چاچی ہندہ کا بغض

دور جہالت میں عرب بیت اللہ کا طواف کرتے تھے اور اللھم لبیک کا ورد بھی کرتے تھے۔لیکن انہوں نے بت بھی بیت اللہ میں رکھے ہوئے تھے۔اللہ کے وجود کے سب قائل تھے اور اللہ کو سب مانتے تھے۔چاچاابو جاہل بھی بہت بڑا عالم تھا اور بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے اللھم لبیک کا ورد بھی کرتا تھا۔۔۔۔۔پکی بات ہے ثبوت مت مانگئے گا۔


چاچا ابو جاہل کی بڑی عزت ہوتی تھی۔اس کی کھوپڑی میں بادشاہت کی کھچڑی بھی پکتی رہتی تھی۔لیکن بیچارے کی دال نہ گلی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو کھسک گیا۔۔اگر قوم یا عوام الناس کا ہمدرد ہوتا تو آسانی سے سمجھ آنے والی بات مانتا اور سب کا بھلا ہو جاتا۔۔۔اپنی بات بھی آسانی سے سمجھائی جا سکتی ہے۔


اب چاچا ابو جاہل تو کھسک گیا بیچارہ ۔۔۔۔۔دل کلیجہ گردہ پھیپھڑا چبانے والی اور اس کے دیوانے موقع کی تلاش میں ہوتے ہیں کہ کہاں موقع ملے اور زہر اگل دیں۔ لیکن دیوانے بیچاروں کو کچھ کچھ بات سمجھ آگئی اور وہ محتاط ہو گئے۔یعنی اپنی پو چھل بچانا شروع ہوگئے۔کبھی کبھی بونگی مار ہی جاتے ہیں چاچا ابو جاہل کے پاس۔


مجھے پریشانی دل کلیجہ گردہ پھیپھڑا چبانے والی کے کھسیانے ہونے پر ہوگی جب چاچا ابو جاہل کی ٹینشن دور ہو گی تو وہ ایک عدد پھکی دے کر سب کی طبیعت صاف کر دے گا۔


اس وقت جب چاچا ابو جاہل سے پوچھا جائے گا!۔


واٹ از دس؟


چاچا ابو جاہل فرمائیں گے۔


دس از اے پین۔


خصماں نوں کھاو تے مسٹر پھکی نوں کی!!!۔


ہیں جی۔۔۔۔۔۔۔۔


کراچی میں رینجرز کے ہاتھوں معصوم لڑکامارا گیا۔۔۔۔۔۔فیس بک پر میں نے  اس کی وڈیو لگائی تو زیادہ تر پنجابی اور پٹھانوں نے فوج کو گالیاں دیں کراچی کے وقار اعظم نے ڈنڈی ہی ماری بس روتے ہوئے بڑا ظلم ہوا کہہ کر پتلی گلی سے نکل گیا۔ یہ بندہ ہو نہ ہو ایم کیو ایم کا اور الطاف بھائی کا جاسوس ہے۔سارے پاکستانی عوام کے کلیجے دل گردے پھیپھڑے تک فوج کے اس ظلم سے دھواں دھار ہورہے ہیں اور نفرت کے پجاری اسے بھی تعصب کیلئے استعمال کر رہے ہیں۔


یہ مست ملنگ بندہ ہے کبھی کبھی بلاگ پر کچھ لکھتا ہے۔ ہر اوکھلی میں سر بھی نہیں دیتا۔یہ بیچارہ بھی تڑپ کے لکھنے پر مجبور ہوا۔آج بلاگستان پر کافی لوگ غم و رنج کا اظہار کر رہے ہیں۔


اور چاچی ہندہ؟ ساری قوم کا دکھ سے ذہن ماوءف جسم مفلوج ہورہا ہے اور چاچی ہندہ تیز دھا ر خنجر سے قوم کا دل کلیجہ گردے پھیپھڑے نکال کر ایم کیو ایم کی فیورٹ ڈش کٹّا کٹ تیار کرنے کے چکر میں ہے۔


