نشان حیدر واہ جی واہ

پاکستان میں سیلاب کے بعد ہمارے پڑوس میں ایک گھرانہ جو تین افراد پر مشتمل ہےآکر بسا ماں باپ اور ایک گیارہ بارہ سال کی بچی۔گزشتہ سال دسمبر میں پاکستان گیا تو صبح کے وقت مسواک کاٹنے کھیتوں کی طرف جانا ہوا تو دیکھا کہ پختہ عمر کی خاتونہ سر پر ہاتھ رکھے بیٹھی رو رہی ہیں۔میں  نےپوچھا ماسی کیا ہوا خیریت تو ہے؟

ماسی نے پشتو میں کہا تنگ نہ کر اور اپنا راہ لے۔ساتھ میں ہاتھ سے اشارہ بھی کر دیا۔کیونکہ ہم جاپان میں رہ کر کچھ جدید ہو گئے ہیں۔اس لئے ماسی کی پرائیویسی میں دخل نہیں دیا اور معذرت کرکے آگے نکل گئے۔واپسی پہ دیکھا ماسی اسی طرح بیٹھی رو رہی ہے۔گھر واپس آکر اماں جی کو خبر دی کہ کوئی ماسی رو رہی ہے۔

اماں جی نے فٹافٹ چادر اٹھائی اور کہا آج پھر اسے دورہ پڑا ہے۔میں جاتی ہوں۔اماں جی ہمارے کچھ پوچھنے سے پہلے ہی پھرتی  سےنکل گئیں۔کوئی گھنٹے بعد دیکھا دونوں آئیں اور باورچی خانے کے پاس بیٹھ گئیں۔خاموشی سےکوئی بات چیت کئے بغیر ناشتہ وغیرہ کر رہی ہیں اور چائے پی کر ماسی تو خاموشی سے اپنے گھر چلی گئی۔

بعد میں پوچھنے پر معلوم پڑا کہ ماسی کے دو جوان بیٹے سیلاب میں سوات سے بہہ گئے تھے اور جن کی لاشیں سندھ میں کہیں ملی تھیں۔مجھے بات کچھ ہضم نہیں ہوئی اور مزید پوچھا کہ گیارہ بارہ سال کی بچی بھی سیلاب سے بچ گئی اور یہ دونوں میاں بیوی بھی جو کہ جوان بھی نہیں ہیں۔دو جوان بچے کیسے سیلاب میں بہہ گئے؟

جو معلومات ملیں اس کے مطابق اگر بچے سوات میں موجود طالبان کے ساتھ نہ ہوتے تو بھی خطرہ تھا۔جو فوج نے آپریشن کیا تو جہادی تنظمیں تو تتر بتر ہوگئیں۔یہ بچے گھر پر ہی رہے۔جن کا صرف اٹھنا بیٹھنا طالبان یا مذہبی قسم کے لوگوں میں تھا۔فوج نے ان دونوں بچوں کو اٹھایا جن کی عمریں سترہ اور اٹھارہ سال تھیں۔اور ان سے تفتیش کی اس تفتیش کا نتیجے میں ان بچوں کو نشان حیدر ملا کہ دونوں کی ٹانگیں توڑ کر معذور کر دیا گیا۔

جب سیلاب آیا تو یہ دونوں بچے بھاگ نہ سکے۔اور اللہ میاں کو پیارے ہو گئے۔میرے اپنے خاندان میں سے بھی کچھ لڑکے جہادی تنظیموں میں گئے اور اس کے بعد اللہ میاں کے پاس چلے گئے۔جو غازی ہو کر دوبارہ معاشرے میں آئے ان کی ذہنی حالت منتشر ہے۔خاندان والے ان کے پیدا کئے ہوئے مسائل کو بھگت رہے ہیں۔

یہ جہادی تنظیمیں کہاں سے وجود میں آئیں کس نے بنائیں؟۔اور جو جسمانی طور پر مضبوط اور خوبصورت جوان تھا ان میں کیسے شامل ہوا؟یہ سوالات ہیں جن کے جوابات مشکل تو نہیں لیکن کٹھن ضرور ہیں۔اس کے بعد انہیں بے روزگار  اور لاوارث چھوڑ دیا گیا۔یہ نہ دین کے رہے نہ دنیا کے۔وہی جو مجاہد کہلوانے میں فخر محسوس کرتے تھے۔انہیں دھشت گرد  ، انتہا پسند کہہ کر دیوار سے لگا دیا گیا۔

