فلسفی کی گھڑی

دنیا کے اخلاقی نظم و نسق کو حاسّہ مذہبی ہی نے تھام رکھا ہے۔ورنہ اگر تعلیم و تمدّن پر مدار ہوتا تو اہل یورپ کا اخلاقی پلّہ اسی قدر تمام دنیا سے بھاری ہوتا ، جس قدر تعلیم و تمدّن میں  یورپ کا پایہ بلند ہے۔ دنیا میں افراد انسانی کے خاص خاص مختصّات یعنی زبان  ، قوم ، ملک ، صورت اور رنگ کو حذف کرتے جائیں تو جو قدر مشترک رہ جائیں گی ۔


ان میں ایک مذہب ہو گا۔اور یہ بہت بڑی دلیل اس بات کی ہے کہ مذہب فطری چیز ہے۔جن چیزوں کو ہم انسان کی فطرت خیال کرتے ہیں۔مثلاً اولاد کی محبت، بہن بھائیوں والدین کی محبت ،انتقام کی خواہش اور کمال کی قدردانی وغیرہ وغیرہ۔


ان کی فطری ہونے کی یہی وجہ قرار دیتے ہیں۔کہ تمام دنیا کے آدمیوں میں مشترک پائی جاتی ہے۔اس بنا پر جب ہم دیکھتے ہیں۔ کہ دنیا میں ہر قوم ، ہر نسل اور طبقہ  کوئی نہ کوئی مذہب رکھتا ہے۔تو صاف ثابت ہوتا ہے۔کہ مذہب فطری چیز ہے۔انسان جب انتہائی رنج و غم یا شدّت مرض میں گرفتار ہوتا ہے توبے اختیار وہ اس غائبانہ طاقت یعنی خدا تعالی کی طرف رجوع کرتا ہے۔اور اس سے اپیل کرتا ہے۔


اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ مذہب کے جو مقّدم اصول ہیں۔وہ تمام مذاہب میں یکساں پائے جاتے ہیں۔یعنی خدا تعالی کا وجود ، اس کی پرستیش کا خیال ، حیات بعد الموت ، اعمال کی سزاوجزا ۔رحمدلی ، ہمدردی ، عفّت کو اچھا سمجھنا جھوٹ ، دغا ، زنا ، چوری کو برا جاننا تمام مذاہب کا اصل اصول ہے۔


افریقہ کا جاہل سے جاہل حبشی بھی اسی طرح کھاتا پیتا ، چلتا پھرتا ، سوتا جاگتا ، اور بولتا چالتا ہے۔جس طرح دنیا کا بڑے سے بڑا ڈاکٹر ، سائینسدان اور بڑے سے بڑا بادشاہ یا شہنشاہ عالم بارک اوبامہ ان ضروریات کو انجام دیتا ہے۔اس سے یہ صاف ثابت ہوتا ہے کہ مذہب کا اس قدر حصّہ جو تمام قوموں میں مشترک ہے۔لازمہ انسانی ہے۔اور اس وجہ سے قدرت نے تمام قوموں کو یکساں عطا کیا۔


فلسفہ جسے میں بھی بہت پسند کرتا ہوں۔لیکن جتنی بھی فلسفہ کی کتب پڑھیں میں اس نتیجے پر پہونچا کہ فلسفہ دماغ کا خلل ہوتا ہے۔اور فلسفی کے دماغ کی گھڑی گھوم گھوم کر دوبارہ بارہ ہی بجا رہی ہوتی ہے۔اگر ممکن ہے تو کبھی تیرہ بھی بجا کر دکھائے۔گھڑی تیرہ کیسے بجائے گی اس سے ایک اور نہ ختم ہونے والی بحث بھی شروع ہو سکتی ہے۔


فلسفہ کے پیرو کار بہت سے دلائل کے بعد اس نتیجہ تک پہنچے کہ سچائی ، دیانت داری ، عففّت و حلم اچھی چیزیں ہیں لیکن ایک وحشی بغیر تعلیم اور بغیر دلیل کے خودبخود ان چیزوں کو اچھا جانتا اور اچھا سمجھتا ہے۔ انسان ملحدانہ زیست بسر کر سکتا ہے۔مگر وہ دل میں ملحد نہیں ہو سکتا۔کہتے ہیں کہ ملحد رات کو خدا تعالی پر آدھا یقین کرتا ہے۔اور جہاز میں خطرے کے وقت پورا۔


