منوانے کا شوق

جاپانی ماہر نفسیات کاتو تا ئی زو صاحب کی ایک کتاب دل کو آرام دینے کا طریقہ پڑھا رہا تھا کہ اس میں کاتو صاحب نے ایک نہایت دلچسپ قصہ لکھا اپنے مفلس الفاظ میں ترجمہ کرتا ہوں شاید آپ کو بھی پسند آئے۔


قصہ کچھ اس طرح ہے کہ ایک تنہائی کا شکار لیکن چھچھورا ریچھ تھا۔ایک دن صبح سویرے سویرے بندر نے ریچھ سے کہا ریچھ صاحب آپ گڑا بڑا زبردست کھودتے ہیں۔ایک دفعہ ہی سہی ہمیں اپنے اس فن کی مہارت دکھائیں۔


ریچھ گڑا کھودنا تو نہیں چاہتا تھا ۔لیکن اپنی تنہائی دور کرنے کیلئے اور اس امید پر کہ شاید بندر خوش ہوکر دوستی کرلے۔جعلی خوشی کا اظہار کرکےفٹا فٹ گڑا کھودنے میں جت گیا۔دیکھتے ہی دیکھتے گڑے کے باہر مٹی کا پہاڑ کھڑا ہو گیا۔ ریچھ نے سوچا اب کافی ہو گیا ہے۔یہ سوچ کر ریچھ نے بندر کی طرف دیکھا تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


بندر نے کہا ریچھ صاحب یہ کیا اس سے بہترین گڑا تو نیولہ صاحب کھود لیتے ہیں۔یہ کچھ بھی نہیں آپ میں تو بہت دم خم ہے۔ریچھ صاحب نے جب یہ سنا تو سوچا اس ننھے سے نیولےکی کیا مجال کہ مجھ سے جیت جائے۔


ریچھ نے بچا کچھا دم پورے زور و شور سے لگا کر اور گہرا اور گہرا گڑا کھود نا شروع کر دیا۔ریچھ یہ سب کچھ اپنی تنہائی دور کرنے اور اپنے آپ کو منوانے  کی خاطر کر رہا تھا۔


جب بہت ہی گہرائی میں جاکر اندھیرے کا احساس ہوا تو ریچھ نے ہاتھ روک کر آواز لگائی اب تو کافی ہے نا؟


لیکن جواب میں اپنی آواز ہی گونجی ۔بار بار آواز دینے کے باوجود بندر کیطرف سے جواب نہ ملنے پر ریچھ کو احساس ہوا کہ بندر نے تو دل لگی کی اور جب بندر اکتا گیا تو پتلی گلی سے نکل گیا۔رہ گیا گہرا گڑا اور ریچھ۔۔


جب ریچھ نے گڑے سے نکلنے کی کوشش کی تو اچھل کر رہ گیا۔اس وقت ریچھ کو احساس ہوا کہ اگر مجھے منوانے کی خواہش نا ہوتی تو میں اپنے ہی کھودے ہوئے گڑے میں نہ پھنستا۔


ریچھ بہت رنجیدہ ہوا۔


رنجیدگی میں جینے کی امنگ بھی نہ رہی۔ رنجیدگی ،افسردگی ، گھٹا ٹوپ  تنہائی تو ہے ۔


لیکن مدد کیلئے آنے والا کوئی نہیں۔


ابھی بھی وقت ہے جو منوانے کی خواہش رکھتے ہیں اورگڑا کھودے جارہے ہیں۔


ہاتھ روک لیں تو ہو سکتا ہے۔کسی مدد امداد کے بغیر ہی اس کم گہرائی والے گڑے نکل جائیں۔


بندر جب اکتائے گا تو پتلی گلی سے نکل لے گا۔


پیچھے رہ جائے گا گھٹا ٹوپ  اندھیرا گڑا اور ریچھ۔۔۔۔۔۔۔


ہیں جی۔۔۔۔۔فیئر کیا ہوگا؟ 

منوانے کا شوق منوانے کا شوق Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 10:14 PM Rating: 5

14 تبصرے:

منیر عباسی کہا...