اٹھا رہ کروڑ در شاباش


چلتے چلتے ایک بات پوچھنا چاہوں گا۔کہ میں جماعت اسلامی ،جماعت عمرانی ،اے این پی ،گنجا اینڈ گروپ سے بھی اختلاف رکھتا ہوں۔اور سب کو چرّیا کہتا ہوں۔تو میرے دوست جو ان جماعتوں سے تعلق رکھتے ہیں مجھے کاٹنے نہیں دوڑتے۔لیکن یہ ایم کیو ایم والے اگر کسی جگہ بھائی کے خلاف کچھ لکھا آجائے تو پاگل کتّوں کی طرح کاٹنے پہونچ جاتے ہیں۔ کیا جمہوریت یہی ہے؟ میری جماعت کی اقتدا کر نہیں تو۔۔۔۔۔۔؟


کیا شخصیت پرستی کی انتہا بت پرستی نہیں؟

چاچی ہندہ کا بغض چاچی ہندہ کا بغض Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 2:34 PM Rating: 5

19 تبصرے:

ڈاکٹر جواد احمد خان کہا...

اللہ ہم سب پہ رحم فرمائے. میں ان موضوعات پر اس لیے نہیں لکھتا کیونکہ میرا یقین ہے کہ یہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب ہی کی ایک شکل ہے. اس اشو کو صوبائیت اور لسانیت کا رنگ دینا پرلے درجے کی عاقبت نا اندیشی ہے.

بدتمیز کہا...

مجھے خود آج کی اس کی پوسٹ پڑھ کر نہایت حیرانی ہوئی۔ میں اس کو اسقدر گھٹیا سوچ کا مالک نہیں سمجھتا تھا۔ میرا خیال تھا کہ ایسے ہی چسکے لینے اور چڑانے کے لئے الٹا سیدھا لکھ لیتی ہے مگر آج تو اس نے حد ہی کر دی۔

منیر عباسی کہا...

مرحوم کا تعلق باغ آزاد کشمیر سے ہے، کیا اسے بھی ایم کیو ایم کا رکن بنا دیا گیا؟

ڈفر - DuFFeR کہا...

میری ماسی کو کچھ نہ کہنا
اگر تمہارا دماغ درست ہے تو اسکا یہ مطلب نہیں کہ الٹے دماغ والون کی بیستی کرتے پھرو
سب اللہ کی مخلوق ہیں
اگر کوئی پاگل ہے تو اسکو پتھر مت مارو
ہاں اپنے اآپ کو بچاؤ ضرور
سنا ہے پاگل کتے کے کاٹنے سے چودہ دونی اٹھا$س ٹیکے لگتے ہیں

عبدالقدوس کہا...

یہ اردو بلاگرز کو ہوکیا گیا ہے ویسے؟

وقاراعظم کہا...

مجھ پر بہتان باندھنے پر میں احتجاج کرتا ہوں اور بھائی کا جاسوس قرار دینے کی پرزور مذمت بھی۔۔۔۔
ڈاکٹر صیب سے پھڈا کس نے مولیا تھا؟؟؟؟؟
اس لڑکے کی یوں بے بسی کی موت پر تو ہر آنکھ اشک بار ہے لیکن آپ جس طرف اشارہ کررہے ہیں وہاں دائمی خرابی کی بنیادیں موجود ہیں تو اسکی ٹینشن نہ لیں۔۔۔۔

افتخار اجمل بھوپال کہا...

بھا جی ۔ اے ظلم نہ کرو ۔ ٹکا ٹک کراچی والياں دا مرغوب کھانا نئيں اے ۔ لاہور لکشمی چوک دا مشہور کھانا اے

انکل ٹام کہا...

یاسر بھای ، یہ اصل میں ہے دوغلہ پن یہ دوسروں کو کہہ رہی ہیں کہ وہ کراچی میں ہونے والے ظلم کے لیے دل نہیں رکھتے جو کہ بلکل جھوٹ ہے جب سے ویڈیو دکھی ہے سب کے دل مکدر ہیں اب ایسے میں کوی کیا لکھے ۔ میں تو ویسے بھی اس قسم کے واقعات پر لکھنے سے پرہیز کرتا ہوں کہ لوگوں کی طبیعت پہلے ہی خراب ہم ایک اور کہانی چھوڑ دیں۔

لیکن اصل نکتہ جو انکے دوغلے پن کو واضح کرتا ہے وہ یہ کہ ان سے پوچھیں کہ آپ نے لال مسجد والوں کے لیے کیا لکھا ؟؟؟ کیا وہاں بچے اور بچیاں نہیں تھے کیا وہاں ظلم نہیں ہوا ؟؟؟؟ پھر انکی کہانیاں سنیں۔

جعفر کہا...