اہل علم و دانش کہتے ہیں کہ دنیا میں کسی ایسے ملحد کا وجود نہیں ہے۔جس کو یہ یقین کامل ہو کہ خدا تعالی نہیں ہے۔اس  سے زیادہ اہل علم کی اور کیا کم عقلی ہوگی کہ  بندہ یہ یقین کرے کہ ہمارے چار عناصر ناپائیدار اور پانچواں عنصر پائیدار ہے۔ جن سے اجرام فلکی پیدا ہوئے ،خود بخود اس خوش اسلوبی سے ترتیب اور صیحح انداز کے ساتھ ترتیب پا گئے ہیں اور اس نظام کو کسی منتظم اور مدبّر و مرتب کی ضرورت نہیں۔


ہم جو کمپیوٹر پر آپریشن سسٹم استعمال کرتے ہیں کیا یہ بغیر کسی سسٹم انجینئیر یا پروگرامر کے وجود میں آگیا؟اسی آپریشن سسٹم پر ہم مختلف سافٹ استعمال کرتے ہیں ۔ بغیر کسی ترتیب یا صیحح انداز کے استعمال نہ کریں تو کیا یہ سافٹ بہتر کار کردگی دکھا ئیں گے۔؟


یا یہ سافٹ ویئر حسب ضرورت خود بخود تیار ہو کر صیحح انداز میں کام کرنا شروع کر دیتے ہیں؟ اگر خدا تعالی کے ہونے اور نہ ہونے کے دلائل ہم وزن بھی ہوں تو بھی خدا تعالی کے  نہ ماننے میں جو بھاری ذہنی دباوء اور خوف ہیں۔وہ خدا کے ماننے کی صورت میں بالکل نہیں۔


اگربخیال ملحد ، خدا نہ ہوا تو ماننے والا اور نہ ماننے والا ہر دو برابر ہیں۔ماننے اور نہ ماننے والے کا کچھ نقصان نہ ہوا۔لیکن اگر خدا تعالی ہے اور ضرور ہے تو پھر یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ ملحد کی جان پر کیا بنے گی؟ 


خالق حقیقی کی صنعت کے کارخانے عجیب ہیں۔ان کو عجیب کہنے والا انسان خود سب سے بڑا عجوبہ روزگار ہے۔اس صانع حقیقی کی بے شمار قدرتیں بھی حیرت خیز اور محیرالعقول ہیں۔لیکن یہ خاکی پتلا ان سب سے بڑھ کرحیرت میں ڈالنے والا ہے۔اس کی بنّاوٹ میں صنّاع حقیقی نے اپنی صناعی کا کمال دکھلایا ہے۔اول تو انسانی جسم کی سی کل  کیا بناوٹ کی خوبی  کے لحاظ سے اور کیا مشینری کی لطافت اور باریکی کے لحاظ سے  ، اپنا جواب آپ ہے۔اس چھوٹی سی آنکھ کے اندر نور کا موجود ہونا اور اس آنکھ کی پتلی میں بڑے بڑے مکانات ، پہاڑ ، حتی کہ آسمان تک کا سما جانا ایک بے نظیر کرشمہ ہے۔انسان کا دل و دماغ اس سے بھی بڑھ کر عجوبہ ہے۔ جس میں عقل و حکمت کے بحر بیکراں بہہ رہے ہیں۔


اگر خدا ہے اور ہم اس کے یقین کرنے سے سرکشی کریں تو کیا وہ معدوم ہو جائے گا؟ ہمارے آنکھ جھپکانے سے کیا آفتاب تاریک ہو جائے گا؟


ملین ایڈورڈ کہتا ہے، کہ انسان اس وقت سخت حیرت زدہ ہوجاتا ہے۔ جب یہ دیکھتا ہے کہ ان مکرّر وناطق مشاہدات کے ہوتے ہوئے ایسے لوگ بھی موجود ہیں۔جو یہ کہتے ہیں کہ یہ تمام عجائبات محض بخت و اتفاق کے نتائج ہیں۔یا با الفاظ دیگر یوں کہنا چاہئے کہ مادّہ کی عام خاصیّت کے نتائج ہیں۔یہ فرضی احتمالات اور عقلی گمراہیاں جن کو لوگوں نے علم المحسوسات کا لقب دیا ہے۔


