ڈھیلی چارپائی

بچپن میں ہمیں ایک دفعہ بان کی منجی بننے کا شوق ہوا۔منجی ہندکو میں چارپائی کو کہتے ہیں اور شاید پنجابی میں بھی چارپائی کو ہی کہتے ہیں۔توہم نے بڑوں سے پوچھ پوچھ کر بان کی چارپائی اپنے لئے بڑے شوق سے بنی۔جب چارپائی تیار ہو گئی تو ہم بڑے شوق سے اپنے ہاتھ کی بنی چارپائی پر سوتے تھے۔گرمیوں کی دوپہر کو بھی اس چارپائی کو اٹھا کر درخت کے نیچے لے جاتے اور قیلولہ کرتے۔


ایک ہفتے بعد ہی اس چارپائی کی چولیں ہلنا شروع ہوگئیں۔کبھی ادھر سے ڈھیلی کبھی ادھر سے ڈھیلی۔کھینچا تانی کرکے اسے ٹھیک کرتے تو پھر ایک دو دن بعد اس کا حال ڈھیلا ڈھالا ہو جاتا۔ظاہر ہے اس چارپائی کی یہ حالت ہمارا اناڑی پن تھا۔نہ  لکڑی کا قصور اور نہ ہی بان کا۔رات کی نیند بھی بے لطف،اور دن کا قیلولہ بھی بے لطف۔


لیکن ہماری ضد یا اکڑ پن کہہ لیں کہ ہم اپنے ہاتھ کی بنی چارپائی پر ہی سونا چاھتے تھے۔اور کسی کو نہ بتاتے کہ یہ چارپائی ڈھیلی ڈھیلی ہے۔اس چارپائی کا آخر کار کیا ہوا ہمیں اب یاد نہیں ۔شاید کسی نے ہماری لا علمی میں اسے ٹھیک کردیا تھا یا ہماراڈھیٹ پن ہی جیت گیا تھا کہ ہم اس کے عادی ہو گئے۔


وہ چارپائی عموماً مجھے یاد آتی ہے۔جب تھک جاتا ہوں۔تھکاوٹ نہ توکام کرنے سے ہوتی ہے اور نہ ہی کھیل کود سے ہوتی ہے۔بس بیزاری ،اکتاہٹ،جب آس پاس کے ماحول کے خود ساختہ مسائل میں گھسیٹا جاتا ہے تو وہ چارپائی یاد آجاتی ہے۔انسانوں کا تو نہیں معلوم پاکستانی  بہت شوق اور محنت سے آرام کیلئے چارپائی بناتا ہے۔لیکن یہ چارپائی اناڑی پن میں ڈھیلی ہوجاتی ہے۔اور بندہ بیزاری کا شکار ہوجاتا ہے۔بس اس چارپائی پر اٹھتا ہے بیٹھتاہے۔سوتا ہے کروٹیں بدلتا ہے۔اس چارپائی کا استعمال اتنا بے لطف ہو جاتا ہے کہ تھکاوٹ کا احساس ہی ختم ہو جاتاہے۔


اتنا بے لطف ہوجاتا ہے کہ اپنا اناڑی پن بھی بھول جاتا ہے ۔بس الزام بان اور لکڑی کو دینے لگتا ہے۔شاید یہ اناڑی پن میری طرح کے نچلے طبقے کےلوگوں میں ہی زیادہ ہوتا۔ اپنے ہاتھوں سے بنائی چارپائی پر بے لطف کا آرام اور الزام لکڑی اور بان کو دینا۔


اے کاش کہ اس طبقے سے کم از کم اکڑ اور ڈھٹائی ہی ختم ہو جائے۔


ہمارے طبقےکی زندگی اس ڈھیلی چارپائی کی طرح ہی ہے،ادھر سے کھینچو تو ادھر سے کھسک جاتی ہے۔


زیست بے لطف گذر جاتی ہے بے چاروں کی
کیا کہانی میں کہوں تم سے دل افگاروں کی


 

ڈھیلی چارپائی ڈھیلی چارپائی Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 11:42 PM Rating: 5

16 تبصرے:

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کہا...

یاسر بھائی!

پھوٹوہاری ۔ ہندکو ، پنجابی وغیرہ میں منجی۔ سرائیکی میں "کھٹڑا" کہتے ہیں۔

خدا خیر کرے آپ ٹھیک ٹھاک فلاسفر ہوتے جارہے ہیں۔محسوس ہوتا ہے کہ آپ نے تحریر نہائت بے زارگی میں لکھی ہے۔ ویسے منجی یا چارپائی کے حوالے سے آپ نے بچپن کے قیلولے یاد کروادیے ہیں۔ جن کا آغاز تو نہائت مست ہوتا مگر کچھ دیر میں حبس اور درختوں کے سائے کے کھسک جانے سے بہت بیزارگی ہوتی۔ جو پتہ نہیں سایے کے کھسک جانے سے ہوتی ۔یا نیند اکھڑ جانے سے ہوتی۔ البتہ جب کبھی بڑ یا شیشم کے بڑے درخت جو ڈیرے وگیرہ پہ ہوتے میسر آتے تو سایہ درختوں کے جھنڈ کی وجہ سے دیر تک ساتھ دیتا۔

اب رو شاید اے سی وغیرہ کی وجہ سے وہ باتیں ختم ہوگئیں۔ کہتے ہیں چار بڑے درخت ایک درمیانے درجے کے اے سی جتنی کرمی کم کرتے ہیں۔

جعفر کہا...