فرسٹریشن کی کئی اقسام ہوتی ہیں اور وجوہات ہوتی ہیں۔
جو کام ‘ادہورا‘ رہتا ہو، پورا نہ ہوسکے
تو اس کی فرسٹریشن رہ جاتی ہے
بہتر حل تو یہ ہے کہ علاج ‘کروایا‘ جائے
ناکہ فرسٹریشن دوسروں کو فرسٹریٹ کرکے ختم کی جائے۔
ان کے لیے دعا کیا کریں کہ انہیں مکمل ‘سکون‘ مل سکے۔

ظہیر اشرف کہا...

جن بقراطوں و بقراطیوں کو رینجرز کی اس کاروائی میں نسلی تعصب نظر آ رہا ہے ان کی آل کے لئے بھی عرض ہے کہ چھورا کشمیری تھا۔ "اُدھر" تو مارتے ہی ہیں اب "اِدھر" بھی مارا کریں گے۔ سمجھ نہیں آتی ایسے بد زبان کیوں ایسے قصائیوں کے ہاتھ نہیں لگتے۔

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کہا...

اتنے ٹیکے؟ اتنا زہر؟؟؟؟؟؟

ظلم ہر صورت میں ظلم ہے۔ کہا...

یاسر بھائی! ۔
جسم کے فاسد مادے سر کی طرف بہتے بہتے اپنا زہر دماغ میں گھول دیتے ہیں ۔ اور "خناس" کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔
۔ جس طرح عشق سر چڑھ کر بولتا ہے اسی طرح ایک دن یہ خناس سر چڑھ کر بولنے لگتاہے۔ ایسے لوگوں کا کوئی علاج نہیں رہتاہے۔ کیونکہ تعصب پھر ان کے سر چڑھ کر بولنے لگتا ہے۔ جس میں مریض اچھے برے کی پہچان کرنے کی تمیز کھو دیتا ہے۔

یہ بھی مارخورگی کا ایک لُوز کیس ہے۔ جس میں صرف زہر ہی زہر بھرا ہوا ہے۔

جہان تک لکھنے کی بات ہے میں نے بھی اس واقعے پہ لکھا ہے ۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ وہ انسان ہی نہیں جو اس واقعے پہ دکھ سے سن ہو کر نہیں رہ گیا۔ میں رات دن کھانا نہیں کھا سکا۔

http://pakcom.wordpress.com/2011/06/09/%D8%B8%D9%84%D9%85-%DB%81%D8%B1-%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%B8%D9%84%D9%85-%DB%81%DB%92%DB%94/

محمد سعید پالن پوری کہا...

بھائی انکی غذا ہی کلیجہ اور جگر ہے۔ براہمن وہ ہیں نہیں کہ مسلسل آلو کھاتے رہے

ظہیر اشرف کہا...

ہمم انھی باتوں کی وجہ سے حق پرست امریکی جرنل قونصلر نے اردو بلاگرز کو مدعو نہیں کیا ۔ پر جو کوئی اسے ترجمہ کر کے سنا دیتا تو چار چھ بندے تو پکے تھے۔
اپن اسی چکر میں بلاگستان کا چکر لگانا چھوڑا ، ابھی پھر ویسا ای کرنا پڑیں گا۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

ظہیر اتنا بھی دل چھوٹا نہ کریں

ظہیر اشرف کہا...