جن کا ان مذہبی تنظیموں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا تھا۔فوج نے انہیں پکڑ کر تشدد کا نشانہ بنایا۔جو اصلی لوگ تھے وہ آگے پیچھے ہوگئے۔ایک طرف اس دفعہ کراچی میں بحری فوجی اڈے پر حملے پر ہمارا دل دکھتا ہے تو دوسری طرف مالی مفاد کی خاطر یوٹرن لینے والوں کی بے رحمی پر بھی غصہ آتا ہے۔ادھر بھی اپنے اور ادھر بھی ان ہی کے تیار کردہ ٹھکرائے ہوئے ہیں۔

کس کو روئیں؟  اور کس کو نہ روئیں ؟ ۔کسے الزام دیں  ؟ کسے مجرم کہیں؟

کوئی یاسرعباس مارا گیا۔جدی پشتی فوجی گھرانے سے تھا۔یعنی مالدار ہوا۔وزیر اعظم صاحب کی اہلیہ محترمہ پرسہ دینے پہونچ گئیں۔۔رینجر اور فائیر برگئیڈ کے کیڑے مکوڑے بھی شہید ہوئے ہیں ۔ان کے دوکمرے میں ٹھنسا بڑا سا گھرانہ ہوگا۔ان کے پاس کوئی پرسہ دینے نہیں گیا؟ یعنی نشان حیدر بھی اثر رسوخ رکھنے والوں کیلئے ہوا؟

اس اثر رسوخ  کےغلط استعمال کوپہلی بار ہم نے اپنی کم سنی میں محسوس کیا جب ہم ہائی سکول کے طالب علم تھے تو بری فوج  کی میراتھن ریس ہوئی ہم لوگوں نے حویلیاں سے ایبٹ آباد شہر میں فوج کی چھاونی تک دوڑنا تھا۔ہم بھی بڑی خوشی خوشی دوڑے اور ساتھ ساتھ دیکھتے گئے کہ بعض اچھے  سرکاری ملازمین  کے بچے بھی ہمارے ساتھ دوڑ رہے ہیں ان میں بعض ہمارے کلاس فیلو بھی تھے۔

جب وہ لڑکے تھک جاتے تو کوئی انکل شنکل ان کو بائیک پر اپنے پیچھے بیٹھا لیتے۔ہم نے کوئی دھیان نہ دیا اور اپنی دھن میں بھاگتے رہے۔ہم تین دوست تھے اور تینوں غریباں دے پتر۔ تینوں اپنی دھن میں مگن میراتھن ریس دوڑے اور فوجی  چھاونی میں کھانا کھایا جو گھروں میں کم ہی کھانے کو ملتا تھا۔

وہاں پر ہم نے سنا کہ مراتھن دوڑنے والوں کی حوصلہ افزائی کیلئے۔اخبار میں خبر بھی لگے گی اور سب کو باقاعدہ پارٹی میں میڈل دیئے جائیں گے۔ہم خوش خوش گھر واپس آئے اور سب سے کہا مزے کا کھانا بھی کھایا اور اب اخبار میں نام بھی شائع ہوگا۔میڈل وی ملے گا۔ آہو

فئیر یہ ہوا جی کہ جنہوں نے بائیک پر ریسٹ مارکہ دوڑ لگائی تھی انہیں پارٹی میں انوائیٹا گیا۔میڈل دیئے گئے۔غریباں دے پتراں کو کسی نے نہ پوچھا۔

ہم انتظار ہی کرتے رہ گئے کہ کب دعوت نامہ ملتا ہے۔

تو جناب نشان حیدر بھی کچھ ایسی ہی شے ہے۔ہیرو نہیں تھا تو کیا ہوا۔۔ہم بنا دیں گے نا۔۔۔۔آہو۔
نشان حیدر واہ جی واہ نشان حیدر واہ جی واہ Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 9:50 PM Rating: 5

18 تبصرے:

عین لام میم کہا...

آجکل اس مو ضوع پہ بہت بحث چل رہی ہے۔۔۔۔۔۔ اب یہ حال آ گیا ہے کہ ہمیں یہ سوچنا پڑتا ہے کہ یہ جو مرا ہے اسے شہادت کے کس درجے پہ بٹھانا ہے۔ آج سے پہلے تک تو نشانِ حیدر ”معروف دشمن“ سے لڑنے والوں کو ہی دیا گیا ہے۔۔۔ اب کہ اس ان دیکھے دشمن کے نام آیا قرعہ۔۔۔ویسے سانوں کیِہ۔۔۔۔ ہم نے کونسا اب یاد کرنے ہیں مطالعہ پاکستان میں ان کے نام۔۔۔!

