گھر اور دیس میں کوئی ایسا کام نہ کرنے والے باہر جا کے سب کچھ خوشی خوشی کرتے ہیں اس کی وجہ وہاں کا ماحول ہے جب کہ پاکستانی کام چور ماحول کے عادی

درویش خُراسانی کہا...

واقعی ہم ہی بیت الخلا کو گندا کرتے ہیں تو اگر اپنی گندگی کو ہم خود ہی صاف کیا کریں تو کیا ہی برا ہے ۔ لیکن نفس اس کام کے کرنے میں توڑا ہچکچاتا ہے۔ ظاہر ہے نفس نام جو اسکا ہے۔

اچھا لکھا ہے ایک اہم بات کی طرف توجہ دلائی ہے۔

دارالعلوم دیوبند کے بزرگ اساتذہ راتوں کو اُٹھ کر چپکے سے بیت الخلا چلے جاتے اور سارے گند کو صاف کردیتے ۔ صبح کو لوگوں کو صاف بیت الخلاء ملتے ،

یاسر عمران مرزا کہا...

یاسر بھائی بہت عمدہ ۔ معاشرے کیسے اپنی حالت سنوارتے ہیں، کیسے ترقی کرتے ہیں اس پر ایک عمدہ مضمون لکھا آپ نے۔ اور یقینن جاپانیوں نے ایسا مقام اس قدر محنت سے ہی پایا ہے۔
صفائی جس کو اسلام میں نصف ایمان کا درجہ دیا گیا ہے۔ کیسی عجیب بات ہے کہ مسلمان ہی صفائی کرنے میں ہتک محسوس کرتا ہے۔

عبدالقدوس کہا...

ہمارے ہمسائے میں ایک بزرگ ہیں جو سید زادے ہی نہیں ہزاروں افراد کے پیر صاحب بھی ہیں لیکن انہوں نے کبھی مسجد کے ساتھ ساتھ نالی اور لیٹرین کی صفائی اپنے ہاتھوں سے کرنے سے عار اور شرمندگی محسوس نہیں کی. بلاشبہ اپنا کام اپنے ہاتھوں سے کرنا عظیم وصف ہے

فریدون کہا...

السلام علیکم۔
بہت اچھا لکھا ہے جی۔ احساسِ ذمہ داری اگر وقت پہ بیدار ہو جائے تو شاہ جی بننے کے لیے سفر کی ضرورت نہیں۔۔ مگر اگر ہمارا احساِ ذمہ داری احساسِ زیاں کے بعد بیدار ہوتا ہے

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.