تنگ نہ کر اوئے خانہ خرابہ

آپ کو معلوم ہی ہے کہ بارہ سنگھا صاحب ہر جگہ انگلی کرتے ہیں۔جہاں موقع ملا انگلی کردی۔تو ایک بار یہ بارہ سنگھا صاحب اپنے ایک نہایت ہی مخلص اور ان کی دیکھ بھال کرنے والے سائینس دان قسم کے دوست کے گھر تبادلہ خیال کیلئے تشریف لے گئے۔


 بارہ سنگھا صاحب کو بیت الخلا کی حاجت محسوس ہوئی تو اپنے سائینس دان دوست سے پوچھا کہ بیت الخلاء کہاں ہے؟


۔اعلی تعلیم یافتہ سائینسدان صاحب کو بیت الخلاء کی سمجھ نہ آئی تو بارہ سنگھا صاحب نے وضاحت کی کہ واش ڑوم جہاں صفائی دھلائی کی جاتی ہے وہ کہاں ہے۔ دوسٹ صاحب سمجھ گئے اور انہیں واش ڑوم کا رستہ دکھایا۔اور ساتھ ہی سائینسی طریقے سے سمجھایا ۔


کہ واش ڑوم میں دو بٹن لگے ہیں ایک سبز بٹن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور دوسرا۔۔۔۔۔۔۔سرخ بٹن۔۔۔۔۔۔۔آپ نے صرف سبز بٹن دبانا ھے!۔


 بارہ سنگھا صاحب سمجھ گئے اور واش روم جاکر فارغ الپیٹ ہونے کے بعد سبز بٹن دبایا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فوراً ہی تیز رفتار پانی آیا اور صفائی ہوگئی۔ بارہ سنگھا صاحب منہ ہاتھ دھو کر ہٹنے لگے تودل میں کھجلی ہوئی جیسے کہ ان کی عادت ہے انگلی پنگا کرنے کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سرخ بٹن دبا کر دیکھوں آخر ہوتا کیا ہے۔


 بارہ سنگھا صاحب نے نہایت بیچینی اور اشتیاق سے سرخ بٹن پر انگلی رکھی۔۔۔۔۔۔۔ بٹن دبانے کی دیر تھی کہ بجلی کی رفتار سے سامنے کی دیوار سے ایک مکہ نکلا اور پوری قوت سے بارہ سنگھا صاحب کے منہ پر پڑا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بارہ سنگھا صاحب کے چودہ طبق روشن ہوگئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


۔وہ تیورا کر فرش پر گرے۔۔۔دل کی ڈھرکنیں بے ترتیب ہو گئیں۔۔۔نبض ڈوبنے لگی۔۔۔۔۔۔۔۔آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا۔۔۔۔۔۔ جسم پر کپکپی طاری ہوگئی اور کانوں میں سیٹیاں تے شیٹیاں بجنے لگیں۔۔۔ کافی دیر تک وہ اسی عالم میں رہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


پھر دس پندرہ منٹ بعد جیسے ہی کچھ ہوش آیا۔۔۔وہ اٹھے۔۔۔۔۔۔۔گال تھپتھپائے۔۔۔۔۔ آنکھوں پر پانی کے چھینٹے مارے ۔۔۔۔۔۔خود کو سنبھالا اور لباس درست کرتے ہوئے باہر آکر بڑی خاموشی سے صوفے  پربیٹھ گئے۔


 دوست نے پوچھا۔۔۔۔۔۔بارہ سنگھا صاحب!!۔۔۔۔سرخ بٹن تو نہیں دبایا تھانا۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟


بارہ سنگھا صاحب فوراً بولے۔۔۔۔۔۔نہیں نہیں۔۔۔۔سرخ بٹن دبا کر میں نے منہ تڑوانا ہے۔۔۔۔۔۔۔!!!!

تنگ نہ کر اوئے خانہ خرابہ تنگ نہ کر اوئے خانہ خرابہ Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 11:33 AM Rating: 5

10 تبصرے:

عمران اقبال کہا...

مزہ آ گیا بھائی جان۔۔۔ بارہ سنگھے کی نبض پر ہاتھ رکھ دیا ہے۔۔۔ بارہ سنگھے کی زندگی کا تو موٹو ہی یہی ہے۔۔۔ جان نا پہچان، میں تیرا مہمان۔۔۔ کہیں بھی سالا اپنے سینگھ پھنسا دیتا ہے۔۔۔ چاہے اس کا کام ہو یا نا ہو۔۔۔

بہت عمدہ لکھا آپ نے۔۔۔ مزہ آ گیا۔۔۔

خرم ابن شبیر کہا...