احمد عرفان شفقت کہا...

یہ جو آخری سطر میں بات کہی گئی ہے نا بس یہی سب سے زبردست بات ہے، اصل بات ہے.

جعفر کہا...

ہم جی غلام ابن غلام ابن غلام ہیں
اور وہ ہیں فوجی ابن فوجی ابن فوجی۔۔۔۔
ہم آپ کو ملے گا جھنڈے کا ڈنڈا
اور ان کو ملے گا نشان حیدر۔۔۔

منیر عباسی کہا...

درست سمت اشارہ کیا. یہ جہادی تنظیمیں اور جہادی بھی تو کسی نے سپانسر کئے تھے. یو ٹرن لے تو لیا مگر ان کو سنبھالنا مشکل ہو گیا ہے. بوتل کا جن اب نکل کر عفریت کی شکل کچھ ایسے اختیار کر گیا ہے کہ اگر کوئی ان میں سے نہ بھی ہو تو وہ بھی مجبورا ایک مشکل ترین سائڈ لینے پر مجبور ہو جاتا ہے.

guftari کہا...

بھائی یاسر،
اپنی فوج کے قربان جوں. ادھر جس کو سبق یاد ہوتا ہے، اس کو چھٹی نہیں ملتی.
ایک اپنے نیازی صاحب تحت، وہی پلٹن میدان والے، مرتے دم تک پنشن ملی اور مرتے وقت فوجی قبرستان. اور ایک جنرل مٹھا. کمانڈو برگیڈ کے بانی. جبری ریٹایر، اعزازت واپس اور پنشن بند.
http://en.wikipedia.org/wiki/Amir_Abdullah_Khan_Niazi
http://en.wikipedia.org/wiki/A_O_Mitha
ویسے ہماری فوج ہے پروفشنل، ہر پروفشن میں ہاتھ ڈالا ہوا ہے..مہران بیس کی خیر ہے، ذرا کوئی ہمت تو کریں ڈفینس سوسایٹی پر آنکھ اٹھاننے کی، ، ایک گھنٹے میں کچل دیے جائیں گے!

دل جلا،
گفتاری

کاشف نصیر کہا...

یاسر صاحب کیوں نہ ایک نشان حیدر افواج پاکستان کے سپریم کمانڈر آصف علی زرداری کو بھی دے دیا جائے، قوم اور پیلپز پارٹی دونوں کا فائدہ ہوجائے گا! باقی آپ عقلمند ہیں :mrgreen:

sadia saher کہا...

حاکم علی زارداری کو بھی ایک نشان ِ حیدر ملنا چاھئیے انھوں نے اتنا ھونہار سپوت پیدا کیا

شازل کہا...

آپ کی باتیں سچ ہیں اورسچ کے سوا کچھ نہیں.

ڈاکٹر جواد احمد خان کہا...

میں تو ابھی تک یہی سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ یہ بگاڑ ہے یا اللہ رب العزت کی طرف سے سزا..

ضیاء الحسن خان کہا...

جو جضرت استاد نے فرمایا ،یری طرف سے بھی وہی ہے :mrgreen:

معیز کہا...

يار جی صرف اتنا بتا دو کہ اللہ کریم نے ان لوگوں کوہی کیوں چناکہ یہ لوگ دنیا میں اسطرح نوازےگئے اور شائید اخرت میں بھی اعلی مرتبے پر فائیز ھوں۔

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کہا...

ہم آپ کی تائید کرتے ہیں :)
اور دو تغمے بصالت وغیرہ۔ ایک مانگ نکالنے والے کو اور دوسرا عنیک جما کر بتیسی کی فرمائشی فوٹو بناے والے کو۔

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کہا...