ہمممم

انکل ٹام کہا...

مجھے بھی بچپن میں منجی بننے کے درمیان ہاتھ بٹانا یاد ہے ۔ :mrgreen:

خاور کھوکھر کہا...

بابے نجمی نے کہا تھا
دوش ناں دیو ہواواں نوں سر تو ں اڈیاں تنبوواں دا
کلے ٹھیک نئیں ٹھوکے ، خورے ساتھوںرسے ڈھلے رے

بلاامتیاز کہا...

جناب اپکی پوسٹ سے لگ رہا ہے کہ آپ بڑے بے جاپان ہیںآج
اور ہمیں بے چین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں

بلاامتیاز کہا...

ویسے پوٹھواری میں کھٹ کہتے ہیں منجی کو

عمران اقبال کہا...

سائیں... مجھے ایسا کوئی تجربہ تو نہیں ہے منجی پر سونے کا لیکن بڑے بوڑھوں سے تعریف بہت سنی ہے... ہاں دادی اماں کی منجی ٹآئیٹ کرنے کا موقع ملا تھا لیکن ابو جان کو میرا کیا ہوا کام دوبارہ کرنا پڑا کہ مجھ میں اسے "میدیکیٹد" منجی بنانے کی جان نہیں تھی...

جاوید بھائی نے ٹھیک کہا کہ آپ فلاسفر بنتے جا رہے ہیں... اپنا خیال رکھیں... فلاسفر ہونا اکثر مضر صحت ہوتا ہے... :)

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کہا...

آپکی بات درست ہے کھٹ بھی کہتے ہیں۔

خرم ابن شبیر کہا...

منجی تو میں نے بھی بنی ہے۔ لیکن آپ کی اس تحریر سے مجھے اپنی منجی یاد آ گئی۔
گرمیوں میں اکثر سخن میں سویا کرتے تھے ایک پنکھا لگا کر اس کے آگے چاروں بھائی اپنی اپنی چارپائی پر سو جاتے تھے میری چارپائی باورچی خانے کی دیوار کے ساتھ ہوتی تھی باورچی خانے کا چھت باقی کمروں کی چھت سے تھوڑا کم اونچا تھا اس لیے میں وہاں سے لٹک کر اپنی چارپائی پر چھلانگ لگایا کرتا تھا۔ اس رات ہم سونے کی تیاری کر رہے تھے کہ مجھے پھر کرتب دیکھانے کا دل کیا اور میں باورچی خانہ کی چھت پر چلا گیا اور لٹک کر چھلانگ لگانے لگا تو ماں جی نے دیکھ لیا۔ ماں جی نے بہت منع کیا لیکن میں باز نہیں آیا اور چھلانگ لگا دی چھلانگ لگاتے ہی چارپائی ٹوٹ گئی۔ اور پھر ماں جی نے اپنی جوتی اتاری اور میرے پیچھے میں چھت پر بھاگ گیا اور ماں ی بھی پیچھے پیچھے افسوس چھت کی دیواریں میرے حساب سے اونچی تھیں اس لیے میں کسی دوسرے کے چھت پر نا جا سکا۔اس طرح ماں جی نے مجھے پکڑ لیا۔
اس سے آگے کیا ہوا۔ ماں جی غصہ میں، ان کے ہاتھ میں جوتی اور میں مجرم خود ہی سوچ لیں کیا ہوا ہو گا 8) :lol:

خرم ابن شبیر کہا...

میری دادی جان کھٹ کہا کرتی تھیں اور امی جی منجی حالانکہ دونوں پنجابی تھیں

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کہا...

اس سے آگے وہی ہوا جو شرارتی بچوں کے ساتھ ازل سے ہوتا آیا ہے۔ یعنی جوت پریڈ :) :(

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

اماں جی کی چھترول اور گھسنے کا لطف ہی کچھ اور ہوتا ہے۔
اب مکے کھانے کا دل کرتا ہے لیکن اماں جی کے بازوں میں وہ والا زور نہیں۔

حجاب کہا...

ہماری طرف اب بھی آتا ہے چارپائی بُننے والا ۔۔۔

خرم ابن شبیر کہا...

ہممم اس کا کیامطلب ہوا۔ تجربہ :lol: یا پھر اندازہ

خرم ابن شبیر کہا...

وقت ، وقت کی بات ہے نا

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کہا...

خرم بھائی! اسے اندازہ کہنا بہتر ہوگا۔ بچپن میں ہوشیار بچے شرارت کے بعد والدین خاصکر والدہ کے قابو نہیں آتے۔

سچی بات تو یہ ہے کہ وہ وقت یاد آتے ہیں تو کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ مجھے یا دیگر بہن بھائیوں کو کبھی مارنا پٰٹنا تو درکنار والدین کی طرف سے ڈانٹا ڈپٹا بھی کم ہی گیا ہوگا۔ کیونکہ مجھے یاد نہیں پڑتا کہ کبھی ڈانٹ یا پھٹکار پڑی ہو۔ البتہ شرارتیں ہم نے خوب کر رکھی ہیں۔ جن کا ریکارڈ مجھ سے زیادہ میرے عزیزو اقارب اور جاننے والوں کے پاس ذیادہ ہے۔ اور ایسی بھی ہیں جو آج مجھے ناقابل یقین لگتی ہیں۔

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.