علم حقیقی نے ان کو بالکل باطل کر دیاہے۔فزیکل سائینس جاننے والا کبھی اس پر اعتقاد نہیں لاسکتا۔ملحدین کا یہ اعتراض کہ اگر خدا تعالی قادر متعلق ہوتا تو دنیا کو بتدریج کیوں پیدا کرتا ، اس قدر لغو ہے کہ ذراسی توجہ کے قابل نہیں۔ ایک قطرہ کا رحم میں پڑنا ، پر ورش پانا ، گوشت پوست چڑھنا ، مختلف اعضا کا پیدا ہونا ، جان پڑنا ، خون سے غذا پانا اور نور کا پتلا بن کر منظر عام پر آنا زیادہ اعجوبہ اور کمال قدرت کی دلیل ہے یا دفعۃً بنا بنایا ایک انسان مجّسم کا پیدا ہونا؟


عقل و حکمت کا پیکر انسان حالت قبض میں نظام ہضم کو ٹھیک کرنے والی دوائی کھا کر ٹھیک ہونے کا تو یقین کرے لیکن صانع حقیقی نے جو بہترین جسم عطا کیا اس صانع حقیقی کے وجود پر شک کرے!!!۔


کیا نظام ہضم کو ٹھیک کرنے والی دوائی کو کام کرتے دیکھ کر دوائی پر یقین کیا ؟ یا اثرات دیکھ کر؟  ایک جیسی ہی آکسیجن استعمال کر کے انسان شیر ،بندر ، گھوڑا ، گدھا ، بن سکتا ہے؟ اگر نہیں تو کیوں؟


آکسیجن کی قسم تو ایک ہی ہے۔جاندار مختلف کیوں؟


گھوڑا گھاس کھاکر جئے  اور شیر ماس کھا کر۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ جاندار مختلف کیوں؟ 


اللہ میاں تو انسان کی تخلیق کے بعد انسان کو ہنس کر دیکھ رہے ہوں گے۔اور کہہ رہے ہوں گے لگا رہ!!.


لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہے کہ۔۔۔۔کیونکہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایسے ویسے۔۔۔۔کیونکر ۔۔۔۔۔۔اللہ میاں بھی ہنستے ہیں کیا؟۔


TO BE OR NOT TO BE THAT IS THE QUESTION


ہونے یا ایسا نہیں ہے کہ سوال یہ ہے کہ ہوں گے


 


مخزن اخلاق از مولانا رحمت اللہ سبحانی لودیانوی

فلسفی کی گھڑی فلسفی کی گھڑی Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 2:25 PM Rating: 5

18 تبصرے:

جہالستان سے جاہل اور سنکی ۔ کہا...

فلسفیوں کو جن باتوں کا علم نہيں ہو پایا کرتا ان باتوں کا پتا سائینسدان لگا کر انسانوں کو بتایا کرتے ہیں ۔ خدا کو تو ان باتوں کا پتا ہوتا ہی ہے اور یہ بات پیغمبر آکر بتایا کرتے ہیں ۔
ضرورت کے تحت فلسفی بھی خدا سے امید رکھ لیتے ہونگے جی ۔ وہ فلسفی ہی کیا جو بعد از مرگ روز حساب کو مانے ۔ اسی طرح وہ زیلوٹ ہی کیا جو بلا سفارش کے روز حساب کو مانے ۔

بلاامتیاز کہا...

درست فرمایا ہے ....

شازل کہا...

میں سمجھ سکتا ہوں کہ آپ نے کس پوسٹ کے جواب میں لکھا ہے میں تو اس لیے تبصرے کےلیے نہیں گیا کہ پھر گالیوں کا طوفان امڈ پڑے گا.ورنہ دل بہت کرتا ہے کہ کرارا جواب دوں.
ملحد ایک ایسا شخص بھی ہوتا ہے جو کسی منطق کو مانتا ہی نہیں. اسے تو خدا ہی سمجھے گا جس دن حقیقت اس کے سامنےآئے گی ساری چوکڑی نکل جائے گی اور سارا فلسفہ جسے وہ ساری زندگی کا حاصل گردانتا تھا جب کسی راستے سے نکلے گا تو اسی وقت سجدے میں گرجائے گا لیکن وقت پھر لوٹ کرنہیں آئے گا.
ملحد ایک ایسا شخص بھی ہوتا ہے جو خدا کو نہیں مانتا تو خدا اس سے منوا کرہی رہتا ہے وہ شکر کرے کہ اسی دنیا میں خدا اس سے اپنا آپ منوا لے ورنہ قیامت میں منوانے کا طریقہ کچھ اور ہوتا ہے

افتخار اجمل بھوپال کہا...

