زیاں زیست

کہیں پڑھا تھا کہ


 اگررزق عقل اور دانشوری سے ملتا تو جانور اور بے وقوف بھوکے مرجاتے۔دنیا نصیب سے ملتی ہے۔اور آخرت محنت سےملتی ہے۔لیکن لوگ محنت دنیا کیلئے کرتے ہیں اور آخرت نصیب پر چھوڑ دیتے ہیں۔ ہم اگر اپنی عقل اور دانشوری یا محنت کو کسوٹی پر تولتے ہیں تو ہم اپنے آپ کو عقل سے پیدل دانشوری ندارد۔


 محنت ۔۔۔۔۔۔۔اگر جفا کشی کا نام محنت ہے تو وہ ہم اپنے سکوں کیلئے کرتے ہیں کہ اس میں ہمیں لطف محسوس ہوتا ہے۔رزق کے معاملے میں ہم اپنے آپ کو خوش نصیب سمجھتے ہیں کہ اس چالیس سالہ زندگی میں جو رزق رب العزت نے عطا کیاہماری محنت ، عقل ،دانشوری کا اس میں کوئی کارنامہ نظر نہیں آتا۔ افلاس بے شک برائیوں کو جنم دیتا ہے۔غربت اگر غربت رہے افلاس نہ ہو جائے تو یہ غربت نعمت خداوندی ہے۔غربت اگر وقار زیست کو لے اڑے تو ہم اسے افلاس سمجھتے ہیں۔


زندگی تو اپنے وقت مقررہ تک کیا غریب کیا مالدار اس خاکی نے کاٹنی ہی ہوتی ہے۔چاھے وہ چند دن ، چالیس سال یا سو سال کی ہو۔ وقار زیست نہ رہے تو یہ زندگی مالدار کی بھی اور غریب کی بھی افلاس زدہ ہوتی ہے۔بڑے بڑے مالداروں کوبھی وقار زیست سے خالی دیکھا اور فقیر کی بات چیت، انداز زندگانی میں بھی وقار زیست دیکھنے کو ملا۔جب وقار زیست جیسے لفظ کے متعلق سوچا تو زیاں زیست کے فلسفے میں اپنا آپ کو پھنستا محسوس کیا۔ زیاں زیست کے احساس نے ہمیشہ وقار زیست کے معنی کو بھلا دیا۔


پھر سوچنا شروع ہوئے کہ یہ وقار زیست کیا ہے۔زندگی جیسے جیسے گذرتی جارہی ہے۔وقار زیست اور زیاں زیست کے گتھی میں الجھتے جاتے ہیں۔ بعض اوقات دونوں لفظوں کے مفہوم بھی سمجھ نہیں آتے کہ وقار زیست کیا ہے اور زیاں زیست کیا ہے۔ وقار زیست ہمیں اصول زندگانی یا اصول معاشرت میں ہی نظر آتا ہے۔


کہ جب اصول زندگانی قتل ہوجاتے ہیں تو وقار زیست دفن ہو جاتا ہے اور انسان کٹی پتنگ کی طرح بے سمت ہواوں کے دوش پر نصیبوں کو روتا ہے۔انسان اگر وقار زیست کو پراہن بنا لے تو روشنی نہ بھی رہے تو اندھیروں میں بھی اپنے رستے پر قدم بڑھا سکتا ہے۔ زیاں زیست پر نصیبوں کو روئے تو زندگی صرف ذلت ہی دے گی۔وقار زیست اصولوں کو مرنے نہ دینے کا نام ہے۔


 وقار زیست رہے زندگی رہے یا نہ رہے


 اصول قتل نہ ہوں آدمی رہے یا نہ رہے۔

زیاں زیست زیاں زیست Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 11:56 AM Rating: 5

6 تبصرے:

افتخار اجمل بھوپال کہا...

" اگررزق عقل اور دانشوری سے ملتا تو جانور اور بے وقوف بھوکے مرجاتے۔دنیا نصیب سے ملتی ہے۔اور آخرت محنت سےملتی ہے۔لیکن لوگ محنت دنیا کیلئے کرتے ہیں اور آخرت نصیب پر چھوڑ دیتے ہیں"

سولہ آنے درست بات

خرم ابن شبیر کہا...

بلکل درست کہا ہے

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کہا...

مجھے اجمل صاحب سے سو فیصد اتفاق ہے۔

ڈاکٹر جواد احمد خان کہا...

" اگررزق عقل اور دانشوری سے ملتا تو جانور اور بے وقوف بھوکے مرجاتے۔دنیا نصیب سے ملتی ہے۔اور آخرت محنت سےملتی ہے۔لیکن لوگ محنت دنیا کیلئے کرتے ہیں اور آخرت نصیب پر چھوڑ دیتے ہیں۔"
یاسر بھائی ....جواب نہیں یس جملے کا . نہت دنوں بعد اتنی اچھی بات پڑھنے کہ ملی ہے. بہت خوب بلکہ بہت ہی خوب...

اردو فیڈ کہا...

جزاک اللہ.

زینب کہا...

اللہ اس كی چزا عطا كرے

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.