درست کہا. عقلمند را اشارہ کافی ست.
اپنی انا کی تسلی کی خاطر ہم کیا کیا نہیں کر جاتے. اور یہ تسلی بھی محض چند لمحوں کے لئے ہوتی ہے. اس کے بعد پھر کوئی چیز اس انا کو مجروح کرنے کے لئے ہمارے سامنے کھڑی ہو جاتی ہے.

بعض اوقات نظر انداز کردینا، وقتی طور پر شکست تسلیم کرلینا، انا کو مجروح ہونے دینا اس چکر کو توڑ دیتا ہے جسے کبھی کبھار ویشئیس سائیکل کہتے ہیں.

میرا خیال ہے ایک بیلینسڈ پر سنالیٹی کے لئے شکست کھانا ضروری ہے.

جعفر کہا...

آپ کو یقین ہے کہ کاتو صاحب نے بندر کا ہی ذکر کیا تھا؟
کہیں بارہ سنگھے کا ذکر تو نہیں تھا؟
اور آپ بوجہ عمر رسیدگی اس بات کو بھول گئے ہوں
یاد کریں

بدتمیز کہا...

پر ادھر ایک باندر نہیں باندروں کا نکا سا اجتماع ہے۔

عمران اقبال کہا...

یاسر بھائی۔۔۔ آپ جانتے ہی ہیں کہ یہ دنیا بڑی کمینی شے ہے۔۔۔ اور دنیا کے باسی اس دنیا میں اپنے حاصل کردہ علم اور دولت کے بل بوتے پر خود کو عالم فاضل اور امیر کبیر سمجھ بیٹھتے ہیں۔۔۔ جب کہ وہ نہیں جانتے کہ وہ مستقل دھوکے میں ہیں۔۔۔ یہ دنیا انہیں کب کھا جائے اور ڈکار بھی نا۔۔۔ یہ کسی کو بھی پتا بھی نہیں چلے گا اور نا ہی کسی کو فرق محسوس ہوگا۔۔۔
بس یہی حال ہمارے نام نہاد علما اور پڑھے لکھوں کا ہے۔۔۔ وہ کنویں میں مینڈک کی طرح اپنے علم کو ہی اعلیٰ اور ارفع ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔۔۔ لیکن جو حقائق وہ نہیں جانتے یا جن پر یقین نہیں رکھتے۔۔۔ بد قسمتی یا خوش قسمتی سے وہ حقائق بھی علم کا درجہ ہی رکھتے ہیں۔۔۔
اب یہی پڑھے لکھے حضرات جب اپنے علم کی بین بجاتے ہیں۔۔۔ تو عقل کے اندھے یہ بھول جاتے ہیں۔۔۔ کہ ان کے محدود علم سے فائدہ کم اور نقصان ذیادہ ہو رہا ہے۔۔۔ کیونکہ محدود علم کسی کو فائدہ نہیں پہچاتا۔۔۔ دوسروں پر پھبتیاں کس کر، فضول اور بے مقصد ریفرنس دے کر، مشکل الفاظ میں اپنا مدع بیان کر کے کوئی عالم فاضل نہیں بن جاتا۔۔۔
علم کی بات تو خیر ایک طرف۔۔۔ اپنے الفاظ کے غلط استعمال کی وجہ سے اپنی دنیا بنانے کے چکر میں اپنی آخرت گنوا بیٹھتے ہیں۔۔۔ یہ کہاں کے عقلمند ہوئے۔۔۔
ہیں جی۔۔۔ فیر کیا ہو گا۔۔۔؟

wafa united kingdom کہا...

fir kia howa......ahoo

افتخار اجمل بھوپال کہا...