جزاک اللہ خيراٌ ۔ بہت اچھے بلکہ بہت ہی اچھے
ميں پريشان ہو رہا تھا کہ صفحہ ميں ابھی کھولا ہے مگر محسوس يوں ہو رہا ہے کہ پہلے پڑھ چکا ہوں ۔ خير اتنا دلچسپ تھا کہ سوچنے کا موقع نہ ملا اور پڑھتا گيا ۔ آخر ميں جا کے بھيد کھُلا

وقاراعظم کہا...

بہت خوب...
لیکن آخر میں آپ نے نیا پھڈا ڈال دیا کہ اللہ میاں ہنستے بھی ہیں؟ بیچارا فلسفی تو گیا کام سے....

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

بجا فرمایا ج ج س صاحب

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

لیکن شاہ جی میں نے کیا فرمایا؟

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

شازل صاحب کسی پوسٹ کا جواب دینے کی ابھی کوشش نہیں کی۔ :D
ایک مسلمان کو وجود خدا پر کیا شک ہو سکتا ہے جی

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

جی جناب اجمل صاحب
تحریر میں ڈنڈی ماری ہے اس لئے اقتباس لکھنے کی جرات نہ کر سکا۔لیکن کتاب کا حوالہ نہ دینا اتنی اچھی کتاب لکھنے والے کے ساتھ زیادتی ہوتی۔ :lol:

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

فلسفی بیچارہ اگر کسی ستون سے بندھا نہ ہو تو کس کام کا ہوتا ہے؟

عطاء رفیع کہا...

عربی کا ایک شعر ہے کہ :
و فی کل شیئ لہ آیۃ
تدل علی انہ واقع
ہر چیز میں اس کی ایک نشانی موجود ہے، جو اس بات پر دال ہے کہ اللہ تعالیٰ واقعی موجود ہے۔

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کہا...

اللہ تعالٰی آپ کو آپکی اس محنت پہ اجر عظیم دے۔

آپ نے حجت تمام کر دی۔

wafa united kingdom کہا...

mojhe yahan tabsara krte howe problem hore hai......

ڈاکٹر جواد احمد خان کہا...

ماشاء اللہ.... جزاک اللہ
اب کی بار تو آپ نے کمال ہی کر دیا....
فلسفہ دماغ کا خلل تب بنتا ہے جب وہ اپنی حدود سے تجاوز کرکے ان سوالات کا جواب دینے کی کوشش کرتا ہے کہ جن کے جوابات حاصل کرنے کے اس کے پاس سرے سے ذرائع ہی موجود نہیں....
اصلی فلسفی ہوتے تب بھی غنیمت ہوتا مگر مصیبت یہی ہے کہ ہمارے یہاں فلسفی بھی دو نمبر ہیں.مکھی پہ مکھی بتھانے والے..جن کے پاس سوائے حوالے دینے کے کوئی اور کام نہیں..... مانگے تانگے کا علم ہے اور مانگے تانگے کے نظریات....

ڈاکٹر جواد احمد خان کہا...

سمجھ نہیں آتا کہ ہیٹی میں زلزلے سے میرا تعلق کیسے بنا.... :?

بنیاد پرست کہا...

جزاک اللہ، خوش رہیں۔
عقل پرستوں نے فلسفہ اور منطق کا سہارا لے کر اپنے ساتھ عوام کو بھی گمراہ کرنا شروع کیا ہوا ہے ۔اس موضوع پر مزید اس طرح کی تحریروں کی ضرورت ہے۔ جاری رکھیں

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

وفا آپ کو کس طرح کی مشکل محسوس ہو رہی ہے؟

وقاراعظم کہا...

تعلق اس لیے بنا کہ آپ نے اپنے انگلش بلاگ کا یو آر ایل غلط لکھا ہے. :twisted:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.