اگر میں بھی یہاں بول گیا تو پھر کہا جائے گا کہ بارہ سنگھے اور خوامخواہ کے خلاف سازش کر رہے ہیں :lol:

fikrepakistan کہا...

میرا خیال ہے ہمارے معاملات ہمارے حالات اس نہج پر نہیں کہ ہم آپس میں ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچیں، بہتر یہ ہی ہے کے یکجحتی کا مظاہرہ کیا جائے اور زاتی عناد سے نکل کر ملک و قوم کے اصل مسائل پر بات کی جائے تاکے کوئی مثبت پیغام پڑھنے والوں تک پہنچے۔

ڈاکٹر جواد احمد خان کہا...

ہا ہا ہا ہا .....بہت اعلٰی جناب !!! بہت کمال کی تفریح لی ہے آپنے ..
بارہ سنگھا شہر پہنچ گیا ہے. اب بچ کے نہیں جانا چاہیے...اس بار بقر عید پر بکرے کی جگہ بارہ سنگھا ٹرائی کرتے ہیں..
اگر ایسا ہوا تو میں کھال زندگی میں پہلی بار ایم کیو ایم کو دوںگا اور وہ بھی خوشی خوشی... :D

وقاراعظم کہا...

او پیر صیب، افسوس بارا سنگھا کے دوست نے بے وفائی کی، حالانکہ باراسنگھا انکی دوستی میں ہر ایرے غیرے پر کتے کی بھونکتا تھا لیکن پھر بھی مکہ پڑوا ہی دیا۔۔۔۔۔ :mrgreen: :mrgreen:

قاسم کہا...

بارہ سنگھے کی نبض پر ہاتھ رکھ دیا ہے
یہ بارہ سنگھا ذرا مختلف ٹائپ ہےاس کی نبض نہیں دم ہے اور اس پر ہاتھ نہیں مصنف نے پاؤں رکھ دیا ہے

عمران اقبال کہا...

ساءیں جی۔۔۔ جتنی بڑی کھال ہے بارہ سنگھے کی۔۔۔ وہ تو ہم نا صرف ایم کیو ایم بلکہ ایدھی اور جماعت اسلامی والوں کو بھی دے سکتے ہیں۔۔۔ سارے ہی رج جاءیں گے۔۔۔

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کہا...

بارہ سنگھا اچھلے کودے، بھلے جھاڑیوں سے شغل کرے۔ واللہ ہمیں کوئی خاص اعتراض نہیں۔ مگر جب یہ انسانوں سے سینگ پھنسانے کی کوشش کرتا ہے تو اس کی عقل پہ ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے۔

ادہر وہ سائنسدان نامی بن سائنس ہیں۔ جنہیں سوائے سائنس کے ہر ایک اور ہر اخلاقی قدر سے گھتم گھتا ہونے کے سوا کوئی کام نہیں اور دلیلں ایسی بودی ہوتی ہیں کہ بقول خاور "ہاسہ" نکل جاتا ہے۔ بات سمۃ سٹی جنکشن کی ہو توجہیہ "بگ بین" سے لائی جاتی ہے۔ بات مولاداد کے گونگلؤں کی ہو تو "میں نہ مانوں" کاں چٹا دھڑام سے آمدن ہوجاتی ہے۔ ان پوچھے کوئی ابھی دیکھا ہی کیا ہے۔ جو یوں دھم دھم ہوجاتی ہے۔ بات کو گھما کے سمہ سٹہ جنکشن کی طرف لائی جائے تو بارہ سنگھا الٰہ دینکے چراغ کی طرح سینگ پھنسا لیتاہے۔

ایک شاگرد عزیز بھی ہے جس کا کام ہی مسخری کرنا اور پھونک بھرنا ہے۔

ویسے ڈاکٹر صاحب کی تجویز اچھی ہے مگر ۔۔۔ پھر ہماری بدنامی ہوگی ۔۔ کہ اچھا بھلا بارسنگھا کا پلیدان کردیا۔

تانیہ رحمان کہا...

بارہ سنگھا تو اتنا معصوم ہوتا ہے ۔۔۔ کبھی آپ نے غور کیا جب اسکے سنگھ کسی جھاڑی میں پھنس جاتے ہیں ۔ تو کتنی مشکل سے نکلاتا ہے ۔۔۔ ایک سنگھ نکلتا ہے تو دوسرا پھنس جاتا ہے ۔ ویسے مجھے اس پوری کہانی کی سمجھ نہیں آئی ۔۔ہنسی آئی ہےلال بٹن پر مکہ کھانے پر۔۔۔۔۔۔۔

خالد حمید کہا...

بھئ واہ :
بہت ہی زبردست :D

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.