اچھا نہیں کرتے مگر اس بازاری زبان سے چھوٹا ہونے لگتا ہے ۔ "فریڈم آف اسپیچ" پر آ پ کو نظر ثانی کرنا چاہیے تاکہ ہر قسم کے لوگ باآسانی یہاں آ سکیں۔برا بھلا کہیں تعصب کریں شر انگیزی کریں نفرت کا اظہار کریں مگر لب و لہجہ ۔۔۔۔
ورنہ پھر میں نے بھی "ہالی وڈ لنگویج" کا استعمال شروع کر دینا ہے ، چھ سات ہزار گھنٹوں کی فلمیں دیکھنے کے بعد خاصا تجربہ ہو چکا ہے۔ :wink:

عرفان بلوچ کہا...

جواد صاحب آپ کی بات میں زیادہ وزن نہیں کہ اس طرح کے موضوعات سے لسانیت اور عصبیت بڑھنے کا خطرہ ہوتا ہے ... ایم کیو ایم کوئی لسانی جماعت تھوڑی ہے ... یہ تو فکری اور نظریاتی جماعت ہے ... یہ خود کہتے ہیں کہ قائد کی فکر پنجاب و سرحد تک پھیل چکی ہے ... میں نے ایم کیو ایم کی جتنی نفرت اردو بولنے والوں میں دیکھی ہے وہ مجھے دوسری قوموں میں کہیں نہیں ملی ، کیوں کہ ساری دنیا میں ان کی حرکتوں کے سبب اردو سپیکنگ کی ہی مٹی پلید ہوئی ہے ... اب بہترین وقت ہے کہ اس شیطانی فکر کا قلعہ قمع کر دیا جائے ....

مسز عبداللہ کے لیے مخلصانہ مشورہ ہے کہ تم لوگ نہایا مت کرو ، نہانے سے اور گندے نظر آتے ہو ، تھوڑا میل کچیل اور کیچڑ لگے رہنے دیا کرو جسم پر اس سے تمہاری اپنی غلاظت ڈھکی رہتی ہے ... لیکن تم لوگ مفید مشورے سنتے کب ہو

اور تم جتنے تبصرے کرتے جاتے ہو تمہارے دماغ کے کھوکھلے ہونے کا پکا ثبوت ملتا چلا جاتا ہے ... ویسے تمہاری زبان اور گفتگو ہی تمہارے کردارپر روشنی ڈالنے کے لیے کافی ہے ... پھر کسی کو زیادہ دور کی کوڑی لانے کی کیا ضرورت

مجھے اب سمجھ آرہی ہے کہ احادیث میں غزوۃ الہند میں شرکت کی اتنی فضیلت کیوں بیان کی گئی ہے ... جتنے خطرناک قسم کے اسلام دشمن عناصر حزب الشیطان کو یہاں میسر ہیں اتنے آسانی سے دوسرے مسلم خطوں میں نہیں ملتے ...

واللہ ہم اس فضیلت کو پانے کے لیے تیار ہیں .. تاکہ مدینے کے سالار کو اس خطے سے ٹھنڈی ٹھار ہوائیں آتی محسوس ہوں (بحوالہ حدیث )
فداک امی و ابی یا رسول اللہ .. صلی اللہ علیہ وسلم ...

حجاب کہا...

اس پوسٹ میں دل کلیجے پھیپھڑے پر بڑا زور رہاآپ کا ۔۔ شکر ہوا کہ کچّا چبایا نہیں :P

درویش خُراسانی کہا...

بھائ خواہ مخواہ صاحب ہمیں اعتراض ہے آپکے پوسٹ کے ایک نام پر وہ ہے چاچی ہندہ۔

(کلیجہ چبانا، پھیپڑے چبانا اور پھر چاچی ہندہ کہہ کر مناسبت پیدا کرنا ۔ یہ بات مجھے تو پسند نہیں آئی اور میں اس طرز کلام کی مذمت بھی کرتا ہوں۔

کیونکہ ہندہ نام کے ساتھ رضی اللہ تعالیٰ عنھا لگا ہوا ہے۔ اور کلیجہ چبانے یا اسطرح کے دیگر باتیں لکھ کر ہندہ نام لگانے سے ایک قسم کی توہین کی پہلو نکلتا ہے۔
بہرحال یہ میرے اپنے خیالات ہیں۔ہمیں جو جیسے لگے ویسے ہی لکھیں گے۔شکریہ

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.