ہمارے لوگوں نے پرانی کہانياں پڑھنا اور سُننا ہی چھوڑ ديا ۔ جاپان والوں نے نہيں چھوڑا اسی لئے ترقی کر رہے ہيں

سعد کہا...

فیر وہی ہو گا جو منظورِ خدا ہو گا :P

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کہا...

ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ ایسے ریچھوں اور بندروں بارسنگھوں کو دو لتر صبح دو شام لگا دیا کریں تو یہ مصلے پہ بیٹھے ٹوپی پہنے تسبیح پڑھتے نظر آئیں۔

انہوں نے اپنے ناقص علم کے زور پہ۔ منوانے کے غرور میں خدا۔ اسلام۔ قرآن۔احادیث۔ علماء ۔نظریہ پاکستان۔ پاکستان۔ افواج پاکستان۔ پاکستان کے دفاعی خفیہ اداروں۔ شہداء اور غازیوں تک کو نہیں بخشا۔ وجہ صرف اتنی سی ہے کہ یہ اپنی بے وقوفانہ دانش وری کے لئیے این تمام عوامل کا ٹھٹا اڑانا ایک بنیادی شرط سمجھتے ہیں اور غریب کی جورو کی طرح اسلامی شعائر کا مذاق اڑانا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ان میں اکثر یعنی تقریبا نناوے فیصد لوگ اپنی گھٹیا الزام تراشی کے لئیے کوئی دلیل کوئی ثبوت ۔ دلیل۔ یا شہادت کے بغیر مصر ہیں کہ لوگ ان کی یاوہ گوئیوں کو من و عن تسلیم کر لیں۔

جبکہ فریق مخالف جس کی خاموشی کی وجہ سے یہ اپنے اپ کو شیر سمجھے ہوئے ہیں۔ جس دن شر کو مذید پھیلنے سے روکنے کے لئیے تادیبی ضابطے جاری کرے گا تو تب انکی شرارتیں ایک دم ہوا ہوجائیں گی۔

ان کے لئیے دو لتر صبح دو لتر شام ہم بطور دوا تجویز کرتے ہیں۔ انشاءاللہ بہتوں کو افاقہ ہوگا۔ اور بہتوں کا بھلا ہوگا۔

جہالستان سے جاہل اور سنکی ۔ کہا...

کاتو تا ئی زو صاحب کی یہ انتھراپومورفک ٹیل ان لوگوں کے بارے میں ہے جو صرف جاپانی ٹریڈیشنز کو فالو کرنے پر مصر تھے یا انکے بارے میں جو جاپانی ٹریڈیشنز سے مکمل طور پر انحراف کو بہتر سمجھ رہے تھے ۔ کچھ لوگ ایسے بھی ہونگے جو گریجوئل چینج کے ہامی ہونگے اور کچھ ڈونٹ کیئر والی کیٹیگوری میں ۔ کاتو تا ئی زو صاحب کے ٹارگٹڈ سائیکوز کے بارے میں مزید معلومات بھی فراہم کریں نا ۔

jamshaid zubairee کہا...

I can see my own picture in this post. so I am copying this and posting it on my blog so that I can read it every time I get online. I hope you wont mind. thanks

jamshaid zubairee کہا...

if you mind my copying this post then plz let me know, I will remove it. Actually I have so many such monkeys around me so I want to read it again and again. so copying it will be a lot easier for me.

ڈاکٹر جواد احمد خان کہا...

بہت گہری بات محسوس ہو رہی ہے.

نورمحمد کہا...

سبحان اللہ . . .

بہت ذبردست - دوسروں سے واہ واہی کے چکر میں' اور اپنی انا کے لئے پتہ نہیں ہم کون سے گڈھےمیں گرتے جا رہیں ہیں

جزاک اللہ

حجاب کہا...

آپ نے ترجمہ لکھنا سٹارٹ کر ہی دیا ہے تو پیر کی لکیر والا بھی ترجمہ کریں مجھے پڑھنا ہے ۔۔۔ :-)

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.