خود کلامی۔۔۔۔

کوئی دعوی کرے کہ اسے دوسروں پر فوقیت حاصل ہے۔

اپنی فضلیت کو فضلیت کے طور پر بیان کرنا۔

صرف بکواس ہے۔

علم میں دوسروں کو شامل کرنے کا نام علم ہے۔

علم سے دوسروں کو مرعوب کرنا۔دوسروں کی تحقیر کرنا۔

دوسروں کے جذبات سے کھلینا۔ صرف اپنی علمیت بگھارنا۔

صرف بکواس ہے۔صرف جہالت ہے۔

کسی علم والے کیلئے عذاب ہے کہ وہ اپنی تعریف کو سننا چاھے۔

خواہش رکھے اسے دوسرے اہمیت دیں۔

علم والے کیلئے کم ظرف ہونے کیلئے اتنا ہی کافی ہے۔

کہ اپنے آپ کو سستا کردے۔

کم ظرف علم والے کیلئے عذاب ہے کہ دوسروں کے دل سے اتر جائے۔

علم والا کم فہم کو تدبّر سے علم منتقل نہ کر سکے تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کم ظرف ، کنجوس ، جاہل ، گھمنڈی ہے۔

خیریت اس میں نہیں کہ سوچا جائے سمندری جہاز کے پیندے میں سوراخ کیوں ہے۔

خیریت اس میں ہے کہ سوچا جائے کہ یہ جہاز ساحل پر کیسے پہونچے گا۔
خود کلامی۔۔۔۔ خود کلامی۔۔۔۔ Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 11:07 AM Rating: 5

9 تبصرے:

ضیاء الحسن خان کہا...

واہ جی واہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو کون ہے گھمنڈی اور جاہل عالم؟؟؟

افتخار اجمل بھوپال کہا...

تُساں تے فلسفی ہوئی گچھے او

وقاراعظم کہا...

ہمممم۔۔۔۔۔
بہت خوب، کم ظرفوں کی کیا خوب نشاندہی کی ہے۔
ویسے کیا سوچا، جہاز ساحل تک کیسے پہنچانا ہے؟ :wink:

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کہا...

یاسر بھائی!۔

آپ اپنی "خود کالمی" جسے آپ نے خود کلامی کہا ہے یہ تو "عالم کلامی" ہے۔ آپ تو ایک عالم کو کلام کرگئے ہیں۔
خود مراقبی سے راز کائینات یوں ہی افشاء ہوتے ہیں۔

بہت خوب۔

جہالستان سے جاہل اور سنکی ۔ کہا...

اپنی اپنی محفل میں ہے بلند صدائے واہ واہ ۔ چل رہی ہے ایدھر بھی اور شائد اودھر بھی ۔

شازل کہا...

لگتا ہے آج کسی عالم بے عمل نے آپ کو چھیڑ دیا ہے

wafa united kingdom کہا...

ap in logo ko phare likhe jahil keh sakte hein

ڈاکٹر جواد احمد خان کہا...

جہاز ساحل پر کیسے پہنچے؟ یہ تو مشکل سوال ہے اور مشکل کام ہے. ناخدائی مانگتا ہے....
جہاز ساحل پر تو نہیں پہنچاسکتے مگر جھوٹوں کو گھر تو پہنچاسکتے ہیں.... :-)

حجاب کہا...

:-) :-)

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.