یاسر بھائی!
ہونا یہ چاہئیے تھا کہ افغان سویت وار ختم ہونے کے بعد امریکہ اور پاکستان دیگر اتحادیوں کے تعاون سے ایسے لوگوں کو معاشرے میں باعزت طریقے سے ضم کرتے۔ تانکہ نہ پاکستان ۔ نہ امریکہ اور نہ ہی دنیا کی آج دہشت گردی کی صورت میں سزا بھگنی پڑتی۔ مگر تب امریکہ و اتحادیوں نے نے پاکستان سے آنکھیں پھیرتے ہوئے پاکستان کو بے یارو مددگار اسکے حال پہ چھوڑ دیا۔ پاکستان نے قسمت کا لکھا سمجھ کر جہادیوں کو انکی قسمت پہ چھوڑ دیا۔ یہاں تک تو شاید خریت گذرتی۔ مگر امریکہ مہاراج کو پتہ نہیں اچانک کیا سوجھی کہ گیار نو یعنی ستمبر کی گیارہ کو نیو یارک ورلڈ ٹریڈ سنٹر پہ حملوں ( جن کی منصوبہ بندی سے لیکر اسے انجام پہنچانے والوں میں کسی بھی جگہ کسی بھی طریقے سے کوئی پاکستانی شامل نہیں تھا اور نہ پاکستان کا کوئی اسمیں ھاتھ تھا) کو جواز بناتے ہوئے عراق اور افغانستان پہ چڑھ دوڑا اور پاکستان کو بشرف مشرف کو چلتے چلتے جو دھونس لگائی تو مشرف گیلی پتلون کے ساتھ اپنی کرسی پہ فون پہ ہی سیلوٹ بجا لایا ۔

بس پھر وہ دن اور آج کا دن اللہ دے اور بندہ لے۔ کبھی پتھر برستے ہین ۔ کبھی کتے کاٹتے ہیں اور پچھلی ایک دہائی سے عام پاکستانی خالی پیٹ اور پھولے سانسوں سے بھاگ رہا ہے ۔ اور موسٰی علیۃ والسلام کے کے دور میں بددعائے بنی اسرائیل کے بھٹکے ہوئے ایک قبیلے کی طرح بھٹکتا اور بھاگتا ہوا پھر سے وہیں پہنچ جاتا ہے جہاں سے وہ بھاگنے کا آغاز کرتا ہے۔دائرے کا سفر ہے اور ہماری زبوں حال اور بے بسی ہے کہ ختم ہونے میں ہی نہیں آتی۔

کوئی قیادت یا رہنماء دورو نزدیک تک نظر نہیں آتا۔ قوم "اوتر نکھتر" ھوگئی ہے۔ہر ادارے ہر منظر پہ "قحط الرجالی " طاری ہے۔

انکل ٹام کہا...

یاسر بھای ، بس کیا کہوں کہ یہ بڑے لوگوں کی بڑی کہانیاں ہیں ۔

Crazy Prince کہا...

Plz translate my article into Urdu. I also wanted to write it in Urdu but my Urdu typing is too bad. It would
have taken at least 10 hours to write it in Urdu. So plz do it. It would be great help. Thanks

وقاراعظم کہا...

پیر صیب ایک جاننے والے پی اے ایف بیس فیصل پر بطور سویلین تعینات ہیں. ان کی رپورٹ ہے کہ لیفٹننٹ یاسر صاحب ایک ایڈمن آفیسر تھے. اور ایڈمنسٹریٹیوو ڈیوٹیز پر متعین افراد کیسے لڑ سکتے ہیں. نیول چیف کا بیان ہے کہ بیس پر تعینات اہلکاروں نے لیفٹیننٹ یاسر کی قیادت میں دہشت گردوں کو للکارا. اب ایک ایڈمنسٹریٹیو ڈیوٹی پر متعین فرد کس طرح حفاظتی گارڈز کی کمان کرسکتے ہیں؟ انکا کہنا تھا کہ وہ فون پر اپنی والدہ سے بات کررہے تھے. فائرنگ کی آواز سن کر باہر آئے تو فائرنگ کا نشانہ بن گئے. جب کے ان کے مقابلے میں فائر فائٹرز برستی گولیوں میں قومی اثاثوں کو بچانے کی جدوجہد کرتے ہوئے شہید ہوئے. لیکن نشان حیدر کا حقدار لیفٹننٹ یاسر ہی ہے....

درویش خُراسانی کہا...

اگر یہ واقعی ایسی بات ہے تو یہ بہت ہی ظلم ہے ان بے چاروں فائر فائٹروں کے ساتھ۔

ویسے خواہ مخواہ صاحب نے بھی اس طرف ان الفاظ میں کچھ اشارہ کیا ہے۔۔۔۔۔کوئی یاسرعباس مارا گیا۔جدی پشتی فوجی گھرانے سے تھا۔یعنی مالدار ہوا۔وزیر اعظم صاحب کی اہلیہ محترمہ پرسہ دینے پہونچ گئیں۔۔رینجر اور فائیر برگئیڈ کے کیڑے مکوڑے بھی شہید ہوئے ہیں

درویش خُراسانی کہا...

اب ظاہر ہے کیڑوں کا کون پوچھتا ہے۔

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.